مدینہ آمد سے میثاقِ مدینہ تک: اہم واقعات و مراحل

ازقلم: محمد بلال سیفی
طالبِ علم جامعہ اسلامیہ حنفیہ، شعبہ درسِ نظامی (دورۃ الحدیث)

پاک اللہ ذاتِ مصطفیٰ کا حسنِ لاثانی
کہ یکجا جمع ہیں جس میں تمام اوصافِ امکانی
دعائے یونسی، خلقِ خلیلی، صبرِ ایّوبی
جلالِ موسوی، زیدِ مسیحی، حسنِ کنعانی

اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضور خاتم النبیینﷺ کی آمد کی خبر اہل مدینہ کو مل چکی تھی اور وہ آپ کے انتظار میں پلکیں بچھائے ہوئے تھے مدینے کی خواتین اور بچوں کی زبانوں پر آپ کی آمد کا ذکر تھا۔ اہل مدینہ کے جوش کا یہ عالم تھا کہ خواتین اور بچیاں مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئیں اور بنو نجار کی بچیاں ثنیات الوداع نامی گھاٹی پر نعتیہ صدائیں بلند کرنے لگیں:
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا مَا دَعَا لِلّٰہِ دَاعٍ
( ہم پر وداع کی گھاٹیوں سے چودھویں کا چاند طلوع ہوا، ہم پر خُدا کا شکر واجب ہے ، جب تک دعا کرنے والا دعا مانگے۔)
نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ یَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِّنْ جَارٍ
(ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں ! محمد ﷺ کیسے اچھے ہمسائے ہیں)

حضور اقدسﷺ نے ان بچیوں کے جوشِ مسرت اور ان کی والہانہ محبت دیکھ کر پوچھا کہ اے بچیوں! کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟ تو بچیوں نے یک زبان ہو کر کہا "جی ہاں! جی ہاں! یہ سن کر حضورﷺ نے خوش ہو کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ "میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں ۔"

چھوٹے چھوٹے لڑکے اور غلام گروہ در گروہ خوشی سے مدینہ کی گلیوں میں حضورﷺ کی آمد کا نعرہ لگاتے ہوئے دوڑتے پھرتے تھے۔ صحابی رسول حضرت براء بن عازب فر ماتے ہیں کہ جو فرحت و سرور اور انوار و تجلیات حضور سرور عالمﷺ کے مدینہ میں تشریف لانے کے دن ظاہر ہوئے نہ اس سے پہلے کبھی ظاہر ہوئے تھے نہ اس کے بعد ۔
حضورخاتم النبیینﷺ پہلے قباء کے مقام پرحضرت کلثوم بن ہدم کے مکان میں ٹہرے، وہاں آپ نے مسجد قباء کی بنیاد رکھی اور دو ہفتوں کے بعد مدینہ میں تشریف لے آئے۔

حضرت ابو ایوب انصاری :
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی جب قباء سے مدینہ تشریف لائے، تو کئی انصار صحابہ نے عرض کی کہ آپﷺ ہمارے گھر قیام فرمائے مگرآپﷺ نے ارشاد فرمایا؛ جس جگہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا وہاں میری اونٹنی بیٹھ جائے گی، اونٹنی وہاں بیٹھی جہاں آج مسجد نبوی ہے۔ قریب میں حضرت ابو ایوب انصاری کا مکان تھا تو حضرت ابو ایوب انصاری آپﷺ کی اجازت سے آپﷺ کا سامان اپنے گھر لے گئے۔ آپﷺ نے انہیں سات مہینے تک میزبانی کا شرف بخشا، جب مسجد نبوی اور اس کے پاس کے حجرے تیار ہو گئے تو حضور خاتم النبیینﷺ اپنے حجرے میں تشریف لے گئے۔

مسجد نبوی کی تعمیر:
مدینہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں مسلمان با جماعت نماز پڑھ سکیں اس لئے مسجد کی تعمیر نہایت ضروری تھی۔ حضور خاتم النبیینﷺ کی قیام گاہ کے قریب ہی "بنو النجار" کا ایک باغ تھا۔ وہ زمین اصل میں دو یتیموں کی تھی آپ نے ان دونوں یتیم بچوں کو بلایا، انھوں نے زمین مسجد کے لئے نذر کرنی چاہی۔ مگر حضور خاتم النبیینﷺ نے اس کو پسند نہیں فرمایا، اس لئے حضرت ابو بکر صدیق کے مال سے اسکی قیمت ادا کی گئی۔ پھر زمین کو ہموار کر کے خود آپﷺ نے اپنے دست مبارک سے مسجد کی بنیاد رکھی اور کچی اینٹوں کی دیوار اور کھجور کے ستونوں پر کھجور کے پتوں سے چھت بنائی۔

میثاقِ مدینہ:
جو صحابہ کرام ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تھے، وہ دینِ اسلام کے خاطر اپنا سب قربان کرکے آئے تھے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ نے انصار و مہاجرین میں رشتہ اخوت قائم کر کے انہیں آپس میں بھائی بھائی بنا دیا، تاکہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد ایک دن حضور خاتم النبیین ﷺ نے حضرت انس بن مالک کے مکان میں انصار و مہاجرین صحابہ کو جمع فرمایا۔ آپﷺ نے انصار صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں، پھر مہاجرین اور انصار صحابہ کرام میں سے دو دو کو بلاتے گئے اور یہی فرماتے گئے کہ "یہ اور تم بھائی بھائی ہو"۔ اس میثاق کو میثاقِ مدینہ کہا جاتا ہے۔
یہ رشتہ اخوت بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا چنانچہ انصار صحابہ کرام مہاجرین صحابہ کرام کو ساتھ لے گئے اور جا کر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی اور کہا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں، اس لئے یہ ہمارے گھروں کا سامان بھی آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا ہے۔

 

Muhammad Bilal Saifi
About the Author: Muhammad Bilal Saifi Read More Articles by Muhammad Bilal Saifi: 36 Articles with 68287 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.