تجارتی سفر سے نکاح تک: اہم واقعات و مراحل
(Najma Farooq Jamali, Karachi)
ازقلم: نجمہ فاروق جمالی طالبہ جامعہ اسلامیہ حنفیہ، شعبہ درسِ نظامی (دورۃ الحدیث)
|
|
جوانی کا دور: مکہ میں حضور خاتم النبیین ﷺ جوانی ہی میں دیانت، امانت اور صداقت کی بہترین مثال مانے جاتے تھے۔ ابتداء میں آپ ﷺ نے بکریاں چرائیں جو اکثر انبیاء کرام نے بھی چرائیں، پھر آپﷺ نے تجارت کا پیشہ اپنایا۔
پہلا تجارتی سفر: جنابِ ابو طالب نے جب پہلی بار شام کی جانب تجارت کی غرض سے سفر کیا تو حضور خاتم النبیینﷺ کو بھی ساتھ لے گئے، اس وقت آپﷺ کی عمر مبارک 12 برس تھی۔ جب قافلہ بصرہ پہنچا تو صومعہ کے مقام پر قافلہ ٹھہرا، وہاں ایک راہب رہتا تھا، جب راہب نے آپﷺ پر بادل سایہ کرتے دیکھے اور پہاڑ سے اترتے وقت شجر و حجر کو سجدہ کرتے دیکھا، تو راہب نے جناب ابو طالب کو بُلا کر کہا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ آپ نے فرمایا میرا بھتیجا ہے۔ راہب نے کہا اس میں وہ سب نشانیاں موجود ہیں، جو ہماری کتاب میں نبی آخر الزماںﷺ کی لکھی ہوئی ہیں، آپ انہیں یہاں سے واپس لے جائیں، آگے مت جائیں، قومِ نصاریٰ ان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی۔ جنابِ ابو طالب کو جب خطرہ محسوس ہوا، تو آپ مالِ تجارت جلد از جلد بیچ کر واپس مکہ شریف کی جانب روانہ ہوگئے۔
حربِ فجار: فجار کی 2 جنگیں ہوئیں، پہلی جنگ کے موقع پر آپ ﷺ کی عمر مبارکہ 10 برس اور دوسری جنگ کے موقع پرآپﷺ کی عمر مبارکہ 14 برس تھی۔
حلف الفضول: جنگ فجار کے بعد عبداللہ بن جدعان کے گھر ایک معاہدہ طے پایا جسے "حلف الفضول" کہتے ہیں، یہ معاہدہ جن سرداران نے طے کیا ان کے نام فضل، فضال اور مفضل تھے، اس لئے اسے حلف الفضول کہتے ہیں۔ اس معاہدے کے وقت آپﷺ کی عمر مبارکہ 20 برس تھی۔
صادق و امین: آپﷺ کی امانت و سچائی کی وجہ سے مکہ مکرمہ کے لوگ آپﷺ کو الصادق (سچا )اور الامین (امانت دار) کہتے تھ۔ آپﷺ کی ان صفات کی شہرت مکہ مکرمہ میں اتنی تھی کہ کفارِ مکہ اپنا قیمتی سامان آپﷺ کے پاس بطور امانت رکھوانے آتے۔
دوسرا تجارتی سفر: حضرت خدیجۃ الکبریٰ کو اپنے تجارتی سلسلے کو بہتر بنانے کیلئے کسی صادق و امین شخص کی ضرورت تھی۔ حضرت خدیجہ کو جب حضور خاتم النبیینﷺ کا علم ہوا تو آپ نے اپنے غلام میسرہ کے ذریعے مالِ تجارت ملک شام لے جانے کی درخواست کی۔ حضور خاتم النبیینﷺ نے آپ کی اس درخواست کو قبول فرمایا اور ملک شام کی جانب روانہ ہوگئے۔ جب قافلہ سومعہ کے مقام پر رکا تو ایک راہب نسطورا جو کہ غلام میسرہ کو جانتا تھا، بلایا اور پوچھا یہ شخص کون ہیں، جو درخت کے نیچے بیٹھے ہیں؟ میسرہ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کا نام و نسب ذکر کیا، تو نسطورا نے کہا یہ درخت خشک ہو گیا تھا، جو کہ آپﷺ کے بیٹھنے سے ہرا بھرا ہو گیا ہے، ہماری کتاب کے مطابق صرف اللہ کے آخری نبیﷺ ہی اس درخت کے نیچے بیٹھیں گے، پھر نسطورا آپ ﷺ کے قریب آیا اور آپﷺ سے کچھ سوالات کئے اور اپنی کتاب میں دیکھ کر کہا آپ تو نبی آخر الزماںﷺ ہیں، اگر میری زندگی آپﷺ کے اعلانِ نبوت تک ہوئی تو میں ضرور آپﷺ پر ایمان بھی لاؤں گا اور آپﷺ کے دین کی مدد بھی کروں گا۔یہ ساری گفتگو میسرہ نے بھی سنی اور مال تجارت بیچا تو دُگنا فائدہ ہوا اور آپﷺ کی برکت سے قافلے والوں کو بھی بہت نفع ہوا۔ جب قافلہ واپس آیا تو میسرہ نے تمام تر واقعات حضرت خدیجہ کو سنائے۔
حضرت خدیجۃ الکبریٰ سے نکاح: حضرت خدیجہ آپﷺ کی دیانت، سچائی اور اعلیٰ اخلاق سے بہت متاثر ہوئی، آپ اپنی سہیلی کے ذریعے حضور خاتم النبیینﷺ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضور خاتم النبیینﷺنے اپنے چچاؤں کے مشورے سے اس رشتے کو قبول فرمایا۔جنابِ ابو طالب نے شاندار انداز میں نکاح کا خطبہ ادا کیا اور نکاح پڑھایا۔ نکاح کے وقت آپﷺ کی عمر مبارکہ 25 اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی عمر مبارکہ 40 سال تھی۔ حضرت خدیجہ ایک کاروباری خاتون تھیں، لیکن جب آپ حضور خاتم النبیینﷺ کے نکاح میں آئیں تو آپ نے اپنی جان و مال سے خوب حضور خاتم النبیینﷺکی خدمت کی۔ اعلان نبوت کے بعد سب سے پہلے خواتین میں اسلام لاکر آپﷺ کی مکمل معاونت کی، یہاں تک کہ اپنا سارا مال دین کے لیے وقف کردیا۔ حضور خاتم النبیینﷺ آپ سے بے انتہا محبت کرتے تھے، آپ کی زندگی میں حضور خاتم النبیین ﷺ نے کوئی دوسرا نکاح بھی نہیں کیا۔ حضرت خدیجہ کا وصال نماز کی فرضیت اور ہجرتِ مدینہ سے تین سال قبل اور جنابِ ابوطالب کی وفات کے تین دن بعد ہوا۔ وصال کے وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر پینسٹھ(65) سال تھی اور آپ رسول اللہ ﷺکے نکاح میں پچیس (25)سال رہیں۔
|
|