عقیدت کا کاروبار

دین اللہ سے جوڑتا ہے، مگر مذہب جب شخصیت پرستی بن جائے، تو اللہ سے دور کر دیتا ہے۔

عقیدت کا کاروبار

عقیدت کا کاروبار
علی عباس کاظمی،چکوال
ہم عجیب لوگ ہیں۔ اللہ کو مانتے بھی ہیں، مگر اس پر بھروسا کم کرتے ہیں۔ ہمیں خدا چاہیے، مگر ساتھ ایک “سفارش والا خدا” بھی ضروری لگتا ہے۔ ہم یہ ماننے کو تو تیار ہیں کہ دین خدا کا بنایا ہوا نظام ہے، مگر عملاً ہم نے اس نظام کو بیچ چوراہے چھوڑ کر مذہب کی دکانیں سجا لی ہیں۔ کہیں گدی ہے، کہیں دربار ہے، کہیں مزار ہے اور کہیں “خصوصی عامل” بیٹھا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس ہر مسئلے کا شارٹ کٹ حل موجود ہے۔
دین سیدھی بات کرتا ہے۔ ۔ ۔ حاکم اللہ، رازق اللہ، مشکل کشا اللہ ۔ ۔ ۔ بس۔ اس میں کسی دوسرے تیسرے فریق کی گنجائش نہیں۔ مگر ہمارا مذہب اس سادگی کو برداشت ہی نہیں کر پاتا۔ اسے درمیان میں کوئی نہ کوئی شخصیت ضرور چاہیے۔ ۔ ۔ کوئی پیر، کوئی بابا، کوئی قلندر، کوئی ملنگ۔ ۔ ۔ جو ہمیں اللہ تک “خصوصی راستے” سے پہنچائے۔ یوں اللہ تو آسمان پر رہ جاتا ہے اور زمین پر اس کے نام پر چھوٹے چھوٹے خدا بیٹھ جاتے ہیں۔
یہ مذہبی ٹھیکیدار بڑے ہوشیار ہیں۔ وہ نہ خود کو مکمل خدا کہتے ہیں، نہ بندہ مانتے ہیں۔ درمیان کی ایک محفوظ پوزیشن لے لیتے ہیں “ہم تو صرف وسیلہ ہیں۔” مگر وسیلہ ایسا کہ بغیر اس کے دعا بھی قبول نہیں ہوتی، روزی بھی نہیں ملتی اور مشکل بھی حل نہیں ہوتی۔ اللہ سے مانگو تو کہتے ہیںپہلے یہاں حاضری دو، نذرانہ رکھو، چادر چڑھاؤ، پھر بات آگے جائے گی۔
المیہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ دین کے نام پر ہو رہا ہے، حالانکہ دین تو آیا ہی انسان کو انسان کی غلامی سے نکالنے کے لیے تھا۔ مگر ہم نے دین کو بھی غلام بنا دیا ہے۔ ۔ ۔ گدی کا غلام، شجرے کا غلام، روایت کا غلام۔ ہمیں قرآن پڑھنے میں وقت لگتا ہے، مگر کسی بابے کی کہانی سننے میں پوری رات جاگ لیتے ہیں۔
آج کے پیر بابا کا مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ان پر یقین کیوں کرتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ لوگ سوچنا کیوں چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک سادہ سا سوال اگر ذہن میں آ جائے تو پوری عمارت ہل جائے، اگر اللہ ہی سب کچھ کرنے والا ہے تو یہ اضافی کردار کہاں سے آ گئے؟ اگر ولی اللہ خدا کا دوست ہے تو دوست ہونے سے وہ خدا کے اختیارات کا شریک کیسے بن گیا؟
اصل اولیاء کا حال تو اس کے بالکل الٹ تھا۔ وہ نہ دربار بناتے تھے، نہ گنبد، نہ قمقمے۔ نہ ان کے پاس سونے کی گھڑیاں تھیں، نہ بینک اکاؤنٹ، نہ لمبی قطاروں میں کھڑے مرید۔ وہ خاموشی سے لوگوں کو اللہ سے جوڑتے تھے، اپنے آپ سے نہیں۔ ان کی زندگی سادہ تھی اور بات سیدھی۔ آج مگر ان کے نام پر جو کاروبار ہو رہا ہے، اگر وہ زندہ ہوتے تو شاید سب سے پہلے اسی کی نفی کرتے۔
یہ بھی کمال ہے کہ جو لوگ خود آرام دہ بستروں، قیمتی لباس اور عمدہ کھانوں کے عادی ہیں، وہ عوام کو زہد، صبر اور قناعت کا درس دیتے ہیں۔ خود نفس پرستی کی انتہا پر اور دوسروں کو نفس کشی کے لیکچر۔ خود بڑے بڑے درباروں کے مالک اور لوگوں کوآخرت کی فکر اور تیاری کا وعظ۔
عوام بھی کچھ کم نہیں۔ ہمیں محنت نہیں کرنی، سوچنا نہیں، سوال نہیں کرنا۔ بس کوئی ایسا چاہیے جو کہہ دے: “فکر نہ کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔” پھر ہم اپنی ناکامیوں، سستیوں اور غلطیوں کا بوجھ بھی اسی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ کاروبار نہ چلا تو کسی کی نظر لگ گئی، اولاد نہ ہوئی تو کسی بزرگ کی ناراضی، امتحان میں فیل ہوئے تو شاید نذرانہ پورا نہیں تھا۔
قرآن مگر ایک مختلف بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہر کام اللہ کرتا ہے، مگر اسباب کے ذریعے۔ اولاد اللہ دیتا ہے مگر والدین کے ذریعے، رزق اللہ دیتا ہے مگر محنت کے ذریعے، عزت اللہ دیتا ہے مگر کردار کے ذریعے۔ یہ بات مذہبی دکانوں کے لیے خطرناک ہے کیونکہ اگر لوگ اس پر یقین کر لیں تو پھر درباروں پر رش کم ہو جائے گا۔
رسولِ خدا ﷺ نے بھی یہی بات کی تھی اور اسی بات پر مخالفت جھیلی۔ مکہ کے لوگ آپ کو سچا مانتے تھے مگر جب آپ نے ان کے آباؤ اجداد کے مذہب پر سوال اٹھایا تو دشمن بن گئے۔ آج بھی جو شخص مذہب کے بجائے دین کی بات کرتا ہے، اسے فوراً “گمراہ”، “باغی” یا “بے ادب” قرار دے دیا جاتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سادہ سا فرق سمجھ لیا جائے: دین اللہ سے جوڑتا ہے، مذہب جب شخصیت پرستی بن جائےاللہ سے دور کر دیتا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو ہم درباروں میں جھکتے رہیں گے اور ہماری عقل، غیرت اور خودداری سب وہیں نذرانے میں چلی جائے گی۔
دین مشکل نہیں، ہم نے اسے مشکل بنا رکھا ہے۔ سوال یہ ہے: ہمیں بندہ بننا ہے یا مرید بنے رہنا ہے؟
 
Ali Abbas Kazmi
About the Author: Ali Abbas Kazmi Read More Articles by Ali Abbas Kazmi: 21 Articles with 4277 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.