چین کا مصنوعی ذہانت میں خود کفالت کی جانب فیصلہ کن قدم
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کا مصنوعی ذہانت میں خود کفالت کی جانب فیصلہ کن قدم تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع حکومتی ایکشن پلان جاری کر دیا ہے، جس کے تحت 2027 تک کلیدی اور بنیادی اے آئی ٹیکنالوجیز کی محفوظ، قابلِ اعتماد اور خود کفیل فراہمی کو یقینی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق چین نہ صرف مصنوعی ذہانت کی صنعتی وسعت کے اعتبار سے بلکہ اس کی عملی افادیت اور صنعتی اطلاق کے میدان میں بھی دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل رہے گا۔ یہ اقدام چین کی نئی صنعتی کاری، اعلیٰ معیار کی ترقی اور جدید پیداواری قوتوں کے فروغ کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
یہ ایکشن پلان وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا اور نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن سمیت آٹھ حکومتی اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کیا گیا ہے۔ منصوبے میں مصنوعی ذہانت اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے گہرے انضمام پر خاص زور دیا گیا ہے، تاکہ صنعتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور نئے معیار کی پیداواری قوتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جا سکے۔
منصوبے کے مطابق 2027 تک مینوفیکچرنگ کے شعبے میں تین سے پانچ عمومی نوعیت کے لارج اے آئی ماڈلز کے گہرے اطلاق کو ممکن بنایا جائے گا، جبکہ مختلف صنعتوں کے لیے مخصوص، مکمل کوریج رکھنے والے لارج ماڈلز بھی تیار کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 100 اعلیٰ معیار کے صنعتی ڈیٹا سیٹس کی تیاری اور 500 نمائندہ عملی اطلاقی منظرناموں کو فروغ دینے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو پیداواری عمل کا لازمی حصہ بنایا جا سکے۔
اس ایکشن پلان کے تحت چین دو سے تین ایسے عالمی اثر ورسوخ رکھنے والے ادارے بھی تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو مصنوعی ذہانت کے ایکو سسٹم میں قیادت کا کردار ادا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ خصوصی مہارت رکھنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کی ایک مضبوط کھیپ تیار کرنے اور ایسے سروس فراہم کنندگان کو فروغ دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے جو بیک وقت اے آئی ٹیکنالوجی اور صنعتی ضروریات سے مکمل واقفیت رکھتے ہوں۔
دستاویز میں عالمی سطح کے اوپن سورس ایکو سسٹم کی تعمیر کو بھی ایک اہم ہدف قرار دیا گیا ہے، تاکہ چین نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مصنوعی ذہانت کی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی گورننس کی صلاحیتوں میں اضافہ اور عالمی اے آئی ترقی کے لیے چینی حل پیش کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ایکشن پلان میں متعدد عملی اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں اے آئی چِپس کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کی مربوط ترقی، ماڈل ٹریننگ اور انفیرنس طریقۂ کار میں جدت کی حوصلہ افزائی، صنعتی نوعیت کے کلیدی لارج ماڈلز کی تیاری، اور لارج ماڈلز کی ٹیکنالوجی کو بنیادی پیداواری عمل میں گہرائی سے ضم کرنا شامل ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد مصنوعی ذہانت کو محض ایک معاون ٹیکنالوجی کے بجائے صنعتی نظام کا بنیادی جزو بنانا ہے۔
مزید برآں، منصوبے میں صنعتی ماڈلز کے الگورتھمز کے تحفظ، تربیتی ڈیٹا کی سکیورٹی اور مجموعی ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق کلیدی ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سکیورٹی سے جڑے تکنیکی چیلنجز کو حل کرنے کو مصنوعی ذہانت کی پائیدار ترقی کے لیے بنیادی شرط سمجھا گیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ ایکشن پلان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کو مستقبل کی صنعتی ترقی، معاشی استحکام اور تکنیکی خود مختاری کا مرکزی ستون بنانے کے لیے سنجیدہ اور طویل المدتی حکمتِ عملی پر گامزن ہے۔ 2027 تک کے اہداف نہ صرف چین کی صنعتی جدید کاری کو نئی رفتار دیں گے بلکہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے ارتقا میں چین کے کردار کو بھی مزید مستحکم کریں گے، جس سے آنے والے برسوں میں عالمی صنعتی اور تکنیکی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ |
|