چین میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کا نیا دور
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کا نیا دور تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی برق رفتار ترقی نے سنہ 2025 کے دوران چین کی ڈیجیٹل معیشت کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ نئی ایجادات اور اطلاقی ماڈلز کے مسلسل ظہور، صنعت کے مستحکم پھیلاؤ اور ٹیکنالوجی پر مبنی حلوں نے نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں نئی جان ڈالی بلکہ اعلیٰ معیار کی سماجی و اقتصادی ترقی کے عمل کو بھی تقویت فراہم کی۔ ڈیجیٹل چین کی تعمیر اب محض ایک پالیسی نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
گزشتہ برس ڈیجیٹل جدت کے میدان میں سب سے نمایاں پہلو بڑے مصنوعی ذہانت ماڈلز کا روزمرہ زندگی میں گہرا انضمام رہا۔ ڈیپ سیک نامی لارج لینگویج ماڈل نے غیر معمولی رفتار سے عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔ جنوری 2025 میں ڈیپ سیک-آر ون کے باضابطہ اجرا کے محض 21 دن کے اندر فعال صارفین کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ چین میں مصنوعی ذہانت کس تیزی سے عوامی استعمال کا حصہ بن رہی ہے۔ سال بھر میں ہونے والی متعدد تکنیکی اپ ڈیٹس کے بعد یہ ماڈل عالمی سطح کے نمایاں اے آئی ماڈلز میں شامل ہو گیا، جبکہ اس کی تربیتی لاگت عالمی اوسط سے کم رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چین میں سینکڑوں مقامی طور پر تیار کردہ لارج اے آئی ماڈلز مختلف شعبوں میں استعمال ہو رہے ہیں اور ہر تین میں سے ایک چینی انٹرنیٹ صارف کسی نہ کسی شکل میں ان ٹیکنالوجیز سے مستفید ہو رہا ہے۔ اس تیز رفتار پیش رفت کے پیچھے مضبوط ڈیجیٹل بنیاد کا اہم کردار ہے۔ نیٹ ورک انفراسٹرکچر کی مسلسل توسیع کے نتیجے میں نومبر 2025 تک ملک بھر میں 48 لاکھ سے زائد فائیو جی بیس اسٹیشن قائم کیے جا چکے تھے، جو ایک سال میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل معیشت کی یہ رفتار صرف آئی ٹی شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل صنعت کاری اور روایتی صنعتوں کی ڈیجیٹل تبدیلی نے ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہوئے چین کے اعلیٰ معیار کی معاشی ترقی کے نقشے کو ازسرِنو ترتیب دیا۔ روبوٹکس کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اس کی واضح مثال ہے، جہاں 2025 کے دوران ترقی کی رفتار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی اور تقریباً ہر ہفتے نمایاں پیش رفت سامنے آئی۔ قومی ادارۂ شماریات کے مطابق جنوری سے نومبر 2025 کے دوران بڑے پیمانے پر کام کرنے والی ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی ویلیو ایڈڈ پیداوار میں سال بہ سال بنیاد پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اب تیزی سے حقیقی معیشت کے ساتھ ضم ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں اسمارٹ مصنوعات اور خدمات کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ چین میں سات ہزار سے زائد جدید اسمارٹ فیکٹریاں قائم کی جا چکی ہیں، جبکہ ذہین مینوفیکچرنگ آلات، صنعتی سافٹ ویئر اور نظامی حلوں کا مجموعی حجم کھربوں یوان تک پہنچ چکا ہے۔ یہ رجحان صنعتی پیداوار کی کارکردگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی مسابقت میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے عوامی خدمات کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری پیدا کی ہے، جس کے اثرات عام شہری کی زندگی میں براہِ راست محسوس کیے جا رہے ہیں۔ طبی شعبے میں ڈیجیٹل ریفرل نظام، الیکٹرانک ہیلتھ انشورنس کوڈ اور ٹیلی میڈیسن خدمات نے علاج معالجے کے عمل کو سہل اور مؤثر بنایا ہے۔ بین الصوبائی طبی اخراجات کی کروڑوں ڈیجیٹل ادائیگیاں اور ایک ارب سے زائد افراد کا ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم سے جڑنا اس تبدیلی کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاحت اور تفریح کے شعبے میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ ملک بھر کے اعلیٰ درجے کے سیاحتی مقامات ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ ہو چکے ہیں، جہاں ڈیجیٹل ٹوئن اور ورچوئل ریئلٹی جیسی ٹیکنالوجیز قدیم تہذیبوں اور ثقافتی ورثے کو نئے انداز میں پیش کر رہی ہیں۔
چین نے اپنی ڈیجیٹل ترقی کو اندرونی حدود تک محدود رکھنے کے بجائے عالمی سطح پر بھی اس کے فوائد بانٹنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ ڈیجیٹل سلک روڈ اور سرحد پار ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے وسطی ایشیا سمیت متعدد خطوں کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط کیے جا رہے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے چینی مصنوعات کی برآمدات اور درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو بین الاقوامی ڈیجیٹل تعاون کی کامیاب مثال ہے۔ اس وقت ڈیجیٹل سلک روڈ ای کامرس تعاون کا دائرہ تین درجن سے زائد ممالک تک پھیل چکا ہے، جہاں آن لائن اور آف لائن قومی پویلینز، براہِ راست خریداری مراکز اور مشترکہ برانڈز قائم کیے جا چکے ہیں۔
وسیع تناظر میں 2025 چین کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک فیصلہ کن سال ثابت ہوا، جس میں مصنوعی ذہانت، نیٹ ورک انفراسٹرکچر، صنعتی ڈیجیٹلائزیشن اور عوامی خدمات کی جدید کاری نے ایک دوسرے کو تقویت دی۔ یہ پیش رفت نہ صرف چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے عمل کو مستحکم کر رہی ہے بلکہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں چین کے کردار کو بھی مزید نمایاں بنا رہی ہے۔ مستقبل کی جانب بڑھتے ہوئے یہ ڈیجیٹل سفر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اب چین کی معاشی حکمتِ عملی کا مستقل اور مرکزی ستون بن چکی ہے۔ |
|