پاکستان میں ڈیجیٹل ایجوکیشن

پاکستان ایک ایسی قوم ہے جو ترقی کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں تعلیم کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ ڈیجیٹل ایجوکیشن، جو آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز، ای لرننگ ایپلی کیشنز اور ورچوئل کلاس رومز کے ذریعے تعلیم کی فراہمی کو ممکن بناتی ہے، پاکستان کے تعلیمی منظر نامے میں ایک انقلاب برپا کر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر کورونا وبا کے بعد، ڈیجیٹل ایجوکیشن نے نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دیہی علاقوں تک بھی اپنی رسائی بڑھائی ہے۔ تاہم، اس سفر میں مواقع کے ساتھ ساتھ کئی چیلنجز بھی ہیں۔
ڈیجیٹل ایجوکیشن کے مواقع
پاکستان میں ڈیجیٹل ایجوکیشن نے تعلیمی مواقع تک رسائی کو وسعت دی ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں اچھے اسکولوں یا اساتذہ کی کمی ہے، آن لائن پلیٹ فارمز جیسے کہ ایجوکیشنل ایپس اور ویب سائٹس نے طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی دی ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستانی پلیٹ فارمز جیسے کہ "علم سب کے لیے" اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز جیسے کہ خان اکیڈمی نے کم خرچ یا مفت تعلیمی مواد فراہم کیا ہے۔
اس کے علاوہ، ڈیجیٹل ایجوکیشن نے طلبہ کو اپنی رفتار سے سیکھنے کی سہولت دی ہے۔ طلبہ اب اپنی مرضی کے مطابق کورسز منتخب کر سکتے ہیں، جن میں نہ صرف روایتی مضامین بلکہ جدید شعبہ جات جیسے کہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ بھی شامل ہیں۔ یہ نئے ہنر پاکستانی نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔
حکومتی اقدامات جیسے کہ "ڈیجیٹل پاکستان ویژن" اور "سمارٹ اسکول پروگرام" نے بھی ڈیجیٹل ایجوکیشن کو فروغ دیا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی سرکاری اسکولوں میں اب سمارٹ کلاس رومز متعارف کرائے گئے ہیں، جہاں طلبہ ڈیجیٹل بورڈز اور انٹرنیٹ کی مدد سے سیکھ رہے ہیں۔
چیلنجز اور رکاوٹیں
ڈیجیٹل ایجوکیشن کے فوائد کے باوجود، پاکستان کو اسے بڑے پیمانے پر نافذ کرنے میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ اس عمل کو مزید مشکل بناتی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق، ملک کی صرف 50 فیصد آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، جو ڈیجیٹل ایجوکیشن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
دوسرا بڑا چیلنج ڈیجیٹل خواندگی کی کمی ہے۔ نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ کو بھی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت کی ضرورت ہے۔ بہت سے اساتذہ آن لائن تدریس کے طریقوں سے ناواقف ہیں، جس کی وجہ سے ورچوئل کلاس رومز کا معیار متاثر ہوتا ہے۔
تیسرا، معاشی تفاوت بھی ایک اہم رکاوٹ ہے۔ شہری علاقوں میں جہاں اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس عام ہیں، دیہی علاقوں کے طلبہ کے لیے یہ آلات خریدنا مشکل ہے۔ اس کے نتیجے میں، ڈیجیٹل ایجوکیشن تک رسائی ایک طبقاتی تقسیم کا باعث بن رہی ہے۔
مستقبل کے لیے تجاویز
پاکستان میں ڈیجیٹل ایجوکیشن کو کامیاب بنانے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، حکومت کو دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور بجلی کی سہولیات کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ سستی انٹرنیٹ پیکجز اور بجلی کے متبادل ذرائع جیسے کہ سولر پینلز اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسرے، اساتذہ اور طلبہ کے لیے ڈیجیٹل خواندگی کے پروگرام شروع کیے جائیں۔ یہ پروگرام سرکاری اور نجی شعبوں کے اشتراک سے چلائے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مقامی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر اساتذہ کے لیے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔
تیسرے، سرکاری اسکولوں میں کم لاگت کے ڈیوائسز جیسے کہ ٹیبلٹس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ نجی شعبے کی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری سے سستے لیپ ٹاپس یا ٹیبلٹس کے پروگرام شروع کیے جا سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل ایجوکیشن پاکستان کے تعلیمی نظام کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بناتی ہے بلکہ پاکستانی نوجوانوں کو عالمی مقابلے کے لیے تیار بھی کرتی ہے۔ تاہم، اس کے فوائد کو ہر طبقے تک پہنچانے کے لیے جامع پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے، تو یہ ہمارے ملک کے مستقبل کو روشن کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ 
Danish Rehman
About the Author: Danish Rehman Read More Articles by Danish Rehman: 143 Articles with 59221 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.