تبدیلی بذریعہ پیرنٹ ٹیچرز کونسل
(Dr-Muhammad Saleem Afaqi, Peshawar)
تحریر: ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی
تبدیلی بذریعہ پیرنٹ ٹیچرز کونسل
دروازہ بند ہے، مگر اندر گفتگو جاری ہے۔ کلاس روم خاموش ہے، لیکن ایک میز کے گرد فیصلے جنم لے رہے ہیں۔ فضا میں سنجیدگی ہے۔ نگاہوں میں سوالات ہیں۔ چہروں پر توقعات لکھی ہیں۔ یہ کوئی عام ملاقات نہیں۔ یہ پیرنٹ ٹیچرز کونسل کا اجلاس ہے، وہ جگہ جہاں سکول کی اصل نبض ٹٹولی جاتی ہے اور جہاں مستقبل آہستہ آہستہ شکل اختیار کرتا ہے۔
سکول صرف اینٹوں، کمروں اور بلیک بورڈ کا نام نہیں۔ سکول اعتماد کا ادارہ ہے۔ اس اعتماد کو جوڑنے والا مضبوط پل پیرنٹ ٹیچرز کونسل ہے۔ یہاں والدین آتے ہیں، اساتذہ بیٹھتے ہیں اور درمیان میں بچے ہوتے ہیں۔ وہ بچے جو خود بول نہیں سکتے، مگر جن کے حق میں بولنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی لیے یہ کونسل اہم بھی ہے اور حساس بھی۔
اجلاس شروع ہوتا ہے۔ کاغذات میز پر رکھے جاتے ہیں۔ رجسٹر کھلتا ہے۔ ایجنڈا پڑھا جاتا ہے۔ ماحول بظاہر رسمی دکھائی دیتا ہے، مگر اندر ہی اندر ایک سسپنس بھی موجود ہوتا ہے۔ آج کون سا سوال اٹھے گا؟ کون سا مسئلہ سامنے آئے گا؟ اور اس کا حل کس سمت جائے گا؟ ہر رکن کے ذہن میں یہی سوال گردش کرتا رہتا ہے۔
ایک والد گفتگو کا آغاز کرتا ہے۔ آواز میں فکر نمایاں ہے۔ بچے کی حاضری کم کیوں ہے؟ ارکان جواب دیتے ہیں۔ گھر کے حالات معلوم ہوتے ہیں۔ بات واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ صرف سکول کا نہیں رہا۔ یہ اب ایک مشترکہ ذمہ داری بن چکا ہے۔ یہی پیرنٹ ٹیچرز کونسل کی اصل طاقت ہے۔ یہاں مسائل تقسیم نہیں ہوتے بلکہ بانٹے جاتے ہیں، اور بانٹنے سے بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔
پھر بات سہولیات کی طرف مڑتی ہے۔ پینے کا پانی۔ صفائی۔ فرنیچر۔ روشنی۔ اور فنڈز کا استعمال۔ ہر موضوع حساس ہے اور ہر نکتہ اہم۔ یہاں شکایت بھی ہوتی ہے، مگر الزام نہیں ہونا چاہیے۔ اسی مرحلے پر چیئرمین کا کردار نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک متوازن جملہ، ایک بروقت یاد دہانی، اور ماحول دوبارہ سنبھل جاتا ہے۔
پی ٹی سی فنڈز کیسے اور کہاں خرچ ہوئے؟ رسید موجود ہے یا نہیں؟ رجسٹر سامنے رکھا جاتا ہے۔ اندراج دکھایا جاتا ہے۔ شفافیت اعتماد کو جنم دیتی ہے۔ اور اعتماد کے بغیر پیرنٹ ٹیچرز کونسل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔ رسمیں سکول کو نہیں بچاتیں، نیت بچاتی ہے۔
کبھی کبھار آوازیں بلند ہو جاتی ہیں۔ اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ یہ لمحہ نازک ہوتا ہے۔ اگر ذاتی مفاد غالب آ جائے تو مقصد دم توڑ دیتا ہے۔ لیکن اگر بچوں کا مفاد سامنے رکھا جائے تو یہی اختلاف اصلاح کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور رحمت بن جاتا ہے۔ پیرنٹ ٹیچرز کونسل صرف مسائل کی فہرست نہیں۔ یہ حل کی میز ہے۔ یہاں منصوبے بنتے ہیں۔ نگرانی کے طریقے طے ہوتے ہیں۔ ذمہ داریاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ احساس جنم لیتا ہے کہ سکول صرف حکومت کا نہیں، ہمارا بھی ہے۔ یہی احساس سکول کو زندہ، متحرک اور مؤثر بناتا ہے۔ دیہی علاقوں میں پیرنٹ ٹیچرز کونسل امید کا چراغ ہے، جبکہ شہری علاقوں میں نظم و ضبط کا اہم ذریعہ۔ ہر جگہ اس کی ضرورت ہے۔ جہاں یہ فعال ہو، وہاں استاد تنہا نہیں رہتا، والدین بے خبر نہیں ہوتے اور بچہ نظرانداز نہیں ہوتا۔اجلاس اختتام کی طرف بڑھتا ہے۔ فیصلے تحریر کیے جاتے ہیں۔ دستخط ہوتے ہیں۔ اگلی میٹنگ کی تاریخ طے کی جاتی ہے۔ لوگ اٹھتے ہیں۔ دروازہ کھلتا ہے۔ سب باہر نکل آتے ہیں۔ مگر اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔
فیصلوں پر عمل کا امتحان۔ نگرانی کا امتحان۔ اور احتساب کا امتحان۔درحقیقت یہی کونسل کامیاب ہو جاتی ہے، جب بات سنی جائے، سچ قبول کیا جائے اور سب ایک مقصد پر متحد ہو جائیں۔پیرنٹ ٹیچرز کونسل ایک میز، چند کرسیاں اور بے شمار خوابوں کا نام نہیں بلکہ ایک انقلاب کا نام ہے۔ اگر نیت کمزور ہو تو یہی میز رسمی کارروائی رہ جاتی ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے،کیونکہ آخر میں جیت بچے کی ہونی چاہیے۔ |
|