ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک جنگ

(Sabeera shafique, Karachi)

وہ کسی افسانے کی ہیروئن نہیں تھی۔
نہ اس کے ہاتھ میں کوئی جادو تھا، نہ قسمت نے اسے خاص رعایت دی۔
وہ بس ایک عام سی لڑکی تھی۔
لیکن اس کی زندگی عام نہیں تھی۔
اس کی مضبوطی کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی۔
یہ برسوں کی خاموش لڑائیوں، ٹوٹتے خوابوں اور خود کو بار بار سنبھالنے کا نتیجہ تھی۔
بچپن میں وہ بھی ہنستی کھیلتی تھی۔
اسے بھی رنگین خواب دیکھنا اچھا لگتا تھا۔
مگر بہت جلد اسے سمجھ آ گیا
کہ زندگی ہر خواب کو پورا کرنے کا وعدہ نہیں کرتی۔
کچھ خواہشیں دل میں ہی دفن ہو جاتی ہیں
اور کچھ امیدیں وقت کے ساتھ دھندلا جاتی ہیں۔
اس نے کم عمری میں سیکھ لیا
کہ مضبوط ہونا ہمیشہ انتخاب نہیں ہوتا۔
اکثر یہ مجبوری بن جاتا ہے۔
زندگی نے اسے بار بار آزمایا۔
کبھی حالات نے،
کبھی لوگوں نے،
اور کبھی اپنوں کی بے توجہی نے۔
وہ کئی بار خود سے پوچھتی
کہ آخر اس کے حصے میں ہی اتنی آزمائشیں کیوں آئیں؟
مگر ہر بار
وہی لڑکی آنسو پونچھ کر
دوبارہ کھڑی ہو جاتی۔
اسے شکایت کرنے کی عادت نہیں تھی۔
شاید اس لیے کہ وہ جانتی تھی
کہ شکایتیں درد کم نہیں کرتیں۔
وہ خاموش تھی، مگر کمزور نہیں۔
اس کی خاموشی اس کی سمجھداری تھی۔
وہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی تھی۔
کچھ باتیں دل میں رکھ لیتی،
کچھ دکھ رات کی تنہائی میں آنسوؤں کے ساتھ بہا دیتی۔
دن کے اجالے میں وہ مضبوط نظر آتی،
مگر رات کو اس کا دل بھی تھک جاتا تھا۔
پھر بھی وہ اگلی صبح
نئے حوصلے کے ساتھ اٹھتی،
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
لوگ اس کی خاموشی کو غرور سمجھ لیتے تھے۔
کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی
کہ وہ کم کیوں بولتی ہے،
کہ اس کی ہنسی کیوں ٹھہر سی جاتی ہے۔
کوئی یہ نہیں دیکھ سکا
کہ اس کے اندر کتنی جنگیں چل رہی ہیں۔
وہ دوسروں کا سہارا بنتی رہی،
مگر جب اسے خود سہارے کی ضرورت پڑی
تو وہ اکثر اکیلی ہی رہی۔
محبت بھی اس کی زندگی میں آئی،
مگر ہر محبت مکمل نہیں ہوئی۔
کچھ رشتے ادھورے رہ گئے،
کچھ وعدے وقت کے ساتھ ٹوٹ گئے۔
اس نے سیکھ لیا
کہ ہر قریب آنے والا اپنا نہیں ہوتا
اور ہر مسکراہٹ سچ نہیں ہوتی۔
وہ حساس تھی،
مگر اس نے اپنی حساسیت کو کمزوری نہیں بننے دیا۔
اس نے جان لیا
کہ نرم دل ہونا جرم نہیں،
بس ہر کسی کو اپنی نرمی دکھانا ضروری نہیں۔
اس نے اپنے دل کے گرد ایک خاموش حد بنا لی
جہاں ہر کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔
زندگی کے تجربات نے اسے خود پر یقین کرنا سکھایا۔
اب وہ اپنی قدر
دوسروں کی رائے سے نہیں ناپتی تھی۔
وہ جان چکی تھی
کہ اگر وہ خود کو کم سمجھے گی
تو دنیا بھی اسے کم ہی سمجھے گی۔
اسی لیے اس نے خود سے محبت کرنا سیکھا،
چاہے یہ سفر کتنا ہی مشکل کیوں نہ رہا ہو۔
وہ مضبوط اس لیے نہیں تھی
کہ اسے کبھی درد نہیں ہوا،
بلکہ اس لیے کہ
درد کے باوجود اس نے جینا نہیں چھوڑا۔
وہ جانتی تھی
کہ مضبوط ہونا یہ نہیں
کہ آنسو نہ آئیں،
بلکہ یہ کہ آنسوؤں کے بعد بھی
امید باقی رہے۔
آج وہ لڑکی مکمل نہیں،
مگر مطمئن ضرور ہے۔
وہ جانتی ہے
کہ اس کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔
ابھی اسے سیکھنا ہے،
لڑنا ہے،
اور آگے بڑھنا ہے۔
مگر اب فرق یہ ہے
کہ وہ خود کو کمزور نہیں سمجھتی۔
وہ اپنی خاموشی،
اپنے صبر
اور اپنی مستقل مزاجی پر فخر کرتی ہے۔
وہ ایک مضبوط لڑکی ہے۔
جو شور نہیں مچاتی،
مگر ہار بھی نہیں مانتی۔
جو ٹوٹتی ہے،
مگر بکھرنے نہیں دیتی۔
اور جو جانتی ہے
کہ اصل طاقت چیخنے میں نہیں،
بلکہ خاموشی سے
خود کو سنبھالنے میں ہے۔

 
Sabeera shafique
About the Author: Sabeera shafique Read More Articles by Sabeera shafique: 2 Articles with 141 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.