سردی، آلودگی اور بڑھتا ہوا صحت کا بحران

سردی، آلودگی اور بڑھتا ہوا صحت کا بحران

ایوان اقتدارسے

ملک کے میدانی علاقوں میں جاری شدید سردی نے جہاں روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے وہیں سردی سے جڑی بیماریوں، خصوصاً وائرل انفیکشنز اور سپر فلو کے پھیلاؤ نے عوامی صحت کے نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران لاہور کے پانچ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سپر فلو اور دیگر موسمی امراض کے 40 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے، جبکہ گزشتہ ڈیڑھ سے دو ماہ سے روزانہ اوسطاً آٹھ ہزار مریضوں کا ہسپتالوں کا رخ کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض موسم کی سختی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بڑے اور گہرے صحت بحران کی علامت ہیں، جس پر سنجیدہ غور و فکر اور فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ بدلتے موسم، غیر متوازن درجہ حرارت، بارشوں میں کمی اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی نے انسانی صحت پر براہ راست اثرات مرتب کیے ہیں۔ خاص طور پر سردیوں کے موسم میں جب بارشیں کم ہو جاتی ہیں تو فضا میں موجود آلودہ ذرات، اسموگ اور وائرس زمین پر بیٹھنے کے بجائے ہوا میں معلق رہتے ہیں، جو سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سپر فلو، نزلہ، زکام، کھانسی، گلا خراب ہونے اور سانس کی تکالیف جیسے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
لاہور جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں پہلے ہی فضائی آلودگی عالمی سطح پر خطرناک حدوں کو چھوتی رہی ہے۔ ٹریفک کا بے ہنگم نظام، صنعتی دھواں، فصلوں کی باقیات جلانے کا رجحان اور سبزہ زاروں کی کمی نے فضا کو زہریلا بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب سردی کی شدت بڑھتی ہے تو کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد، بچے، بزرگ اور دائمی امراض میں مبتلا شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا غیرمعمولی رش دراصل اسی ماحولیاتی اور انتظامی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دوسری جانب ہمارے صحت کے نظام کی حالت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سرکاری ہسپتال پہلے ہی محدود وسائل، عملے کی کمی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار ہیں۔ روزانہ ہزاروں مریضوں کی آمد نے ڈاکٹروں، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف پر دباؤ کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ بعض ہسپتالوں میں ادویات کی قلت، بستروں کی کمی اور طویل انتظار نے مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایک عام وائرل انفیکشن بھی سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ہم نے بطور قوم احتیاطی تدابیر کو سنجیدگی سے اپنایا ہے؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد موسم کے مطابق لباس اختیار نہیں کرتی، ٹھنڈے مشروبات اور غیر صحت بخش خوراک کا استعمال جاری رکھتی ہے اور علامات ظاہر ہونے کے باوجود احتیاط یا بروقت علاج سے گریز کرتی ہے۔ نتیجتاً معمولی نزلہ زکام بھی شدید فلو میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو نہ صرف فرد بلکہ اس کے اردگرد موجود دیگر افراد کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا محض وقتی ردعمل دینے کے بجائے ایک جامع حکمت عملی اختیار کرے۔ سب سے پہلے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات، حفاظتی کٹس اور عملے کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ خاص طور پر فلو اور سانس کی بیماریوں کے علاج کے لیے علیحدہ کاؤنٹرز اور وارڈز قائم کیے جائیں تاکہ مریضوں کو بہتر سہولت مل سکے اور ہسپتالوں میں بدنظمی کم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز اور طبی عملے کی تعداد میں عارضی طور پر اضافہ بھی ناگزیر ہے۔
اس کے علاوہ عوامی آگاہی مہمات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز، تعلیمی اداروں اور مساجد کے ذریعے عوام کو یہ بتایا جائے کہ سردی اور موسمی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔ گرم لباس، متوازن غذا، وافر پانی کا استعمال، ہاتھوں کی صفائی، بھیڑ بھاڑ سے گریز اور علامات کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع جیسے سادہ اقدامات بڑے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔
تاہم مسئلے کی جڑ فضائی آلودگی اور ماحولیاتی بگاڑ ہے، جس کے مستقل حل کے بغیر ہر سال یہی صورتحال دہرائی جاتی رہے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ آلودگی کے خاتمے کے لیے سخت اور عملی اقدامات کرے۔ صنعتی اخراج، گاڑیوں کے دھوئیں اور فصلوں کی باقیات جلانے پر مؤثر پابندی عائد کی جائے اور شجرکاری مہمات کو محض نمائشی سرگرمی کے بجائے ایک قومی تحریک بنایا جائے۔ صاف فضا نہ صرف بیماریوں میں کمی لائے گی بلکہ مجموعی معیار زندگی کو بھی بہتر بنائے گی۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سردی سے جڑی بیماریوں کا موجودہ پھیلاؤ محض ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت، کمزور پالیسیوں اور ماحولیاتی عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ اگر حکومت اور عوام نے مل کر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ صحت کو سیاسی نعروں سے نکال کر عملی ترجیحات میں شامل کیا جائے، کیونکہ صحت مند قوم ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہوتی ہے۔
Ghulam Murtaza Bajwa
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 46 Articles with 50152 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.