ایک تقریب، ہزار اندیشے
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
ایک تقریب، ہزار اندیشے حسیب اعجاز عاشر یہاں کوئی امیر ہے، کوئی غریب، کوئی تخت پر ہے اور کوئی خاک پر، یہ سب اللہ کے بنائے ہوئے نظامِ آزمائش کا حصہ ہے۔ جس کے پاس زیادہ ہے، اس سے زیادہ پوچھا جائے گا، اور جس کے پاس کم ہے، اس کی برداشت کو ترازو میں تولا جائے گا۔اسی فرق کو متوازن رکھنے کے لیے زکوٰۃ، فطرانہ، صدقہ، خیرات اور کفالتِ محتاج کے احکامات نازل ہوئے۔مالی اسباب و وسائل کے اعتبار سے سب برابر تو نہیں ہیں نہ ہو سکتے ہیں مگر دین یہ تو سکھاتا ہے کہ خود کو برتر نہ سمجھا جائے، نہ تعلیم کی بنیاد پر، نہ ذہانت پر، نہ کاروبار پر، نہ پیشے پر۔ بڑا ڈاکٹر ہونا، پروفیسر ہونا، سرمایہ دار ہونا،یہ سب اللہ کی عطا ہیں، انسان کا ذاتی کمال نہیں۔ اگر اللہ چاہے تو ایک لمحے میں سب کچھ ایک سے لے کر دوسرے کو دے دے۔ اسی لیے رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تکبر رائی کے دانے کے برابر بھی دل میں ہو تو انسان جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔ شیخ الحدیث عبداللہ اندلسیؒ کا دل دہلا دینے والا واقعہ کہ ایک دن مجوسیوں کی بستی سے گزرتے ہوئے دل میں محض یہ خیال آیا کہ شکر ہے میں ایمان والا ہوں۔ نہ زبان ہلی، نہ آواز نکلی، صرف دل میں ایک لمحاتی تفاخر پیدا ہوا اور اسی لمحے اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت سلب کر لی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے گھر میں بھی نظر آتا ہے۔ خلیفہ وقت، مگر بچے فاقوں میں پل رہے ہیں، کپڑوں پر پیوند لگے ہیں۔ لوگ کہتے تھے یہ بچے تو غریب ہیں۔ مگر وقت نے کروٹ بدلی، وہی بچے تختوں پر بیٹھے اور تخت نشین جوتوں پر آ بیٹھے۔ فرق تو ہوگا یہاں اہم یہ ہے کہ ہم نے اس تفریق میں چلنا کیسے ہے؟اِن میں اگر صاحبِ حیثیت عاجزی اختیار کرے، اور صاحبِ اقتدار انصاف، تو یہ فرق رحمت بن سکتا ہے،بصورت دیگریہی فرق نفرت، خلیج اور بغاوت میں بدل جاتا ہے۔ اپنے معاشرے اور اپنے حکمرانوں کو ہی دیکھ لیجئے۔ حالیہ دنوں میں جنید صفدکی ہونے والی شادی کی پرتپاک ولیمہ کی تقریب زبان زد عام ہے۔ جب ایسی تقریبات کی فوٹیج عوامی سطح پر آ جائیں تو وہ نجی نہیں رہتیں، وہ سماجی مکالمہ بن جاتی ہیں۔ پھر رائے دینے والے رائے دیتے ہیں، انگلی اٹھانے والے انگلی اٹھاتے ہیں، تعریف کرنے والے تعریف کرتے ہیں، اور عش عش کرنے والوں کو بھی کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ اللہ نے شریف خاندان کو بہت نوازا ہے۔ کہا جاتا ہے میاں محمد نواز شریف سونے کے چمچ میں کھا کر بڑھے، پھر وزارتِ عظمیٰ، پھر معزولی، پھر عزت، پھر مارشل لا، تخت سے تختہ دار تک کا سفر، جیلیں، الزامات، پھر دوبارہ اقتدار،یہ سب تقدیر کے وہ اتار چڑھاؤ ہیں جو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔اتنا عروج و زوال دیکھنے کے باوجود اپنی خوشیوں میں محروم عوام کے احساسات جذبات کو نظرانداز کردینا ہی اصل مسئلہ ہے۔ پھر شکوہ کیا جاتا ہے کہ جب قدم بڑھا یا اورپھر پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ یہ معمولی بات نہیں کہ جب دلہے سے زیادہ ماں وزیراعلیٰ پنجاب کے ملبوسات زیرِ بحث ہوں، کہ تین دن میں کس برانڈ کے کتنے لاکھ کے جوڑے پہنے گئے؛ جب دلہن سے زیادہ ایک خاتون وزیر کے چہرے پر بحث ہو کہ پلاسٹک سرجری ہے یا نہیں؛ جب ایک طرف عوام کو ڈرایا دھمکایا جائے کہ ون ڈش نہ ہوئی دولہا جیل بھی جا سکتا ہے اور دوسری طرف طرح طرح کھانوں سے میز سجے ہوں،تو سوالات خود بخود جنم لیتے ہیں۔ جن کی دکانیں اور کاروبار، محنت و عرق ریزی کے ثمرات، تجاوزات کے بہانے زمین بوس کر دیے گئے، جن کے ریڑھیاں اور چھوٹے چھوٹے ٹھیلے کارپوریشن کے اہلکار لے گئے، اور جن کی زندگی کے ذرائع ایک لمحے میں مٹی میں مل گئے۔اِن لوگوں سے پوچھیں تو سہی کہ تقریب کی تصاویر کیسی لگی؟۔یہ لمحہ فکریہ ہے کہ عوام کے گھر پانی، بجلی اور گیس کے بلوں کے بوجھ سے دبے ہیں، ملک تاریخ کے بھاری قرضوں کے دلدل میں دھنسا ہوا ہے، حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ہر پاکستانی لاکھوں روپے کا مقروض پیدا ہورہا ہے۔ مگر اس سب کے درمیان حکمران سکون کی بانسری بجا رہے ہیں، محافل و جشن کے چراغ جلا رہے ہیں، گویا خوشی اور عیش کا ہر لمحہ عوام کی اذیت و کسمپرسی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔عالی شان،والہانہ وپرتپاک ولیمہ کی تقریب چار دیواری میں کسی کو نہیں کھٹکنی تھی مگر اُس کی باقاعدہ تشہیر حکومتی بے حسی اور معاشرتی اخلاقیات کی دھجیاں اُڑانے کے مترادف ہے۔سوشل میڈیاکا دور ہے تجزیہ کرنا موازنہ کرنا اب مشکل نہیں رہا۔دیکھیں تو سہی کہ عوامی تاثر کیا ہے؟ وہ لوگ، جو زمین و محنت سے رزق کماتے ہیں، آج بھی غیر یقینی اور مالی قید کے اندھیروں میں گھِرے ہوئے ہیں، جبکہ طاقتور طبقہ اپنی خوشیوں میں مست، عوام کی تڑپ کو محض نظارے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔یہ راقم الحروف کی نہیں عام عوام کی رائے ہے۔ سب سے بڑھ کر اس ملک میں آج بھی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیٹیاں ہیں جن کے باپ دو جوڑے دے کر رخصت نہیں کر سکتے۔ سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غربت کی وجہ سے کتنی بچیاں عمر بھر کنواری رہ جاتی ہیں، کتنی خودسوزی کر لیتی ہیں، اور کتنی ایسی ہیں جن کے باپ معاشی دباؤ اور سماجی خوف کے تحت خود ہی ان کا گلا گھونٹ دیتے ہیں کہ رخصتی کے لیے پاس کچھ نہیں۔یہاں بھی تھوڑا سوچیں کہ، جب ایسے باپ اور ایسی بیٹیاں حکمرانوں کے گھروں میں ہونے والی عالی شان شادیاں دیکھتے ہوں گے تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ یہی وہ پن پوائنٹ ہے جہاں سیاستدان اور عوام کے درمیان خلیج گہری سے گہری ہو نے لگتی ہے۔ جہاں اپنے چاہنے والے بھی سوال اٹھانے کی جرات کرنے لگتے ہیں، اور جب سوالوں کے جواب نہ ملیں تو بات آہستہ آہستہ بغاوت کی طرف بڑھتی ہے۔ پاکستان کے حالات پہلے ہی ایسے نہیں کہ مزید اشتعال کا متحمل ہو سکیں۔پہلے ہی ایک مخصوص ذہنیت مسلسل یہ بیانیہ بنا رہی ہے کہ روایتی اور مورثی سیاستدان ملک کو کھا گئے۔الزام ہے یا حقیقت یہ الگ بحث ہے مگر یہاں یہ حقیقت ہے کہ ایک نفسیاتی فضا قائم کی جا رہی ہے جسے نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں۔ دانشمندی یہ تھی کہ اگر اس موقع پر خوشی کو سماج کی خوشی بنا دیا جاتا؟ اگر جنید صفدر کے ولیمے کے ساتھ ہی چند سو نہیں تو چند ہی غریب بچیوں کی سادہ اجتماعی شادی بھی رکھی جاتی۔ نہ کوئی چکاچوند، نہ مہنگی نمائش، بس سادگی، وقار اور دعاؤں کا منظر۔ ایک ہی دسترخوان پر صاحبِ حیثیت بھی بیٹھتا اور محتاج بھی، ایک ہی ہال میں خوشی بھی ہوتی اور دعا بھی۔ یہ وہ عمل ہوتا جو ہزار تقاریر سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا، تنقید کے طوفان کو خود بخود تھم جاتے، شکوے ختم ہوجاتے۔ اشتعال انگیزی کی فضا بنانے والے سر کھجلاتے رہ جاتے۔ مگر احساس ہے کہاں؟ ناجانے حکمران کب سمجھیں گے کہ اللہ نے امارت دی ہے تو انکساری بھی مانگی ہے، اقتدار دیا ہے تو حساب بھی رکھا ہے، اور نعمت دی ہے تو احساس بھی فرض کیا ہے۔ یہی اللہ کا نظام ہے۔ جو اسے سمجھ کر چلے وہ دلوں پر حکومت کرتا ہے، اور جو اسے نظرانداز کرے اُسے زمانہ بھی بھول جاتا ہے۔ Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
|