خلافت اور جمہوریت: تضادِ نظام یا انتظامی ارتقاء؟
(Wasiq Peerzadah, Rahim Yar Khan)
خلافت اور جمہوریت: تضادِ نظام یا انتظامی ارتقاء؟
(ایک طالبِ علم کا اپنے روحانی مرشد سے مؤدبانہ مگر فکری مکالمہ)
میں اپنی خوش بختی سمجھتا ہوں کہ مجھے قرآن فہمی کا ذوق، دین کا درد اور رگوں میں دوڑتا ہوا جذبۂ ایمانی اپنے روحانی والد اور عظیم استاد، ڈاکٹر اسرار احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ورثے میں ملا۔ ان کی مردانہ وار للکار نے ہماری نسلوں کے خوابیدہ ضمیروں کو جھنجھوڑا اور اسلام کو محض چند رسوم سے نکال کر ایک "مکمل نظامِ حیات" کے طور پر متعارف کروایا۔ تاہم علم و دانش کی دنیا کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ "ادب" اور "تحقیق" ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ مرشد سے عقیدت سر آنکھوں پر، مگر حقائق کا غیر جذباتی اور معروضی تجزیہ اپنی جگہ مقدم ہے۔ ڈاکٹر صاحبؒ اور ان کے فکری مکتبِ فکر کا بنیادی مقدمہ یہ رہا ہے کہ مروجہ جمہوریت ایک دجالی اور کفریہ نظام ہے جو خلافت کی ضد ہے۔ ان کے نزدیک اس عمارت کو منہدم کیے بغیر خلافت کا قیام ممکن نہیں، اسی لیے وہ ریاست سے ٹکراؤ اور "فزیکل جدوجہد" کو ایک دینی فریضہ سمجھتے رہے۔ لیکن۔۔۔! جب میں تاریخِ اسلام، خلافتِ راشدہ کے انتظامی ڈھانچے اور عصرِ حاضر کے ریاستی نظم کا غیر جذباتی اور عمیق جائزہ لیتا ہوں، تو میں اس حتمی نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ خلافت اور جدید پارلیمانی نظام کے درمیان "ساختی" (Structural) اور "انتظامی" (Administrative) سطح پر کوئی بنیادی تضاد موجود ہی نہیں۔ فرق اگر ہے تو محض ناموں، اصطلاحات اور تاریخی سیاق و سباق کا ہے — میکانزم (Mechanism) کا نہیں۔ میرا یہ استدلال چند ٹھوس تاریخی اور زمینی حقائق پر قائم ہے:
1۔ "عالم و جاہل" کے ووٹ کا اعتراض — ایک تاریخی حقیقت جمہوریت پر سب سے مقبول اعتراض علامہ اقبالؒ کے اس شعر کے حوالے سے کیا جاتا ہے کہ "بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے"۔ یعنی ایک عالم اور ایک جاہل کی رائے برابر کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ اعتراض بظاہر وزنی محسوس ہوتا ہے، لیکن آئیے خلافت کے ابتدائی سماجی ڈھانچے کو دیکھتے ہیں۔ خلافت میں مجلسِ شوریٰ کے ارکان کون ہوتے تھے؟ قبائل کے سردار۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ سردار منتخب کیسے ہوتے تھے؟ کیا صرف علماء، فقہاء یا اہلِ علم کو حقِ انتخاب حاصل تھا؟ ہرگز نہیں! تاریخی حقیقت یہ ہے کہ قبیلے کا ہر فرد — عالم ہو یا جاہل، دانا ہو یا ناسمجھ — اجتماعی طور پر اپنے سردار کا انتخاب کرتا تھا، اور وہی منتخب سردار آگے جا کر مجلسِ شوریٰ کا رکن بنتا تھا۔ تقابل دیکھیے: کل کا قبیلہ آج کا "حلقۂ نیابت" ہے۔ کل کے سردار کو چننے والے بھی "مکس" تھے۔ آج کے نمائندے کو چننے والے بھی "مکس" ہیں۔ جب ووٹر کی بنیاد ایک جیسی ہے تو نظام میں تضاد کیسا؟
2۔ مجلسِ شوریٰ اور پارلیمنٹ — روح ایک، قالب جدا خلافت کی بنیاد قرآنی اصول ’وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ‘ پر تھی۔ ہر قبیلے کا منتخب سردار شوریٰ میں شامل ہوتا تھا تاکہ اپنی قوم کی آواز بن سکے۔ آج ہر حلقے کا منتخب نمائندہ پارلیمنٹ میں بیٹھتا ہے۔ مقصد وہی: عوامی نمائندگی اور اجتماعی مشاورت۔ سادہ لفظوں میں: خلافت = قبائلی نمائندوں کا اجتماع (مجلسِ شوریٰ)۔ جمہوریت = حلقہ وار نمائندوں کا اجتماع (پارلیمنٹ)۔ روح، مقصد اور طریقۂ کار ایک ہے — وقت کے ساتھ صرف نام اور قالب بدلا ہے۔
3۔ انتخابِ امیر: بیعت سے بیلٹ باکس تک خلافت میں مجلسِ شوریٰ، جو عوامی تائید کی نمائندہ ہوتی تھی، باہمی مشاورت سے خلیفہ کا انتخاب کرتی اور پھر "بیعت" کے ذریعے اس فیصلے کی توثیق ہوتی۔ جدید پارلیمانی نظام میں منتخب نمائندے ووٹنگ کے ذریعے قائدِ ایوان (وزیر اعظم) کا انتخاب کرتے ہیں۔ درحقیقت آج کا "ووٹ"، "بیعت" ہی کی ایک جدید، منظم، تحریری اور ادارہ جاتی صورت ہے۔ کل ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت ہوتی تھی، آج بیلٹ باکس کے ذریعے رائے دی جاتی ہے۔ صورت بدلی ہے، حقیقت نہیں۔
4۔ اختیارات اور احتساب کا مغالطہ یہ تصور درست نہیں کہ خلیفہ مطلق العنان تھا اور آج کا وزیر اعظم بے بس۔ خلیفہ گورنرز اور مشیروں کا تقرر کرتا اور انتظامی مصلحت پر انہیں معزول بھی کر سکتا تھا (حضرت عمرؓ کا حضرت خالد بن ولیدؓ کو معزول کرنا ایک روشن مثال ہے)۔ بعینہٖ آج وزیر اعظم کابینہ تشکیل دیتا ہے، وزراء کو برطرف کر سکتا ہے اور خود پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ یوں جدید نظام میں مطلق العنانیت کم اور احتساب زیادہ "ادارہ جاتی" ہو چکا ہے۔
5۔ شریعت کی تشریح کون کرے گا؟ (ایک فکری گرہ کشائی) یہاں ایک اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ "خلافت میں فیصلے اللہ کے حکم پر ہوتے تھے، جبکہ جمہوریت میں پارلیمنٹ یا عدالتیں تشریح کرتی ہیں"۔ یہ اعتراض اس غلط فہمی پر مبنی ہے کہ خلافت میں شریعت کی کوئی باقاعدہ انسانی تشریح نہیں ہوتی تھی۔ تاریخی طور پر فقہ ایک فرد نہیں بلکہ اجتماعی علمی عمل تھا۔ صحابہ کرامؓ کے درمیان بھی اختلافات ہوتے تھے اور فیصلے اجتہاد، مشاورت اور عرفِ عام کی بنیاد پر ہوتے تھے۔ آج یہی عمل "آئینی صورت" میں عدالتوں، پارلیمنٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے اداروں کے ذریعے انجام پا رہا ہے۔ شریعت کی تشریح کا "ادارہ جاتی" (Institutional) ہونا بدعت نہیں بلکہ تاریخی ارتقاء ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جو کام کل "شخصیات" کر رہی تھیں، آج "ادارے" کر رہے ہیں۔
6۔ پاکستان اور "دجالی نظام" کا فتویٰ — ایک غیر منصفانہ اطلاق ڈاکٹر صاحبؒ کا اعتراض مغربی سیکولر جمہوریت پر تو بجا ہو سکتا ہے، جہاں اکثریت کی بنیاد پر شراب اور سود کو قانونی تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہی اعتراض "اسلامی جمہوریہ پاکستان" پر منطبق کرنا قرینِ انصاف نہیں۔ پاکستان کا آئین: قراردادِ مقاصد (شق 2-A) کے تحت اللہ کی حاکمیت تسلیم کرتا ہے۔ آرٹیکل 227 کے ذریعے قرآن و سنت کی بالادستی کو یقینی بناتا ہے۔ جب آئین خود شریعت کا پابند ہو اور پارلیمنٹ حدود اللہ کی پابند، تو اس نظام کو "دجالی" یا "کفریہ" کہنا ایک جذباتی نعرہ تو ہو سکتا ہے، علمی فیصلہ نہیں۔
7۔ نظریاتی جواب دہی بمقابلہ آئینی جواب دہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "خلیفہ اللہ کے سامنے جواب دہ تھا جبکہ آج وزیر اعظم محض آئین کے سامنے جواب دہ ہے"۔ یہ تقابل دراصل ظاہر اور باطن کو الگ الگ خانوں میں بانٹنے کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئین کسی غیر مقدس کاغذ کا نام نہیں، بلکہ وہ قوم کا اجتماعی طور پر تسلیم شدہ "نظریاتی عہد" (Social Contract) ہے۔ جب آئین واضح طور پر اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے، تو "آئین کے سامنے جواب دہی" درحقیقت اسی "الہیٰ جواب دہی" کی تحریری اور اجتماعی شکل بن جاتی ہے۔ یوں خلافت میں جو جواب دہی شخصی ضمیر سے جڑی تھی، آج وہ اجتماعی ضمیر اور ادارہ جاتی نظم میں منتقل ہو چکی ہے — یہ تضاد نہیں، ارتقاء ہے۔
حاصلِ کلام: تصادم نہیں، تعمیرِ نو!
اگر خلافت اور موجودہ پارلیمانی نظام کا انتظامی ڈھانچہ بنیادی طور پر ایک جیسا ہے تو اصل سوال یہ نہیں کہ نتائج مختلف کیوں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ: نظام وہی ہے، مگر انسان بدل گئے ہیں۔ کل نظام کو چلانے والے ابوبکرؓ اور عمرؓ تھے اور انہیں منتخب کرنے والے صحابہؓ تھے۔ آج نظام موجود ہے مگر کردار کمزور ہیں۔ ہم یہ مغالطہ پالے بیٹھے ہیں کہ "نظام" بدلنے سے "انسان" بدل جائیں گے، حالانکہ تاریخ اور سنتِ نبوی ﷺ کا اٹل سبق یہ ہے کہ: "انسانوں کو بدلو، نظام خود بخود بدل جائے گا۔" لہٰذا جب ریاست کا آئین اور ڈھانچہ پہلے ہی اسلامی بنیادوں پر قائم ہے تو ریاست سے فزیکل ٹکراؤ، خروج یا بغاوت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ آج ضرورت کسی خونی انقلاب کی نہیں، بلکہ "کردار کے انقلاب" کی ہے۔ اگر ہم اپنی صفوں میں خلفائے راشدینؓ کی سنت اور صحابہؓ کے کردار کی جھلک پیدا کر لیں تو یہی موجودہ پارلیمانی نظام — بغیر کسی توڑ پھوڑ کے — "خلافتِ حقہ" کا عملی پیکر بن سکتا ہے۔
تحریر: واثق پیرزاداہ رحیم یار خان |
|