چین میں اناج کی ریکارڈ 714.9 ارب کلو گرام پیداوار

چین میں اناج کی ریکارڈ 714.9 ارب کلو گرام پیداوار
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

عالمی سطح پر خوراک کے تحفظ، زرعی پیداوار اور دیہی معیشت کے استحکام کو آج غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور آبادی میں اضافے کے باعث دنیا کے اکثر ممالک کو زرعی شعبے میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں کسی بڑے زرعی ملک کی جانب سے مستقل اور مستحکم پیداوار کا تسلسل نہ صرف اس کی داخلی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالمی غذائی منڈی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین نے ایک بار پھر اناج کی پیداوار میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے زرعی شعبے میں اپنی مضبوط بنیاد کو برقرار رکھا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین نے گزشتہ برس ایک مرتبہ پھر ریکارڈ سطح پر اناج کی پیداوار حاصل کی، حالانکہ ملک کے مختلف حصوں میں خشک سالی، سیلاب اور طویل بارشوں جیسے موسمی مسائل درپیش رہے۔ وزارتِ زراعت و دیہی امور کے مطابق 2025 میں اناج کی مجموعی پیداوار تقریباً 714.9 ارب کلو گرام تک پہنچ گئی، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 8.4 ارب کلو گرام زیادہ ہے۔ اس طرح مسلسل دوسرے سال بھی مجموعی پیداوار 700 ارب کلو گرام سے زائد رہی۔
یہ کامیابی آسانی سے حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے مسلسل محنت، مؤثر منصوبہ بندی اور جدید زرعی حکمتِ عملی کارفرما رہی۔ بتایا گیا کہ مجموعی اضافے کا بڑا حصہ خزاں کی فصلوں سے حاصل ہوا، جنہوں نے سالانہ پیداوار میں ہونے والے اضافے کا 90 فیصد سے زائد حصہ فراہم کیا۔

علاقائی سطح پر دیکھا جائے تو پیداوار میں زیادہ تر اضافہ شمال مشرقی چین کے تین صوبوں، اندرونی منگولیا خود اختیار علاقے اور سنکیانگ ویغور خوداختیار علاقے میں ریکارڈ کیا گیا۔ ان علاقوں نے مجموعی قومی اضافے کا تقریباً 70 فیصد حصہ ڈالا۔ فصلوں کے اعتبار سے مکئی نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کی پیداوار مجموعی اضافے کے تقریباً 75 فیصد کے برابر رہی۔ یہ رجحان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مخصوص علاقوں اور فصلوں پر توجہ مرکوز کرنے کی پالیسی نے مثبت نتائج دیے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس سویابین کی پیداوار 20.91 ملین ٹن رہی، جو مسلسل چوتھے سال 20 ملین ٹن سے زائد ہے۔ اسی طرح گوشت کی مجموعی پیداوار، جس میں بیف ،مٹن ، چکن شامل ہے، بڑھ کر 100.72 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیادوں پر 4.2 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف خوراک کی فراہمی کے استحکام کا ثبوت ہے بلکہ غذائی تنوع اور دیہی معیشت کی بہتری کی علامت بھی ہے۔
زرعی پیداوار میں اس اضافے کی ایک اہم وجہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کا تیزی سے فروغ ہے۔ حکام کے مطابق زرعی مشینری میں جدت، اسمارٹ فارمنگ کے جدید طریقوں اور کم بلندی پر استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز نے پیداواریت میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ 2025 میں زرعی سائنسی و تکنیکی ترقی کی شراکت کی شرح 64 فیصد سے تجاوز کر گئی، جبکہ فصلوں کی کاشت اور برداشت میں مجموعی مشینی کاری کی شرح 76.7 فیصد تک پہنچ گئی۔

مزید برآں، زرعی ڈرونز کا استعمال بھی نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ چین میں زرعی ڈرونز کی تعداد 3 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو سالانہ بنیادوں پر 460 ملین مو، یعنی تقریباً 30.67 ملین ہیکٹر رقبے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے نہ صرف لاگت میں کمی کی بلکہ پیداوار کے معیار اور رفتار میں بھی بہتری پیدا کی۔

زرعی شعبے کی مستحکم ترقی نے دیہی علاقوں میں آمدنی میں اضافے اور دیہی احیاء کے عمل کو بھی تقویت دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں زرعی اور ذیلی غذائی مصنوعات تیار کرنے والی بڑی صنعتوں کی ویلیو ایڈڈ پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ دیہی سیاحت اور ای کامرس جیسے نئے شعبوں نے بھی ترقی کی، جس سے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ دیہی آبادی کی فی کس قابلِ تصرف آمدنی میں حقیقی بنیادوں پر 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دیہی علاقوں میں رہائشی سہولیات میں بھی بہتری آئی ہے۔ صحت و صفائی کے معیارات میں اضافے کے نتیجے میں سینیٹری ٹوائلٹس کی کوریج تقریباً 77 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم، صحت، بزرگوں کی دیکھ بھال اور دیگر عوامی خدمات کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کو مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔

غربت کے خاتمے کے حوالے سے بھی چین نے اپنی کامیابیوں کو مستحکم رکھا ہے۔ غربت سے نکالے گئے 832 اضلاع میں دو سے تین نمایاں صنعتیں فروغ پا چکی ہیں، جن کے اثرات مقامی معیشت پر مثبت انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔ غربت سے نکلنے والے افراد کے لیے روزگار کی صورتحال مستحکم رہی اور گزشتہ پانچ برسوں سے 30 ملین سے زائد افراد کو مستقل روزگار میسر رہا ہے۔

بلا شبہ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ چین نے مشکل موسمی حالات کے باوجود زرعی شعبے میں نہ صرف استحکام بلکہ مسلسل ترقی کو بھی یقینی بنایا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر حکومتی پالیسیوں اور دیہی ترقی پر مرکوز حکمتِ عملی نے خوراک کے تحفظ، کسانوں کی آمدنی اور دیہی معیارِ زندگی میں بہتری پیدا کی ہے۔ آئندہ برسوں میں زرعی و دیہی جدیدکاری، پیداوار کے استحکام اور غربت کے مکمل خاتمے پر توجہ کے ساتھ یہ رجحان نہ صرف برقرار رہنے کی توقع ہے بلکہ مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکتا ہے، جو ملکی معیشت اور سماجی استحکام کے لیے ایک اہم ستون ثابت ہوگا۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093894 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More