ارکانِ پارلیمنٹ کی سوچ، تنخواہیں اور عوام کا جائز سوال**


پاکستان ایک مشکل معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ہے، بجلی، گیس، تعلیم اور علاج ہر چیز عام شہری کی پہنچ سے دور ہو رہی ہے۔ ایسے میں جب پارلیمنٹ کے ایوانوں سے یہ آواز آئے کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو دس افراد کے لیے حج کوٹہ دیا جائے تاکہ وہ خوش بھی ہوں اور ثواب بھی کمائیں، تو سوال صرف ایک تجویز کا نہیں رہتا، بلکہ سوچ کے معیار کا بن جاتا ہے۔

یہ بات کسی عام شہری نے نہیں کہی، بلکہ یہ تجویز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں سامنے آئی۔ بعد میں حکومت نے اس کی تردید ضرور کی، مگر اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کوٹہ ملا یا نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ خیال آیا کیوں۔پاکستانی شہری یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ جب ملک کے منتخب نمائندے پہلے ہی غیر معمولی تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں، تو پھر ہر معاملے میں سرکاری سہولت کیوں مانگی جاتی ہے؟ کیا عبادت بھی اب ذاتی خرچ سے نہیں بلکہ قومی خزانے سے ہونی چاہیے؟

حقائق کی طرف اگر آئیں تو ارکانِ پارلیمنٹ کی مالی حیثیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پہلے ایک رکنِ قومی اسمبلی تقریباً دو لاکھ روپے ماہانہ لیتا تھا، لیکن 2025 میں اس تنخواہ کو وفاقی سیکرٹری کے برابر کر دیا گیا، یعنی پانچ لاکھ روپے سے زائد ماہانہ۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب حکومت خود کہہ رہی تھی کہ خزانہ خالی ہے اور عوام کو قربانیاں دینا ہوں گی۔تنخواہ کے ساتھ ساتھ مراعات کی ایک لمبی فہرست بھی ہے۔ سرکاری رہائش، مفت بجلی، فون، میڈیکل سہولتیں، سفری الاو¿نس، سرکاری گاڑیاں، عملہ، بزنس کلاس ٹکٹ، یہ سب کچھ ایک رکن کو بطور حق ملتا ہے۔ ان سہولتوں کے بعد یہ کہنا کہ حج یا عمرہ کے لیے بھی سرکاری کوٹہ دیا جائے، ایک عام شہری کے لیے ناقابلِ فہم بات بن جاتی ہے۔

یہاں سوال نیت پر نہیں، بلکہ طرزِ فکر پر ہے۔ اگر ایک رکن واقعی ثواب کمانا چاہتا ہے تو سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی تنخواہ سے کسی مستحق کو حج یا عمرہ کروا دے۔ اس سے زیادہ خالص نیکی اور کیا ہو سکتی ہے؟ مگر جب بات سرکاری کوٹے کی آتی ہے تو یہ عبادت کم اور استحقاق زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔

پاکستان میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو زندگی بھر کی جمع پونجی اکٹھی کر کے حج یا عمرہ کا خواب دیکھتے ہیں۔ کئی لوگ قرعہ اندازی میں نام نہ آنے پر برسوں انتظار کرتے ہیں۔ نجی اسکیموں میں اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر منتخب نمائندے اپنی حیثیت استعمال کر کے خصوصی کوٹہ مانگیں تو یہ احساسِ محرومی کو اور گہرا کرتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پارلیمنٹ کوئی بادشاہوں کا دربار نہیں، بلکہ عوامی نمائندگی کا ادارہ ہے۔ یہاں بیٹھنے والے افراد کو رول ماڈل ہونا چاہیے، نہ کہ رعایتوں کے طلبگار۔ جب عوام سے کہا جاتا ہے کہ کفایت شعاری کریں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کفایت شعاری اوپر سے کیوں شروع نہیں ہوتی؟

مسئلہ صرف حج کوٹے تک محدود نہیں۔ یہ ایک تسلسل ہے۔ کبھی گاڑیوں کی تعداد بڑھانے کی بات، کبھی پلاٹس، کبھی اضافی الاو¿نس، اور اب عبادت کے نام پر سہولت۔ ہر بار دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ سب قانونی ہے۔ ممکن ہے قانونی ہو، مگر کیا یہ اخلاقی بھی ہے؟ایک جمہوری نظام میں قانون سے زیادہ اہم عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ اور یہ اعتماد ایسے فیصلوں سے مجروح ہوتا ہے۔ عوام یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کے مسائل اور ہیں، اور ان کے نمائندوں کی ترجیحات کچھ اور۔یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا واقعی ارکانِ پارلیمنٹ کو مالی طور پر اتنا کمزور سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنے خرچ پر عمرہ نہیں کر سکتے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان کی تنخواہیں کیوں بڑھائی گئیں؟ اور اگر وہ مالی طور پر مضبوط ہیں، تو پھر سرکاری سہولت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں اقتدار کو خدمت کے بجائے حق سمجھا جاتا ہے۔ جو کرسی پر بیٹھ گیا، وہ خود کو مراعات کا مستحق سمجھنے لگتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اقتدار ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے۔اگر کوئی رکن واقعی مذہب سے محبت رکھتا ہے تو وہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرے، حج پالیسی کو شفاف بنائے، نجی اسکیموں کی لوٹ مار روکے، اور عام شہری کے لیے عبادت کے راستے آسان کرے۔ یہی اصل ثواب ہے۔

آج عوام یہ نہیں دیکھتے کہ کون کتنی بار حج پر گیا، وہ یہ دیکھتے ہیں کہ کس نے ان کے لیے کیا کیا۔ اسکول، ہسپتال، روزگار، انصاف، یہ سب عبادت سے کم نہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ایوانوں میں یہ سوچ کم اور مراعات کی فہرست زیادہ زیرِ بحث رہتی ہے۔اگر نمائندے واقعی عوام کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں تو انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس وقت ملک کو قربانی کی ضرورت ہے، نہ کہ مزید مطالبات کی۔ ورنہ یہ سوال بار بار اٹھتا رہے گا کہ یہ سوچ کا معیار ہے یا اقتدار کا نشہ؟

ذرا اس تصویر کا ایک اور رخ بھی دیکھیں، جو اس بحث کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ پاکستان میں ارکانِ پارلیمنٹ نے حالیہ برسوں میں ایسے قوانین اور ترامیم کی حمایت کی جن کے نتیجے میں عوام کے لیے یہ جاننا مزید مشکل ہو گیا کہ ان کے نمائندوں کے اثاثے کہاں سے آئے اور کہاں جا رہے ہیں۔اثاثہ جات کی تفصیلات تو کاغذوں میں جمع ہوتی ہیں، مگر انہیں عام شہری کی آسان رسائی سے دور رکھا گیا۔ نہ مکمل تفصیل سامنے، نہ آزادانہ تصدیق، نہ شفاف آن لائن ڈیٹا۔ گویا عوام سے کہا جا رہا ہو کہ ووٹ ضرور دیں، ٹیکس بھی دیں، مگر سوال پوچھنے کا حق محدود رکھیں۔

اب موازنہ پڑوسی ملک بھارت سے کر لیجیے۔ وہاں ارکانِ پارلیمنٹ اور وزراء کی اثاثہ جات کی تفصیلات باقاعدہ آن لائن دستیاب ہوتی ہیں۔ کس کے پاس کتنی جائیداد ہے، کہاں ہے، پچھلے سال کے مقابلے میں اضافہ ہوا یا کمی، سب کچھ عوام دیکھ سکتے ہیں۔ میڈیا، شہری اور ادارے ان اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں۔ یہی شفافیت جمہوریت کی اصل روح سمجھی جاتی ہے۔پاکستان میں مگر صورتحال الٹ ہے۔ ایک طرف تنخواہیں بڑھائی جاتی ہیں، مراعات میں اضافہ ہوتا ہے، حج جیسے مذہبی فریضے کے لیے بھی خصوصی سہولت کی بات ہوتی ہے، اور دوسری طرف دولت کے حساب کتاب پر پردے ڈال دیے جاتے ہیں۔ یہ تضاد عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مسئلہ صرف سہولتوں کا نہیں، بلکہ جوابدہی سے بچنے کا ہے۔جب نمائندے خود کو عوام کے سامنے جوابدہ کرنے سے کترائیں، تو پھر اعتماد کیسے بچے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں مسئلہ قانون کا نہیں، نیت اور سوچ کا بن جاتا ہے۔

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776292 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More