نواں کٹّا
(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)
ذوالفقار علی بخاری
گزشتہ پانچ سالوں سے ایک جملہ کثرت سے سننے کو مل رہا ہے۔ " نواں کٹّا کھل گیا جے۔" پنجابی زبان سے واقفیت نہ رکھنے والے کو پہلے پہل یہی محسوس ہوتا ہے کہ مذکورہ جملے میں ”کٹّا“ سے مراد کوئی جانور ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ مذکورہ محاورے سے ”کٹے“کا کوئی تعلق نہیں،ہے پس اْسے بدنام کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ " کٹّا"پنجابی زبان کا لفظ ہے جو بھارت کے ضلع بھٹنڈہ، برنالہ اور امرتسر میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔گٹھڑی یا سخت گرہ کو بھارتی پنجاب میں " کٹا" کہا جاتا ہے یعنی جب گٹھڑی کھلتی ہے تو کوئی نہ کوئی چیز ضرور برآمد ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں پنڈورا باکس کو " کٹا" کہتے ہیں۔ بقول اطہر علی ہاشمی: ”پنجابی میں اِس (کٹّا) کا مطلب چھوٹی بوری یا تھیلہ ہے، جیسے آٹے کا کٹا۔اِس کو انگریزی اصطلاح کے مطابق ”پنڈورا باکس کھولنا“ کہا جاسکتا ہے، جو آئے دن کھلتا رہتا ہے اور اِس میں سے بلائیں برآمد ہوتی رہتی ہیں۔“ پنڈورا باکس کے حوالے سے کہانی بھی سن لیجیے: پنڈورا نامی خاتون جسے یونانی دیومالائی کہانیوں میں پہلی عورت کہا جاتا ہے۔اِس عورت کو شادی کی خوشی میں تما م دیوتاؤں نے بدی اور برائیوں کے تحفوں سے نوازا جو ایک باکس میں رکھ کر حوالے کیا گیا۔ پنڈورا کو باکس کھولنے سے منع کیا گیا لیکن وہ باز نہ آئی۔ پنڈورا نے جیسے ہی باکس کھولا تو اُس میں سے بیماری، پریشانیاں، جرائم اور نفرت سمیت دنیا بھر کی تمام برائیاں چھوٹے چھوٹے کیڑوں کی طرح اڑ اڑ کر باہر آنے لگیں۔پنڈورا نے یہ دیکھا تو فوری طور پر باکس بند کرنے کی کوشش کی لیکن تب تک تمام برائیاں باکس سے نکل چکی تھیں۔ سوشل میڈیا پر آئے روز ”کٹّا کھل گیا“ کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ دوسروں کے خلاف جان بوجھ کر محاذ کھولے جاتے ہیں اورنیچا دکھانے کی کوشش ہوتی ہے۔ایک فیس بک صارف کے مطابق کچھ احباب پہلے سے پیش گوئی کرتے ہیں کہ فلاں دن یا مہینے میں ”کٹّا کھلے گا۔“ جو کہ بہت سی پوشیدہ باتوں کو عیاں کر رہا ہے کہ لوگوں نے طے کرلیا ہوتا ہے کہ وہ کب اورکس وقت کسی کو ”ننگا“ کرنے کی کوشش کریں گے۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ”کٹّا“ کھولنے کے لیے نام عیاں نہیں کرتے ہیں کہ اُنھیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کہ ہمدری مل سکے اور کچھ کسی خوف کے بناء سچائی سامنے رکھ دیتے ہیں۔دوسروں کا کٹاّکھولنے والوں کا کب اپنا ”کٹّا”کھل جائے،یہ بھی سوچنا چاہیے۔کیوں کہ سیر کو سوا سیر کہیں نہ کہیں ٹکرا ہی جاتا ہے۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہے ”کٹّا چونا“ یعنی کٹے سے دودھ حاصل کرنا، مراد ہے ناممکن کام۔اِسی طرح ’کٹا چھنی‘ یعنی لڑائی بھڑائی، مارپیٹ، دشمنی کے زمرے میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک اورمحاورہ ’کٹی چھنی‘ ہے جس کامطلب ہے: نوک جھونک جو عداوت سے ہو۔ بے طرح ہے نگاہ سے دل کی کٹی چھنی بے ڈھب ہے گرم معرکہ کارزار آج کسی بھی زبان کے اسرار سمجھ لیے جائیں تو پھر آپ کو گفتگو میں پوشیدہ رنگینی دکھائی دے گی۔اورآپ الفاظ اورمحاوروں کا وہ حقیقی رنگ دیکھ پائیں گے جو آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے۔ ۔ختم شد۔
بشکریہ روزنامہ اساس، راولپنڈی بتاریخ ٢٩ جنوری ٢٠٢٦ |