طاقت کے نام پر زہر کا گھونٹ
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
طاقت کے نام پر زہر کا گھونٹ حسیب اعجازعاشرؔ دودھ ہماری معاشرتی نفسیات میں طاقت، صحت اور زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مدرفیڈ کے بعد بچے کا سب سے پہلا غذائی سہارا یہی دودھ ہوتا ہے، مگر آج یہی دودھ طاقت کے نام پر زہر کا گھونٹ بن چکا ہے۔ وہ فیڈر جسے ماں اعتماد کے ساتھ بچے کے منہ سے لگاتی ہے، کہ یہ اس کے لعل کو طاقت دے گا، صحت دے گا، زندگی دے گا۔ مگر کیا خبرکہ سفید رنگ کی یہ مائع، جو دودھ کا روپ دھارے بیٹھی ہے، دراصل دودھ نہیں موت ہے۔کیمیکل ملا یہ دودھ قوتِ مدافعت کمزور کرتا ہے اور بیماریوں کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے مسائل اور دائمی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں جعلی دودھ اب کوئی انفرادی بددیانتی نہیں رہا بلکہ یہ ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ منافع کی ہوس میں اصل دودھ کم اور پانی زیادہ کیا جاتا ہے، پھر اس پانی کو دودھ ظاہر کرنے کے لیے ڈٹرجنٹ، یوریا، سوڈا ایش، نشاستہ اور دودھ پاوڈر جیسے خطرناک اجزاء شامل کیے جاتے ہیں۔ جھاگ، گاڑھا پن اور سفید رنگ صارف کی آنکھوں کو دھوکا دینے کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں دودھ کو دیر تک خراب ہونے سے بچانے کے لیے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ جیسے کیمیکلز بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ Physicochemical and adulteration study of fresh milk collected from different locations in Pakistan (2022) کے مطابق جانچ کے دوران تقریباً تمام سیمپلز میں کسی نہ کسی شکل میں یہ ملاوٹ پائی گئی، یہ وہ حقیقت ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبورہی نہیں کرتی کہ ہم روزانہ کیا پی رہے ہیں؟کیونکہ ہم جانتے ہیں نہیں کہ ہم کیا پی رہے ہیں؟ اب دودھ سے بنی دیگر اشیاء بھی اسی زہر کا تسلسل ہیں،جیسے دہی جمانے کے لیے خالص دودھ کے بجائے دودھ پاوڈر، بناسپتی گھی اور مختلف کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں۔ Understanding the complexities of the prevalence and control of trans fat in the food supply in Pakistan (2021) کے مطابق بناسپتی گھی ٹرانس فیٹس کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جو دل کے امراض، موٹاپے اور جگر کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ یوں دہی، جو صحت کی علامت سمجھا جاتا ہے، درحقیقت بیماریوں کا ایک خاموش ذریعہ بن جاتا ہے اور ہمارے فریج میں بڑی بے فکری سے رکھا رہتا ہے۔ دوسری طرف دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے گائے اور بھینسوں پر ظلم کی ایک الگ داستان رقم کی جا رہی ہے۔ زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لیے آکسی ٹوسن اور دیگر ہارمونز کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں، جو نہ صرف جانوروں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ انسانوں کے لیے بھی شدید خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ Biotechnological perspectives on oxytocin use in dairy management (2024) کے مطابق ایسے دودھ کے مسلسل استعمال سے ہارمونل عدم توازن، بانجھ پن، لڑکیوں میں ماہواری کی بے ترتیبی، قبل از وقت بلوغت اور خواتین و بچوں میں پیچیدہ طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آکسی ٹوسن والا دودھ استعمال کرنے والے بچوں میں ہارمونل ڈس آرڈرز کا خطرہ تقریباً 30 فیصد زیادہ ہوتا ہے، جبکہ طویل عرصے تک استعمال سے تھائیرائیڈ، ہائی بلڈ پریشر اور حتیٰ کہ کینسر کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہ نقصانات اس حد تک جا سکتے ہیں کہ ایک پوری نسل کی صحت خطرے میں پڑ جائے، جہاں بچے پیدائشی طور پر کمزور پیدا ہوں۔ جعلی دودھ اور اس سے بنی اشیاء کے نقصانات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ معدے کے امراض، جگر اور گردوں کی خرابی، دل کی بیماریاں حتیٰ کہ کینسر جیسے موذی امراض بھی اسی سفید زہر سے جڑے ہوئے ہیں۔ بچوں میں کمزور ہڈیاں، ذیابیطس، سست جسمانی نشوونما اور ذہنی کمزوری کے بڑھتے ہوئے مسائل ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ ہم اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے پر حیران ہوتے ہیں، مگر اپنی روزمرہ خوراک میں شامل اس زہر کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ Physicochemical and adulteration study (2022) کے مطابق دودھ میں کی جانے والی یہ ملاوٹ گردوں، جگر، دل اور کینسر جیسے سنگین امراض کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے حالات میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی واقعی خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔ لاکھوں انسپیکشنز، کروڑوں لیٹر دودھ کی جانچ، ہزاروں جرمانے، سینکڑوں ایف آئی آرز اور ای پی اوز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر ریاستی ادارے چاہیں تو مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ2025کے مطابق اتھارٹی نے گاڑیوں اور دکانوں پر 6 لاکھ 14 ہزار سے زائد انسپیکشنز کیں اور 31 کروڑ 16 لاکھ لیٹر سے زائد دودھ کی جانچ کی۔ غیر معیاری پایا جانے والا 27 لاکھ لیٹر سے زائد دودھ تلف کیا گیا، جو مجموعی دودھ کا صرف 0.88 فیصد ہے۔ یہ وہ زہر تھا جو اگر بروقت نہ روکا جاتا تو بچوں کے فیڈر، مریضوں کے گلاس اور بزرگوں کے پیالے تک پہنچ چکا ہوتا۔ رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں 39,263 جرمانے عائد کیے گئے جن کی مالیت 35 کروڑ روپے سے زائد ہے، جبکہ 1,171 ایف آئی آرز اور 650 ای پی اوز بھی جاری کیے گئے۔تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات کافی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر گلی، ہر محلے اور ہر دیہات میں روزانہ چیکنگ ممکن نہیں۔ ملاوٹ مافیا منظم ہے، وسائل رکھتا ہے اور عوام کی بے حسی او ربے بسی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ سوال غور طلب ہے کہ اگر صارف خود محتاط نہ ہو تو کوئی ادارہ اکیلا یہ جنگ کیسے جیت سکتا ہے؟ عوام کو سب سے پہلے شعور حاصل کرنا ہوگا۔ غیر معمولی سستا دودھ ہمیشہ مشکوک ہوتا ہے،ذرا سوچیں ایک گروی کے ساتھ ایک گروی کیسے مفت ہو سکتی ہے؟۔ ضرورت سے زیادہ سفید رنگ، غیر فطری جھاگ اور دیر تک خراب نہ ہونے والا دودھ خطرے کی واضح علامت ہے۔ معتبر دکانوں سے خریداری، رسید کا مطالبہ اور مشکوک دودھ کی فوری رپورٹنگ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن اور دیگر ذرائع کو مؤثر طور پر استعمال کیا جائے، کیونکہ ایک شکایت شاید کسی بچے کی جان بچا لے۔ فوڈ کنٹرول کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر نگرانی ناگزیر ہے۔ محلوں کی کمیٹیاں، تعلیمی ادارے اور مذہبی مراکز آگاہی مہم میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ موبائل ٹیسٹنگ لیبز کی تعداد بڑھائی جائے اور چھوٹے شہروں و دیہات پر خصوصی توجہ دی جائے۔ دکانداروں کے لیے سخت لائسنسنگ، ٹریکنگ سسٹم اور مستقل بندش جیسے اقدامات نافذ کیے جائیں تاکہ ہر دکان جواب دہ ہو اور قانون کا خوف پیدا ہو کیونکہ طاقت کے نام پر زہر کا گھونٹ اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ادارے اور عوام ایک صف میں کھڑے ہو جائیں تو وہ دن دور نہیں جب بچے کے فیڈر میں واقعی دودھ ہوگا، موت نہیں۔ Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
|