چین میں پرانے صنعتی علاقوں کی نئی شناخت
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین میں پرانے صنعتی علاقوں کی نئی شناخت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں تیز رفتار شہری ترقی کے ساتھ ساتھ اب توجہ صرف نئی عمارتوں کی تعمیر تک محدود نہیں رہی بلکہ موجودہ شہری ڈھانچے کو بہتر انداز میں استعمال کرنے پر مرکوز ہو چکی ہے۔ خاص طور پر پرانے صنعتی علاقوں، متروک فیکٹریوں اور تاریخی عمارتوں کو ازسرِنو فعال بنا کر انہیں ثقافتی، تفریحی اور تجارتی مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس عمل نے نہ صرف شہروں کی صورت گری میں نئی جان ڈالی ہے بلکہ صارفین کے لیے نئی معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔
وسطی چین کے صوبہ حہ نان کے شہر چانگ جو میں واقع "چانگ جو میموری 1952" اس رجحان کی نمایاں مثال ہے۔ کبھی شہر کے منظرنامے میں ایک متروک اور ویران فیکٹری کے طور پر پہچانا جانے والا یہ مقام آج ایک ثقافتی اور تخلیقی مرکز کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ تخلیقی پارک 1952 میں قائم ہونے والی ایک واشنگ مصنوعات کی فیکٹری کی جگہ پر بنایا گیا ہے، جو 2006 میں بند ہو گئی تھی۔ فیکٹری کی سوویت طرزِ تعمیر پر مبنی عمارتیں اپنی اصل ساخت کے ساتھ محفوظ رہیں، جنہیں شہری تجدید کے منصوبے کے تحت نئے استعمال میں لایا گیا۔
آج اس تخلیقی پارک میں ماضی اور حال ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ پرانے گوداموں کو آرٹ سینٹرز میں تبدیل کر دیا گیا ہے، سابقہ پیداواری لائنیں صابن کے میوزیم کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جبکہ ذخیرہ کرنے والے ٹینک اب موسیقی اور راک شوز کے اسٹیج کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ مختلف دکانیں، کیفے، باربی کیو مراکز، چھوٹے ریستوران اور نمائش ہالز مقامی ثقافت اور جدید طرزِ زندگی کا امتزاج پیش کرتے ہیں، جس سے سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ حاصل ہوتا ہے۔
یہ تبدیلی 2019 میں شروع کیے گئے تین سالہ شہری تزئین و آرائش کے منصوبے کا نتیجہ ہے، جس میں حکومتی رہنمائی اور نجی اداروں کی شمولیت شامل رہی۔ اصل عمارتوں کی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس علاقے کو سیاحت اور تفریح کے ایک جامع مرکز میں بدل دیا گیا ہے، جہاں 230 سے زائد دکانیں اور 100 کے قریب مارکیٹ اسٹال قائم ہیں۔ ان میں ثقافتی تخلیق، خوراک، تفریح، فنی مظاہرے اور تجرباتی تھیٹرز شامل ہیں۔
اس تخلیقی پارک کی خاص بات "پانچ حواس پر مبنی معیشت" کا تصور ہے، جس میں ذائقہ، منظر، آواز، خوشبو اور عملی تجربات کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقام نوجوانوں میں خاص طور پر مقبول ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق صنعتی زنگ آلود علاقوں کو ثقافتی اور سیاحتی مراکز میں بدلنے سے شہروں کو نئی علامتی شناخت ملتی ہے اور صارفین کے لیے نئے طرز کے استعمالی مناظر جنم لیتے ہیں۔ چانگ جو کے علاوہ چین کے دیگر شہروں میں بھی اسی نوعیت کی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ جنوب مغربی چین کے شہر چھنگ دو میں ایک پرانی لاکروئیر فیکٹری کو "داچی چائے خانہ" میں تبدیل کیا گیا ہے، جہاں چائے کی ثقافت، غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائش اور فنی سرگرمیاں ایک ساتھ پیش کی جا رہی ہیں۔ یہاں روایتی سیچوان اوپیرا اور جدید موسیقی کا امتزاج مقامی ثقافت کو نئی شکل میں پیش کرتا ہے۔
حکام کے مطابق موجودہ شہری تجدید کی پالیسیوں میں بڑے پیمانے پر مسماری کے بجائے پرانی عمارتوں اور روایتی ہنر کو نئی معیشت کے بنیادی اثاثے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جولائی 2025 میں منعقدہ مرکزی شہری امور کانفرنس میں واضح کیا گیا تھا کہ شہری تجدید کو شہری ڈھانچے کی بہتری، ترقی کے محرکات کی تبدیلی، معیارِ زندگی میں اضافے، سبز ترقی، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور انتظامی صلاحیت میں بہتری کے لیے ایک اہم ذریعہ بنایا جائے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال چین نے 27,100 پرانی شہری رہائشی آبادیوں کی تزئین و آرائش پر 133.2 ارب یوان کی سرمایہ کاری کی، جس سے تقریباً 49 لاکھ 90 ہزار خاندان مستفید ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے پارکس، تفریحی مقامات اور شہری سبز راہداریوں کی تعمیر بھی کی گئی، تاکہ شہروں کو زیادہ رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔
چین میں شہری تجدید کا عمل محض پرانی عمارتوں کی مرمت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک جامع ترقیاتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ صنعتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے ثقافتی اور معاشی سرگرمیوں سے جوڑنا نہ صرف شہروں کو نئی توانائی فراہم کر رہا ہے بلکہ صارفین کے لیے متنوع تجربات بھی پیدا کر رہا ہے۔ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران اعلیٰ معیار کی شہری تجدید کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کے ساتھ توقع کی جا رہی ہے کہ پرانے محلوں، صنعتی علاقوں اور تاریخی عمارتوں کی جدید کاری سے نئی طرز کی معاشی سرگرمیاں اور کھپت کے رجحانات ابھرتے رہیں گے۔ |
|