شہر خموشاں میں خاموش ملاقاتیں اور شاعروں کے لوح مزار پر ان کے اپنے شعر ۔۔۔تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

شہر خموشاں میں خاموش ملاقاتیں اور شاعروں کے لوح مزار پر ان کے اپنے شعر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحقیق و تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..............۔۔۔۔۔۔۔۔..............
دنیا کی رنگینی بڑی دلچسپ اور پر کشش ہے۔ یہ اپنے اندر بسنے والوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ انسان کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اس میں کھو جائے، اور انسان بھی اس کی چاہ میں دل لگا بیٹھتا ہے۔ وہ اس میں موجود اشیاء کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جیسے یہ مستقل قیام کی جگہ ہے۔ وہ اپنے مال و دولت اور اسٹیٹس بڑھانے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔ اسے یاد نہیں رہتا کہ دنیا میں جو آیا ہے، اسے ایک دن واپس جانا ہے۔
انسان اگر اس جذبے کو دل میں پیدا کر لے اور اس احساس کے ساتھ زندگی گزارے کہ میرا دنیا میں قیام چند لمحوں کا ہے اور اس کے بعد آنے والی زندگی لامحدود ہے تو معاشرے کے تقریبا تمام مسائل ختم ہو جائیں۔ انسان اس خیال کو اپنے اندر راسخ کر لے کہ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کا سب کچھ مٹ جانے والا ہے تو اس کے اندر کی حرص و ہوس اور لالچ ختم ہو جائے اور وہ ہمہ دم اپنی آخرت کی فکر میں لگ جائے۔ قرآن میں زمین کی سیرکرنے کے حوالے سے ترغیب دی گئی ہے۔ اس پیغام کی بے شمار حکمتیں ہوں گی لیکن ہو نہ ہو ایک حکمت یہ بھی ہے انسان زمین کی سیر کرتے ہوئے گزرے ہوئے بادشاہوں کے محلات دیکھے جو اب کھنڈر بن چکے ہیں، مٹ جانے والے قوموں کے آثار دیکھے جو اب اس صفحہ ہستی میں موجود نہیں، گزشتہ اقوام کی تہذیب و تمدن دیکھے تاکہ اس کے اندر یہ چیز ترقی پائے کہ انسان خود بھی فانی ہے اور اس دنیا نے بھی مٹ جانا ہے۔ باقی رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے، اس لیے اس دنیا میں رہتے ہوئے، اللہ کی مان کر، اللہ سے دل لگا کر، اور اللہ ہی کی دی ہوئی زندگی کو اللہ کی اطاعت میں گزارنا چاہیے۔
یہاں راقم (اظہار احمد گلزار) نے قبروں کے کتبوں سے ایک تاریخ کے ساتھ دنیا کے عارضی ؤ مختصر ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ ۔کہ کیا کیا ارمان لے کر یہ مشاہیر کل کے میدان سخن کے بادشاہ مٹی کی چادر اوڑھ کر سو گئے ۔۔یہی قانون فطرت اور زندگی کی اصل ہے۔ ۔ان کے لواحقین نے ان کے کلام سے منتخب اشعار ان کی قبور پر درج کر کے اپنے دل کی تشفّی کے ساتھ ساتھ ان مرحومین اہل قلم کی خواہش کا احترام کرنے کا بندوبست بھی کیا ہے۔ ۔۔۔اس دنیا سے سبھی کو ایک نہ ایک دن چلے جانا ہے۔ان میں سے جن شعرا کا کلام ان کی زندگی میں ان سے پہلے دنیا سے رخصت ہوجانے والوں کے کتبوں پر سجا، خود ان شعرا کی موت کے بعد وہی شعر ان کے لوحِ مزار پر بھی لکھ دیا گیا۔ یا پہلی بار لکھا گیا۔۔۔ یہاں‌ ہم چند شاعروں کا ذکر کررہے ہیں‌ جو پاکستان کے مختلف شہروں میں‌ مدفون ہیں‌ اور ان کے لوحِ مزار پر انہی کے اشعار لکھے ہوئے ہیں۔۔
*اردو کے ممتاز شاعر حفیظ ہوشیار پوری کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں محوِ خواب ہیں۔

ان کے لوحِ مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:
سوئیں گے حشر تک کہ سبک دوش ہوگئے
بارِ امانتِ غمِ ہستی اُتار کے

*نام وَر نقاد اور شاعر سلیم احمد کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں، ان کی قبر کے کتبے پر ان کا یہ شعر کندہ ہے:
اک پتنگے نے یہ اپنے رقصِ آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہیے، روشنی بن جائیے

*اردو کے معروف اور صاحبِ طرز شاعر سراج الدین ظفر کراچی میں گورا قبرستان کے عقب میں مسلح افواج کے قبرستان میں دفن ہیں.ان کے لوحِ مزار پر ان کا یہ شعر رقم کیا گیا ہے:

ظفر سے دُور نہیں ہے کہ یہ گدائے الست
زمیں پہ سوئے تو اورنگِ کہکشاں سے اٹھے

*استاد قمر جلالوی کا شمار اردو غزل کے چند نام ور شعرا میں ہوتا ہے۔ وہ کلاسیکی رنگ میں شعر کہنے کے فن کے استاد تھے، ان کا ایسا ہی ایک شعر ان کی قبر کے کتبے پر بھی کندہ ہے جو کراچی میں علی باغ کے قبرستان میں واقع ہے۔

ابھی باقی ہیں پتّوں پر جَلے تنکوں کی تحریریں
یہ وہ تاریخ ہے، بجلی گری تھی جب گلستاں پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*ابوالاثر حفیظ جالندھری

خالق شاہنامہ اسلام اور ترانہ پاکستان حفیظ جالندھری 14جنوری 1900ء میں پنجاب کے مشہور ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ نام محمد حفیظ قلمی نام حفیظ جالندھری رکھا لیکن ان کے استاد محترم مولانا غلام قادر گرامی نے ابوالاثر کی کنیت عطا کی اور بہ اصرار نام کا جزو بنا دیا۔ صرف ساتویں درجے تک تعلیم حاصل کی لیکن قدرت نے انہیں صاحب فکر اور صاحب عمل بنا کر بھیجا تھا۔ علاوہ ازیں آپ کے گھر کا ماحول بھی مذہبی تھا۔ لہٰذا دین اسلام سے بچپن ہی سے سینہ منور ہوگیا ۔ حفیظ نے آزاد کشمیر کا قومی ترانہ نہ صرف لکھا بلکہ اس کی دھن بھی بنائی اور یوں آزاد کشمیر کے ترانے کا خالق ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کی تخلیق نے حفیظ کو ایک ایسے مقام کا حامل بنا دیا ہے جو کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا۔
حفیظ صاحب نے 21دسمبر 1982ءکو انتقال فرمایا۔ علامہ اقبالؒ سے بے پناہ عقیدت اور عشق ہونے کی بنا پر آپ نے بعد از وفات علامہ کے پہلو میں دفن ہونے کی وصیت کی تھی جو پوری نہ ہو سکی۔ پہلے انہیں ماڈل ٹاﺅن کے قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا۔ احبابِ حفیظ بالخصوص ان کے شاگرد اور منہ بولے فرزند حمید کوثر، پروفیسر مرزا محمد منور، پروفیسر ڈاکٹر خواجہ زکریا، جناب صفدر محمود اور بیگم حفیظ جالندھری نے ان کی وصیت کے مطابق تدفین کے لئے بہت کوششیں کیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں حکومت پاکستان نے مینارِ پاکستان لاہور سے ملحق ایک گراﺅنڈ میں ان کا مزار تعمیر کروایا اور ان کی میت وہاں دفن ہے۔حفیظ جلندھری کے لوح مزار پر ان کا یہ شعر کندہ ہے ۔

عرش کی رفعت لیے بیٹھا ہوں فرش خاک پر
سر مرا آسودہ ہے پائے رسول پاک پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*اطہر نفیس جدید اردو غزل کے معروف شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں دفن ہیں۔

ان کی لوح مزار پر انہی کا شعر تحریر ہے:

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچّا شعر سنائیں کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جوش ملیح آبادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898ء کو اترپردیش ہندوستان کے مردم خیز علاقے ملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کر کے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جوش نہ صرف اپنی مادری زبان اردو میں ید طولیٰ رکھتے تھے بلکہ آپ عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی پر عبور رکھتے تھے۔ اپنی اِسی خداداد لسانی صلاحیتوں کے وصف آپ نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپور علمی معاونت کی۔ نیز آپ نے انجمن ترقی اردو ( کراچی) اور دارالترجمہ (حیدرآباد دکن) میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ 22 فروری 1982ء کو آپ کا انتقال ہوا۔آپ کثیر التصانیف شاعر و مصنف تھے۔
"یادوں کی بارات" کا خالق کتنا دبنگ شخص بھی اسلام آباد کے قبرستان میں مدفون ہے اور وہی بانکپن اور مزاحمت آج بھی نظر آ رہی ہے، جس کا ثبوت کچھ مزاحمتی اشعار جو کتبے پر بھی تحریر ہیں۔

کام ہے میرا تغیر، نام ہے میرا شباب
میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب​

کتبے کے دوسری جانب دو قطعات بھی تحریر ہیں۔

*جب زیست پہ ہوتے ہیں ترانے ممنوع
تب کارِ سرود موت کرتی ہے شروع

ہر شاہ و گدا قبر میں ہوتا ہے غروب
شاعر افق لحد سے ہوتا ہے طلوع

اے شاعر دانا، خس و خاشاک نہ بن
اکسیر ہے تُو سر نہ جھکا خاک نہ بن
آئندہ زمانے کی امانت ہشیار
اٹھ لمحہ موجود کی خوراک نہ بن​

ایک انتہائی دلچسپ بات کہ ساری زندگی جوش صاحب، جو ملاؤں سے کتراتے تھے، آج دو ملاؤں ہی میں گھرے ہیں اور قبر کے سرہانے دو مولانا مدفون ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*احسان دانش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احسان دانش ایک دبستان علم و ادب کا نام ہے۔ وہ اردو ادب کے ایک درخشاں عہد کی نشانی ہیں۔ اردو ادب کی کوئی بھی صنف ہو، عالمی ادبیات کی کوئی بھی جہت ہو اور معیار ادب کا کوئی بھی اسلوب ہو' ہر جگہ اس لافانی ادیب کے افکار کا پرتو دکھائی دیتا ہے۔
عالمی ادبیات کے عظیم شاعر،ادیب اور انشاء پرداز حضرت احسان دانشؒ نے ۱۹۸۲ء میں عدم کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔اردو ادب کا یہ آفتاب جو ۱۸۹۲ء میں کاندھلہ، ضلع مظفر نگر (یو۔ پی) بھارت میں طلوع ہوا ۔ اور ۱۹۸۲ء کو وہ عدم کی بے کراں وادیوں میں غروب ہو گیا۔لاہور میانی صاحب کے شہر خاموشاں میں آسودہ خاک ہے ۔ جو سات عشروں تک علم و ادب سے وابستہ افراد کے سروں پر سایہ فگن تھا۔ احسان دانش ؒ ایک دبستان ِ علم و ادب کا نام ہے ۔ وہ نظم کے ساتھ ساتھ نثر کے استعمال میں بھی الفاظ کے انتخاب میں بے مثال قرینہ رکھتے تھے۔ان کی نثر میں بھی شعریت محسوس ہوتی ہے۔ وہ ایک مزدور شاعرکے طور پر جانے جاتے ہیں ۔وہ بچپن سے ہی مزدوری کرنے لگے تھے۔’’جہان دانش‘‘ ان کی خود نوشت سوانح ہے جو محض ایک سوانح ہی نہیں بل کہ اس پورے عہد کی دل چسپ اور حقیقت سے لبریز داستان ہے جو ہمیں ایک تاریخی کتاب سے بڑھ کر ناول لگی ہے۔
ان کے لوح مزار پر انہی کا یہ شعر کندہ ہے ۔
* دانش میں خوف مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز
میں جانتا ہوں موت ہے سنت حضور کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* نور محمّد نور کپورتھلوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات نور محمد نور کپور تھلوی نے ۱۹ ستمبر ۱۹۹۷ء جمعہ کے روز دوپہر ڈیڑھ بجے فیصل آباد (لائل پور) پاکستان میں اس دھوپ بھری دنیا کو چھوڑ کر عدم کی بے پناہ وادیوں کی طرف رختِ سفر باندھ لیا۔ علم و ادب کا خورشید جہانِ تاب جو ۵/اگست ۱۹۱۷ء کو ہندوستان کے ضلع جالندھر کی ریاست کپور تھلہ کے ایک گاؤں نور پور راجپوتاں میں طلوع ہوا اور ۱۹ ستمبر ۱۹۹۷ء کو فیصل آباد پاکستان میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ وہ فیصل آباد کے نواح میں واقع ایک گاؤں چک نمبر ۸۷ گ ب بابے دی بیر (براہ ڈجکوٹ) ضلع فیصل آباد میں اسودہ خاک ہیں۔ فرشتۂ اجل نے اس فطین، فعال، مستعد اور زِیرک تخلیق کار سے قلم چھین لیا جو گزشتہ سات عشروں سے تخلیق ادب میں ہمہ وقت مصروف تھا۔ نورمحمد نور کپور تھلوی خیر کی قدروں کے نقیب تھے اور بری قدروں کو بری نظر سے دیکھتے تھے اور یہی ایک اچھے اور کھرے ادیب کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنی اور غیروں کی خیر چاہے۔۔۔۔خیر ،امن اور سلامتی کے گیت گاتا چلا جائے' یہی اُس کے اخلاص کی نشان دہی کرتی ہے۔۔۔۔نور محمد نور کپور تھلوی کے فن آگاہ اور مزاج آشنا لوگ جانتے ہیں کہ اُنھوں نے ہر عہد اور ہر دور میں یہی رنگ بکھیرے اور اسی خوشبو کو عام کیا ۔ یہی دولت تقسیم کی اور اسی نور سے ظلمتوں کے خاتمے کی تمام تر کوششیں کیں۔ان کی ایک مشہور پنجابی نظم ’’دو نور جہاناں‘‘ (ملکۂ ہند تے ملکۂ ترنم) کا بڑا چرچا تھا۔ شعری نشست ہو یا کوئی نجی محفل۔۔۔۔یہ نظم ان سے فرمائش کر کے بار بار سنی جاتی۔ اوپر سے ان کے پڑھنے کا انداز اور بھی مزا دوبالا کر دیتاتھا۔
نور محمّد نور کپور تھلوی ایک ایسے کہنہ مشق اور قد آور شاعر ہیں جن کی شاعری خوش گوئی و دلآویزی اور متانت فکرو نفاست خیال کا جہان رنگ و نور ہے۔انصاف اور انسانیت کے لیے نور کپور تھلوی کی وابستگی کا شعلہ بے حد تابناک رہا ۔۔وہ ہمیشہ مرد مجاہد بن کر مردانہ وار ظلم کے خلاف لکھتا رہا۔
ان کے لوح مزار پر ان کا اپنا ہی شعر رقم ہے ۔۔۔
*ہیں سب نور ہم منتظر اس گھڑی کے
کسے موت سے اس جہاں میں مفر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*کوثر نیازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا کوثر نیازی فروری 1934ء میں موسی خیل ضلع میانوالی میں پیدا ھوئے- ان کے والد کا نام فتح خان نیازی تھا- انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کانام محمد حیات خان رکھا- سکول کے زمانے میں محمد حیات خان کو شاعری کا شوق لاحق ھؤا تو انہوں نے اپنا قلمی نام کوثر نیازی رکھ لیا- اخبار کوثر کی ملازمت کے دوران جماعت اسلامی سے وابستہ ھو گئے- مولانا مودودی کے بہت قریب رھے- کچھ لوگوں کی سازشوں کی وجہ سے جماعت اسلامی سے استعفی دینا پڑا- اس اثنا میں وہ چوٹی کے صحافی کی حیثیت میں ملک بھر میں معروف ھو چکے تھے- بھٹو صاحب نے انہیں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی تو پیپلز پارٹی سے وابستہ ھوگئے- بھٹو کی کابینہ میں چار سال تک وزیر مذھبی امور رھے- اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بھی رھے- کوثر نیازی نے لاھور میں شام نگر اور راج گڑھ کے سنگم پر اپنا گھر بنا لیا تھا- تقریبا بیس سال اس گھر میں رھے- جب وفاقی وزیر بنے تو اسلام آباد میں گھر بنا کر وھاں منتقل ھوگئے-
کوثر نیازی کی شاعری کے تین مجموعے اور نثر کی چھوٹی بڑٰی چوبیس کتابیں شائع ھوئیں- ان کی سب سے مقبول کتاب “اورلائین کٹ گئی“ جنرل ضیاء کے مارشل لاء نافذ کرنے کی سنسنی خیز داستان ھے-
مرحوم زبردست خطیب بھی تھے-
19 مارچ 1994ء کو اپنی زندگی کا سفر مکمل کرکے اسلام آباد میں اس دنیا سے رخصت ھوگئے-
١٩٧٤ سے ١٩٩٧ کے دوران پاکستان میں سب سے زیادہ طاقت ور وفاقی وزیر تھے۔وہ اسلام آباد میں مدفن ہیں ۔۔ان کے لوح مزار پر ان کا اپنا نعتیہ شعر درج ہے ۔۔۔۔
* کوثر ہے دل میں ایک ہی اعزاز کی ہوس
کہہ دیں وہ حشر میں کہ ہمارا غلام ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*احمد فراز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد فراز ( یوم پیدائش 12 جنوری، 1931ء - یوم وفات 25 اگست، 2008ء) میں کوہاٹ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید احمد شاہ ' تھا۔
احمد فراز نے جب شاعری شروع کی تو اس وقت ان کا نام احمد شاہ کوہاٹی ہوتا تھا جو بعد میں فیض احمد فیض کے مشورے سے احمد فراز ہو گیا۔
اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لیے فیچر لکھنے شروع کیے۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ "" تنہا تنہا "" شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے۔
تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علاحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور) کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ انہیں 1976ء میں اکادمی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا۔ بعد ازاں جنرل ضیاء کے دور میں انہیں مجبوراً جلا وطنی اختیار کرنی پڑی۔ 1989ء سے 1990ء چیرمین اکادمی پاکستان، 1991ء سے 1993ء تک لوک ورثہ اور 1993ء سے 2006ء تک "" نیشنل بک فاؤنڈیشن ""کے سربراہ رہے۔
25 اگست 2008ء کو احمد فراز اسلام آباد میں وفات پا گئے۔ احمد فراز اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔احمد فراز کی مرقد پر ان کا یہ شعر کندہ ہے
*میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فراز
اک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*پروین شاکر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروین شاکر اردو کی معروف شاعرہ ٢٢نومبر ١٩٥٢ کو کراچی مسن پیدا ہوئیں ۔۔"خوشبو " سے "خود کلامی " تک کا پروین شاکر کی شاعری کا سفر کتنے متنوع تجربات،سوچ کی کتنی دیدہ جہتوں اور حسن اظہار کے کتنے تیوروں سے آراستہ ہے ۔۔29 دسمبر ١٩٩٣ کی ایک دھندلی صبح ٹرافک کے حادثہ کا شکار ہو گئیں ۔۔وہ اسلام آباد میں ہی مدفن ہیں ۔۔۔۔ان کے لوح مزار پر ان کے اپنے اشعار رقم ہیں ۔
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھولا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
عکس خوشبو ہوں ، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر تو جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*ہادی مچھلی شہری کے لوح مزار کے لئے خود ان کے اپنے لکھے ہوئے شعر
اک کھلونا ٹوٹتے جس کو نہیں لگتی ہے دیر
زندگی کیا ہے فقط ترکیبِ آب و گلِ کی بات
عہدِ پیری تک تھیں جتنی منزلیں سب آگئیں
رہ گئی ہے اب تو ہادی آخری منزل کی بات
.......
* حفیظ ہوشیار پوری کی قبر کا کتبہ ہے:
سوئیں گے حشر تک کہ سبکدوش ہو گئے
بارِ امانتِ غم ہستی اُتار کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*احمد ندیم قاسمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد ندیم قاسمی (20 نومبر 1916ء تا 10 جولائی 2006ء)
زندگی سے بھرپور ہمہ جہت ادبی شخصیت، احمد ندیمؔ قاسمی بیک وقت ایک عظیم شاعر بھی ہیں اور بے حد معروف، بلند مرتبہ ادیب بھی۔ اُن کی غزلوں، نظموں، نعتوں، قومی و ملی نغموں، افسانوں، ناولٹ، شخصی خاکوں، فکاہی، ادبی و معاشرتی کالموں، بچوں کا ادب (نظمیں، کہانیاں، ڈرامے)، تبصروں، مختلف نوعیت کے مضامین، انٹرویوز، اداریوں، ادارتوں کو اُردو ادب میں منفرد حیثیت اور اعلی مقام حاصل ہے۔ ندیمؔ کے فن پاروں کی بڑی پہچان اُن کی انسان دوستی، روشن خیالی اور نیک نیتی پر مبنی پُرخلوص، ہمدردانہ سچی تڑپ کی انفرادیت میں ہے۔ اُن کے یہاں احساس کی گہرائی اور مربوط و مستحکم فکر کی وسعت بھی ہے۔ یوں وہ نفیس احساس اور مضبوط افکار کا دلکش اور پرکشش سنگم، متاثر کن انداز میں سامنے لاتے ہیں۔ ندیمؔ رومانوی انقلابی آرزومندی سے آغاز کرتے ہوئے حقیقت و صداقت پسندی کو اپنا لیتے ہیں۔ طرزِ ادا ایمائیت و اشاریت کے باوجود واضح ابلاغ کی حامل ہے۔ پُرتاثیر اندازِ بیان میں بے ساختگی، سادگی، روانی اور تازگی ہے۔ جبکہ جراتِ افکار و اظہار کی گہری معنویت نمایاں وصف ہے۔ ندیمؔ مجموعی طور پر زندگی کی روشنی، عقل و دانش، جرات و صداقت اور اُمید و جستجو کے شاعر اور ادیب ہیں۔ اُن کی شاعری اور افسانوں میں موضوعات کا حیران کن اور بے مثال تنوع ہے۔ وہ سبھی انسانوں کیلئے خیر و خوبی کے خواہاں ہیں اور ہمیشہ مثبت امکان سے وابستہ رہتے ہیں۔ اُن کے فن میں جدت پسندی بھی ہے جبکہ مشرقیت و وطنیت کے رنگ بھی نمایاں ہیں۔ انسان اور اُسکی انسانیت سے محبت اُن کے فن پاروں کو عالمگیریت و آفاقیت دے دیتی ہے۔ اُن کی ڈکشن اپنے ہم عصر شعراء سے مختلف ہے۔ان لوح مزار پر ان کا یہ شعر رقم ہے۔

* میں مر بھی جاؤں تو تخلیق سے نہ باز آؤں
بنیں گے نت نئے خاکے میرے غبار سے بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*قیس سہارنپوری :
اے قیس میری قبر کسی کی عطا نہیں
دے کر متاعِ زیست ملا ہے یہ گھر مجھے
.....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جون ایلیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جون کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ عشق و محبت کے موضوعات کو اردو غزل میں دوبارہ لے آئے۔ غزل کا روایتی مطلب بے شک ’عورتوں سے باتیں کرنا‘ ہو، لیکن عالمی تحاریک، ترقی پسندی، جدیدیت، وجودیت اور کئی طرح کے ازموں کے زیرِ اثر جون ایلیا کی نسل کے بیشتر شاعروں کے ہاں ذات و کائنات کے دوسرے مسائل حاوی ہو گئے۔جون ایلیا نے اس کسی حد تک نظرانداز شدہ رومانوی مضامین کو دوبارہ اپنی غزل کا موضوع ضرور بنایا لیکن وہ روایت کے رنگ میں نہیں رنگے، بلکہ انھوں اس قدیم موضوع کو ایسے منفرد انداز سے برتا کہ ان کی آواز پرانی ہونے کے ساتھ ہی ساتھ بیک وقت نئی بھی ہے۔
جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ کے ایک علمی اور ادبی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے بھائی رئیس امروہوی بھی نمایاں شاعر تھے۔جون کی لوح مزار پر ان۔ کا یہ شعر کندہ ہے ۔
*میں بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں
(وفات :8نومبر 2002ء قبر ،جون ایلیا )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہتا ہوں __ ایک بات بڑی مختصر سی ہے
جھک کر چلو حیات بڑی مختصر سی ہے
(وفات: 1987ء قبر: سید محمد حسن نقوی ،شاعر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک پتنگے نے یہ اپنے __ رقصِ آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہیے روشنی بن جائیے
( قبر: سلیم احمد ،ڈرامہ نگار، شاعر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاتے ہوئے کہتے ہوقیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
(وفات: 27اکتوبر 1968ء قبر: سید رئیس احمد جعفری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاید ہی ہم سا کوئی پرستارِ حسن ہو
خود ہم بکھر گئے تیری زلفیں سنوار کے
(وفات :29مئی 1986 ء قبر: ابومسلم صحافی ادیب)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاگنا ہے جاگ لے افلاک کے سائے تلے​
حشر تک سوتا رہے گا خاک کے سائے تلے
........
ہندوستان کے بادشاہ جہانگیر کی بڑی صاحبزادی اور ممتاز محل کی شہزادی جہان آراء بیگم جنکی آخری آرام گاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار کےاحاطے میں ہے ۔ ایک فارسی گو شاعرہ اور مصنفہ تھیں ۔انکی قبر کی لوح پر یہ شعر درج ہے ۔
بغیر سبزہ نپوشد کسی مزارمرا
کہ قبر پوش غریباں ھمین گیاہ بس است
یعنی ،
صرف سبزہ ہی میری قبر کی چادر ہو
ہم غریبوں کے لیئے یہ بھی بہت کافی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*ناصر کاظمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر جدید کہلانے والےعہد ساز شاعر ناصر کاظمی کی شاعری لطیف انسانی جذبات کی بہترین ترجمان ہے۔ آٹھ دسمبر سن انیس سو پچیس کو بھارت کے شہر انبالہ میں پیدا ہونے والے اس شاعر نے اپنی سینتالیس سالہ زندگی کا بیشتر حصہ چائے خانوں، اور رات کی کہانیاں سناتی ویران سڑکوں پر رتجگے کرتے ہوئے گزارا۔ اُن کی بہترین نظمیں اور غزلیں انہیں رتجگوں کا نچوڑ ہیں۔ ان کے لوح مزار پر ان کا یہ شعر رقم ہے۔
* قائم آباد رہے گی یہ دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*ڈاکٹر شوکت علی قمر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجابی زبان کے ممتاز شاعر ، محقق اور نقاد پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی قمر نے 8/ اپریل 2016ء کو زینہ ٔ ہستی سے اُتر کرعدم کی بے کراں وادیوں کی جانب رختِ سفر باندھ لیا ۔بے لوث محبت ،بے باک صداقت ،انسانی ہمدردی اور خلوص و مروّت کا ایک یادگار عہد اپنے اختتام کو پہنچا ۔علمی و ادبی تحقیق و تنقیدکی درخشاں روایات کا علم بردارفطین ادیب ہماری بزمِ وفا سے کیااُٹھا کہ وفا کے سب افسانوں سے وابستہ تمام حقائق خیال و خواب بن گئے ۔۔ 4/ نومبر 1950ء کو ملک رمضان علی امرتسری اور معراج بی بی کے گھر لائل پور (فیصل آباد ) کے محلہ خالصہ کالج ، پرانی آبادی میں شوکت علی کے نام سے ایک ایسا آفتاب جہان تاب طلوع ہوا جس نے عالمی ادبیات کو اپنی خوبصورت تحریروں ، پر فکر سوچوں اور خیالوں سے روشن کر کے 2016ء کو عدم کی طرف رخت سفر باندھ لیا ۔۔محلہ شریف پورا فیصل آباد کی زمین نے عالمی ادبیات کے اس آسماں کو اپنے دامن میں چھپا لیا ۔آپ ایک سیلف میڈ انسان تھے جس نے کوہ نور ٹیکسٹائل ملز کے عام ورکر سے ترقی کر کے علم و ادب کی دنیا میں ایک نام پیدا کیا۔ڈاکٹر شوکت علی قمر کامیابیوں کے زینے چڑھتے گئے ۔۔۔اسسٹنٹ پروفیسر کے بعد ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر انھوں نے پنجابی زبان و ادب کے لیے بھر پور کام کیا ۔۔ان کی محنت بار آور ثابت ہوئی اور اللہ‎ رب العزت کے فضل سے ان کو پروفیسر کے عہدہ پر ترقی دی گئی اور اس لحاظ سے گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی میں پنجابی کے پہلے پروفیسر اور
چیئر پرسن ہونے کا اعزاز بھی انھی کے حصہ میں آیا ۔۔۔۔
شوکت علی قمر ایک ہمہ وقت متحرک رہنے والے ادیب تھے ۔روزانہ کے حساب سے وافر مقدار میں ان کے خطوط ادبی شماروں کے ایڈیٹر وں کو جاتے اور روزانہ کی بنیاد پر خطوط آتے تھے ۔
معروف محقق اور نقاد ڈاکٹر شبّیر احمد قادری ان کی شخصیت اور فکر و فن پر یوں اظہار خیال کرتے ہیں۔
"ڈاکٹر شوکت علی قمر کے ساتھ برسوں گورنمنٹ کالج فیصل آباد پھر جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں وقت گزارنے کا موقع ملا ،سٹاف روم ،ٹی کلب اور ان کے دفتر شعبہ پنجابی میں بہت طویل رفاقتیں رہیں ،مرنجاں مرنج شخص تھے ، لطیفے سنتے سناتے ۔ مجھ سے برسوں پہلے روزنامہ” عوام” فیصل آباد کے پنجابی صفحے کے انچارج تھے ،مدیر عوام قمر لدھیانوی کے شاگرد تھے ،بانی عوام خلیق قریشی مرحوم کے بہت مداح تھے ،نادر جاجوی مرحوم سے بھی اصلاح لیتے تھے ۔ان سے انٹرویو بھے لیے اور ان کی کتابوں بر اپنے تاثرات قلم بند بھی کیے ۔پنجابی زبان کے سچے محب تھے۔غزلوں نظموں کے ساتھ ساتھ نثر بھی بہت لکھی ، جی سی یو فیصل آباد سے انھوں نے ان گنت نئے چراغ روشن کیے اور نسلِ نو میں اپنی ماں بولی سے محبت کا شعور اجاگر کرنے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ان کی پنجابی تخلیقات کے دوسری زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔"
ان کے لوح مزار پر ان کے پنجابی کے یہ اشعار کندہ ہیں ۔

* بکلاں چپ چپیتیاں مار کے تے
خبرے اوہ لوکی کیہڑے دیس ٹر گئے
کنجی نرم زبان دی لا کے تے
جیہڑے دلاں دے جندرے کھول دے سن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*بشیر حسین ناظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشیر حسین ناظم پاکستان کے نامور عالم ، محقق، نقاد، شاعر، صحافی، مترجم اور نعت خواں 25 اکتوبر 1932ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں وہ میاں شیر محمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ کے برادرِ خرد میاں غلام اللہ ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے برصغیر کے عظیم محدث سید البرکات علیہ الرحمہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ مختلف زبانوں میں ایم۔اے کے امتحانات پاس کئے، قانون کی ڈگری حاصل کی اور اعلیٰ نمبروں سے پی سی ایس کا امتحان پاس کیا۔
بشیر حسین ناظم کو اردو، فارسی، عربی، انگریزی ، پنجابی، سرائیکی اور ہندی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ نعت گوئی اور نعت خوانی انکا خاصا تھا۔غالب نعت ، اقبال شناس ، پنجاب کا سچل سر مست ، بلبل ہزار داستاں جیسے القابات بھی بشیر حسین ناظم کے حصہ میں آئے ۔17 جون 2012ء بمطابق 26 رجب المرجب 1433ھ شب معراج کی نورانی رات کو انتقال فرما گئے ۔سی ڈی اے کے قبرستان واقع سیکٹر ایچ- 11 میں بشیر حسین ناظم کے حصہ میں پلاٹ نمبر 22 کی قبر نمبر 118 آئی ۔۔۔۔۔۔ان کے لوح مزار پر یہ شعر کندہ ہے ۔
تا ابد سید عالم کی ثناء میں ناظم ہو گی
مٹی بھی میری نعت سرا میرے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلشاد احمد چن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصل آباد سے متعلق معروف پنجابی شاعر اور سفرنامہ نگار دِلشاد احمد چن پنجابی زبان و ادب کا وہ آفتاب جہانِ تاب جو ۱۹۴۴ ء کو پھگواڑہ (ہندوستان ) میں میاں نور محمد کے گھر طلوع ہوا۔ پنجابی زبان و ادب کو اپنی ضیا پاشیوں سے منور کرنے کے بعد ۱۶ ستمبر ۲۰۱۳ء کی درمیانی شب ۳ بجے فیصل آباد پاکستان میں حرکت قلب بند ہونے سے غروب ہو گیا۔ غلام محمد آباد فیصل آباد کی سرزمین نے اس آسمان کو اپنے دامن میں چھپا لیا۔ انہوں نے گزشتہ پانچ عشروں سے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے جو گراں قدر خدمات انجام دیں وہ تاریخ کے اوراق میں زریں حرف سے لکھی جائیں گی۔
دلشاد احمد چن کا تخلیقی سفر ایک جہد مسلسل ہے۔ اُنہوں نے اپنی زندگی میں جو کچھ قریب سے دیکھا، پڑھا اور محسوس کیا اُسے اُسی شدت سے پڑھنے والے تک پہنچا دیا۔ اُن کے شعروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اچھا اور سچا شعر وہی ہوتا ہے جو اُس لمحے کو گرفت میں لے لیتا ہے جب وہ نازل ہوتا ہے۔ دلشاد احمد چن نے ایسے کتنے سینکڑوں لمحات شعروں میں گرفتار کر رکھے ہیں۔ یہ لمحے اُس عہد کی کہانی پیش کرتے ہیں جو دلشاد احمد چن کا عہد ہے، آپ کا عہد ہے، میرا عہد ہے۔ جنہیں ہم کمزور اور بے بس طبقہ کہتے ہیں۔ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے کہتے ہیں۔ جنہیں بے زمین کہا جاتا ہے۔ دلشاد احمد چن نے اِن محروم طبقے کو تاریخ کے اوراق میں مزین کر دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب ہم نہیں ہوں گے یہ عہد نہیں ہو گا تو دائم آباد رہنے والی دُنیا اور ہم جیسے کئی دلشاد احمدچن کے شعروں میں ہمیں اپنے شُعلے برساتی آنکھوں اور تمتاتے چہروں کے ساتھ سجے دیکھیں گے۔غلام محمّد آباد فیصل آباد کے قبرستان میں مدفن ان کی قبر کے کتبے پر ان کے اپنے پنجابی اشعار رقم ہیں۔

*اوھنے حشر وچ آونا اے کم تیرے
بھٹھ نیکیاں دا جیہڑا پتھ جانا
اوسے پیا نے رکھنی لاج تیری
پا کے جیھدے سہاگ دی نتھ جانا
نشہ دولت دا پل دو پل دا اے
اینے وانگ شراب دے لتھ جانا
چن کجھ وی نہیں جانا نال تیرے
خالی ہتھ آئیوں خالی ہتھ جانا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*نادر جاجوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصل آباد سے متعلق جدید اردو شاعری میں نادر جاجوی ایک مضبوط ، پختہ فکر اور جانی پہچانی آواز تھی ۔ان کے ہاں استادانہ شکوہ اور کلاسک کی سی رفعت خیال پائی جاتی تھی ۔بندش الفاظ و تراکیب کے ماہر مانے جاتے تھے۔ انھوں نے اپنی غزل کا خمیر میر درد ، میر تقی میر ،سودا، مصحفی ،داغ ،ذوق، اور مرزا غالب کی روایت سے اٹھایا ہے ۔جانشین مرزا ، داغ دہلوی اور علامہ نوح ناروی کے لائق ترین تلامذہ میں سے ہیں ۔ہر صنف سخن پر مہارت نامہ رکھتے تھے ۔ان کے ہاں مضامین آفرینی کے بہت نادر نمونے ملتے ہیں۔ دلکش اور دل موہ لینے والے انداز میں بلند پایہ مضامین بیان کرتے تھے ۔زبان کی نزاکتوں سے مکمل واقف و آشنا اور الفاظ کی نشست و برخاست سے مکمل آگاہ تھے ۔۔قدرت نے انھیں زبان کی مہارتوں کا خاص ملکہ عطا کیا ہوا تھا ۔۔
نادر جاجوی 6/ ستمبر 1934ء پنجاب کے ایک قدیم ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ (پاکستان) میں چودھری غلام محمّد کے گھر پیدا ہوۓ ۔
انسانی کردار اور عظمت کا پیکر یہ مخلص ،درد آشنا اور وضع دار انسان اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہے ۔ایسے نایاب اور وضع دار لوگ مُلکوں مُلکو ں ڈھونڈنے سے بھی نہ مِل سکیں گے
۔ علم و ادب کی یہ قندیل 15 مارچ 2013ء کو ہمیشہ کے لیے بجھ گئی ۔۔ انھیں منصور آباد ، فیصل آباد کے شہر خاموشاں نے ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چھپا لیا ۔آپ کی مرقد پر یہ اشعار کندہ ہیں۔

*جو سمجھ سکے نہ کوئی وہ مقام مصطفی ہے
وہ بشر تو ہے یقینا ہر بشر سے ماورا ہے
میں غریب شہر نادر تری اس عطا پہ خوش ہوں
وہی کیف کا بدن ہے، وہی درد کی دوا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*بری نظامی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*بری نظامی (1937-1997)گیت نگاری کے حوالے سے ایک معروف نام ہے۔
بری نظامی کے لکھے ہوئے نغموں نے نصرت فتح علی خان کے فن کو نئی بلندیوں سے آشنا کیا- وہ خود تو غریب تھا، غریب ہی مرا، لیکن اس کانام اس کے گیتوں کے باعث امر ہو گیا- اس کے دلگداز گیت ’’کسے دا یار ناں وچھڑے ‘‘نے تو سارے پاکستان کو رلا دیا تھا- بے پناہ درد ہے اس کے الفاظ میں بھی اور نصرت فتح علی کے انداز میں بھی- عطا اللہ خان عیسی خیلوی کی آواز میں بھی بری نظامی کا ہر گیت بے پناہ مقبول ہوا-۔قوالی ۔۔مست مست دم مست مست کو نصرت فتح علی خان نے گا کر گیت اور گیت نگار دونوں کو امر کر دیا ۔کدی کدائیں دنیا اتے بندہ کلا رہ جاندا اے اپنے غیر وی بن جاندے نیں بس اک اللہ رہ جاندا اے۔ فیصل آباد میں سمن آباد کالجز روڈ کے خموشاں میں ان کی قبر پر ان قوالی اور ایک گیت کے بول درج ہیں۔
*مست مست دم مست مست ۔۔۔۔اور کدی کدائیں دنیا تے بندہ کلا رہ جاندا اے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*احمد شہباز خاور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد شہباز خاور (1959-2019) ان ادبی شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے مختلف ادبی اصناف میں اظہار_خیال کیا۔اردو اور پنجابی زبان میں بہت کچھ لکھا۔ آپ کی بہت سی کتابیں شائع ہوئیں ، شاعری کے علاوہ ، افسانہ اور ڈرامہ نگاری میں بھی شہرت حاصل کی۔ اردو اور پنجابی زبانوں میں نعت کہنے کی سعادت بھی میسر رہی۔۔ جامعہ سلفیہ دار العلوم روڈ فیصل آباد کے قبرستان میں آسودہ خاک اس شاعر کے لوح مزار پر ان کا اپنا پنجابی نعتیہ شعر درج ہے ۔۔
*لباں تے تذکرہ ہووے سدا آقا ؤ مولا دا
اساڈی قبر دے وچ وی ضیاء سرکار دی ہووے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*سلیم بیتاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصل آباد سے متعلق ممتاز شاعر سلیم بیتاب نے 1974 میں زینہ ہستی سے اتر کر عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب ایک ایکسیڈنٹ کا شکار ہوکر رخت سفر باندھ لیا ۔سلیم بیتاب جنہوں نے صرف 34برس کی عمر میں ایک ایکسیڈنٹ کا شکار ہو کر موت کو گلے لگا لیاتھا ۔ 1940ء کو ہندوستان کے ضلع جالندھر میں پیدا ہونے والے سلیم بیتاب نے بڑی فکر انگیز شاعری کی۔ویسے تو ان کی شناخت ان کا ایک شعر ہے۔

*میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں
دیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی

سلیم بیتاب کو زندہ رکھنے کیلئے یہی ایک شعر کافی ہے لیکن ایسا کہنا مناسب نہیں۔ اس شعر کے علاوہ بھی انہوں نے کئی خوبصورت اشعار کہے۔
سلیم بیتاب نے جتنی عمر پائی، یقین نہیں آتا کہ ان کی شاعری کا کینوس اتنا وسیع ہو سکتا ہے۔ اگر عمر وفا کرتی تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کی شعری عظمت میں مزید اضافہ ہوتا۔سلیم بیتاب اپنا پہلا مجموعہ کلام 1973ء میں " لمحوں کی زنجیر " کے نام سے منصہ شہود پر لائے' جسے ملک کے ادبی حلقوں کی طرف سے بے حد سراہا گیا اور جب وہ اپنا دوسرا شعری مجموعہ " ہوا کی دستک " لانے کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ موت نے آن لیا اور یوں پاکستان رائیٹرز گلڈ کا کنوینئر اور انجمن لائل پور کا صدر ۔۔۔۔۔۔بیوی بچوں اور دوستوں کو وراثت میں " ہوا کی دستک " کا مسودہ دے کر 34 سال کی عمر میں 20 جولائی 1974 کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا ۔۔۔۔
وہ پیپلز کالونی نمبر1 فیصل آباد کے شہر خاموشاں میں مدفون ہیں۔ان کے لوح مزار پر ایک مرحوم شاعر دوست ڈاکٹر احسن زیدی کا منظوم نذرانہ کندہ ہے۔

*آں کہ داشت فکر و طبع سلیم
یعنی بیتاب شاعر عصری
آں سراپا نیاز و خوش عصری
پیکر صدق و راحت قلبی
ناگہاں حیف بست رخت سفر
سوئے جنت شدہ بے صبری
از سر آہ آہ گفت سراج
بافت آگوش رحمت ابدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*ناز خیالوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناز خیالوی ایک شاعر، نغمہ نگار اور ریڈیو براڈکاسٹر تھے؛ جو اپنی ایک صوفیانہ نظم “تم اک گورکھ دھندا ہو“ کی حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ یہ نظم مشہور قوال نصرت فتح علی خان کے گانے کے بعد مشہور ہوئی۔ناز خیالوی کا نام محمد صدیق تھا ۔وہ "جھوک خیالی" نامی ایک گاؤں394 گ ب میں 1947ء میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے انھیں خیالوی کہا جاتا ہے۔جھوک خیالی گاؤں ضلع فیصل آباد، صوبہ پنجاب، پاکستان میں تاندلیانوالہ کے نزدیک واقع ہے۔
وہ شاعر مزدور' احسان دانش کے شاگرد تھے۔
ان کا ذریعہ معاش فیصل آباد ریڈیو سے نشر ہونے والا ایک پروگرام “صندل دھرتی“ تھا، جس کی میزبانی وہ 27 برس تک کرتے رہے۔اس کے علاوہ انہوں نے اردو اور پنجابی، دونوں زبانوں میں نغمے لکھے۔ ان کی کچھ نظمیں عطاء اللہ نیازی نے بھی گا رکھی ہیں۔ان کی شاعری دو مجموعوں پر مشتمل ہے
: *تم اک گورکھ دھندا ہو (اردو)'
'* سائیاں وے (پنجابی)
انہوں نے شادی نہیں کی اور 12 دسمبر 2010ء کو ماموں کانجن (پنجاب) میں وفات پائی۔
ان کی مرقد پر ان کے اپنے یہ اشعار کتبہ کےشروع اور آخر پر لکھے ہوۓ ہیں ۔
*لئے پھرتی ہے بلبل چونچ میں گل
شہید ناز کی تربت کہاں ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*ایک دن وہ ساتھ لے کر چند دوست
تربتیں یوں کہہ کر دکھلاتے رہے
اس میں مجنوں اور اس میں کوہ کن
عاشقان ناز تھے ، جاتے رہے
بعد اس کے پھر ہماری قبر پر
دیر تک افسوس فرماتے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*رشید ہادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر اور صحافی محمد رشید ہادی 10/دسمبر 1948ء کو حافظ علی محمّد کے گھر لائل پور (فیصل آباد) میں پیدا ہوئے اور 6/ جون 2006ء بروز جمعۃ المبارک انتقال کر گئے۔پریمیئر ملز ملحقہ ایوب کالونی فیصل آباد کے شہر خاموشاں کی سرزمین نے نعت گوئی کے آسمان کو اپنے دامن میں ہمیشہ کے لیے چھپا لیا۔فیصل آباد کو شہر نعت کا شرف بھی رب کریم کی خاص عطا ہے یہاں لفظوں کی کان کنی کرنے والے ہر شخص کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ بارگاہ کرم اور لطف و عنایت کے بازار رحمت میں اپنے لفظوں کو اپنی ہمت و استقامت کے ہاتھوں میں پرو کر اس بازار میں پہنچ تو جائے اور یہ اسی کا کرم ہے کہ جوں کا توں ضرور جاتا ہے۔محمد رشید ہادی شہر نعت فیصل آباد کے ممتاز اور منفرد نعت گو شاعر تھے وہ ایک عرصے سے شہر مداح رسول کے مکین رہے ۔فصیح اللسان اختر سدیدی اور مداح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محمد علی ظہوری قصوری سے ان کا سالہا سال تک قریبی تعلق رہا ہے۔ان کا پہلا نعتیہ مجموعہ 1984ء میں "جمال مدینہ" کے نام سے منصئہ شہود پر آیا۔پھر غم روزگار کے شکنجے میں وہ ایسا جکڑے کہ 2000ء تک چند نعتیں کہہ سکے۔چنانچہ ان کا دوسرا نعتیہ مجموعہ "بہار گنبد خضرا" 2000ء چپ کر منظر عام پر آیا ۔رشید ہادی کی عوامی نعت میں نعتیہ شاعری کا ہر رنگ اور ہر ذائقہ موجود ہے لیکن ان کی نعت کا غالب رنگ حاضری کی حسرتوں کیفیتوں اور مشاہدات پر مبنی ہے جو نعت کو ایک دلکش موضوع بناتا ہے۔رشید ہادی کو بہت بار حرمین شریفین کی حاضری نصیب ہو چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*مجید امجد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجید امجد (پیدائش: 29 جون 1914ء— وفات: 11 مئی 1974ء)جدید اردو نظم کے ایک اہم ترین شاعر۔ جنھوں نے اپنی شاعری سے اردو نظم کو نیا آہنگ بخشا۔ ان کا شمار جدید اردو نظم کے عظیم شعرا میں ہوتا ہے۔ مجید امجد کی فطری بے نیازی کے سبب ان کی زندگی میں ان کا ایک مجموعہ شب رفتہ کے عنوان سے شائع ہوا۔ بعد ازاں تاج سعید اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے مجید امجد کا شعری کلیات مرتب کیا۔ مجید امجد کی نثر بھی مقدار میں کم ہونے کے باوجود ان کو ایک منفرد شناخت عطاکرتی ہے۔ ڈاکٹر افتخارشفیع کی مرتبہ کلیات نثر سے ان کے تنقید،ترجمہ نگاری،بچوں کے ادب،کالم نگاری جیسی اصناف سے دل چسپی کا پتہ چلتا ہے۔ سمیرا گیلانی نے تہران اور پنجاب یونیورسیٹی میں مجید امجد کی نظموں پر متعدد مضامین شائع کیے ہیں۔
آخری ایام انتہائی عسرت اور تنگی میں گذرے۔ وفات سے ایک ماہ پہلے تک انہیں پینشن نہ مل سکی۔ نوبت تقریباً فاقہ کشی تک پہنچ گئی۔ آخر اسی کیفیت میں گیارہ مئی، 1974ء کے روز اپنے کوارٹر واقع فرید ٹاون ساہیوال میں مردہ پائے گئے۔ تدفین آبائی وطن جھنگ میں ہوئی۔ لوحِ مزار پر انھی کا یہ شعر کندہ ہے:

*کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*عادل صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل صدیقی کا اصل نام محمد شبیر صدیقی تھا۔انھوں نے 5 دسمبر 1954 کو موضع چوہان (برہان پور) تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ میں عبدالعظیم صدیقی کے گھرآنکھ کھولی ۔ ایم -اے پنجابی کیا اور گولڈ میڈل کے حق دار ٹھہرے ۔گوجرانوالہ ڈویژن کے مختلف کالجز میں پنجابی کے استاد کی حیثیت سے فرائض انجام دیے ۔گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ میں صدر شعبہ پنجابی ،گورنمنٹ انٹر کالج میترانوالی ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں پرنسپل، گورنمنٹ کالج سیٹیلائٹ ٹاون گوجرانوالہ اور گورنمنٹ ڈگری کالج پسرور ضلع سیالکوٹ میں بھی خدمات انجام دیں ۔2003 میں آپ نے ڈاکٹر عصمت اللہ زاہد کی زیر نگرانی پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ لکھا ۔جس کا عنوان تھا"مولا بخش کشتہ،شاعر تے نثرنگار"۔
عادل صدیقی اردو اور پنجابی کے کہنہ مشق شاعر تھے۔آپ کو دونوں زبانوں پر یکساں عبور حاصل تھا ۔لیکن آپ کی وجہ شہرت آپ کا پنجابی کلام ہے۔آپ کے تخلیقی سفر کا آغاز 1975 میں ہوا۔سائیں محمد حیات پسروری کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔انہوں نے جنوری 2019ء کو انتقال فرمایا ۔ان کی مرقد کے کتبہ پر یہ شعر تحریر ہے ۔

*اوہنوں ڈر نہیں آؤندا قبر دے نھیرے توں
جہنے جگ تے لو ورتائی ہوندی اے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر عظمت اللہ خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر عظمت اللہ خان 29 جنوری 1931ء کو جالندھر میں ڈی ایس پی پولیس خان شوکت اللہ خان کے ہاں فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔۔۔28 دسمبر 2001ء کو دار فانی سے دار بقا کی طرف چل دیے ۔ یکم جنوری 2002ء کو ان کی ریٹائرمنٹ تھی۔اس طرح اپنی ریٹائرمنٹ سے تین دن قبل داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔۔ایک درویش منش شاعر ، کھرا اور صاف گو انسان منافقت زدہ ماحول کی بہتری کی تدابیریں سوچنے والا ، معصوم طبعیت ہونے کی وجہ سے ہر شخص کو معصوم سمجھنا ۔۔۔۔۔اور بلا تفریق مسلک ، عہدہ اور سینارٹی ہر ایک کے لیے ہمیشہ دیدہ و دل فرش راہ کیے رکھنے والا ۔۔۔۔۔۔انسان تو انسان ۔۔۔۔جانوروں کو بھی محبّت سے رکھنے والا انسان ۔۔۔۔۔ہماری بزم سے چپکے سے ایسے غائب ہو گیا جیسے اب وہ اس سماج کے مزید غم و الام برداشت کرنے کے قابل نہ رہا ہو۔۔۔۔اس گھٹن زدہ ماحول میں یہاں شعرا کرام اپنی سینارٹی کے چکر میں الجھ جاتے ہیں ۔۔۔عمر میں بڑا ہونے پر اپنے آپ کو صدر مشاعرہ سے کم نہیں سمجھتے یا کسی بھی پروگرام میں مشاعرہ کے شروع میں بلائے جانے پر اپنی بے عزتی تک محسوس کرتے ہوں ۔۔۔۔وہ ایسی باتوں سے بے نیاز تھے ۔۔ایسے گھٹن زدہ ماحول میں پروفیسر عظمت اللہ خان روشنی کا استعارہ تھے۔۔۔ایک مینارہ نور تھے۔مہمان نوازی اور ادب و احترام کرنے میں وہ اجنبی اور کسی کی عمر یا رتبہ کو نہیں دیکھتے تھے ۔۔۔۔ان کی قبر پر ان کی لکھی نعت کا یہ شعر کنداں ہے ۔
لو لگا لی ہے نبی سے عظمت
چھوڑ کر دہر کو بیٹھا ہے الگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رانا محمد گلزارخان کپور تھلوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری محفل کے وہ آفتاب و ماہتاب جن کا وجود ہمارے لیے سر چشمہء فیض ہوتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے عدم کے کُوچ کے لیے رخت ِ سفر باندھ لیتے ہیں اور ہمیں دائمی مفارقت دے جاتے ہیں ۔ان کے نہ ہونے کی ہونی پر ہماری آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جاتی ہیں اور دُنیا یہ سانحہ دیکھتی کی دیکھتی رہ جاتی ہے ۔ اپنے بزرگوں کا سایہ جب سر سے اُٹھ جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ سورج واقعی سوا نیزے پر آ گیا ہے ۔ ان لرزہ خیز سانحات اور اعصاب شکن حالات میں دل کو سنبھالنے کی نہ تو کوئی امید بر آتی ہے اور نہ ہی اپنے جذبات حزیں کو حرف حرف بیان کرنے کی کوئی صورت نظر آتی ہے ۔۔لوحِ دل پر نقش ان کی دعائیں ، وفائیں اور عطائیں ہمیشہ کے لیے عزم و عمل کی ندائیں اور آلامِ روزگار کی تمازت سے بچنے کی ردائیں ثابت ہوتی ہیں ۔ دِل کے طاق میں اس عظیم انسان کی حسین یادوں کے چراغ ابِ ہمہ وقت سرِمژگاں ستاروں کے مانند جھلملاتے ہیں ۔ قبلہ والد گرامی رانا محمد گلزارخان کپور تھلوی نے 6/ اکتوبر 1996ء کو داعیء اجل کو لبیک کہا ۔ چک نمبر 87 گ ب براستہ ڈجکوٹ ضلع فیصل آباد پاکستان کی سر زمین نے انسانی ہمدردی ،بے لوث
محبت ،خدمت خلق اور انسانیت کے وقار اور سر بلندی کے اس آسمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چُھپا لیا ۔وہ شخص جِس کا وجود طلوع صبح بہاراں کی نوید تھ۔ اپنے ہزاروں پیاروں کو یاس و ہراس اور آہ و فغاں کے عالم میں تنہا چھوڑ کر دُور بہت ہی دُور اپنی الگ بستی بسانے چلا گیا ۔ اُداس بام ،کُھلے در اور سنسان بستیاں احساس ِ زیاں سے بے حال اپنے رفتگان کو پُکارتی رہتی ہیں لیکن اِس دنیا کی سرائے سے منہ موڑ کر جانے والے مسافر پھر کبھی اس طرف لوٹ کر نہیں آتے ۔زندگی کی شامِ الم میں اپنے بزرگوں کی یادوں کے ستارے اس طرح ضوفشاں رہتے ہیں کہ رہروانِ زیست کو نشانِ منزل مِل جاتا ہے اور وہ سرابوں میں بھٹکنے اور تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیے مارنے سے بچ جاتے ہیں ۔زندگی کی شبِ تاریک میں رستہ دکھانے والا ایسا ہی ایک تابندہ ستارہ رانا محمد گلزارخان کپور تھلوی بھی تھا ۔جن کے دم قدم سے یہ الفاظ رقم ہو رہے ہیں ،جنہوں نے ہاتھ میں قلم پکڑنا سکھایا ،جنہوں نے چلنا سکھایا، جنہوں نے بولنا سکھایا،گویا زندگی کی تمام تر رحمتیں، برکتیں ، کرم نوازیاں اور رعنائیاں اسی ہستی کا تصدق ہیں ۔۔
رانا محمد گلزار خان کپور تھلوی رحمۃ اللہ علیہ 1938ء کو راجپوت قبیلے میں چودھری محمد بخش کے گھر ریاست کپور تھلہ مشرقی پنجاب (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کپور تھلہ کی غلہ منڈی میں آڑھت کا کاروبار کرتے تھے۔ ابتدائی تعلیم ریاست کپور تھلہ سے حاصل کی۔ قیام پاکستان کے وقت آپ کی عمر آٹھ سال تھی۔۔آپ سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ کالم نگاری اور افسانہ نویسی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے تمام عمر قلم و قرطاس سے منسلک رہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمود احمد مفتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمود احمد مفتی کا شمار نعت گو شعرا میں ہوتا ہے۔محمود احمد مفتی کی پیدائش 1965ء میں فیصل آباد (لائل پور) کی تحصیل سمندری کے ایک گاؤں راوی میں ہوئی ۔وہ معروف خطیب امام خطابت اور صوفی علامہ غلام رسول سمندری والے کے صاحبزادے ہیں۔ محمود احمد مفتی ایک صاحب طرز نعت خواں اور اعلی ادبی ذوق رکھنے والے نعت گو شاعر تھے۔وہ 27 اگست 2018ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ان کی مرقد پر ان کی نعت کا یہ شعر کنداں ہے۔
جہاں تھا مفتی مگر قلب و روح طیبہ میں
جبھی تو کچھ بھی نہ آیا، قضا کے ہاتھوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چودھری محمد یوسف ورک قادریؒ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعتیہ ادب کے ایک مخلص اور باکمال خدمت گار ، نعت لائبریری شاہدرہ لاہور کے بانی اور ایک سچے عاشق رسول 2 مئی 1944ء کو حافظ آباد کے ایک گاؤں قلعہ رام کور میں چودھری نواب خاں ورک کے گھر پیدا ہوۓ ۔۔ 27 جنوری 1964ء کو پاکستان پوسٹ میں ملازمت کا آغاز کیا اور ابتدائی طور پر راولپنڈی(ریلوے میل سروس) تعینات ہوئے ملازمت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ طور پر پڑھائی کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور 1970ء میں بی اے کر لیا، اِسی برس اُن کا تبادلہ لاہور جی پی او ہو گیا اور پھر 1973ء میں وہ مستقل طور پر لاہور کے علاقہ شاہدرہ میں آبسے ۔ 80 ء کی دہائی کے وسط میں انہوں نے اپنی عقیدت کے اظہار کے لئے ’’نعت لائبریری شاہدرہ‘‘ کی بنیاد رکھی اور نعتیہ کتب جمع کرنا شروع کر دیں ۔ یہ عقیدتوں کے اظہار کا ایسا طریقہ تھا جو اُن کے لئے باعثِ نجات ہونے کے ساتھ ساتھ آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدح و ثنا سے جڑے ہر فرد کے لئے خوشگوار پیام بھی ثابت ہُوا ۔ نعتیہ کتابوں کو جمع کر کے ایک گلدستہ ترتیب دینے کا یہ شوق اور جذبہ جلد ہی جنون کی سی حیثیت اختیار کرتا گیا اور جہاں سے بھی انہیں نعت پر مبنی کتاب ملی، چاہے وہ مجموعہَ کلام ہو یا نعت سے متعلقہ تحقیق و تدوین کی کتاب یا کوئی نعتیہ جریدہ، اُنہوں نے محدود وسائل ہونے کے باوجود اُسے خرید کر نعت لائبریری شاہدرہ کی زینت بنانا اپنی خوش قسمتی سمجھی ۔
دسمبر 1995ء میں انہوں نے چند نجی وجوہات کی بنا پر ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور بعد ازاں گڑھی شاہو لاہور میں ایک کتابوں کی دکان پر بطور سیلزمین بھی کام کرنا شروع کر دیا ، اس کے علاوہ انہوں نے سادات ماڈل ہائی سکول شاہدرہ لاہور میں بطور معلم بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں ۔ زندگی میں رونما ہونے والی ان تمام تبدیلیوں ، ذمہ داریوں کی ادائیگی اور دیگر مصروفیات کے باوجود نعتیہ کتب کو جمع کرنے کی لگن نہ صرف قائم رہی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں مزید شدت آتی گئی ، اگر اُنہیں کسی کتاب کے بارے علم ہُوا اور وہ کتاب انہیں لاہور میں نہ مل سکی تو اس کے حصول کے لئے بیرونِ شہر سفر بھی کیا اور اپنے خرچے پر جا کر اپنی جیب سے ہی وہ کتاب خریدی اور لائبریری میں شامل کی ۔ یہ نعت کی بے لوث خدمت کا ہی جاں بخش ثمر تھاکہ نا کافی وسائل کے باوجود اپنے کچھ کرم فرماؤں کی وساطت سے انہیں دو مرتبہ (1995 اور 2000) زیارتِ حرمین شریفین کی پُرنور سعادت حاصل ہوئی اور سبز گنبد کی چھاؤں تلے درود و سلام پیش کرنے کا شرفِ عظیم حاصل ہوا ۔
کچھ عرصہ گزرا تو اُن کے ذہن میں ایک اور خیال نے جنم لیا کہ کیوں نہ لائبریری میں موجود کتابوں کا ایک بائیو ڈیٹا ’’فہرست‘‘کی صورت میں ترتیب دیاجائے تاکہ آنے والے محققین تک نعتیہ کتابوں کی تمام ضروری معلومات کا سامان ہو سکے اسی دُور اندیشی کے زیر اثر 2004ء میں ابتدائی ’’فہرست کتب نعت ‘‘ایک مختصر کتابچے کی صورت منظر عام پر لے آئے اور اس کے دو ہی برس بعد یعنی 2006ء میں ایک جامع فہرست بھی طبع کروائی جس میں لائبریری میں موجود کتب کی ضروری تفصیلات درج کرنے کے علاوہ لائبریری کو مطلوب کتب کا ذکر بھی کیا گیا تھا، اس کتاب کی اشاعت نے انہیں ایک منفرد اعزاز کا حامل بھی بنایا وہ نعتیہ کتابوں کی فہرست کو ’’باقاعدہ کتابی شکل‘‘ میں پیش کرنے والے دنیا کے پہلے شخص بن گئے ۔ پھر انہوں نے نعت لکھنا بھی شروع کر دی ’اور مختلف مشاعروں میں ان کی نعتیں سننے کو ملتیں ۔۔76برس کی عمر کے باوجود وہ جوانوں کی طرح متحرک اور جسمانی طور پر چاک و چوبند تھے، اُن کی طبیعت شروع سے ہی سادگی پسند تھی، سادہ لباس، آنکھوں پر نظر کا ہلکا سبز چشمہ، سر پر جالی والی نفیس ٹوپی اور ہر وقت چہرے پر سجی چاشنی بھری مسکراہٹ اُن کی شخصیت کا خاصہ تھا، کم کھانا اور پیدل چلنا اُن کا معمول تھا ۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران متعدد بار طبیعت کی خرابی پراُنہیں اسپتال لے جانا پڑا مگر ہر مرتبہ کچھ ہی گھنٹوں میں وہ اپنی مشفقانہ مسکراہٹ لئے واپس لوٹ آتے مگر 17 اکتوبر 2020 کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سچا عاشق اپنے خالق ومالک کے حضور پیش ہو گیا۔۔ ان کے لوح مزار پر ان کے یہ اشعار کنداں ہیں۔
سلسلہ نعت کا کیا خوب ملا میرے بعد
قبر پڑھتی ہے مری صل علی میرے بعد
نور حضرت سے میری قبر فروزاں ہوگی اس پہ برسے گی سدا نور گھٹا میرے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💥دنیا چلو چلی اے ۔۔بس رہے نام اللہ دا ۔۔

بقول نور محمّد نور کپور تھلوی ۔۔۔۔۔
چن جیہاں صورتاں نوں مٹی نے لکا لیا
جت دی اے موت جہنے ساریاں نوں ڈھا لیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Dr.Izhar Ahmad Gulzar
About the Author: Dr.Izhar Ahmad Gulzar Read More Articles by Dr.Izhar Ahmad Gulzar: 52 Articles with 44593 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.