یومِ محبت یا یومِ بے حیائی؟ (ویلنٹائن ڈے — اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک فکری جائزہ)
(Muhammad Shoaib, Islamabad)
یومِ محبت یا یومِ بے حیائی؟ (ویلنٹائن ڈے — اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک فکری جائزہ) فروری کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ بازار سرخ رنگ میں ڈوب جاتے ہیں، گلاب کے پھولوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے، دل کی شکل کے غبارے، کارڈز اور تحائف ہر دکان کی زینت بن جاتے ہیں، اور سوشل میڈیا محبت کے نعروں سے بھر جاتا ہے۔ نوجوان نسل اس دن کی تیاری میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ اس دن کو ویلنٹائن ڈے کہا جاتا ہے — بظاہر محبت کے اظہار کا دن، مگر درحقیقت یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ واقعی محبت کا دن ہے یا ہماری تہذیب، ثقافت اور دینی اقدار پر ایک خاموش حملہ؟ اسی تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر جاتا ہے: یومِ محبت یا یومِ بے حیائی؟ ویلنٹائن ڈے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس کی بنیاد اسلامی نہیں بلکہ عیسائی روایات میں ملتی ہے۔ اسے ایک پادری “سینٹ ویلنٹائن” سے منسوب کیا جاتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ محبت کرنے والوں کی خفیہ شادیاں کرواتا تھا۔ بعد ازاں اس کی یاد میں یہ دن منایا جانے لگا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مغربی دنیا سے نکل کر عالمی کلچر کا حصہ بن گیا۔ مگر اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم اپنی تہذیبی و مذہبی شناخت برقرار رکھیں اور غیر اقوام کی اندھی تقلید سے بچیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ تہواروں کے حوالے سے بھی اسلام نے واضح حدود مقرر کی ہیں۔ ہمیں دو عظیم تہوار عطا کیے گئے — عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ ان عیدوں کا تعلق عبادت، تقویٰ، قربانی، صلہ رحمی اور اجتماعی خوشی سے ہے۔ اس کے برعکس ویلنٹائن ڈے نہ تو کسی عبادت سے جڑا ہے، نہ کسی دینی روایت سے، بلکہ یہ محض جذباتی و رومانوی اظہار تک محدود ایک رسم بن چکا ہے۔ اسلام میں محبت کا تصور نہایت وسیع، پاکیزہ اور بامقصد ہے۔ محبت صرف مرد و عورت کے درمیان کشش کا نام نہیں بلکہ والدین سے محبت، اولاد سے شفقت، بہن بھائیوں سے اخوت، اساتذہ سے احترام اور انسانیت سے ہمدردی بھی محبت ہی کی صورتیں ہیں۔ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ایمان کی بنیاد ہے۔ مگر افسوس کہ ویلنٹائن ڈے کے نام پر محبت کا مفہوم محدود ہو کر صرف غیر محرم رومانوی تعلق تک سمٹ جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار حیا، پاکدامنی اور نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور عورتوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی عصمتوں کی حفاظت کرنے کی تلقین فرماتا ہے۔ اس کے برعکس ویلنٹائن ڈے کے موقع پر جس طرح بے پردگی، آزادانہ میل جول اور غیر محرم تعلقات کو فروغ دیا جاتا ہے، وہ اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔ اسلام دلوں کو جوڑنے کا درس دیتا ہے، نہ کہ جذبات کو بھڑکانے کا۔ حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ محبت کا کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ازواجِ مطہراتؓ سے محبت فرمائی، مگر وہ محبت عزت، وفاداری اور نکاح کے مقدس بندھن میں تھی۔ آپ ﷺ بچوں سے شفقت فرماتے، صحابہؓ سے محبت کرتے، حتیٰ کہ جانوروں تک پر رحم کرتے تھے۔ یہ وہ محبت تھی جو ذمہ داری اور رحمت پر قائم تھی، نہ کہ وقتی جذبات اور نمائشی اظہار پر۔ اسلام میں مرد و عورت کے درمیان محبت کا جائز راستہ صرف نکاح ہے۔ نکاح نہ صرف دو افراد بلکہ دو خاندانوں کو جوڑتا ہے اور معاشرے کو پاکیزگی فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس ویلنٹائن کلچر نوجوانوں کو خفیہ تعلقات، ڈیٹنگ اور وقتی وابستگیوں کی طرف مائل کرتا ہے، جو نہ صرف دینی بلکہ معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ویلنٹائن ڈے اب ایک بڑی کاروباری صنعت بن چکا ہے۔ گلاب، چاکلیٹ، کارڈز، جیولری اور مہنگے تحائف — سب کچھ محبت کے نام پر فروخت کیا جاتا ہے۔ کمپنیوں نے جذبات کو منافع میں بدل دیا ہے۔ نوجوانوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ تحفہ نہ دیا تو محبت سچی نہیں۔ یوں خلوصِ دل کی جگہ دکھاوا لے لیتا ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جب کوئی قوم اپنی تہذیب سے دور ہو جاتی ہے تو بیرونی ثقافتیں اس پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ آج ہمارے نوجوان اپنی عیدوں کے بجائے ویلنٹائن ڈے کو زیادہ جوش سے مناتے ہیں۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر ہم نے اپنی نسلوں کو اپنی دینی و اخلاقی اقدار سے نہ جوڑا تو شناخت کا بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ محبت کا اظہار اگر کرنا ہی ہے تو اس کے بے شمار پاکیزہ طریقے موجود ہیں۔ والدین کے ہاتھ چومنا، اساتذہ کا شکریہ ادا کرنا، شریکِ حیات کو عزت دینا، یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرنا — یہ وہ محبت ہے جو دلوں کو سکون دیتی ہے اور اللہ کی رضا کا ذریعہ بنتی ہے۔ اسلام ایسی محبت کو عبادت کا درجہ دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اندھی تقلید کے بجائے شعوری طرزِ فکر اپنائیں۔ ہر وہ چیز جو مغرب سے آئے، ضروری نہیں کہ ہمارے لیے بھی مفید ہو۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ ہماری دینی تعلیمات، مشرقی روایات اور اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ “یومِ محبت یا یومِ بے حیائی؟” محض ایک عنوان نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔ فیصلہ ہر مسلمان کو خود کرنا ہے کہ وہ پاکیزہ محبت کے راستے کو اپناتا ہے یا وقتی جذبات اور مغربی رسموں کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ محبت اگر اسلامی حدود میں ہو تو عبادت بن جاتی ہے، دلوں کو جوڑتی ہے، گھروں کو آباد کرتی ہے اور معاشرے کو سنوارتی ہے۔ لیکن اگر یہی محبت حدود سے نکل جائے تو فتنہ بن کر اخلاق، خاندان اور معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم محبت کو اسلام کے دائرے میں رکھیں — تاکہ ہماری دنیا بھی سنورے اور آخرت بھی کامیاب ہو۔ |
|