یومِ محبت یا یومِ بے حیائی؟ (ویلنٹائن ڈے — اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک فکری جائزہ)
(Muhammad Shoaib, Islamabad)
|
یادوں کی وہ جنت |
|
بچپن… زندگی کا وہ سنہرا باب جسے جتنا بھی یاد کرو، دل مسکراتا بھی ہے اور آنکھیں نم بھی ہو جاتی ہیں۔ وہ دن لوٹ کر نہیں آتے، مگر یادوں کی صورت ہمیشہ دل کے کسی کونے میں سانس لیتے رہتے ہیں۔ وقت گزرتا گیا، عمریں بڑھتی گئیں، ذمہ داریاں کندھوں پر آ بیٹھیں… مگر بچپن کی وہ معصوم دنیا آج بھی ویسی ہی آباد ہے — بس کردار کم ہو گئے ہیں، آوازیں مدھم ہو گئی ہیں، اور آنگن سنسان ہو گئے ہیں۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب اسکول کی چھٹی کے بعد ہم سیدھا گھر نہیں آتے تھے بلکہ کھیتوں کا رخ کرتے… اور وہاں اپنا “اسکول” کھول لیتے۔ لکڑی کے چھوٹے چھوٹے پیس اکٹھے کرتے، کوئی استاد بنتا، کوئی شاگرد… اور یوں ہماری اپنی عدالت، اپنی جماعت اور اپنی دنیا سج جاتی۔ نہ کوئی ڈگری کا لالچ، نہ نوکری کی فکر… بس کھیل ہی تعلیم تھا اور تعلیم ہی کھیل۔ عید کے دنوں کی خوشیاں تو جیسے روح میں اتر جاتی تھیں۔ جب پی ٹی وی پر عید اسپیشل فلم لگتی تو پورا خاندان ایک جگہ جمع ہو جاتا۔ فرش پر دری بچھتی، کوئی تکیہ سنبھالتا، کوئی چائے بناتا… اور ہم بچے سب سے آگے بیٹھنے کی ضد کرتے۔ اسکرین چھوٹی تھی مگر خوشی بہت بڑی تھی۔ وہ اجتماعی دیکھنا… وہ ہنسی… وہ تبصرے… آج کے اکیلے موبائل اسکرینوں میں کہاں؟ مجھے آج بھی یاد ہے… میرے کزن مجھے اٹھا کر اسکول لے جایا کرتے تھے۔ میں آدھی نیند میں ہوتا مگر ان کے کندھے پر سر رکھ کر جانے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔ وہ صرف کزن نہیں تھے… بڑے بھائی، دوست اور محافظ سب کچھ تھے۔ لیکن بچپن کی سب سے بڑی دولت… میرے دادا اور دادی تھے۔ میرے دادا… نام کے برکت اللہ تھے، مگر حقیقت میں سراپا برکت تھے۔ ان کی موجودگی گھر پر کسی سایہ دار درخت جیسی تھی۔ خاموش طبیعت… نفیس مزاج… دھیمے لہجے میں بات کرنے والے… مگر دل ایسا وسیع کہ سب کو سمیٹ لیتا۔ وہ کم بولتے تھے مگر جب بولتے تو لفظ دعا بن جاتے۔ ان کے برسوں وفات کو گزر چکے ہیں… مگر سچ کہوں، وقت مرہم نہیں بن سکا۔ آج بھی جب ان کی یاد آتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے گھر کا ایک ستون گر گیا ہو… ایک سایہ اٹھ گیا ہو… ایک برکت رخصت ہو گئی ہو۔ دل چاہتا ہے ایک بار پھر ان کے پاس بیٹھ جاؤں… ان کے ہاتھ چوم لوں… اور کہہ سکوں: “دادا جی… تسی واقعی ساڈے لئی برکت سی او…” میری دادی محبت کی ٹھنڈی چھاؤں تھیں۔ ان کی ڈانٹ میں بھی دعا ہوتی تھی۔ جب میں شرارت کرتا تو وہ بظاہر ناراض ہوتیں مگر چند لمحوں بعد خود ہی گلے لگا لیتیں۔ ان کے ہاتھ کا سر پر پھیرنا آج بھی یاد آتا ہے تو روح تک سکون اتر جاتا ہے۔ دادی کے ہوتے گھر، گھر نہیں… جنت لگتا تھا۔ اور پھر میرے بچپن کی دوسری جنت — میری نانی۔ 🌿 گاؤں کی وہ صبحیں آج بھی میری روح میں زندہ ہیں۔ جب سورج کی پہلی روشنی نکلتی… اور ایک محبت بھری آواز میرے کانوں میں گونجتی: “شعیب… او شعیب… اٹھ جا، ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا اے…” وہ آواز آج بھی میرے اندر گونجتی ہے۔ محبت اتنی خالص، شفقت اتنی وسیع، اور اپنائیت ایسی کہ ہر ملنے والا اپنا بن جاتا۔ ان کے ہاتھ کا سادہ سا ناشتہ بھی محبت سے بھرا ہوتا تھا۔ وہ لقمہ نہیں کھلاتی تھیں… پیار کھلاتی تھیں۔ مگر جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئیں… تو صرف ایک انسان نہیں گیا… میرا ننھیال اجڑ گیا۔ سچ بتاؤں — ان کے بعد ننھیال، ننھیال نہیں رہا۔ وہ صحن وہی تھا، لوگ وہی تھے، مگر محبت کہیں کھو گئی تھی۔ رشتے کمزور ہو گئے… بہار ختم ہو گئی۔ کیونکہ وہ بہار… نانی کے ساتھ تھی۔ آج جب میں ماضی کے دریچے کھولتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ بچپن صرف کھیلوں، فلموں یا کھیتوں کا نام نہیں تھا… بلکہ اصل حسن تو ان بزرگ ہستیوں کی موجودگی تھی۔ ان کے بغیر خوشیاں ادھوری تھیں… اور ان کے ساتھ دکھ بھی ہلکے لگتے تھے۔ آج بڑے گھروں میں رہ کر بھی وہ سکون نہیں… جو مٹی کے صحن میں ان کے ساتھ بیٹھ کر ملتا تھا۔ آج مہنگے بستروں پر نیند نہیں آتی… جو ان کی کہانی سنتے سنتے آ جاتی تھی۔ وقت نے بہت کچھ دیا… مگر وہ لوگ واپس نہ دے سکا۔ کاش… ایک بار پھر صبح ہو… اور وہی آواز آئے… کاش… ایک بار پھر سر پر وہی ہاتھ ہو… کاش… ایک بار پھر وہی قصے سننے کو مل جائیں… مگر اب یہ سب صرف یادوں کی امانت ہیں… اور یادیں کبھی مرتی نہیں… بس رُلا دیتی ہیں۔ دعا 🤲🏻🌙 اللہ میرے دادا برکت اللہ، میری دادی، میرے نانا، اور میری نانی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے… اور تمام اُمتِ مسلمہ کے مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے… آمین۔ |
|