کراچی میں سحر و افطارتقاریب اور دیگر فلاحی اقدامات : ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ
(Muhammad Arslan Shaikh, Karachi)
*از قلم : محمد ارسلان شیخ*
رمضان المبارک ایثار، مساوات اور احساسِ ذمہ داری کا مہینہ ہے۔ اس بابرکت مہینے میں شہر کے مختلف مرکزی اور معروف علاقوں، جیسے گلشن، جوہر اور جناح روڈ میں بڑے پیمانے پر افطار تقاریب کا انعقاد ایک خوش آئند روایت بن چکا ہے۔ یہ محافل باہمی روابط کو مضبوط کرتی ہیں اور خدمتِ خلق کے جذبے کو اجاگر کرتی ہیں
تاہم اس کے ساتھ ایک سنجیدہ اور تعمیری سوال بھی جنم لیتا ہےکیا یہ تقاریب واقعی کراچی کے غریب اور مستحق افراد کے لیے ہیں، یا محض سماجی و سیاسی تشہیر کا ذریعہ؟ کیا انہی علاقوں میں مستحق آبادی کی شرح زیادہ ہے جہاں یہ بڑے اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں؟ یا شہر کے وہ علاقے جہاں ضرورت کی شدت کہیں زیادہ ہے، ہماری اجتماعی توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں؟ اورنگی ٹاؤن، لانڈھی، کورنگی، سرجانی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، نیو کراچی، لیاری،ملیر اور کراچی کے کئی ایسے علاقے جو رہائشی سہولیات، بنیادی ضروریات اور بہتر معیارِ زندگی سے محروم ہیں،ان علاقوں میں بے شمار خاندان محدود آمدنی پر گزارا کرتے ہیں۔ ان کے لیے سحری و افطار کا انتظام بھی بعض اوقات ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ مستحق افراد رات گئے سحری کے لیے یا شام کی افطار میں شرکت کے لیے دور دراز علاقوں تک سفر کر سکتے ہیں؟ کیا وہ رکشہ، بس یا پٹرول کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں؟ اگرچہ یہ سرگرمیاں سماجی رابطے کو فروغ دیتی ہیں، لیکن یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ خدمت کا اصل ہدف وہ طبقات ہونے چاہئیں جہاں معاشی مشکلات زیادہ اور وسائل نسبتاً کم ہوں۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان جیسے پوش علاقوں میں بعض فلاحی ادارے اور سماجی حلقے اور مخیر کاروباری شخصیات، اپنی مدد آپ کے تحت چھوٹے اور بڑے پیمانے پر قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ذرائع ابلاغ اور دیگر سماجی پلیٹ فارم ان کوششوں کو بھی نمایاں کریں، تاکہ حوصلہ افزائی ہو اور خدمت کا دائرہ مزید وسیع ہو سکے۔ صرف بڑے اور پرتعیش اجتماعات ہی نہیں بلکہ خاموش اور عملی خدمت بھی توجہ اور اعتراف کی مستحق ہے۔ یہ تحریر تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ ایک خیر خواہانہ دعوتِ فکر ہے کہ رمضان کی اصل روح ضرورت مند تک پہنچنے میں ہے۔ اگر افطار اور سحری کے انتظامات انہی بستیوں میں بھی اسی اہتمام سے کیے جائیں جہاں فاصلہ اور اخراجات بڑی رکاوٹ ہیں، اور وہاں خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے، تو اس کا اثر کہیں زیادہ حقیقی اور بابرکت ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اہلِ خیر، منتظمین، سماجی شخصیات، ذرائع ابلاغ اور اربابِ اختیار مل کر ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لیں، تاکہ شہر کا کوئی علاقہ صرف اس لیے نظر انداز نہ ہو کہ وہ دور دراز ہے یا وہاں تشہیر کے مواقع کم ہیں۔ رمضان کی برکتیں اسی وقت مکمل ہوں گی جب خدمت کا دائرہ شہر کے ہر مستحق گھر تک پہنچے گا۔ |
|