آج کی نوجوان نسل اور ذہنی دباؤ
(Umema Khan, Athara hazari (اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ))
| یہ مضمون آج کی نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور اس کی وجوہات کو بیان کرتا ہے، اور قرآن کی روشنی میں اس کا حل پیش کرتا ہے۔ |
|
آج کا نوجوان بظاہر مصروف، کامیاب اور جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اندر سے شدید ذہنی دباؤ، بے سکونی اور ڈپریشن کا شکار ہے۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا مسئلہ اور اہم سوال یہی ہے کہ آخر آج کے نوجوان اس قدر ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور اسٹریس کا شکار کیوں ہیں؟ یہ ذہنی دباؤ صرف نوجوان لڑکوں یا لڑکیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، ہر کوئی کسی نہ کسی سطح پر اس کیفیت کا شکار نظر آتا ہے۔ خاص طور پر آج کی نوجوان نسل ذہنی طور پر کمزور ہوتی جا رہی ہے، اور ڈپریشن ایک عام مگر سنگین بیماری کی صورت اختیار کر چکا ہے جو تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس کا علاج نہ چاہتے ہوئے بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ جہاں دوا کے ساتھ عمل اور پرہیز ہو، وہاں شفا ممکن ہوتی ہے، لیکن جہاں صرف دوا ہو اور دعا و پرہیز نہ ہو، وہاں علاج مؤثر نہیں رہتا۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو” کہو، میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے (سورۃ البقرہ: 186)
یاد رکھیں دوا کے ساتھ دعا ایسے ہی ضروری ہے جیسے کھانے کے ساتھ پانی ضروری ہوتا ہے۔
:ماضی اور حال کا فرق
اگر کچھ قدم پیچھے ماضی میں جھانکیں تو پہلے کے نوجوان اور آج کے نوجوان کی سوچ، خیالات اور جذبات میں زمین آسمان کا فرق واضح نظر آتا ہے۔ 1990 کی دہائی کے لوگ ذہنی طور پر اتنے اداس، ناامید اور پریشان حال نہیں تھے جتنے آج کے نوجوان ہیں۔ اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے۔
:سوشل میڈیا اور ذہنی دباؤ
سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں ایک لمحے میں انسان کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے اور دوسرے لمحے میں اسی کا ذہن بےچینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ کسی کے خوبصورت گھر، مہنگی گاڑی یا شادی کی تصاویر دیکھ کر انسان کے ذہن میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں۔ اور جب ذہن میں منفی سوچیں آنا شروع ہوتی ہیں تو سب سے پہلے انسان کا ذہنی سکون متاثر ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ اپنی موجودہ زندگی سے بھی بے زار ہونے لگتا ہے، اور اسے اپنی ہر چیز بےکار محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی ذہنی دباؤ بڑھ کر اداسی اور ناامیدی میں بدل جاتا ہے اور انسان ان سرگرمیوں سے بھی دور ہو جاتا ہے جن میں کبھی اسے خوشی محسوس ہوتی تھی۔ مایوسی کو اس لیے کفر کہا گیا ہے کیونکہ جہاں سے مایوسی کا آغاز ہوتا ہے، وہاں سے انسان کا اللہ پر یقین کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
:ڈپریشن اور نوجوان
ڈپریشن انسان کو بے بس، اداس اور ناامید کر دیتا ہے۔ آج کی نوجوان نسل ظاہریِ دنیا میں اس قدر مگن ہو چکی ہے کہ اگر اسے حقیقت دکھائی بھی جائے تو وہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے دکھائی جانے والی جعلی حقیقت کو ہی سچ مان لیتی ہے۔ سوشل میڈیا نے ہماری سوچ اور ذہن کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ ہم خود پر بھروسہ کھو بیٹھے ہیں اور ہماری شناخت بھی سوشل میڈیا سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
:ذہنی دباؤ کی وجوہات
اگر اس کی بنیادی وجوہات کو دیکھا جائے تو تین اہم عوامل سامنے آتے ہیں
1: مقابلہ بازی (Competition)
جب ہم دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں شامل ہوتے ہیں تو سب سے پہلے اپنا ذہنی سکون کھو دیتے ہیں۔ حسد اور بغض کے ساتھ کبھی سکون حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
2: سوشل میڈیا کمپیریزن (Comparison)
دوسروں کی زندگیوں سے خود کا موازنہ کرنا ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے۔ کسی کا خوبصورت گھر، کسی کی نئی گاڑی یا کسی کی خوشحال زندگی دیکھ کر انسان اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، جو آہستہ آہستہ ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔
3: خاندانی اور معاشرتی توقعات (Expectations)
زیادہ توقعات اکثر مایوسی کا باعث بنتی ہیں۔ جب انسان دوسروں یا خود سے لگائی گئی توقعات پر پورا نہیں اترتا تو وہ ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے، لیکن اکثر ہم اس دوڑ میں اپنا سکون کھو بیٹھتے ہیں، جو بعد میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
:قرآن اور ذہنی دباؤ کے اسباب
قرآنِ مجید صرف ایک کتاب نہیں بلکہ انسان کے لیے مکمل رہنمائی اور شفا کا ذریعہ ہے، جس میں زندگی کے ہر مسئلے چاہے وہ روحانی ہو یا جسمانی سب کا حل موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "بے شک اس میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں"
اگر ہم ان آیات کی گہرائی میں جائیں تو ہمیں اپنی زندگی کے روحانی اور جسمانی دونوں پہلوؤں کے لیے رہنمائی ملتی ہے۔ قرآن کریم یہ واضح کرتا ہے کہ اگر انسان اپنے رب سے جڑا رہے تو اسے سکون حاصل ہوتا ہے، اور اگر وہ اس راستے سے دور ہو جائے تو وہ بےچینی اور اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔
جیسا کہ فرمایا گیا جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے، انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
:قرآن کی روشنی میں حل قرآن انسان کو حوصلہ، امید اور صبر کا درس دیتا ہے۔ ترجمہ: "تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب آؤ گے۔
ترجمہ: "جان لو کہ جو اللہ کے دوست ہیں، انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔"
یہ آیات انسان کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کے ساتھ ہے اور اسے کبھی نہیں بھولتا۔
:حرفِ آخر ذہنی دباؤ آج کے دور کی ایک بڑی حقیقت بن چکا ہے، جس نے خاص طور پر نوجوان نسل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اس کے علاج کے لیے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں، لیکن قرآن اس مسئلے کا بنیادی حل پیش کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی سکون دنیا کی چیزوں میں نہیں بلکہ اللہ کے ساتھ تعلق میں ہے۔ اگر ہم قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کر لیں، اس کی تعلیمات کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں تو یہی ہمیں ذہنی دباؤ سے نکالنے کا سب سے مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔
وما توفیقی الا باللہ تحریر : امیمہ خان |
|