جمعہ کی صدا سے قبر کی تنہائی تک
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
|
اللہ پاک ماموں جان کی مغفرت فرمائے، اُن کی کامل بخشش فرمائے اور اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ جوگیمار سے تعلق رکھنے والے اور علی پور اسلام آباد میں رہائش پذیر ہمارے پیارے ماموں جان، محمد اشرف صاحب ایک سادہ، بااخلاق، نرم دل اور انتہائی ملنسار انسان تھے۔ وہ قریشی مسجد میں برسوں سے مؤذن کی ذمہ داریاں نہایت اخلاص اور محبت کے ساتھ ادا کرتے رہے۔ اُن کی اذان کی صدا جب فضا میں بلند ہوتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے دلوں پر ایک سکون اتر آیا ہو، اور روح براہِ راست رب کی طرف متوجہ ہو گئی ہو۔ کل تک وہی صدا مسجد کی دیواروں سے ٹکرا کر پورے ماحول کو روحانیت سے بھر دیتی تھی… اور آج وہی دیواریں ایک گہری، اداس اور ناقابلِ بیان خاموشی میں ڈوب چکی ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ وہ جمعہ کے مبارک دن دونوں اذانیں دے رہے تھے۔ اُن کی آواز میں ایک خاص مٹھاس، ایک سوز، ایک عاجزی اور رب سے تعلق کی وہ کیفیت تھی جو سننے والے کے دل کو نرم کر دیتی تھی۔ کون جانتا تھا کہ یہ اذانیں اُن کی آخری اذانیں ثابت ہوں گی، اور یہی صدا ہمیشہ کے لیے یاد بن جائے گی۔ وہ صرف مؤذن ہی نہیں تھے بلکہ ہمارے خاندان کا ایک مضبوط ستون، ایک شفیق بزرگ، ایک محبت کرنے والا رشتہ دار اور اپنائیت سے بھرا ہوا انسان تھے۔ اُن کی آمد سے گھر میں رونق آ جاتی تھی، اُن کی مسکراہٹ سے ماحول خوشگوار ہو جاتا تھا، اور اُن کی باتوں سے دلوں میں محبتیں بڑھتی تھیں۔ وہ ہر چھوٹے بڑے سے خلوص سے ملتے، بزرگوں کا احترام کرتے اور بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے۔ عید کے دن اُن کا ہمارے گھر آنا آج بھی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلتا ہے۔ اُن کی باتیں، اُن کی ہنسی، اُن کا انداز، سب کچھ یاد کر کے دل ٹوٹ سا جاتا ہے۔ وہ لمحے جو کبھی خوشی دیتے تھے، آج درد میں بدل چکے ہیں۔ کاش وقت پیچھے لوٹ آتا… کاش وہ مسکراہٹیں دوبارہ دیکھنے کو ملتیں… کاش وہ آواز دوبارہ سنائی دیتی… مگر اب صرف یادیں رہ گئی ہیں، اور ایک ایسا خلا جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ میری زندگی کی یہ سب سے بڑی بدقسمتی اور دل کو توڑ دینے والا لمحہ ہے کہ جب ماموں جان کی وفات ہوئی تو میں اپنے آفیشل وزٹ پر راجن پور اور دیگر مختلف شہروں کے دوروں میں مصروف تھا۔ میلوں دور ہونے کی وجہ سے میں اُن کے پاس آخری وقت میں موجود نہ ہو سکا، جو مجھے ہر حال میں ہونا چاہیے تھا۔ میں اُن کے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکا اور اُن کا آخری دیدار بھی نہ کر سکا۔ یہ سوچ آج بھی دل کو اندر سے ریزہ ریزہ کر دیتی ہے کہ وہ چہرہ جو ہمیشہ محبت دیتا تھا، میں آخری بار دیکھ بھی نہ سکا۔ یہ حقیقت کتنی تلخ ہے کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے، وہ ایک دن خاموشی کے ساتھ دور چلا جاتا ہے۔ زندگی کا سفر جاری رہتا ہے، مگر کچھ لوگ اپنی موجودگی سے جو خلا چھوڑ جاتے ہیں، وہ عمر بھر پورا نہیں ہوتا۔ ان کی جدائی صرف ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی بلکہ ایک پورے گھر، ایک پورے ماحول اور ایک پوری کیفیت کا بچھڑ جانا ہوتا ہے۔ جمعہ کا وہ بابرکت دن، اذان کی وہ صدائیں اور پھر اچانک آنے والی یہ خاموشی… یہ سب کچھ ہمارے لیے ایک ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔ دل بار بار انکار کرتا ہے کہ جو شخص کل اللہ کے گھر کی طرف بلاتا تھا، آج وہ خود اس دنیا میں نہیں رہا۔ مگر تقدیر کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں، اور ہر جان نے ایک دن اپنے رب کے پاس لوٹ جانا ہے۔ یا اللہ! ماموں جان کی تمام خطاؤں کو معاف فرما، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے، اُن کی تنہائی کو ختم فرما اور اُنہیں جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اعلیٰ مقام عطا فرما۔ اُن کی اذانوں کو اُن کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے اور اُن کی ہر نیکی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ یا اللہ! اُن کی اولاد کو صبرِ جمیل عطا فرما، اُن کے دلوں کو سکون دے، اُن کے آنسوؤں کو رحمت میں بدل دے اور اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرما۔ ہم تمام اہلِ خانہ کو بھی اس دکھ کو سہنے کی طاقت دے اور ہمیں یقین عطا فرما کہ ہم سب نے ایک دن تیرے پاس ہی لوٹ کر جانا ہے۔ بے شک ہم نے ایک ایسا سایہ کھو دیا ہے جو محبت، خلوص اور اپنائیت کا پیکر تھا۔ وہ آواز جو کبھی ہمیں رب کی طرف بلاتی تھی، آج خاموش ہو چکی ہے… مگر اس کی گونج ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے جہاں کو ویران کر گیا” اللہ پاک ماموں جان کی مغفرت فرمائے، اُن کی کامل بخشش فرمائے اور اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ جوگیمار سے تعلق رکھنے والے اور علی پور اسلام آباد میں رہائش پذیر ہمارے پیارے ماموں جان، محمد اشرف صاحب ایک سادہ، بااخلاق، نرم دل اور انتہائی ملنسار انسان تھے۔ وہ قریشی مسجد میں برسوں سے مؤذن کی ذمہ داریاں نہایت اخلاص اور محبت کے ساتھ ادا کرتے رہے۔ اُن کی اذان کی صدا جب فضا میں بلند ہوتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے دلوں پر ایک سکون اتر آیا ہو، اور روح براہِ راست رب کی طرف متوجہ ہو گئی ہو۔ کل تک وہی صدا مسجد کی دیواروں سے ٹکرا کر پورے ماحول کو روحانیت سے بھر دیتی تھی… اور آج وہی دیواریں ایک گہری، اداس اور ناقابلِ بیان خاموشی میں ڈوب چکی ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ وہ جمعہ کے مبارک دن دونوں اذانیں دے رہے تھے۔ اُن کی آواز میں ایک خاص مٹھاس، ایک سوز، ایک عاجزی اور رب سے تعلق کی وہ کیفیت تھی جو سننے والے کے دل کو نرم کر دیتی تھی۔ کون جانتا تھا کہ یہ اذانیں اُن کی آخری اذانیں ثابت ہوں گی، اور یہی صدا ہمیشہ کے لیے یاد بن جائے گی۔ وہ صرف مؤذن ہی نہیں تھے بلکہ ہمارے خاندان کا ایک مضبوط ستون، ایک شفیق بزرگ، ایک محبت کرنے والا رشتہ دار اور اپنائیت سے بھرا ہوا انسان تھے۔ اُن کی آمد سے گھر میں رونق آ جاتی تھی، اُن کی مسکراہٹ سے ماحول خوشگوار ہو جاتا تھا، اور اُن کی باتوں سے دلوں میں محبتیں بڑھتی تھیں۔ وہ ہر چھوٹے بڑے سے خلوص سے ملتے، بزرگوں کا احترام کرتے اور بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے۔ عید کے دن اُن کا ہمارے گھر آنا آج بھی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلتا ہے۔ اُن کی باتیں، اُن کی ہنسی، اُن کا انداز، سب کچھ یاد کر کے دل ٹوٹ سا جاتا ہے۔ وہ لمحے جو کبھی خوشی دیتے تھے، آج درد میں بدل چکے ہیں۔ کاش وقت پیچھے لوٹ آتا… کاش وہ مسکراہٹیں دوبارہ دیکھنے کو ملتیں… کاش وہ آواز دوبارہ سنائی دیتی… مگر اب صرف یادیں رہ گئی ہیں، اور ایک ایسا خلا جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ میری زندگی کی یہ سب سے بڑی بدقسمتی اور دل کو توڑ دینے والا لمحہ ہے کہ جب ماموں جان کی وفات ہوئی تو میں اپنے آفیشل وزٹ پر راجن پور اور دیگر مختلف شہروں کے دوروں میں مصروف تھا۔ میلوں دور ہونے کی وجہ سے میں اُن کے پاس آخری وقت میں موجود نہ ہو سکا، جو مجھے ہر حال میں ہونا چاہیے تھا۔ میں اُن کے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکا اور اُن کا آخری دیدار بھی نہ کر سکا۔ یہ سوچ آج بھی دل کو اندر سے ریزہ ریزہ کر دیتی ہے کہ وہ چہرہ جو ہمیشہ محبت دیتا تھا، میں آخری بار دیکھ بھی نہ سکا۔ یہ حقیقت کتنی تلخ ہے کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے، وہ ایک دن خاموشی کے ساتھ دور چلا جاتا ہے۔ زندگی کا سفر جاری رہتا ہے، مگر کچھ لوگ اپنی موجودگی سے جو خلا چھوڑ جاتے ہیں، وہ عمر بھر پورا نہیں ہوتا۔ ان کی جدائی صرف ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی بلکہ ایک پورے گھر، ایک پورے ماحول اور ایک پوری کیفیت کا بچھڑ جانا ہوتا ہے۔ جمعہ کا وہ بابرکت دن، اذان کی وہ صدائیں اور پھر اچانک آنے والی یہ خاموشی… یہ سب کچھ ہمارے لیے ایک ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔ دل بار بار انکار کرتا ہے کہ جو شخص کل اللہ کے گھر کی طرف بلاتا تھا، آج وہ خود اس دنیا میں نہیں رہا۔ مگر تقدیر کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں، اور ہر جان نے ایک دن اپنے رب کے پاس لوٹ جانا ہے۔ یا اللہ! ماموں جان کی تمام خطاؤں کو معاف فرما، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے، اُن کی تنہائی کو ختم فرما اور اُنہیں جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اعلیٰ مقام عطا فرما۔ اُن کی اذانوں کو اُن کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے اور اُن کی ہر نیکی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ یا اللہ! اُن کی اولاد کو صبرِ جمیل عطا فرما، اُن کے دلوں کو سکون دے، اُن کے آنسوؤں کو رحمت میں بدل دے اور اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرما۔ ہم تمام اہلِ خانہ کو بھی اس دکھ کو سہنے کی طاقت دے اور ہمیں یقین عطا فرما کہ ہم سب نے ایک دن تیرے پاس ہی لوٹ کر جانا ہے۔ بے شک ہم نے ایک ایسا سایہ کھو دیا ہے جو محبت، خلوص اور اپنائیت کا پیکر تھا۔ وہ آواز جو کبھی ہمیں رب کی طرف بلاتی تھی، آج خاموش ہو چکی ہے… مگر اس کی گونج ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے جہاں کو ویران کر گیا |
|