قومیں آزمائش میں پہچانی جاتی ہیں!

قومیں آزمائش میں پہچانی جاتی ہیں!
(تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان)
کیسی بات ہے کہ کہیں جنگ کے سائے ہیں مگر زندگی رواں دواں ہے، اور کہیں امن کے دعوے ہیں مگر زندگی معطل دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف وہ ملک/معاشرے ہیں جہاں بمباری کے خطرات کے باوجود اسکول و بازار کھلے ہیں، معمولات جاری ہیں، اور قوم اپنے قدموں پر کھڑی نظر آتی ہے؛ دوسری طرف ایسے خطے بھی ہیں جہاں خطرہ سرحدوں سے دور ہے، مگر احتیاط کے نام پر زندگی کی رفتار سست کر دی جاتی ہے۔ بجلی بند، گیس بند، اسکول بند، بازار بند، اور وقت سے پہلے دن کا اختتام، یہ تضاد محض پالیسی کا نہیں بلکہ ذہنی کیفیت کا بھی عکاس ہے۔
معاشی فیصلوں کا حال اس سے مختلف نہیں۔ عالمی سطح پر کوئی فوری بحران نہ ہو، تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری ہو، حتیٰ کہ حساس گزرگاہیں بھی کھلی ہوں، اس کے باوجود قیمتوں میں اضافہ۔۔۔یہ سب ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرتا ہے جہاں فیصلے حقائق سے زیادہ خدشات کے تابع ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ قیمتیں کیوں بڑھیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے فیصلے واقعی زمینی حقائق سے جڑے ہوتے ہیں یا صرف اندازوں کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں؟
دوسری جانب دنیا میں ایسے مناظر بھی موجود ہیں جو حیران کرتے ہیں۔ ایک ملک، جو دہائیوں سے سخت پابندیوں کا سامنا کر رہا ہو، عالمی دباؤ کے باوجود اپنے داخلی نظم کو برقرار رکھے، اور ایک طویل کشمکش کے دوران بھی کسی بیرونی سہارے کی بجائے اپنی قوم پر انحصار کرے۔ یہ محض حکمتِ عملی نہیں، ایک ذہنی اور قومی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ قومیں اس وقت مضبوط نہیں ہوتیں جب ان کے پاس وسائل زیادہ ہوں، بلکہ اس وقت جب ان کے اندر خود اعتمادی اور استقامت کی بنیادیں مضبوط ہوں۔
اگر کسی قوم کو ایک جسم سمجھا جائے تو اس کی معیشت اس کا خون، اس کا نظم اس کی ہڈیاں اور اس کا حوصلہ اس کی روح ہوتا ہے۔ جسم اس وقت کمزور نہیں ہوتا جب وسائل کم ہوں، بلکہ اس وقت جب روح کمزور ہو جائے۔ جن قوموں کی روح زندہ ہو، وہ زخم کھا کر بھی کھڑی رہتی ہیں؛ اور جن کی روح تھک جائے، وہ بغیر زخم کے بھی لڑکھڑا جاتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ غیرت اور خودداری نعروں سے پیدا نہیں ہوتیں، یہ مسلسل تربیت، اجتماعی شعور اور قیادت کے رویّے سے جنم لیتی ہیں۔ جب قوم کو بار بار یہ باور کروایا جائے کہ وہ کمزور ہے، نازک موڑ پر کھڑی ہے، خطرات میں گھری ہے اور دوسروں کی محتاج ہے، تو آہستہ آہستہ وہ واقعی خود کو ویسا ہی سمجھنے لگتی ہے۔ اس کے برعکس، جب قوم کو اس کی قوت کا احساس دلایا جائے تو وہ محدود وسائل کے باوجود بڑے فیصلے کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیتی ہے۔
آزمائش کا وقت دراصل قوموں کے لیے ایک آئینہ ہوتا ہے۔ اس آئینے میں نہ صرف حکمرانوں کے فیصلے بلکہ عوام کے رویّے بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ کچھ قومیں مشکل وقت میں سمٹ کر بکھر جاتی ہیں، اور کچھ وہ ہوتی ہیں جو اسی دباؤ میں ایک اکائی بن جاتی ہیں۔
یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ہر ملک کے حالات، جغرافیہ اور ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ کسی ایک ماڈل کو مکمل طور پر دوسرے پر منطبق کرنا درست نہیں۔ مگر اس کے باوجود کچھ بنیادی اصول ایسے ہیں جو ہر جگہ یکساں رہتے ہیں اعتماد، شفافیت، اور عوام کو حقیقت سے آگاہ رکھنا بھی انہی اصولوں میں سے ہیں۔
جب عوام کو اعتماد میں لیا جائے، فیصلوں کی وجوہات واضح کی جائیں اور قومی بیانیہ خوف کے بجائے حوصلے پر قائم ہو، تو مشکلات بھی بوجھ نہیں لگتیں۔ لیکن جب فیصلے اچانک ہوں، وضاحت کم ہو اور تضادات زیادہ ہوں، تو معمولی مشکلات بھی غیر معمولی محسوس ہونے لگتی ہیں۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وسائل سے نہیں، رویّوں سے بڑی بنتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم جو کچھ رکھتے ہیں، اس کے ساتھ کھڑے کیسے ہوتے ہیں۔ کیونکہ آزمائشیں ہمیشہ کمزوری کو نہیں، اصل کو ظاہر کرتی ہیں۔ 
Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 66 Articles with 114900 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.