یومِ مزدور: کس کا۔۔۔؟

یومِ مزدور: کس کا۔۔۔؟
تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان
(محقق، مصنف، کالم نگار)
۔۔۔۔۔
صبح کے اجالے میں جب شہر جاگتا ہے تو سب سے پہلے جن قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے، وہ مزدور کے قدم ہوتے ہیں۔ وہ شخص جس کے ہاتھوں میں چنڈیاں (کھردرا پن) ہوتا ہے، مگر انہی ہاتھوں میں شہروں کی تعمیر، معیشت کی روانی اور زندگی کی بقا پوشیدہ ہوتی ہے۔ یکم مئی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی کے ہر بڑے دعوے کے پیچھے ایک خاموش محنت کار کھڑا ہوتا ہے، جس کا ذکر کم اور کام زیادہ ہوتا ہے۔
یومِ مزدور محض ایک تاریخ نہیں، ایک سوال ہے، کیا ہم نے واقعی محنت کو اس کا حق دیا؟ دنیا کے بڑے بڑے کارخانے، بلند و بالا عمارتیں، سڑکیں، پل اور صنعتیں، یہ سب محنت کشوں کے پسینے سے وجود میں آتے ہیں، مگر جب تقسیم کی بات آتی ہے تو سب سے پیچھے وہی کھڑا نظر آتا ہے جس نے سب سے زیادہ دیا ہوتا ہے۔
یہ دن ہمیں تاریخ کے اس باب کی بھی یاد دلاتا ہے جہاں مزدور نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی، قربانیاں دیں اور یہ ثابت کیا کہ خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی، مگر جب وہ بول پڑے تو تاریخ کا رخ بدل دیتی ہے۔ آج جو اوقاتِ کار، اجرت کے اصول اور بنیادی سہولیات ہمیں معمول کا حصہ لگتی ہیں، یہ سب کسی نہ کسی مزدور کی جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔
اگر معاشرے کو واقعی مضبوط بنانا ہے تو اس کی بنیاد میں شامل محنت کش طبقے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پالیسی سازی سے لے کر عملی اقدامات تک، مزدور کے حقوق کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ منصفانہ اجرت، محفوظ ماحول، معیاری صحت اور تعلیم تک رسائی، یہ سب محض نعرے نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار ریاست اور باشعور معاشرے کی بنیادی ترجیحات ہونی چاہئیں۔
معاشی ترقی کا اصل پیمانہ بلند عمارتیں یا بڑھتے ہوئے اعداد و شمار نہیں، بلکہ وہ معیارِ زندگی ہے جو ایک عام مزدور کو حاصل ہے۔ اگر ایک مزدور اپنے بچوں کو تعلیم، صحت اور باوقار زندگی فراہم نہیں کر سکتا، تو ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ترقی کے تصور کو محض سرمایہ کاری سے نکال کر انسانی فلاح سے جوڑا جائے۔
یہاں ایک کربناک تضاد بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ یومِ مزدور کے دن آرام اُن طبقات کے حصے میں آتا ہے جن کے لیے یہ دن علامتی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے مزدوروں کی ہے جو اسی دن بھی مزدوری پر نکلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
ان کے لیے یہ دن جشن نہیں، ایک اور امتحان ہوتا ہے؛
کیونکہ ان کے ہاں چھٹی کا مطلب آرام نہیں، بلکہ فاقے کا خدشہ ہوتا ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جو ہمارے نعروں اور زمینی حالات کے درمیان فاصلے کو بے نقاب کرتی ہے۔ آج کے دور میں مزدور کے مسائل صرف اجرت تک محدود نہیں رہے۔ مہنگائی، بے یقینی، روزگار کا عدم تحفظ اور بنیادی سہولیات کی کمی، یہ سب اس کے لیے روزمرہ کی حقیقت ہیں۔ ایک طرف ترقی کے بڑے بڑے دعوے ہیں، دوسری طرف وہ مزدور ہے جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتے دیکھتے خود تھک جاتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم مزدور کی محنت سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، مگر اسے عزت دینے میں کنجوسی برتتے ہیں۔ ہم اس کے کام کو سراہتے ہیں، مگر اس کی زندگی کو نہیں سنوارتے۔ حالانکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کو کس حد تک سہارا دیتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مزدور کے حوالے سے رویّے کو رسمی تقاریب سے نکال کر عملی اصلاحات کی طرف لے جایا جائے۔ قانون سازی کا مؤثر نفاذ، ٹھیکیداری نظام میں شفافیت، اور مزدور کی آواز کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا، یہ وہ اقدامات ہیں جو محنت کو حقیقی وقار دے سکتے ہیں۔ جب تک مزدور کو صرف ایک "وسیلہ" سمجھا جاتا رہے گا، تب تک معاشرہ اپنی اصل بنیاد سے محروم رہے گا۔
یومِ مزدور ہمیں صرف ماضی کی جدوجہد یاد دلانے کے لیے نہیں، بلکہ حال کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیے بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے اپنے معاشرے کو اس نہج پر لے جانے کی کوشش کی ہے جہاں محنت کرنے والا صرف زندہ نہ رہے، بلکہ باوقار زندگی گزار سکے؟
جب تک مزدور کے نام پر منایا جانے والا دن اس کی زندگی میں حقیقی آسانی پیدا نہیں کرتا، تب تک یہ تاریخی جشن یا چھٹی نہیں، ایک سوال ہی رہے گی کہ کیا ہم محنت کا احترام کرتے ہیں، یا صرف اس کا ذکر۔۔۔؟

 

Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 66 Articles with 114247 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.