پردیسی بکرے گھر کے نہ گھاٹ کے
(رعنا تبسم پاشا, Dallas, USA)
نیم متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک کثیر العیال گھرانے نے اپنا سب سے بڑا بیس سالہ بیٹا سعودی عرب بھجوا دیا کمانے کے لئے ۔ دس سال کے عرصے میں وہ تین بار پاکستان آیا ہے اور تینوں بار چھوٹے بھائی اور بہنوں کی شادی کے لئے ۔ چوتھی بار چھٹی پہ آیا تو اچانک اس کا رشتہ طے ہوا اور دو چار دنوں بعد جھٹ پٹ شادی ہو گئی ۔ کوئی منگنی یا مایوں مہندی وغیرہ نہیں بس ڈائریکٹ نکاح اور اگلے روز ولیمہ ۔ نہ تو دلہن کے لئے شادی ولیمہ کے جوڑے خریدے گئے اور نہ ہی زیور بنوایا گیا بس جیسے تیسے نمٹا دیا گیا کیونکہ خود اس کی شادی کے لئے ایک پھوٹی کوڑی بھی سنبھال کر نہیں رکھی گئی تھی ۔ پھر گھر والوں نے اسے خوشخبری سنائی کہ ایک لاکھ روپیہ قرضہ چڑھا ہوا ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب سونا ڈھائی ہزار روپے فی تولہ ہوتا تھا پھر وہ اس قرضے کو اتارنے کے لئے جھٹ پٹ واپس بھی چلا گیا ۔ دو سال بعد آیا پھر ایک چھوٹے بھائی اور بہن کی شادی کرانے کے لئے اور ان دو سالوں میں گھر والوں نے پھر چار لاکھ کا قرضہ چڑھا کر رکھا ہوا تھا ۔ اسے اتارنے کے لئے چار سال تک واپس نہیں آیا ۔ بس پھر اس کے بعد اگلے پندرہ بیس سال بھی یونہی ذمہ داریاں نبھاتے گزر گئے ۔ خود اپنے سگے خون کے رشتے اس کی پوری کمائی بٹور لینے کے بعد بھی انتہائی بے رحمی و خود غرضی کے ساتھ قرضے چڑھا دیتے تھے اور یہ اپنی بیوی کو بیوہ کر کے ان کے مطالبات پورے کرتا رہتا تھا ۔ پوری جوانی سعودیہ میں گزارنے کے باوجود کبھی بیوی کو پاس نہیں بلایا اسے حج یا عمرہ تک نہیں کرایا گھر والے اس کی جیب میں کچھ چھوڑتے ہی نہیں تھے اور خود اس نے اپنی عقل کہیں گروی رکھ چھوڑی تھی ۔ ایک اور شخص شادی کے بعد تیس سال سعودیہ رہا اور اس عرصے کے دوران تیس مہینے بھی اپنی بیوی کے ساتھ نہیں رہا اس نے بھی کبھی بیوی کو پاس نہیں بلایا ۔ ساری زندگی اپنے باپ کی فیملی کو پالنے پوسنے میں گزاری اسی وجہ سے اُسے خود اپنی اولاد کی کمی کبھی محسوس نہیں ہوئی ۔ ہر دس میں سے نو پردیسی کی ایک ہی کہانی ہے پردیس کے پانی کی یہی تو خوبی ہوتی ہے کہ عقل خبط کر دیتی ہے آدمی خود اپنے بارے میں سوچتا ہی نہیں ۔ دیسی سماج میں ایک عام سا رواج ہے آٹھ آٹھ دس دس بچے پیدا کر کے پھر سب سے بڑے بیٹے کو ان کا باپ بنا دینے کا ۔ اب اپنے ابا کے کیے دھرے سے نمٹنے کے لیے ولی عہد بہادر کے پاس ملک بدر ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔ نصف صدی قبل اس رسم کی بنیاد پڑی تھی جس میں گھر کی سب سے زیادہ محنتی اور کماؤ اولاد کی جوانی اور خواب دفن ہو جاتے ہیں ۔ پھر دس پندرہ سال تک کمائی کھانے کے بعد جب ان کی شادی کی بھی تو انہیں ان کی زندگی جینے کی اجازت نہیں دی اپنی باقی کی نکمی اولادوں بلکہ نکھٹو دامادوں تک کی کفالت اور مالی معاونت اپنے لخت جگر پر مسلط کیے رکھی ۔ ایسے سارے بد نصیب پردیسی کبھی اپنی فیملی لائف شروع نہیں کر پاتے پوری جوانی بیوی کو بیوہ کر کے اپنے باپ کی فیملی کو پالنے پوسنے اور ان کی عیاشیاں پوری کرنے میں گزار دیتے ہیں ۔ پھر جب عمر اور صحت کی پونجی گنوا کر واپس آتے ہیں تو سب کی زندگیاں بنی ہوئی ہوتی ہیں اور خود ان کا کچھ بھی نہیں ہوتا ایک بوڑھی چڑچڑی بیوی اور ناراض اولاد کے سوا ۔ پھر سوال کیا جاتا ہے کہ کیا آخرت میں ان مظلوموں کا بھی حساب ہو گا؟ اپنی منکوحہ کے مجرموں ، اپنے بچوں کی تربیت اور انہیں رفاقت فراہم کرنے کا وقت اپنے خود غرض شاطر گھر والوں کی عیاشیاں پوری کرنے کی خاطر پردیس میں گزارنے والے نادانوں اور اللہ کے نا فرمانوں کا حساب بھلا کیوں نہ ہو گا؟ اللہ نے شوہر کو اپنی بیوی کا محافظ و نگہبان فرمایا ہے تو نکاح میں آئی ہوئی عورت کو نا محرم رشتوں کے درمیان تنہا چھوڑ کر زندگی پردیس میں بسر کر دینے والے لوگ کیا محافظ و نگہبان کہلانے کے مستحق ہیں؟ کوئی عارضی بحران تو نہیں ہوتا نا ، ایک کثیر جہتی طویل المیعاد منصوبہ جس کی تکمیل کے لئے یہ اپنے ساتھ ساتھ اپنی منکوحہ کی جوانی بھی خاک میں ملا دیتے ہیں ۔ سالانہ چھٹی کے باوجود کئی کئی سال تک مفقود و نابود رہنے کی وجہ وہی خود ساختہ ذمہ داریاں جو اصل میں ان کی ہوتی ہی نہیں مگر یہ انہیں اپنے ایمان کا حصہ بنا کر اصل فرض کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ اور اپنے سارے اہداف عبور کر لینے کے بعد بھی اکثر ہی آخر میں تنہا رہ جاتے ہیں ۔
✍🏻 رعنا تبسم پاشا |
|