دو کشتیوں کے سوار تنہا مسافر

پردیسیوں کی بیویاں اپنے کاغذی شریک حیات کی غیر موجودگی میں عموماً تین بڑے مسائل کا سامنا کرتی ہیں ۔ اول تنہائی جذباتی بحران دوئم نو پرائیویسی نو کمفرٹ سوئم الزام تراشیاں چغلیاں حتیٰ کہ کردار کشی تک ۔ جس دور کا ذکر ہے تب ایسا بہت ہوا کرتا تھا کہ بہو جب اپنے سگے ماں باپ کے ساتھ میکے رہنے جاتی تھی ساس سسر کی اجازت سے اور شوہر اوور سیز ہوتا تھا تو سسرال والے اس کو کہتے تھے کہ تمہاری بیوی ہماری اجازت کے بغیر گئی ہے ۔ تب ذرائع مواصلات بہت محدود اور رابطے مسدود ہونے کے باعث کسی بھی جھوٹ کو خوب پھلنے پھولنے اور غلط فہمیاں پختہ کرنے کا موقع مل جاتا تھا ۔ پردیسیوں کی تو دیار غیر میں اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہوئے ویسے بھی عقل خبط ہو جاتی ہے وہ اپنی بیوی کو صفائی کا موقع تک نہیں دیتے تھے اور اپنے والدین کی ہر بات پر آنکھ بند کر کے یقین کر لیتے تھے یوں ایک لڑکی شوہر کی جدائی کے ساتھ ساتھ اس کی بے اعتنائی و رکھائی کا بھی دکھ جھیلتی تھی ۔
ایک لڑکی کے سسرال والوں نے تو کمال کر دیا تھا ۔ شوہر کو واپس گئے ڈیڑھ سال ہو چکا تھا وہ دو تین ہفتوں کے لئے میکے رہنے گئی ایک دور دراز علاقے ، پیچھے سے سسرال والوں نے اس کے شوہر کو کہہ دیا کہ تمہاری بیوی ہم سے لڑ جھگڑ کر گئی ہے اب ہم اسے لینے نہیں جائیں گے ۔ اس اللہ کے بندے نے بیوی سے پوچھا تک نہیں کہ کیا یہ بات درست ہے؟ اکڑ کے بیٹھ گیا لڑکی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس پر اتنا بڑا جھوٹا الزام لگایا گیا ہے ۔ شوہر نے گھر والوں کو کہہ دیا اسے لینے جانے کی ضرورت نہیں ہے جب میں خود آؤں گا تو اسے لے آؤں گا اور خود یہ کہنے کے ڈھائی سال بعد آیا یعنی پردیس میں چار سال لگا کے اور غصے میں بیوی کو کبھی خرچ بھی نہیں بھیجا کہ جو لے کر گئے ہیں وہی پالیں بھی ۔ یوں ایک نوجوان خوبرو نکاح یافتہ جوڑے نے اپنا پورا پرائم یوتھ ندی کے دو کناروں کی طرح گزارا ۔ اور ایسے ہر المیے کے پیچھے ہمیشہ ایک خود غرض بے رحم بے ضمیر جوائنٹ فیملی سسٹم ہوتا ہے جس میں سب سے زیادہ محنتی کماؤ ، گھرانے کے کفیل کی منکوحہ اپنی پوری جوانی کسی بیوہ کی طرح بسر کرتی ہے ۔ اور اگر اولاد ہے تو وہ بھی یتیموں کی طرح پلتی ہے ان کے باپ کی مالی سپورٹ سے باقی سب کے وارے نیارے ہوئے رہتے ہیں ۔
پردیسی کی کمائی اس کا پورا خاندان کھاتا ہے مگر اس کی صحت کا جو نقصان ہوتا ہے وہ صرف اس کی بیوی فیس کرتی ہے ۔ سالوں بعد جب وہ لٹا پٹا تھکا ماندہ واپس آتا ہے تو چار دن انہیں چین سے رہنے نہیں دیا جاتا کوئی چھٹی منانے نہیں دی جاتی ۔ کوئی سپیس نہیں کوئی پرائیویسی نہیں بیوی بدستور اپنی ذمہ داریوں میں مصروف رہتی ہے بلکہ اوور ٹائم لگاتی ہے جو کہ گھر پر مہمانوں رشتہ داروں کی آمد و رفت بڑھ جانے کے باعث اسے نصیب ہوتا ہے ۔ اور پردیسی کے وسائل کے ساتھ ساتھ اس کے وقت میں بھی سب حصے دار بن جاتے ہیں رات گئے تک وہ گھر والوں رشتے داروں یا پھر یار دوستوں کے نرغے میں گھرا راجہ اندر بنا بیٹھا ہوتا ہے ۔ میاں بیوی ابھی جی بھر کر ایکدوسرے کے ساتھ جیے بھی نہیں ہوتے کہ پھر سے بچھڑنے کا سمے آن پہنچتا ہے آپس میں بونڈ بننے ہی نہیں پاتا ۔ صرف دم دلاسے اور دعوے کہ کچھ وقت کی بات ہے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا اور وہ کبھی ٹھیک نہیں ہوتا جوائنٹ کے جہنم میں جیون کے سارے سنہرے سال خاکستر ہو جاتے ہیں ۔ استطاعت اور اہلیت رکھنے کے باوجود اپنی فیملی لائف شروع کرنے کی بجائے اپنے ابا ہی کی فیملی کو پالنے پوسنے اور ان کی عیاشیاں پوری کرنے کی خاطر ازدواجی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ تجرد میں گزارنے والے پردیسیوں کی مثال اس مسافر کی سی ہوتی ہے جو اپنے ہمسفر کو ریلوے سٹیشن پر اجنبیوں کے ہجوم میں تنہا چھوڑ کر خود اکیلے ٹرین میں سوار ہو جاتے ہیں ۔ جو محبت کرتا ہے وہ ہمیشہ دستیاب رہتا ہے عزت دیتا ہے بھیک نہیں ۔ ہمسفر کو بیوقوف نہیں بناتا اسے دھوکے میں نہیں رکھتا لارے لپے نہیں لگاتا اسے راستے میں تنہا چھوڑ کر اکیلے اکیلے منزل تک پہنچ جانا کامیابی نہیں ہوتی ۔ ایک مخلص ہمسفر کی رفاقت سے محروم رہ جانا بہت خسارے کا سودا ہے جس کی سمجھ بہت دیر سے آتی ہے ۔ ہمسفر کو بیوقوف بنانے والے نادان اکثر ہی منزل پر پہنچ کر بھی آخر میں خود بھی تنہا رہ جاتے ہیں ۔

✍🏻 رعنا تبسم پاشا

 

 

رعنا تبسم پاشا
About the Author: رعنا تبسم پاشا Read More Articles by رعنا تبسم پاشا: 277 Articles with 2232555 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.