یوم مئی،مزدوروں کا عالمی دن

پاکستان میں محنت کش خاص کر اخبار نویس مظالم کا شکار ہیں۔ ہمیں شگاگو کی تاریخ پاکستان میں دہرانا پڑے گی
یکم مئی: 'عالمی یوم مزدور"
پاکستان میں جاری محنت کشوں کے معاشی استحصال اور جبر و استبداد
کے خلاف شگاگو جیسی تحریکوں کی ضرورت ہے
تحریر: رفیع عباسی
ہر سال یکم مئی کا دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس روز پاکستان بھر میں سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے، محنت کش اور سماجی تنظیموں کی جانب سے جلسے، جلوس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان تقریبات اور اجتماعات کا بنیادی مقصد تو پاکستان میں محنت کشوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے اور ان کے سدّباب کے لیے جدوجہد کرنا ہوتا تو زیادہ بہتر تھا۔ لیکن زیادہ تر مزدور اور سماجی تنظیمیں جو معاشرتی و مزدور انقلاب کی داعی ہوتی ہیں، خود کو معاشرے میں زندہ رکھنے اور مال و زر کے حصول کے لیے اپنی تقریبات کی فنڈنگ بھی "استحصالی عناصر" یعنی آجروں سے ہی کرواتی ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر زیادہ تر فیکٹریوں، کمپنیوں میں "مستقل" یا "کل وقتی" ملازمین کا تصور ختم ہوچکا ہے اور ان کی جگہ ٹھیکیداری اور جزوقتی بھرتیوں کے نظام نے لے لی ہے، جن میں محنت کشوں کا مستقبل غیر یقینی ہوتا ہے۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ اس ظالمانہ نظام سے ریاست کا تیسرا ستون، ذرائع ابلاغ یعنی اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ملک کے تمام بڑے اور چھوٹے اخبار اور چینلز ملازمین، اخباری و چینلز مالکان سے خائف رہتے ہیں کیوں کہ ان کے سروں پر ہر وقت "برطرفی کی تلوار" لٹکی رہتی ہے۔ نجی و ملٹی نیشنل کمپنیوں، کارخانوں و تجارتی اداروں کا تو ذکر ہی کیا ہے، ملک بھر کے پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے اداروں سے نامور صحافیوں سمیت سیکڑوں ملازمین کو یک جنبش قلم ، نوکریوں سے برخاست کردیا گیا، جو قومی المیہ ہے۔
1886ء میں ماہ مئی سے قبل دنیا بھر کے مزدوروں کی صورت حال انتہائی مخدوش تھی جب کہ شکاگو کےمزدوروں کو تو انتہائی نازک حالات کا سامنا تھا۔ آجر ، اجیروں کو زرخرید غلام سمجھتے تھے۔ ان کے ساتھ سفاکانہ سلوک کیا جاتا تھا۔ ان کے لئے نہ تو اوقات کار مقرر کئے گئے تھے، نہ ہی ان کی رات دن کی محنت و مشقت کے مطابق معاوضے کی ادائیگی کی جاتی تھی۔ انہیں طبی فوائد و حادثے کے دوران فوتگی یا زخمی ہونے کی صورت میں علاج معالجے یا ان کے پسماندگان کو زر تلافی کی سہولتیں اور چھٹیوں کا استحقاق بھی حاصل نہیں تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزدوروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا تھا۔بالآخر ان کی قوت برداشت جواب دے گئی۔ 19 ویں صدی کے میں آخری عشرے میں محنت کشوں میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کا شعور پیدا ہوا۔ انہوں نے منظم ہوکر تنظیم سازی کا عمل شروع کیا۔ یہ وہ دور تھا جب صنعت و حرفت فرسودہ آلات سے نکل کر ترقی یافتہ دور میں داخل ہورہی تھی۔ زراعت میں ہل اور بیل کی جگہ ٹریکٹر ، ہاتھ کی کھڈیوں کی جگہ کپڑا بننے والی مشینوں نے لے لی تھی۔ اخبارات میں ہاتھ کے چھاپہ خانوں کی جگہ چنڈلر اور افسٹ مشینوں نے لے لی تھی۔ سفر اور باربرداری کے لیے بیل، اونٹ اور گدھا گاڑی کی جگہ سائیکل، موٹر سائیکل، بسوں، لاریوں سے استفادہ کیا جانے لگا۔ 1814 میں انگلستان کےایک دورافتادہ گاؤں میں رہنے والے جارج اسٹیفن نے ریل کی پٹریوں پر بھاپ سے چلنے والا انجن ایجاد کیا جو وقت گزرنے کے ساتھ ڈیزل اور الیکٹرک انجن میں تبدیل ہوگیا۔ کارخانوں میں بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا گیا۔ افرادی قوت کی جگہ مشینوں کا استعمال بڑھ گیا لیکن اس کے باوجود محنت کشوں کی افادیت اپنی جگہ برقرار رہی۔ مشینوں کے استعمال کی وجہ سے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوتا گیا جب کہ کارخانہ داروں، مل مالکان و سرمایہ داروں کی آمدنی بھی تیزی سے بڑھنے لگی۔ لیکن اس صنعتی ترقی کے ثمرات سے آجر کی بہ نسبت اجیر بدستور محروم رہے اور قلیل معاوضے پر ان سے بیگار لی جاتی رہی۔1868میں جرمن فلاسفر کارل مارکس نے’’داس کیپیٹل‘‘ نامی کتاب لکھ کر "سائنسی اشتراکیت" کے تصور اور "مارکس ازم" کی بنیاد رکھی۔ اپنے حقوق کے بزور طاقت، حصول کے لیے کارل مارکس کے نظریات نے محنت کشوں کو ایک نئی راہ دکھائی۔
اس وقت تک دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے نہ تو اوقات کار متعین تھے اور نہ ہی ان کی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے قوانین وضع کیے گئے تھے۔ انہیں علی الصباح سے شب کی تاریکی تک مشقت کرنا پڑتی تھی ۔حادثے یا موت کی صورت میں انہیں یا ان کے لواحقین کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا تھا۔ یورپ میں نئی صنعتیں لگ رہی تھیں، سائنسی ترقی بھی عروج پر تھی۔ کارخانوں کا جال بچھایا جا رہا تھا، جن میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی مزدوروں میں اپنے حقوق بزور طاقت چھیننے کا شعور بھی بیدار ہورہا تھا۔ دنیا بھر کے محنت کشوں میں آجروں کے مظالم اور غیر انسانی سلوک کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لیے انجمن سازی کا رجحان بھی پرورش پارہا تھا۔ سب سے پہلے برطانیہ میں مزدوروں نے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوکر لیبر فیڈریشن کی بنیاد رکھی۔اسے دیکھتے ہوئے شکاگو میں محنت کشوں نے بھی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا۔ 1886میں شگاگو کے تمام مزدوروں نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کے لئے یونین سازی کی۔ انہی مزدوروں میں سے کارل مارکس کے اشتراکی نظریات سے متاثر، مزدور رہنماؤں نےجنم لیا۔ انہوں نے اجتماعی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لئے شکاگو میں پہلی مرتبہ مکمل شٹر ڈائون کر کے مل مالکان اور سرمایہ داروں کو لرزہ براندام کردیا۔ ان رہنمائوں نے امریکی حکمرانوں، سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کو للکارتے ہوئے کہا کہ ’’زمینی خداؤ ہمیں بھی جینے کا حق دو، ہم بھی انسان ہیں، ہم سے جبری بیگار لینے کا سلسلہ ترک کرو، ہمارے اوقات کار مقرر کئے جائیں، ہماری تنخواہوں میں اضافہ کرو ، ہفتہ وار اور سالانہ چھٹیوں کا استحقاق دو، ہمیں طبی سہولتوں سمیت تمام جائز مراعات دو، ہمارے مطالبات پورے کرو‘‘۔ یہ نعرے لگاتے ہوئے 40 ہزار مزدور جلوس کی صورت میں شگاگو کی مشہور زمانہ (HAY) مارکیٹ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اس دوران وہ نعرے لگا رہے تھے کہ دنیا کے ’’مزدورو ایک ہو جاؤ‘‘۔ وہ بلاتفریق رنگ و نسل و مذہب یکجا تھے اور اپنے حقوق اور مطالبات کی بات کر رہے تھے۔ اس عظیم الشان جلوس کی وجہ سے شگاگو کے صنعتی شہر کا پہیہ جام ہو گیا۔ ملوں اور کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں نکلنا بند ہو گیا تھا ۔دنیا بھر میں یہ پہلا واقعی تھاجب مزدوروں نے اپنے اتحاد کے ذریعے سرمایہ دار طبقے کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے اپنی افرادی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ یکم مئی 1886ء کو صبح نکلنے والے ایک اخبار میں اس کے ایک لکھاری نے اپنے قلم کا استعمال کرتے ہوئے اخبار کے صفحہ اول پر مزدوروں کو مخاطب کرتے ہوئے وہ جملے ادا کیے تھے، جو اب محنت کشوں کی تاریخ کا یادگار باب بن چکے ہیں’’مزدورو! تمہاری جنگ شروع ہو چکی ہے، ہار جیت کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا، آگے بڑھو اپنے مطالبات منوانے اور اپنے اوقات کار کے تعین کے لیے جدوجہد جاری رکھو، حاکموں کو بالآخر سرنگوں ہونا پڑے گا، جیت اور فتح تمہاری ہو گی ہمت نہ ہارنا، متحد رہنا، اسی میں تمہاری بقاء اور اسی میں تمہاری فتح ہے۔‘‘ مذکورہ اخبار نویس کی اس تحریر نے محنت کشوں کے اندر ایک نئی روح پھونک دی جس سے ان میں جوش اور ولولہ پیدا ہوا۔ انہوں نے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے اپنے اوقات کار 8 گھنٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ کردیا۔ مزدور رہنماؤں نے آجروں کے سامنے 24 گھنٹوں کے دورانیے کا شیڈول دن بھر کے اوقات کار تقسیم کرتے ہوئے جاری کیا جس میں درج تھا کہ ہم 8 گھنٹے کام کریں گے، 8 گھنٹے آرام کریں گے، 8 گھنٹے اپنے اہل خانہ اور بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزاریں گے۔
حکمرانوں، مل مالکان، سرمایہ داروں کو محنت کشوں کا یہ نعرہ، ان کا اتحاد اور مطالبات گراں گزرے۔ انہوں نے ان کی تحریک کچلنے کے لئے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی اور نہتے کمزور اور پرامن محنت کشوں کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا ۔شکاگو کی سڑکیں بے گناہوں کے خون سے سرخ ہوگئیں۔ مزدوروں کے ہاتھوں میں تھاما ہوا امن کاسفیدجھنڈا، انہی کے خون سے سرخ ہو گیا۔ ایک محنت کش کی قمیض اس کے لہو سے تر ہوگئی تو ان کے قائدین نے اسی خوں رنگ کپڑے کو محنت کشوں کی جدوجہد کا پرچم قرار دیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اس وقت تک اپنی کام پر واپس نہیں جائیں گے جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے، سرخ پرچم ہی اب ہماری جدوجہد کا نشان ہوگا۔ اس موقع پر محنت کشوں کے سرکردہ رہنماؤں فشر، اینجل، پرسنز اور اسپائز نے مزدوروں سے خطاب کرتے ہوئے حکمرانوں اور مل مالکان کو واشگاف الفاظ میں للکارا۔ آخر کار صنعت کاروں و سرمایہ داروں کو محنت کشوں کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یوں پہلی مرتبہ 8 گھنٹےکے اوقات کار طے کیے گئے ۔لیکن مذاکرات کے اختتام کے فوراً بعد سرمایہ دارانہ ذہن نے حکمرانوں سے ملی بھگت کرکے مزدور تحریک کے سات سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کروا کر ان کے خلاف بم دھماکے کا جھوٹا مقدمہ درج کرادیا گیا۔ ان میں سے چار مزدور رہنماؤں کو سرسری سماعت کے بعد فوری طور پر سزائے موت دے دی گئی جب کہ باقی تین رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔ شہید ہونے والےعظیم قائدین دنیا سے تو چلے گئے لیکن یکم مئی 1886ء سے شروع ہونے والی تحریک کی اپنے خون سے آبیاری کرکے ہمیشہ کے لیے "یوم مئی" کو ہمیشہ کے لئے امر کر گئے۔ بعد ازاں دنیا بھر کے محنت کش اپنی جد و جہد کے ذریعے صنعتی قوانین میں تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے مزدور قوانین کی رو سے محنت کشوں کے حقوق اور مراعات دلوائیں۔ روس میں انقلاب برپا ہوا، یورپ میں تو اب بھی 5 اور 6 گھنٹے کے اوقات کار مقرر ہیں۔
پاکستان میں قیام پاکستان کے بعد سیاسی افراتفری کا دور دورہ رہا جس سے سرمایہ دارطبقے اور صنعت کاروں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور مزدوروں کو عالمی مزدور قوانین کی رو سے ملنے والی تمام سہولتوں اور مراعات سے محروم رکھا گیا۔ ،1968-69 میں معاشی ناہمواری کی وجہ سے مزدوروں میں سخت بے چینی پھیل گئی جو عوام کی پرتشدد تحریک میں تبدیل ہوگئی جس کی وجہ سے ایوب حکومت مستعفی ہونے پر مجبور ہوئی۔ دسمبر 1971 میں ملک کے دو لخت ہونے کے بعد جنوری 1972 میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے صدر اورچیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔ ابتدا میں وہ سوشلزم کے داعی تھے اور مزدوروں کی بدحالی اور ان کی حق تلفی کا انہیں پورا ادراک تھا۔ اسی سال انہوں نے انقلابی لیبر پالیسی متعارف کرائی جس میں محنت کشوں کی کم سے کم اجرت، چھٹیوں کے حقوق ، ٹریڈ یونین بنانے کا استحقاق شامل تھا۔اس پالیسی کی رو سے تمام محنت کشوں کو آئی ایل او کے تحت وضع کردہ تمام حقوق حاصل ہوگئے۔ قائد عوام کی بنائی گئی مزدور پالیسی 1977میں ان کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔ ان کے بعد کے ادوار میں مزدور قوانین کے اطلاق میں بتدریج کمی اور نجکاری کی پالیسیوں کی وجہ سے مزدوروں کے حقوق محدود ہوئے۔ ضیاء الحق اور ان کے جاں نشینوں نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر نجکاری کے ذریعے لیبر یونینز کو نہ صرف کمزور کیا بلکہ بعض اداروں سے ان کا خاتمہ کردیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مزدوروں کے احتجاج پر پابندیاں لگائی گئیں اور محنت کشوں کے حقوق کو صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جانے لگا۔اداروں سے ٹریڈ یونینز کی بارگیننگ پوزیشن کو کمزور کرنے کے لیے مزدوروں کو سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہب، فرقہ واریت، زبان، قومیت اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کردیا گیا، جس کی وجہ سے آج وہ مزدور بھائیوں کے حقوق کی جدوجہد سے دست کش ہوکر آجروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے خدمات انجام دیتے ہیں جس کے عوض انہیں بھاری مالی مراعات حاصل ہوتی ہیں ۔
ضیا الحق کے دور میں مزدوروں کے اتحاد و یکجہتی کا شیرازہ بکھرنے کے بعد قومی اداروں کی خرید و فروخت شروع کی گئی جو آج تک جاری ہے۔ ریلوے ، پاکستان اسٹیل ملز، پی آئی اے، سوئی گیس، KESC، PTCL PTV، ریڈیو پاکستان، ایئر پورٹ، قومی شاہراہیں، پوسٹ آفس، آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور WTO کے احکامات کے تحت فروخت کیے جارہے ہیں۔ مہنگائی، امن و امان کی مخدوش صورت حال، بے روزگاری، بیماری اور بھوک و افلاس نے پاکستان کے غریب عوام سمیت ملک کے محنت کشوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنے منشور میں محنت کشوں اور کسانوں کے لیے مخصوص نشستیں نہیں رکھیں۔ اس لیے صوبائی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مزدوروں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔
یکم مئی ہر سال آتا ہے جو چند تقریبات، سیمینارز اور کانفرنسز میں بلند و بانگ اور خوش کن دعووں کے بعد اختتام پذیر ہوتا ہے۔ عالمی یوم مزدور ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ 1886ء کی مزدور تحریکوں کو نشان راہ بنا کر محنت کشوں کے معاشی قتل اور ان کے استحصال کے خلاف یکجا ہوں اور نجی و نیم سرکاری اداروں سے ٹھیکیداری نظام کے خاتمے، عالمی مزدور قوانین کے مطابق ان کی ملازمتوں کے تحفظ ، کم سے کم اجرت کے تعین اور قومی اداروں کی نجکاری کے عمل کے خلاف سینہ سپر ہوکر آجروں اور حکم رانوں کو اس سے باز رہنے کا سخت پیغام دیں۔

 

Rafi Abbasi
About the Author: Rafi Abbasi Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.