جنگوں سے جنم لینے والی ایجادات
(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
|
تاریخ کا مطالعہ ہمیں ایک عجیب حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔ انسان نے اپنی سب سے بڑی تباہیوں کے بعد اکثر اپنی سب سے بڑی ایجادات بھی تخلیق کی ہیں۔ جنگیں بلاشبہ انسانیت کے لیے المیوں، ہلاکتوں اور معاشی تباہی کا سبب بنتی ہیں، لیکن انہی جنگوں کے دوران پیدا ہونے والی بعض مہارتیں بعد ازاں عام انسانوں کی زندگی میں سہولت، ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ 1945 میں جنگ کے خاتمے پر دنیا نے لاکھوں جانوں کا نقصان اٹھایا، شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوئے اور انسانیت نے ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی دیکھی۔ مگر اسی دور کی فوجی تحقیق نے ریڈار، جدید کمپیوٹرز، جیٹ انجنوں اور راکٹ سائنس کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں سرد جنگ کے زمانے میں فوجی مقاصد کے لیے تیار ہونے والے نیٹ ورکس نے انٹرنیٹ کی شکل اختیار کی، جو آج انسانی تہذیب کی سب سے اہم ایجادات میں شمار ہوتا ہے۔ آج دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات اور جدید جنگی حکمت عملیوں نے ڈرون ٹیکنالوجی کو جنگ کا مرکزی ہتھیار بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آنے والے برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی بھی وہی کردار ادا کرے گی جو گزشتہ صدی میں انٹرنیٹ نے ادا کیا تھا؟ اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ آج جو ڈرون جنگی محاذوں پر نگرانی، معلومات جمع کرنے اور حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، کل یہی ٹیکنالوجی عام انسانوں کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ زرعی شعبے میں ڈرون پہلے ہی اپنی افادیت ثابت کر رہے ہیں۔ وہ فصلوں کی نگرانی، بیماریوں کی نشاندہی، کھاد اور اسپرے کی درست تقسیم اور پانی کے بہتر استعمال میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ ایک ایسا کسان جو پہلے پورے کھیت کا معائنہ کرنے میں کئی دن لگاتا تھا، اب چند منٹوں میں ڈرون کے ذریعے اپنی زمین کی مکمل صورتحال جان سکتا ہے۔ اسی طرح طبی شعبے میں ڈرون دور دراز علاقوں تک ادویات، خون اور ویکسین پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ قدرتی آفات، زلزلوں اور سیلابوں کے دوران یہی ڈرون متاثرین کی تلاش، نقصانات کے تخمینے اور امدادی کارروائیوں کو تیز تر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ شہری نقل و حمل کا شعبہ بھی اس ٹیکنالوجی سے متاثر ہو سکتا ہے۔ آج جو خودکار نیویگیشن سسٹمز فوجی مقاصد کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں، کل وہ فضائی ٹیکسیوں اور بغیر ڈرائیور کے نقل و حمل کے نظام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ جس طرح کبھی GPS صرف فوجی استعمال تک محدود تھا اور آج ہر موبائل فون میں موجود ہے، اسی طرح ڈرون سے وابستہ کئی ٹیکنالوجیز مستقبل میں روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکتی ہیں۔ تاہم تاریخ کا دوسرا سبق یہ بھی ہے کہ ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ نئے خطرات بھی لاتی ہے۔ انٹرنیٹ نے علم، تجارت اور رابطوں کی دنیا بدل دی، مگر اسی نے سائبر جرائم، جھوٹی معلومات اور ڈیجیٹل نگرانی کے مسائل بھی پیدا کیے۔ ڈرون ٹیکنالوجی بھی اس سے مختلف نہیں ہوگی۔ رازداری کے مسائل، خودکار ہتھیاروں کا پھیلاؤ اور فضائی نگرانی کے بڑھتے ہوئے امکانات نئی اخلاقی اور قانونی بحثوں کو جنم دیں گے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ڈرون ٹیکنالوجی ترقی کرے گی یا نہیں، کیونکہ اس کی ترقی تقریباً یقینی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔ اگر یہ ٹیکنالوجی کھیتوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور امدادی سرگرمیوں تک پہنچتی ہے تو ممکن ہے آنے والی نسلیں اسے اسی نظر سے دیکھیں جس نظر سے آج ہم انٹرنیٹ کو دیکھتے ہیں۔ شاید مستقبل کا مورخ لکھے کہ بیسویں صدی کی جنگوں نے انسان کو انٹرنیٹ دیا تھا، جبکہ اکیسویں صدی کے تنازعات نے اسے خودکار ڈرون اور مصنوعی ذہانت کی ایسی دنیا سے روشناس کرایا جس نے زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے کو مزید کم کر دیا۔ |
|