محترم ڈی جی سپورٹس خیبرپختونخواہ کے نام کھلاخط
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
ابھی آپ کے عہدے کے ابتدائی دن ہیں۔ عام طور پر ان دنوں کو ہنی مون پیریڈ کہا جاتا ہے۔ لوگ آپ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں، آپ لوگوں سے مل رہے ہیں اور یہ ایک مثبت بات ہے۔صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ میں ایسے افسر بھی گزرے ہیں جو گریڈ 17 سے کم ملازمین سے ملنا پسند نہیں کرتے تھے، جبکہ بعض کے بارے میں یہ تاثر بھی رہا کہ وہ مخصوص لوگوں تک محدود رہتے تھے۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو شاید کہنا مناسب نہ ہو، لیکن حالات نے بعض بنیادی مسائل کی نشاندہی ضروری بنا دی ہے۔
میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ کسی افسر کے عہدہ چھوڑنے کے بعد اس کے پیچھے بات نہ کی جائے۔ لیکن بعض لوگوں نے ایسے کام کئے ہیں جنہیں سامنے لانا ضروری ہے۔ ماضی میں کبھی راقم نے جانے والوں کے بارے میں نہیں لکھا لیکن با کچھ چیزوں کی نشاندھی کیلئے یہ ضروری ہے
سپورٹس ڈائریکٹریٹ میں سیکیورٹی پر تعینات بعض اہلکاروں کا معاملہ قابل توجہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق ڈی جی نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی، لیکن اگلے روز معاملہ مشیر کے اختیار سے متعلق قرار دیا گیا۔یہاں سوال بہت سادہ ہے: اگر کسی ملازم نے اپنی ڈیوٹی انجام دی ہے تو اس کی اجرت کی ذمہ داری کس کی ہے اور اسے کب ادا کی جائے گی؟سرکاری افسران کی مراعات، گاڑیوں اور دیگر سہولیات کے معاملات میں انتظامیہ فوری حرکت میں آتی ہے۔ پھر تقریباً چالیس ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے والے کلاس فور یا ڈیلی ویج ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے میں اتنی تاخیر کیوں؟
چارسدہ میں ڈیلی ویج کوچز کا مسئلہ بھی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً تیرہ سال تک خدمات انجام دینے والے بعض ڈیلی ویج کوچز کو ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ کلاس فور ملازمین کو بھرتی کیا گیا، لیکن تجربہ رکھنے والے کوچز کو نظرانداز کیا گیا۔ڈی جی صاحب، آپ خود کھلاڑیوں سے ملیں اور دیکھیں کہ ان کی تربیت کون کر رہا ہے، کوچنگ کا معیار کیا ہے اور میدانوں میں عملی صورتحال کیا ہے۔کھیلوں کا نظام صرف فائلوں، بھرتیوں اور بجٹ سے نہیں چلتا۔ میدان میں موجود کوچ اور کھلاڑی اس نظام کی اصل تصویر دکھاتے ہیں۔
ڈائریکٹریٹ میں تقریباً سات سے آٹھ کلاس فور ملازمین ایسے بتائے جاتے ہیں جن کی پروموشن طویل عرصے سے رکی ہوئی ہے۔اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اگر قانونی یا محکمانہ رکاوٹ ہے تو ملازمین کو بتایا جائے۔ اگر رکاوٹ نہیں ہے تو پھر پروموشن کیوں نہیں کی جا رہی؟ اس معاملے کی فائلیں اور سروس ریکارڈ دیکھنا مشکل کام نہیں۔
صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی گاڑیاں کہاں ہیں؟ایک اہم سوال گاڑیوں کا بھی ہے۔ پر صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے پاس 21 گاڑیوں کا ذکر سامنے آتا رہا ہے۔ آج ان گاڑیوں کی موجودہ تعداد، مقام، استعمال اور ذمہ دار افسران کی مکمل فہرست سامنے آنی چاہیے۔اس معاملے پر ماضی میںراقم نے سابق ڈی جی تاشفین کے سامنے سیکرٹری سپورٹس خیبر پختونخوا سے بھی بات ہوئی تھی، جس پر اس وقت ڈی جی سپورٹس نے ناراضی کا اظہار کیا - یہ ان کا ہنی مون پیریڈ تھا لیکن وہ قت گزرنے کے بعد بھی وہ کچھ نہیں کرسکے.
لیکن سوال کسی افسر کی ذات کا نہیں، سرکاری اثاثوں کے حساب کا ہے کتنی گاڑیاں خریدی گئیں؟ اس وقت کتنی موجود ہیں؟ کس کے پاس ہیں؟کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں؟ اور اگر کوئی گاڑی دستیاب نہیں تو اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ یہ سوالات ذاتی تنقید نہیں بلکہ سرکاری اثاثوں کی نگرانی کا بنیادی تقاضا ہیں۔
ڈائریکٹریٹ میں مستقل کلاس فور مالی موجود ہیں، لیکن اطلاعات کے مطابق بعض مالی مالی کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے چوکیداری پر تعینات ہیں اور طویل عرصے سے ایک ہی جگہ پر موجود ہیں۔اسی طرح بعض مستقل ڈرائیوروں کے بارے میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں کہ وہ اپنی اصل سرکاری ڈیوٹی انجام دینے کے بجائے دوسری جگہوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اگر کوئی ملازم صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ سے تنخواہ لے رہا ہے تو اس کی ڈیوٹی کہاں ہے، اس کا ڈیوٹی روسٹر کیا ہے اور حاضری کون لگا رہا ہے؟ اگر کوئی ملازم کسی افسر کی نجی رہائش گاہ پر خدمات انجام دے رہا ہے تو اس کی قانونی اور محکمانہ حیثیت بھی واضح ہونی چاہیے۔ڈائریکٹریٹ میں ایسے مستقل اور ڈیلی ویج ملازمین کے بارے میں بھی باتیں موجود ہیں جنہیں مبینہ طور پر اثر و رسوخ کی بنیاد پر رہائش فراہم کی گئی ہے۔اس معاملے میں بھی کسی فرد کو نشانہ بنانے کے بجائے ایک سادہ آڈٹ کیا جا سکتا ہے: رہائش کس کو دی گئی؟کس قواعد کے تحت دی گئی؟کب سے دی گئی؟ کیا مستحق ملازمین کی ترجیحی فہرست موجود ہے؟ ریکارڈ خود بہت سے سوالات کے جواب دے سکتا ہے۔
پاڑہ چنار میں ٹرف کا معاملہ بھی عرصے سے زیر التوا ہے۔ یہ مسئلہ ماضی کی انتظامیہ کے دور میں بھی موجود تھا، مگر اب اسے ایک دوسرے کی جھولی میں ڈالنے کے بجائے عملی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔کھلاڑیوں کو یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ فائل ابھی ایک دفتر سے دوسرے دفتر جا رہی ہے۔ انہیں گراو¿نڈ اور کھیلنے کی سہولت چاہیے۔
ایک بڑا سوال کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے فنڈز کا ہے۔ کووڈ کے بعد صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی جانب سے مختلف ایسوسی ایشنز کو فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ بعض ایسوسی ایشنز اپنی ذاتی یا انفرادی کوششوں سے وسائل حاصل کر رہی ہیں، جبکہ بعض کے بارے میں شکایات ہیں کہ انہیں مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ اس سے بھی زیادہ سنگین شکایات انعامی رقوم سے متعلق ہیں۔ اگر کسی ایسوسی ایشن پر کھلاڑیوں کے انعامات روکنے یا ہڑپ کرنے کا الزام ہے تو اس کی باقاعدہ انکوائری ہونی چاہیے۔ اگر کھلاڑیوں کو یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ شکایت کرنے کی صورت میں انہیں آئندہ مقابلوں سے باہر کر دیا جائے گا تو یہ معاملہ مزید سنجیدہ ہے۔
یہاں آپ براہ راست کھلاڑیوں سے بات کریں۔ صرف ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے رپورٹ لینے سے اصل صورتحال سامنے نہیں آئے گی۔ گاڑیاں سابق عہدیداروں کے پاس کیوں؟ایک اور اہم معاملہ گاڑیوں کا ہے۔اگر ایسے افراد کے پاس سرکاری گاڑیاں موجود ہیں جو اپنے عہدوں سے ہٹ چکے ہیں تو اس کی قانونی حیثیت واضح کی جائے۔ دوسری جانب بتایا جاتا ہے کہ چار ڈسٹرکٹ اسپورٹس افسران کے پاس سرکاری گاڑیاں موجود نہیں۔اگر محکمہ کے پاس گاڑیاں دستیاب ہیں تو پہلے ان افسران کو دی جائیں جنہیں اپنی سرکاری ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے ان کی ضرورت ہے۔
بعض ڈیلی ویج کوچز کے بارے میں بھی شکایات ہیں کہ وہ محکمہ کے مالی وسائل سے مستفید ہوتے ہیں لیکن زیادہ وقت بیرون ملک یا اپنی اصل ڈیوٹی کی جگہ سے باہر گزارتے ہیں۔اگر یہ درست نہیں تو حاضری، چھٹی، سفری ریکارڈ، ڈیوٹی روسٹر اور ادائیگیوں کا ریکارڈ اس کی تردید کر سکتا ہے۔اگر درست ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ سرکاری خزانے سے ادائیگی کس بنیاد پر جاری رہتی ہے؟
ڈائریکٹریٹ میں ایک اور مسئلہ طویل عرصے تک ایک ہی جگہ پر تعیناتی کا ہے۔بعض ملازمین تبادلہ ہونے کے باوجود نئی جگہ پر رپورٹ نہیں کرتے۔ بعض ایسے ملازمین بھی موجود ہیں جن کی سروس کا بڑا حصہ ایک ہی جگہ گزر گیا، جبکہ تبادلے اور پروموشن کے معاملات بھی ایک ساتھ چلتے رہے۔یہ مسئلہ صرف پشاور تک محدود نہیں۔ دیگر اضلاع میں بھی اس کی جانچ ہونی چاہیے۔کوچز کے معاملے میں بھی یہی سوال موجود ہے۔ بعض کوچز کو ماضی میں پروموشن ملنے کے باوجود دوسری جگہوں پر تعینات کیا گیا، مگر وہ نئی جگہ پر کیوں نہیں گئے؟اس کا جواب کسی بیان سے نہیں بلکہ سروس بک، تبادلے کے احکامات اور جوائننگ رپورٹ سے مل سکتا ہے۔
ڈی جی صاحب، ریکارڈ دیکھیں اور کھلاڑیوں سے ملیںیہ تمام نکات الزام ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان معاملات کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ ہیں۔ آپ کے پاس ابھی ایک موقع ہے۔ فائلوں سے ہٹ کر کھلاڑیوں سے ملیں۔ کوچز سے ملیں۔ کلاس فور اور ڈیلی ویج ملازمین سے براہ راست بات کریں۔ ڈسٹرکٹ اسپورٹس افسران سے ان کے مسائل پوچھیں۔ گراو¿نڈز کا اچانک معائنہ کریں۔ حاضری رجسٹر، ڈیوٹی روسٹر، گاڑیوں کا لاگ بک، ایندھن کا ریکارڈ، رہائش کی الاٹمنٹ، پروموشن فائلیں، تبادلے کے احکامات اور ایسوسی ایشنز کو جاری ہونے والے فنڈز کا ریکارڈ خود دیکھیں۔
اور سب سے اہم، کھلاڑیوں سے پوچھیں کہ انہیں کیا مل رہا ہے۔کاغذوں میں اگر سب کچھ ٹھیک بھی ہو تو میدان میں جا کر حقیقت مختلف ہو سکتی ہے۔کھیلوں کا محکمہ افسران کی سہولت کے لیے نہیں، کھلاڑیوں اور کھیلوں کے فروغ کے لیے ہے۔آپ کے ابتدائی دن ہیں۔ بہت سے معاملات ابھی درست کیے جا سکتے ہیں۔ کچھ مزید مسائل بھی وقت کے ساتھ آپ کے سامنے رکھے جائیں گے۔صرف اتنی درخواست ہے کہ شکایات کو ذاتی اختلاف نہ سمجھا جائے۔ جہاں الزام غلط ہو وہاں ریکارڈ سے غلط ثابت کیا جائے، اور جہاں مسئلہ درست ہو وہاں کارروائی کی جائے۔
آخر میں ایک ہی بات:
گراو¿نڈ آباد ہوں گے تو کھیل آباد ہوگا، کھلاڑیوں کو سہولیات ملیں گی تو صوبے کا کھیل آگے بڑھے گا۔ اس نظام کا مرکز افسر نہیں، کھلاڑی ہونا چاہیے۔
شکریہ
#KPSports #SportsDirectorateKP #SportsGovernance #SportsAccountability #KhyberPakhtunkhwa #SportsReforms #AthletesRights #SportsDevelopment #GoodGovernance #PublicAccountability #Transparency #SportsAdministration #CoachesRights #SportsFacilities #KPYouth #Accountability #PublicFunds #SportsInfrastructure #Peshawar #Charsadda #Parachinar |