ورلڈ نومیڈ گیمز2026 ‘پاکستان کا 112 رکنی وفد،10ہم شخصیات، مالی معاونت اور میرٹ پر سوالات

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز ۲۰۲۶ جاری ہیں۔ ان کھیلوں کا بنیادی تصور مختلف اقوام کے روایتی اور ثقافتی کھیلوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ اس مرتبہ ۱۰۴ ممالک کے کھلاڑی شریک ہیں اور مقابلوں میں گھوڑے پر تیر اندازی، کشتی اور روایتی ذہنی کھیلوں سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔پاکستان بھی ان عالمی مقابلوں میں شریک ہے، لیکن پاکستانی وفد کی تشکیل، کھلاڑیوں کے انتخاب، اہم شخصیات کی شمولیت، مالی معاونت، خیبر پختونخوا کی نمائندگی اور کھیلوں کے انتخاب کے حوالے سے کئی ایسے سوالات سامنے آ رہے ہیں جن کے جوابات دستاویزی ریکارڈ سے سامنے آنا ضروری ہیں۔یہ تحریر کسی فرد، کھلاڑی یا تنظیم پر غیر ثابت شدہ الزام عائد کرنے کے لیے نہیں بلکہ انتخاب، شفافیت، مالی معاملات، ثقافتی نمائندگی اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھانے کے لیے ہے۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ سے منسوب دستیاب فہرست کے مطابق پاکستانی وفد میں مجموعی طور پر ایک سو بارہ افراد شامل ہیں۔جس میں کھلاڑی کوجز اور دیگر شرکاءکی تعداد ایک سو بارہ کے قریب بتائی جاتی ہیں جس میں ایک سو کھلاڑی کوچز دس کے قریب وی آئی پی شخصیات اور پی ایس بی کے دو اہلکار شامل ہیں دوسری جانب حالیہ میڈیا رپورٹس میں پاکستان کے دستے کو تقریباً 100 کھلاڑیوں اور عہدیداروں پر مشتمل قرار دیا گیا ہے۔ مقامی طور پر شائع ہونیوالے ایک رپورٹ میں ۲۲ روایتی و مقامی کھیلوں کا ذکر ہے، جبکہ دوسری میں 23 مسابقتی شعبوں کا ذکر سامنے آیا ہے۔

اس لیے پہلا سوال یہی بنتا ہے پاکستان کے حتمی منظور شدہ وفد کی تعداد کتنی تھی اور حتمی فہرست کون سی ہے؟اگر 112افراد کی فہرست حتمی ہے تو اس کی سرکاری منظوری اور مکمل تفصیل سامنے آنی چاہیے۔روایتی کھیلوں و کھیل تنظیم پاکستان نے ورلڈ نومیڈ گیمز کے لیے پاکستان کی شرکت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تنظیم اپنی ویب سائٹ پر پاکستان کے روایتی کھیلوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ و فروغ کو اپنا بنیادی مقصد قرار دیتی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اسی تنظیم نے محمد نوا ز کو ورلڈ نومیڈ گیمز کے لیے سرکاری کھیلوں کے نفسیاتی ماہر کے طور پر مقرر کیا، جبکہ تنظیم کے سربراہ فرحان خان کو پاکستانی دستے کی قیادت سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم فرق برقرار رہتا ہے نمائندہ یا رابطہ کار تنظیم ہونا اور کھلاڑیوں کے انتخاب کا واحد اختیار رکھنا ایک ہی چیز نہیں۔ اس لیے پاکستان میں انتخابی عمل کی دستاویزی وضاحت ضروری ہے۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کے 100کھلاڑیوں اور دیگر شرکاء کا انتخاب کس معیار پر کیا گیا؟کیا کھلے آزمائشی مقابلے ہوئے؟ قومی سطح کے مقابلوں کے نتائج دیکھے گئے؟ * کھلاڑیوں کی سابقہ کارکردگی دیکھی گئی؟ * قومی درجہ بندی کو معیار بنایا گیا؟ * متعلقہ کھیلوں کی تنظیموں نے نامزدگیاں بھیجیں؟ * انتخابی کمیٹی نے حتمی فہرست منظور کی؟ یا کھلاڑیوں کو کسی دوسرے طریقہ کار کے تحت منتخب کیا گیا؟ اگر آزمائشی مقابلے ہوئے تو ان کے نتائج سامنے آنے چاہئیں۔ اگر نہیں ہوئے تو تحریری انتخابی معیار کیا تھا؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ حکومت خود کھیلوں میں **میرٹ، کھلے آزمائشی مقابلوں اور سفارشی کلچر کے خاتمے پر زور دے چکی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی پچیس اگست کی رپورٹ کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان نے گھوڑے پر تیر اندازی کی ٹیم اور ورلڈ نومیڈ گیمز میں پاکستان کی شرکت کے لیے سرکاری کارپوریٹ مالی معاون کا کردار ادا کیا۔یہ پاکستان کی شرکت کے لیے اہم مالی معاونت ہے، لیکن اعلان سے زیادہ اہم سوال رقم اور اس کے استعمال کا ہے۔ نیشنل بینک نے کتنی رقم فراہم کی؟ رقم کس ادارے کو دی گئی؟ کیا باقاعدہ مالی معاہدہ موجود ہے؟ کیا رقم صرف گھوڑے پر تیر اندازی کے لیے تھی یا پورے وفد کے اخراجات میں استعمال ہوئی؟ کیا اہم شخصیات کے سفری اور رہائشی اخراجات بھی اسی رقم سے ادا ہوئے؟ کیا مکمل مالی حساب عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا؟ یہ تمام سوالات مالی معاہدے اور اخراجات کی دستاویزات سے واضح ہوسکتے ہیں۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ سے منسوب 112 رکنی فہرست میں 10افراد کو الگ سے اہم سرکاری و غیر سرکاری شخصیات کے طور پر درج کیا گیا ہے۔یہاں ایک بات واضح ہے ان دس افراد کے نام فہرست میں موجود ہیں۔ لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ان کے نام فہرست میں کیوں ہیں اصل سوال یہ ہے انہیں کس حیثیت سے شامل کیا گیا؟ہر فرد کی سرکاری یا تنظیمی حیثیت کیا ہے؟ * وفد میں ذمہ داری کیا ہے؟ * نامزدگی کس نے کی؟ * سفر کی منظوری کس نے دی؟ * اخراجات کس نے برداشت کیے؟ یہ معلومات سامنے آنا ضروری ہیں۔کسی شخص کو صرف اس بنیاد پر غیر ضروری قرار دینا درست نہیں ہوگا کہ وہ کھلاڑی نہیں ہے۔ لیکن اگر اسے قومی وفد میں شامل کیا گیا ہے تواس کی ذمہ داری اور اخراجات کی بنیاد معلوم کرنا ایک جائز عوامی سوال ہے۔**

خیبر پختونخوا حکومت کے سرکاری اطلاعاتی ادارے کے حوالے سے جاری خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے بشکیک میں ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ ان کے ہمراہ روایتی کھیلوں و کھیل تنظیم پاکستان کے سربراہ فرحان خان بھی موجود تھے۔ ترند نے ورلڈ نومیڈ گیمز کے تصور کے بانی کو روایتی چترالی پَکول بھی پیش کی۔یعنی ان کی بشکیک میں موجودگی قابلِ تصدیق ہے۔ لیکن دستیاب 112 رکنی پاکستان اسپورٹس بورڈ کی فہرست میں ان کا نام موجود نہیں۔لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ وہ وہاں کیوں گئے۔

اصل سوال یہ ہے وہ کس حیثیت سے گئے؟ کیا خیبر پختونخوا حکومت نے انہیں الگ سے نامزد کیا؟ کیا وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ نے منظوری دی؟ کیا محکمہ کھیل نے بیرون ملک سفر کا حکم جاری کیا؟ کیا وہ صوبائی نمائندے کی حیثیت سے گئے؟ اگر وہ صوبائی حکومت کے نمائندے تھے تو ان کا سفر کس سرکاری مد سے منظور ہوا؟ اور سب سے اہ ان کے ٹکٹ، رہائش، روزانہ الاو¿نس اور دیگر اخراجات کس نے برداشت کیے؟ اگر سرکاری خزانے سے خرچ ہوا تو کل رقم کتنی تھی؟ اگر کسی تنظیم یا مالی معاون نے اخراجات ادا کیے تو اس کی تحریری بنیاد کیا تھی؟ یہ سوال کسی غیر قانونی عمل کا الزام نہیں بلکہ اختیار اور عوامی وسائل کے استعمال کی دستاویزی جانچ ہے۔

14 جولائی 2026 کو خیبر پختونخوا حکومت کی سرکاری اطلاع کے مطابق تاج محمد خان ترند کی زیر صدارت کھیلوں کے سالانہ جائزہ اجلاس میں کھیلوں کے فروغ کے ساتھ میرٹ، شفافیت اور کفایت شعاری پر زور دیا گیا تھا۔سرکاری موقف کے مطابق حکومتی وسائل کی بچت، غیر ضروری اخراجات سے اجتناب، تمام اضلاع میں کھلے میرٹ پر آزمائشی مقابلے اور سفارشی کلچر کے خاتمے پر زور دیا گیا۔اس پس منظر میں ایک جائز سوال پیدا ہوتا ہے کیا یہی اصول ورلڈ نومیڈ گیمز کے لیے بھی لاگو کیے گئے؟ اگر ہوئے تو انتخابی عمل کا ریکارڈ کہاں ہے؟اور اگر صوبائی مشیر الگ سے بشکیک گئے تو ان کے سفر کی منظوری اور اخراجات کا ریکارڈ کہاں ہے؟

پاکستانی وفد میں مختلف روایتی، کشتی، طاقت آزمائی، ذہنی اور تیر اندازی کے کھیل شامل ہیں۔ فہرست میں * کشتی‘ * پہلوانی‘ * کرغیز ک±ورش‘ * منگول بوخ‘ * سامبو‘ * سومو‘ * کھاپسگائی‘ * بازو کشتی‘ * رسہ کشی‘ * طاقت آزمائی‘ * منگالا‘ * اوارے‘* توگوز کورگول‘ * روایتی تیر اندازی‘ * گھوڑے پر تیر اندازی‘سمیت متعدد کھیل شامل ہیں۔پاکستان کی طرف سے دیسی کشتی، کبڈی، پتنگ بازی اور نیزہ بازی کو ثقافتی مظاہروں میں بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ کتنے کھیل ایسے ہیں جن کی تاریخی جڑیں دوسرے ممالک یا خطوں میں زیادہ مضبوط ہیں؟ مثلاً کرغیز ک±ورش، منگول بوخ، سومو اور توگوز کورگول اپنے نام اور تاریخی پس منظر کے اعتبار سے وسطی ایشیا، منگولیا، جاپان اور متعلقہ خطوں کی روایتی کھیلوں کی ثقافت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

پاکستانی کھلاڑیوں کا ان کھیلوں میں حصہ لینا اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، لیکن اسے پاکستان کے مقامی روایتی کھیل کی نمائندگی قرار دینے اور کسی دوسرے ملک کے روایتی کھیل میں پاکستان کی مسابقتی شرکت کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔پاکستان میں یہ کھیل کہاں کھیلے جاتے ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جو پاکستانی وفد کی حقیقی ثقافتی نمائندگی جانچنے کے لیے اہم ہے۔

پاکستان میں دیسی کشتی خصوصاً پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں اکھاڑوں کی روایت سے منسلک رہی ہے۔ کبڈی پاکستان کے مختلف صوبوں میں کھیلی جاتی ہے اور خیبر پختونخوا میں بھی اس کی مقامی سطح پر سرگرمیاں ہوتی رہی ہیں۔ رسہ کشی مختلف سرکاری اور مقامی کھیلوں کے مقابلوں کا حصہ رہی ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں تیر اندازی کی روایات موجود ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں اس کا ایک مخصوص مقامی حوالہ **مخہ** ہے۔پاکستان میں یہ نسبتاً مخصوص اور محدود شعبہ ہے، لیکن گزشتہ برسوں میں پاکستانی کھلاڑی عالمی نومیڈ گیمز کے مقابلوں میں اس کھیل میں شریک رہے ہیں۔2026 میں بھی گھوڑے پر تیر اندازی کو پاکستان کی اہم شرکتوں میں شامل کیا گیا ہے۔

مخہ‘ خیبر پختونخوا کا روایتی کھیل، مگر قومی وفد میں نظر نہیں آتااس پوری تحقیق کا شاید سب سے اہم ثقافتی سوال **مخہ** ہے۔ مخہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں خصوصاً مردان اور صوابی سے وابستہ روایتی تیر اندازی کا کھیل ہے۔ اس کھیل کے حوالے سے سرکاری اور ذرائع ابلاغ کے ریکارڈ میں متعدد مقابلوں کا ذکر ملتا ہے۔ اکتوبر2024 میں مردان میں مخہ کے مقابلوں کا انعقاد ہوا، جس میں مردان کی آٹھ پرانی ٹیموں نے شرکت کی۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مخہ محض تاریخی کتابوں میں موجود کھیل نہیں بلکہ حالیہ برسوں تک عملی طور پر کھیلا جاتا رہا ہے۔اس لیے سوال بنتا ہے اگر پاکستان ورلڈ نومیڈ گیمز میں اپنی روایتی کھیلوں کی نمائندگی کر رہا ہے تو خیبر پختونخوا کا مخہ کہاں ہے؟ یہ کہنا درست نہیں کہ مخہ کو لازماً ورلڈ نومیڈ گیمز میں شامل ہونا چاہیے تھا۔لیکن یہ پوچھنا ضرور جائز ہے * کیا مخہ کو قومی سطح پر زیر غور لایا گیا؟ * کیا اس کے کھلاڑیوں کو انتخاب کا موقع دیا گیا؟ * ور اگر نامزدگی ہی نہیں ہوئی تو اس کی وجہ کیا تھی؟یہ سوال **انتخابی معیار** سے متعلق ہے، کسی فرد پر الزام نہیں۔

دستیاب ریکارڈ میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے جامع روایتی کھیلوں کے ضلعی اور علاقائی مقابلوں کا نمایاں پروگرام 2022 میں سامنے آتا ہے۔ جولائی 2022 میں خیبر پختونخوا میں روایتی کھیلوں کے مقابلوں کے اختتام کی رپورٹ بھی سامنے آئی تھی۔تاہم اس کے بعد یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صوبے میں کوئی روایتی کھیل نہیں ہوا۔مخہ کے مقابلے 2024 میں مردان میں ہوئے، جبکہ دیگر روایتی سرگرمیاں بھی مختلف سطحوں پر جاری رہی ہیں۔اس لیے اصل سوال یہ ہے2022 کے بعد پورے صوبے کے اضلاع کو شامل کرنے والا جامع سرکاری روایتی کھیلوں کا پروگرام آخری مرتبہ کب منعقد ہوا؟محکمہ کھیل خیبر پختونخوا سے اس کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جانا چاہیے ایک طرف خیبر پختونخوا میں مخہ جیسے مقامی کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوتے رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان ورلڈ نومیڈ گیمز میں اپنی روایتی اور مقامی کھیلوں کی شناخت پیش کرنے کے لیے عالمی سطح پر موجود ہے۔

2024کا پس منظر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا 2024 کے ورلڈ نومیڈ گیمز کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کی جانب سے سرکاری معاونت کی کمی کے حوالے سے شکایات سامنے آئی تھیں۔ اس پس منظر میں 2024 کی شرکت میں یہ جاننا ضروری ہے کہ اس مرتبہ حکومت اور متعلقہ تنظیموں نے کھلاڑیوں کے لیے کیا مالی و انتظامی نظام بنایا؟ کیا تمام کھلاڑیوں کے سفری اخراجات ادا ہوئے؟ کیا کھیلوں کا سامان فراہم کیا گیا؟ کیا تربیتی کیمپ لگے؟ کیا کھلاڑیوں کو روزانہ اخراجات دیے گئے؟اور کل سرکاری و نجی مالی معاونت کتنی تھی؟

سوال کھیلوں پر نہیں، نظام پر ہے پاکستان کا ورلڈ نومیڈ گیمز میں شریک ہونا ایک مثبت اور قابلِ قدر سرگرمی ہے۔ پاکستان کے روایتی کھیلوں اور ثقافت کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا موقع اہم ہے۔ لیکن قومی وفد جتنا بڑا ہو، مالی وسائل جتنے زیادہ استعمال ہوں اور غیر کھلاڑی عہدیداروں کی تعداد جتنی زیادہ ہو، اتنی ہی زیادہ شفافیت ضروری ہوجاتی ہے۔ موجودہ دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی مخصوص فرد نے غیر قانونی طور پر سفر کیا، کسی نے سرکاری رقم کا غلط استعمال کیا یا کسی کھلاڑی کا انتخاب غیر میرٹ پر ہوا۔ لیکن کئی بنیادی سوالات ضرور موجود ہیں جن کے جوابات دستاویزات کے ذریعے سامنے آنے چاہئیں۔

خصوصاً 112 رکنی فہرست کی حتمی منظوری کس نے دی؟100 کھلاڑیوں کا انتخاب کس معیار پر ہوا؟10ہم شخصیات کو کس ذمہ داری کے تحت شامل کیا گیا؟ ان کے اخراجات کس نے ادا کیے؟ نیشنل بینک کی مالی معاونت کتنی تھی اور کہاں خرچ ہوئی؟ تاج محمد خان ترند، جن کا نام 112 رکنی فہرست میں موجود نہیں، کس منظوری کے تحت بشکیک پہنچے؟ پاکستان جن روایتی کھیلوں کی نمائندگی کر رہا ہے، ان میں سے کتنے کھیل ملک میں واقعی باقاعدگی سے کھیلے جاتے ہیں؟ اور سب سے اہم، خیبر پختونخوا کا تاریخی روایتی کھیل ”مخہ“ اس قومی نمائندگی میں کیوں نظر نہیں آتا؟یہ تحقیق اس بات کا جائزہ ہے کہ پاکستان نے دنیا کے سامنے اپنی روایتی کھیلوں کی نمائندگی کے لیے **کسے منتخب کیا، کیوں منتخب کیا، کس معیار پر منتخب کیا، اور اس پورے عمل پر کتنا عوامی و نجی سرمایہ خرچ ہوا۔**عوامی وسائل اور قومی نمائندگی، دونوں صورتوں میں، سوال پوچھنا صحافت کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔



Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1052 Articles with 810223 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More