برلن 1936 سے پشاور تک لالا ایوب کی حیران کن داستان


افغانستان کے لیے اولمپکس کھیلنے والے لالا ایوب بعد میں پاکستان کے اولمپک امپائر، کوچ، کھلاڑیوں کے سرپرست اور سیاسی کارکن بن گئے

پشاور: پشاور کے لالا ایوب ہاکی اسٹیڈیم سے کون واقف نہیں، لیکن جس شخصیت کے نام سے یہ میدان منسوب ہے، اس کی زندگی خود ہاکی کے اس میدان سے کہیں زیادہ وسیع اور حیران کن ہے۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ، نایاب تصویر اور خاندان کی تصدیق سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق لالا ایوب، جن کا اصل نام سید محمد ایوب تھا، نے 1936 کے برلن اولمپکس میں افغانستان کی ہاکی ٹیم کی طرف سے بطور کھلاڑی شرکت کی، جبکہ بعد میں پاکستان کی طرف سے اولمپک مقابلوں میں ہاکی امپائر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

لالا ایوب کی زندگی کا سفر صرف کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ہاکی کے کھلاڑی، امپائر، کوچ، کھلاڑیوں کے سرپرست اور کھیلوں کے منتظم ہونے کے ساتھ ساتھ خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ سیاسی شخصیت بھی رہے۔1936 کے برلن اولمپکس کا ریکارڈ اس کہانی کا سب سے اہم سرا ہے۔ اولمپک ریکارڈ کے مطابق سید محمد ایوب افغانستان کی ہاکی ٹیم میں شامل تھے۔ ان کی پوزیشن ہاف بیک تھی اور انہوں نے افغانستان کی جانب سے دونوں میچوں میں حصہ لیا۔ایک دوسرے اولمپک ریکارڈ میں ان کی تاریخ پیدائش 20 نومبر 1908 درج ہے، جس کے مطابق برلن اولمپکس کے وقت ان کی عمر تقریباً 27 برس تھی۔

1936 کی افغان ٹیم کے متعلق جرمن اولمپک ریکارڈ میں بھی سید محمد ایوب کا نام بطور کھلاڑی موجود ہے۔ اسی وفد میں ایک ہاکی امپائر یعقوب کا نام الگ سے درج ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سید محمد ایوب اس موقع پر امپائر نہیں بلکہ کھلاڑی تھے۔اس تاریخی ریکارڈ کو پشاور کے لالا ایوب سے جوڑنے والی ایک اہم کڑی 1936 کی افغان ہاکی ٹیم کی نایاب تصویر ہے۔ خیبرپختونخوا اولمپکس کے سیکرٹری نے تصویر میں پیچھے سے دوسری قطار میں بائیں جانب سے تیسرے شخص کی شناخت لالا ایوب کے طور پر کی ہے۔اگرچہ کسی تاریخی تصویر کی بنیاد پر کسی شخصیت کی حتمی شناخت کرنا کافی نہیں ہوتا، تاہم اس معاملے میں خاندان کی تصدیق نے اس شناخت کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

لالا ایوب کے بیٹے سید عاقل شاہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 1936 کی افغانستان کی ہاکی ٹیم میں شامل کھلاڑی ان کے والد ہی تھے۔ ان کے مطابق لالا ایوب لاہور کے افغان کلب کے رکن تھے اور قیام پاکستان سے قبل افغانستان کی طرف سے 1936 کے اولمپکس میں بطور کھلاڑی شریک ہوئے تھے۔یہ تصدیق اس تاریخی معاملے میں ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ 1936 کے اولمپک ریکارڈ میں موجود سید محمد ایوب، لاہور کے افغان کلب سے تعلق اور پشاور کے لالا ایوب کے درمیان ایک واضح تعلق سامنے آتا ہے۔1936 کی افغان ہاکی ٹیم کا لاہور سے تعلق بھی اس داستان کی اہم کڑی ہے۔ روزنامہ ڈان کے ایک تاریخی مضمون کے مطابق 1936 میں افغانستان کی ہاکی ٹیم بنیادی طور پر لاہور کے افغان کلب سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔ اس دور میں لاہور برصغیر میں ہاکی کا ایک بڑا مرکز تھا اور افغانستان کی ہاکی ٹیم کا بھی وہاں کے کلبوں سے گہرا تعلق تھا۔

لالا ایوب کا ہاکی سفر 1936 کے بعد ختم نہیں ہوا بلکہ ان کا کردار وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا گیا۔1952 میں ہیلسنکی اولمپکس کے دوران جرمنی اور پولینڈ کے درمیان ہاکی مقابلے میں لالا ایوب کو پاکستان کی جانب سے امپائر مقرر کیا گیا۔ اولمپک ریکارڈ میں انہیں پہلے امپائر کے طور پر درج کیا گیا ہے۔یوں ایک غیر معمولی تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے۔1936 میں افغانستان کے لیے کھلاڑی، جبکہ 1952 میں پاکستان کے لیے اولمپک امپائر۔اس کے بعد بھی لالا ایوب کا اولمپک تعلق ختم نہیں ہوا۔ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس کی سرکاری رپورٹ میں بھی سید محمد ایوب کا نام پاکستان کے ہاکی امپائر کے طور پر درج ہے۔ جاپان اور روڈیڑیا کے درمیان ہونے والے ہاکی مقابلے میں انہوں نے امپائر کے فرائض انجام دیے۔

اس طرح دستیاب اولمپک ریکارڈ لالا ایوب کو تین مختلف تاریخی مراحل سے جوڑتے ہیں۔
1936، افغانستان کے لیے کھلاڑی۔
1952، پاکستان کے لیے اولمپک امپائر۔
1964، پاکستان کے لیے اولمپک امپائر۔

پشاور واپسی کے بعد لالا ایوب نے ہاکی اور دوسرے کھیلوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کا گرین ہوٹل کھلاڑیوں کے لیے ایک اہم مرکز بن گیا تھا۔ کے پی ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر سید ظاہر شاہ کے مطابق لالا ایوب نے اپنے ہوٹل کی دوسری منزل مکمل طور پر کھلاڑیوں کے لیے مختص کر رکھی تھی اور کوئی کھلاڑی ان کے پاس سے مایوس ہو کر نہیں لوٹا۔سید ظاہر شاہ کے مطابق لالا ایوب انتہائی دبنگ شخصیت تھے اور ان کے سامنے بات کرنا بھی آسان نہیں تھا، تاہم کھیلوں کے لیے ان کی خدمات غیر معمولی تھیں۔ وہ صرف ہاکی ہی نہیں بلکہ مختلف کھیلوں کے فروغ میں بھی سرگرم رہے۔
سید ظاہر شاہ نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 1975 میں پشاور میں ہی پشاور اور کسٹمز کی ہاکی ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اس وقت کسٹمز کی ٹیم ملک کی مضبوط ٹیموں میں شمار ہوتی تھی، تاہم پشاور نے اسے شکست دے دی۔ ان کے مطابق لالا ایوب ٹرافی ہاتھ میں لے کر خوشی سے ناچ رہے تھے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کھیلوں سے کس قدر جذباتی وابستگی رکھتے تھے۔

خیبرپختونخوا کھیلوں کے بورڈ کے سابق سپرنٹنڈنٹ عزیز اللہ خان، جو حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں، کے مطابق لالا محمد ایوب 1970 کی دہائی میں اعزازی ڈائریکٹر کے طور پر بھی سرگرم رہے اور اس وقت کھیلوں کے معاملات میں انتہائی فعال کردار ادا کرتے تھے۔لالا ایوب نے صرف کھلاڑیوں کی سرپرستی ہی نہیں کی بلکہ کوچنگ بھی کی۔ دستیاب معلومات کے مطابق انہوں نے اسپین کی ہاکی ٹیم کو بھی کوچنگ فراہم کی اور خیبرپختونخوا کے متعدد کھلاڑیوں کی تربیت اور رہنمائی کی، جنہوں نے بعد میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم میں جگہ بنائی۔ان کا اثر پاکستان کی ہاکی ٹیم کے انتخابی عمل تک بھی پہنچا۔ ایک تفصیلی پروفائل کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کی انتخابی کمیٹی ان کی رائے کو اہمیت دیتی تھی۔

لالا ایوب کی شخصیت کا ایک دوسرا اہم پہلو سیاسی جدوجہد سے جڑا ہوا تھا۔روزنامہ ڈان نے سید عاقل شاہ کے سیاسی تعارف میں لکھا کہ ان کے والد لالا ایوب خدائی خدمتگار تحریک کے بانی اراکین میں شامل اور خان عبدالغفار خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ڈان کی ایک دوسری رپورٹ میں بھی انہیں ولی خان کے بااعتماد ساتھیوں میں شامل کیا گیا ہے۔روزنامہ دی نیوز نے بھی سید عاقل شاہ کے حوالے سے لالا ایوب کو معروف خدائی خدمتگار قرار دیا ہے۔یوں لالا ایوب کی زندگی کے دو بڑے رخ سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف ہاکی کا میدان تھا اور دوسری طرف وہ سیاسی جدوجہد جس نے پشاور اور خیبرپختونخوا کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

لالا ایوب کے بعد ان کے بیٹے سید عاقل شاہ نے بھی کھیلوں کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے نائب صدر رہے جبکہ صوبائی وزیر کھیل کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔2012 میں سید عاقل شاہ نے اپنے والد لالا ایوب کے نام سے منسوب چیلنج ٹرافی کے اجرا کا بھی اعلان کیا۔یوں ایک نسل کی کھیلوں سے وابستگی دوسری نسل تک بھی منتقل ہوئی۔آج پشاور کا لالا ایوب ہاکی اسٹیڈیم اسی تاریخی ورثے کی ایک نمایاں علامت ہے۔ تاہم اس اسٹیڈیم کا نام خود گزشتہ برسوں میں کھیلوں کے انتظامی معیار کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرتا رہا ہے۔2023 میں اس اسٹیڈیم میں نصب کیے جانے والے نئے آسٹرو ٹرف کے معیار پر ہاکی حلقوں نے سوالات اٹھائے تھے۔ روزنامہ دی نیوز کے مطابق سید عاقل شاہ نے بھی اسٹیڈیم میں بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنے اور غیر معیاری کام اور ٹرف کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق نئی ٹرف کی تنصیب کے تقریباً ایک ماہ بعد ہی اس میں شکنیں پڑنے کی شکایات سامنے آئی تھیں اور معاملے کی تحقیقات کی بات کی گئی تھی۔پاکستان اسپورٹس بورڈ کے سرکاری منصوبہ ریکارڈ میں بھی لالا ایوب ہاکی اسٹیڈیم ان ہاکی مراکز میں شامل ہے جہاں ٹرف تبدیل کرنے کا منصوبہ منظور کیا گیا۔ اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت 52 کروڑ 31 لاکھ 63 ہزار روپے درج ہے۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔جس شخص نے اپنی زندگی ہاکی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے وقف کردی، اس کے نام سے منسوب میدان خود کھیلوں کی سہولیات اور انتظامی معیار کے سوالات کی زد میں کیوں آیا؟لالا ایوب کی زندگی کو محض ایک ہاکی کھلاڑی کی زندگی قرار دینا شاید ان کے کردار کو محدود کردینا ہوگا۔

وہ اس دور کے کھلاڑی تھے جب افغانستان اور برصغیر کے درمیان ہاکی کے تعلقات مضبوط تھے۔ وہ لاہور کے افغان کلب سے افغانستان کی اولمپک ٹیم تک پہنچے۔ 1936 میں برلن اولمپکس میں افغانستان کی نمائندگی کی۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی ہاکی سے وابستہ ہوئے۔ 1952 اور 1964 کے اولمپکس میں پاکستان کے امپائر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ کھلاڑیوں کی سرپرستی کی، کوچنگ کی اور کھیلوں کے انتظامی معاملات میں کردار ادا کیا۔دوسری طرف وہ خدائی خدمتگار سیاسی روایت سے بھی وابستہ رہے۔ اور بالآخر ان کے نام سے پشاور میں ایک بڑا ہاکی اسٹیڈیم منسوب ہوا۔اس پوری داستان کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ ایک ہی شخصیت کے ذریعے افغانستان، پاکستان، لاہور، پشاور، اولمپکس، ہاکی اور سیاست کی تاریخ ایک دوسرے سے جڑتی دکھائی دیتی ہے۔

اب بھی اس تحقیق کا ایک پہلو مزید دستاویزی ثبوت کا منتظر ہے۔ لاہور کے افغان کلب کے پرانے ریکارڈ، 1936 سے 1947 کے اخبارات، افغانستان کی اولمپک دستاویزات، ہاکی کلبوں کے رجسٹر اور خاندان کے محفوظ کاغذات اس تاریخی شناخت کو مزید مضبوط کرسکتے ہیں۔تاہم لالا ایوب کے بیٹے سید عاقل شاہ کی براہ راست تصدیق، 1936 کے اولمپک ریکارڈ اور نایاب تاریخی تصویر نے اس بات کے شواہد کو خاصا مضبوط کردیا ہے کہ برلن اولمپکس میں افغانستان کی طرف سے کھیلنے والے سید محمد ایوب ہی پشاور کے معروف لالا ایوب تھے۔اگر مزید دستاویزی تحقیق بھی اس شناخت کی تصدیق کردیتی ہے تو یہ صرف لالا ایوب کی ذاتی زندگی کا ایک دلچسپ باب نہیں ہوگا بلکہ پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ اولمپک اور ہاکی تاریخ کا ایک انتہائی اہم تاریخی حوالہ بن جائے گا۔برلن 1936 سے پشاور تک لالا ایوب کا سفر دراصل اس خطے کی مشترکہ کھیلوں کی تاریخ کا سفر ہے، جسے ابھی مکمل طور پر محفوظ اور دستاویزی شکل دینا باقی ہے۔
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1057 Articles with 812529 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More