برلن 1936 سے پشاور تک: لالا ایوب کی وہ کہانی جو ہاکی اور سیاست کو جوڑتی ہے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
|
1936میں افغان ہاکی ٹیم کی اولمپک کی دوران لی گئی تصویر |
|
افغانستان کے لیے اولمپکس کھیلنے والا نام، پاکستان کا اولمپک امپائر، ہاکی کا کوچ، سیاسی کارکن اور پشاور کی کھیلوں کی تاریخ کا اہم کردار
پشاور کے لالا ایوب ہاکی اسٹیڈیم کا نام آج ہر ہاکی شائق کے لیے جانا پہچانا ہے، مگر اس نام کے پیچھے چھپی شخصیت کی کہانی شاید خود اس میدان سے کہیں زیادہ وسیع اور دلچسپ ہے۔یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس کا نام سید محمد ایوب بتایا جاتا ہے، جسے پشاور میں محبت سے لالا ایوب کہا گیا، جس نے ہاکی کے میدان میں اپنی شناخت بنائی، 1952 اور 1964 کے اولمپکس میں پاکستان کی جانب سے امپائرنگ کی، پاکستانی ہاکی کے انتخابی عمل پر اثر ڈالا، اسپین کی ہاکی ٹیم کی کوچنگ کی، نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کیا اور ساتھ ہی خیبرپختونخوا کی سیاسی و سماجی تاریخ میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔لیکن اس داستان کا سب سے حیران کن باب 1936 کا برلن اولمپکس ہے۔
اولمپیڈیا کے ریکارڈ کے مطابق سید محمد ایوب 1936 کے برلن اولمپکس میں افغانستان کی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی تھے۔ ان کی پوزیشن ہاف بیک تھی اور وہ افغانستان کی جانب سے دونوں میچوں میں میدان میں اترے۔ایک دوسرے اولمپک ڈیٹا بیس میں ان کی تاریخ پیدائش 20 نومبر 1908 درج ہے۔ اس حساب سے برلن اولمپکس کے وقت ان کی عمر تقریباً 27 برس تھی۔1936 کی افغان ٹیم کے بارے میں جرمن اولمپک ریکارڈ بھی سید محمد ایوب کا نام بطور کھلاڑی درج کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اسی delegation میں hockey referee Yaqub الگ شخصیت کے طور پر درج ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ Sayed Mohammad Ayub 1936 میں کھلاڑی تھے، امپائر نہیں۔
یہاں ایک تاریخی تصویر سامنے آتی ہے۔
تصویر میں موجود افراد کے بارے میں KP Olympics کے سیکرٹری نے لالا ایوب کی شناخت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پیچھے سے دوسری قطار میں بائیں جانب سے تیسرا شخص لالا ایوب ہے۔ یہ شناخت ایک اہم تاریخی lead ہے، تاہم اس تصویر کی بنیاد پر حتمی شناخت کا فیصلہ مزید archival evidence سے ہونا چاہیے۔اگر یہ شناخت درست ثابت ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ پشاور کا لالا ایوب وہی شخص تھا جس نے 1936 میں افغانستان کی Olympic hockey team کے لیے برلن میں میدان سنبھالا تھا۔یہی وہ سوال ہے جس پر مزید تاریخی تحقیق ابھی جاری ہے۔
اس کہانی کو مزید دلچسپ بناتا ہے افغانستان کی 1936 کی ٹیم کا لاہور سے تعلق جس کے بارے میں کراچی سے شائع ہونیوالے انگریزی اخبار ڈان کے ایک تاریخی مضمون میں لکھا گیا کہ 1936 کی افغانستان کی hockey team بنیادی طور پر Lahore کے Afghan Club پر مشتمل تھی اور اس ٹیم نے برلن اولمپکس میں شرکت کی۔ یہ حوالہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے 1936 کے افغان hockey players کے برصغیر، بالخصوص لاہور، سے تعلق کی ایک واضح کڑی سامنے آتی ہے۔اسی دور میں افغانستان کی hockey ٹیم کے کپتان Shahzada Muhammad Yusuf تھے، جبکہ متعدد کھلاڑی برصغیر کے hockey ماحول سے تعلق رکھتے تھے۔ Olympic records میں Sayed Mohammad Ayub بھی اسی ٹیم کا حصہ درج ہیں۔
یوں لالا ایوب کی ممکنہ تاریخی journey کا پہلا سرا سامنے آتا ہے:لاہور کا hockey ماحول — افغان کلب — افغانستان کی Olympic ٹیم — برلن 1936 اور پھر پاکستان میں واپسی 1947 کے بعد برصغیر کی سیاسی اور جغرافیائی صورتحال بدل گئی۔ اسی دور میں پشاور میں لالا ایوب کا نام hockey کے ساتھ نمایاں ہونا شروع ہوتا ہے۔
2024 میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی پروفائل کے مطابق لالا ایوب کا اصل نام سید محمد ایوب تھا اور پشاور کینٹ کا گرین ہوٹل ان کی زندگی میں hockey سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ اسی profile کے مطابق وہ پاکستانی hockey ٹیموں کے انتخاب میں انتہائی بااثر تھے اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی ان کی رائے کو اہمیت دیتی تھیں۔اسی پروفائل میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ لالا ایوب نے اسپین کی ہاکی ٹیم کو ایک سال کوچنگ کی اور خیبرپختونخوا کے متعدد کھلاڑیوں کو groom کیا، جنہوں نے بعد میں پاکستان کی قومی ٹیم میں جگہ بنائی۔یعنی ان کا کردار صرف کھلاڑی تک محدود نہیں رہا؛ وہ بعد میں coach، selector، mentor اور hockey administrator کے طور پر بھی سامنے آئے۔
اگر 1936 میں سید محمد ایوب فغانستان کی طرف سے کھلاڑی تھے، تو 1952 تک ہاکی میں ان کا کردار بالکل مختلف ہو چکا تھا۔اولمپیڈیا کے مطابق 25 جولائی 1952 کو Helsinki Olympics کے ہاکی میچ میں جرمنی اور پولینڈ کے درمیان مقابلے کے لیے Umpire 1 — Lala Ayub — PAK درج ہے۔ یہ ریکارڈ اس بات کا مضبوط ثبوت ہے کہ Lala Ayub نامی پاکستانی hockey umpire 1952 کے Olympic Games میں موجود تھا۔ یہاں سے لالا ایوب کی کہانی میں ایک غیر معمولی تبدیلی دکھائی دیتی ہے:
1936 — کھلاڑی 1952 — Olympic umpire
یعنی دو اولمپکس کے درمیان تقریباً 16 سال میں ایک hockey player ایک بین الاقوامی سطح کے referee/umpire کے مقام تک پہنچ چکا تھا۔ لالا ایوب کا Olympic تعلق 1952 پر ختم نہیں ہوا۔ 1964 کے Tokyo Olympics کے official report میں “Ayub, S.M. — PAKISTAN” کو hockey umpire کے طور پر واضح طور پر درج کیا گیا ہے۔ Japan اور Rhodesia کے درمیان میچ میں S.M. Ayub نے umpiring کی۔اولمپیڈیا بھی Lala Ayub کو Peshawar سے تعلق رکھنے والے Olympic hockey referee کے طور پر درج کرتا ہے اور ان کا Olympic span 1952–1964 بتاتا ہے۔یوں لالا ایوب کا نام تین مختلف تاریخی مرحلوں سے جڑتا ہے:
1936 — افغانستان کا Olympic hockey player 1952 — پاکستان کا Olympic hockey umpire 1964 — پاکستان کا Olympic hockey umpire
لالا ایوب کی شخصیت صرف کھیلوں تک محدود نہیں تھی۔روزنامہ ڈان نے سید عاقل شاہ کے سیاسی تعارف میں لکھا کہ ان کا تعلق ایسے سیاسی خاندان سے تھا جس کی قیادت ان کے والد مرحوم لالہ ایوب کرتے تھے، اور لالا ایوب خدائی خدمتگار تحریک کے بانی ممبر اورعبدالغفار خان کے نزدیکی ساتھی رہے تھے۔ ڈان کی ایک اور رپورٹ کے مطابق سید عاقل شاہ کے والد لالا ایوب، ولی خان کے اعتمادکے ساتھی رہے
اسلام آباد سے شائع ہونیوالے روزنامہ دی نیوز نے بھی سید عاقل شاہ کے حوالے سے لکھا کہ ان کے والد لالا ایوب ایک معروف خدائی خدمتگار تھے۔ یعنی لالا ایوب کی شخصیت کا ایک دوسرا باب سیاسی جدوجہد سے جڑا ہوا تھا۔ ایک طرف ہاکی کا میدان تھا، دوسری طرف وہ سیاسی ماحول جس نے پشاور اور اس پورے خطے کی جدید سیاسی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔جس کے خاندان نے بھی کھیل کو نہیں چھوڑا
لالا ایوب کے بیٹے سید عاقل شاہ نے بعد میں خود خیبرپختونخوا کے سپورٹس اور اولمپک ایڈمنسٹریشن میں اہم کردار ادا کیا۔ڈان کے مطابق این ڈبلیو ایف پی اولمپک ایسوسی ایشن کے کے صدر اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے نائب صدر رہے، جبکہ وہ صوبائی سپورٹس منسٹر بھی بنے۔ یہ محض ایک خاندان کی سیاسی وراثت نہیں تھی؛ sports بھی اسی خاندان کی شناخت کا حصہ بن چکا تھا۔2012 کی ایک رپورٹ میں سید عاقل شاہ نے اپنے والد لالا ایوب کے نام سے منسوب چیلنج ٹرافی کا بھی اعلان کیا۔یوں ایک نسل کے ہاکی لیجیسی نے دوسری نسل کے سپورٹس ایڈمنسٹریشن میں بھی جگہ بنائی۔
آج پشاور کالالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم اسی تاریخی ورثے کی یادگار ہے۔2025 میں ڈان نے رپورٹ کیا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے مختلف سیاسی شخصیات اور قومی و بین الاقوامی سطح کے سابق سپورٹس مین کی خدمات کے اعتراف میں کھیلوں کی بعض سہولیات ان کے نام سے منسوب کی گئی ہیں، جن میںلالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم بھی شامل ہے۔اسٹیڈیم آج بھی خیبرپختونخوا کے ہاکی انفراسٹرکچر کا اہم مرکز ہے۔
2019 میں حکام نے بتایا تھا کہ یہاں 70 سے زیادہ انٹرنیشنل میچز منعقد ہو چکے ہیں اور نئے ٹرف اور فلڈ لائٹ سمیت سہولیات بہتر بنانے کے منصوبے جاری ہیں۔پاکستان سپورٹس بورڈ کے سرکاری پراجیکٹ ریکارڈ میں بھی لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم کو ان چھ ہاکی سنٹرز میں شامل کیا گیا جن کے ٹرف تبدیل کرنے کا منصوبہ منظور کیا گیا۔ منصوبے کی منظور شدہ Rs523.163 million درج ہے اور executing agency Pakistan Sports Board ہے۔
مگر لالا ایوب کے نام کا میدان خود سوال بن گیاجس شخص نے hockey کے لیے زندگی وقف کی، اس کے نام سے منسوب میدان بھی گزشتہ برسوں میں سوالات کی زد میں آیا۔2023 میں ہاکی سے وابستہ حلقوں نے لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم میں نصب ہونے والے نئے آسٹرو ٹرف کے معیار پر سوالات اٹھائے۔ دی نیوز کے مطابق سید عاقل شاہ نے بھی سٹیڈیم میں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کی سہولیات فراہم کرنے اور غیر معیاری کام اور ٹرف کی انکوائری کا مطالبہ کیا۔اسی معاملے میں ایک رپورٹ کے مطابق نئی ٹرف میں انسٹالیشن کے تقریباً ایک ماہ بعد wrinkles سامنے آنے کی شکایات اٹھیں اور inquiry کی بات سامنے آئی۔
یہاں تاریخ ایک عجیب دائرہ مکمل کرتی ہے۔جس لالا ایوب نے ہاکی کو میدان سے بین الاقوامی سطح تک پہنچایا، آج انہی کے نام کا میدان اپنی سہولیات اور انتظامی معیار کے سوالات کا سامنا کر رہا ہے۔لالا ایوب کی داستان کو صرف ایک hockey player کی biography کہنا شاید اس شخصیت کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔
اگر 1936 کے سید محمد ایوب اور پشاور کے سید محمد ایوب / لالہ ایوب ایک ہی شخص ثابت ہوتے ہیں تو ان کی زندگی برصغیر کی ہاکی کی تاریخ کی ایک غیر معمولی مثال بن جائے گی:افغانستان کی طرف سے اولمپک کھلاڑی پاکستان کی طرف سے اولمپک امپائر اور پھر بین الاقوامی ہاکی کوچ کیساتھ ساتھ پاکستانی ہاکی کے سلیکشن پراسیس میں بااثر شخصیت بھی تھے اورخیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں کے mentor ہونے کے ساتھ ساتھ خدائی خدمتگار سیاسی روایت سے وابستہ شخصیتاور آخرکار ان کے نام سے منسوب پشاور کا بڑاہاکی سٹیڈیم ہے
لیکن اس پوری داستان میں ایک سوال ابھی بھی تحقیق کا منتظر ہے: کیا 1936 کے برلن اولمپکس میں افغانستان کے لیے کھیلنے والے سید محمد ایوب ہی پشاور کے لالا ایوب تھے؟اولمپک ریکارڈ دونوں ناموں کو الگ الگ تاریخی مقامات پر موجود دکھاتے ہیں۔ پشاور کے لالا ایوب کا نام سید محمد ایوب ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں، جبکہ 1936 کے افغان اولمپک کھلاڑی کا نام بھی سید محمد ایوب ہے۔ دونوں کے درمیان عمر اور ہاکی کیرئیر کی ٹائم لائن بھی ممکن دکھائی دیتی ہے۔
اس کے علاوہ 1936 کی ٹیم کی تصویر پر موجود کے پی اولمپک کے سیکرٹری کی شناخت اس امکان کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔مگر تاریخ میں کسی شخصیت کو ایک ہی ثابت کرنے کے لیے تصویر، نام اور timeline سے آگے بڑھ کر معاصر دستاویزی ثبوت ضروری ہوتا ہے۔شاید لاہور کے Afghan Club کے ریکارڈ، 1936 سے 1947 کے اخبارات، hockey club records یا خاندان کے پرانے کاغذات اس سوال کا آخری جواب دے سکیں۔
فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ لالا ایوب صرف ایک stadium کا نام نہیں؛ وہ پشاور، افغانستان، پاکستان، hockey اور سیاست کے درمیان ایک ایسی تاریخی کڑی ہیں جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔اور اگر 1936 کا برلن اور پشاور کا لالا ایوب واقعی ایک ہی شخصیت نکل آئے، تو یہ صرف پشاور کی hockey history نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ Olympic sporting history کا ایک غیر معمولی باب ہوگا۔
|