“عاقب جاوید کلچرز نے پاکستان کرکٹ کو کہاں پہنچادیا؟”



“عاقب جاوید کلچرز نے پاکستان کرکٹ کو کہاں پہنچادیا؟”



انجئنیر: شاہد صدیق خانزادہ


دنیا کے میں لارڈز گراونڈ ایک اپنی تاریخ رکھتا ہے. کرکٹ کے میدان میں پاکستان کی لارڈز سے ہماری پاکستان کرکٹ کی ماضی کی حسین یادیں وابستہ ہیں۔ کرکٹ جیسے کھیل کی ابتدا اس گراونڈ سے دنیا کے ہر کرکٹر کی خواہش اور آرزو ہوتی کہ وہ لارڈز میں کرکٹ کھیلے اور دیکھے ہر کرکٹر کھیلنے والا یا کرکٹ کو دیکھنے سے دلچسپی رکھنے والے کی آرزو یہی ہوتی ہے لیکن موقع کچھ ہی نصیب والوں کو ہی ملتا ہے۔

جب بھی انگلینڈ کا دورہ ہوا ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے ہمیشہ مشکل سے مشکل ہوتا ہے کیوں کہ بالکل مختلف صورت حال میں بیٹنگ کرنا ہر کسی بلے پکڑنے والے کے بس میں نہیں ہوتا. پاکستانی کرکٹ کے کھلاڑی زیادہ تر اپنے ملک میں آسان اور سلو پچز پر کھیلنے کے عادی ہیں جس سے ان کی ٹائمنگ و فٹ ورک اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ انگلینڈ کے میدانوں کی پچز پر ببر شیر، ٹائیگر، بوم بوم ، ایشین بریڈمین وغیرہ وغیرہ القابات سے نوازے جایں ان کے لیے تو بس یہی اُمید ہوتی ہے کہ کچھ دیر وکٹ پر رک کر اپنے آپ کو عاقب جاوید کلچر کے القابات سے باہر نکل کر دیکھایں مگر یہ انکا پوری انگلینڈ سیریز میں پیچھا کرتا رہتا ہے.
1970 سے 2015 تک میں ظہیر عباس، ماجد خان، عمران خان، جاوید میاں داد، محسن خان ، یونس خان، محمد یوسف وغیرہ لارڈز میں اسی طرح کھیل چکے ہیں جیسے پاکستان میں کھیلتے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ سارے کھلاڑی عاقب جاوید کلچر کے پاس سے بھی نہیں گزرے تھے ان کی انگلینڈ کے گراونڈ میں کارگردگی کو دیکھ کر کاؤنٹی کرکٹ ان کو اپنی اپنی کاونٹ یوں کھیلنے کی دعوت دیتے تھے جس سے وہ وہاں کی کنڈیشنز کو سمجھتے اور اپنی بیٹینگ میں نکھار لاتے تھے۔

اور آج کل کے کھلاڑی کاؤنٹی تو درکنار اپنے ملک کی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے بھی نالاں ہے اور جو کھلاڑی ڈومیسٹک کھیلتے ہیں اور ان کی کارگردگی بھی نمایاں ہوتی ہیں وہ بیچارے عاقب جاوید کلچرز کے ہاتھوں تاریک کے گھپ اندھیروں میں گُم ہوجاتے ہیں.
اور اب تو عاقب جاوید کلچرز کی وجہ سے کاؤنٹی بھی ان کو کھلانا نہیں چاہتی ہے۔ رہی سہی کثر ٹی ٹوئنٹی نے پوری کردی کہ آج کے کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیل کر صرف پیسہ بنانا چاہتے ہیں جس نے کرکٹ کا حسن پر گرد و غبار نے گھیر لیا ہے۔

لارڈز ٹیسٹ میں جو دوسرا ٹیسٹ میچ تھا اس میچ کے دوران جس قسم کے تبصرے ہوئے اور کرکٹ کے شیدائیوں کو سُننے کو ملے اور تبصرہ نگاروں نے جس قسم کے معنی خیز باتیں کی ہیں، اس سے کرکٹ کی دنیا میں طوفان آگیا ہے۔
جس طرح کی بغیر ردھم کی بولنگ اور انتہائی نچلے درجے کی بیٹنگ نے پاکستانی کرکٹ کو گلی کوچے کے درجے کی ٹیم میں لاکھڑا کردیا ہے۔ لیڈز ٹیسٹ میں بری طرح ہارنے کے بعد ٹیم پر سب کا ہی اعتماد ختم ہوچکا تھا مگر کچھ عقل سے پیدل ابھی بھی عاقب جاوید کلچرز کے ان نوجوانوں سے کچھ کرنے کی اُمید لگائےلگائے بیٹھے تھے کہ شاید پرندے کچھ پرواز کرسکیں۔

ماضی میں پاکستان ٹیم نے لارڈز میں ہمیشہ عمدہ اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ 1982 میں چاہے مدثر نذر کی بولنگ ہو یا محسن خان کی ڈبل سینچری ہو یا پھر 1992 اور 1996 میں وسیم اکرم کی آل راؤنڈ کارکردگی، ہر بار پاکستان فتح سے ہمکنار ہوا۔ پھر 2016 میں یاسر شاہ اور 2018 میں محمد عباس کی بولنگ نے پاکستان کو عزت دلائی لیکن وہ سب عاقب جاوید کلچرز سے پاک تھا۔

پاکستان ٹیم ( عاقب جاوید کلچرز ) کی بدولت جس طرح شرمناک انداز میں ہتھیار ڈال کر شکست خوردہ ہوئی اس پر کھلاڑیوں کے سوا سب کے سر جھک گئے۔ بیٹنگ، بولنگ، فیلڈنگ اور کوچنگ سب نے ناکامی کا منہ دیکھا۔
بیٹنگ میں دوسری اننگز میں سعود شکیل نے جوانمردی سے 97 رنز بنائے مگر وہ کسی کام نہ آسکے۔ جب کہ ٹیم کے سب سے بہترین بلے باز بابر اعظم سمیت تمام بلے باز بے بسی کی تصویر بنے رہے۔ بولرز بھی پچ سے کوئی خاص مدد نہیں لے سکے۔ اگرچہ محمد عباس نے عمدہ بولنگ کی لیکن وہ بھی انگلش ٹیم کو اس طرح آؤٹ نہ کرسکے

جیسے انگلش بولرز ہماری دھجیاں اڑا رہے تھے۔ امام الحق کی پراسرار چوٹ کے زریعے میدان سے راہ فرار میں اپنی عافیت سمجھی؟ یہ پراسرار چوٹ کی کسی کو سمجھ نہیں آئی!

( اپنے چاچا کی بدولت )ہاکستانی کے اوپنر امام الحق جن پر پاؤں کی سوجن سے متعلق الیکٹرونک میڈیا سنگین الزام تراشی لگا رہا تھا کہ وہ پچ سے ڈر گئے اور بیٹنگ کے لیے نہیں آئے۔ ان پر سابق چیف سیلیکٹر نے بھی سوشل میڈیا پر شکوک کا اظہار کیا ہے کہ یہ سوجن ایسی سنگین نہیں تھی کہ آپ بیٹنگ نہ کرسکیں۔

پنڈلی کی سوجن بولرز کو تو تنگ کرتی ہے لیکن بیسٹمین کے لیے اتنی مشکل نہیں ہوتی اکثر بیسٹمین اس طرح چوٹ کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں۔ امام الحق پر سابق ٹیسٹ کرکٹر فیصل اقبال نے بھی سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ مشکل صورت حال دیکھ کر بیٹنگ چھوڑ دیتے ہیں۔ پاکستانی ٹیم لارڈز ٹیسٹ 10کھلاڑیوں سے کھیلی یہ بھی شکست کی ایک اہم وجہ ہے۔
لارڈز ٹیسٹ کی پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شکست کے ایک اہم وجہ عاقب جاوید ہیں جنہوں نے جیت کا فارمولہ کھردری پچز بناکر دریافت کیا تھا اور اس پر لگے ہوئے دیوقامت پنکھوں کی وجہ سے وہ پنکھا پچ کے نام سے معروف ہوگئے۔

ان پچوں پر سست بولنگ کے باعث پاکستان انگلینڈ کو ہرانے میں کامیاب ہوگیا لیکن ٹیم کی بیٹنگ بھی تباہ ہوگئی۔ اب انہی بلے بازوں کو جب انگلینڈ میب تیز باؤنسی پچ ملی توبیٹ اٹھانے کا وقت بھی نہیں مل رہا تھا۔ سست پچوں کے بانی عاقب جاوید بھی پاکستان کی شکست کے ذمہ دار ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے اس وقت کے تمام بلے بازوں کی تکنیک انتہائ بہت خراب ہے۔ ان کے بیٹ اور جسم کی آپس میں کوئی ہم آہنگی نہ ہونے کے برابر ہے جس سے اولی رابنسن اور جوفرا آرچر کی تیز گیندوں پر بیٹ دیر سے آتا ہے۔ یہی ایک کمزوری ہے جو (عاقب جاوید کلچرز ) کے ہر بلے بازکو لے ڈوبی۔ انگلیند کے میڈیانے تو اس ٹیم کو گذشتہ 50 سال کی کمزور ترین ٹیم قرار دے دیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کو بری طرح شکست ہوگئی۔ اب اس کے جتنے بھی بہانے تلاش کیے جایں یا کوئی بھی بہانہ بنایا جائے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ موجودہ ( عاقب جاوید کلچرز ) ٹیم انتہائی ناکارہ اور غیر ذمہ دار ہے۔ ٹیم کے سب سے سینئیر کھلاڑی محمد رضوان جس طرح آؤٹ ہوئے اس سے ان کی غیر ذمہ داری ہی عیاں نہیں ہوتی بلکہ کھیل سے ان کی دلچسپی بھی اب برائے نام نظر آتی ہے۔

انگلش کرکٹ کمنٹیٹر ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن نے بار بار اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس ٹیم کے پاس نہ کوئی ٹیلنٹ ہے اور زنہ ہی کوئی ذمہ داری ہے بارش نے بہت مدد کی ورنہ یہ ٹیسٹ شاید دوسرے دن ہی اختتام پذیر ہوجاتا۔
اگر پاکستان کرکٹ کو بچانا ہے جلد از جلد عاقب جاوید کلچرز کی دیواروں کو ڈھادو نہیں تو یہ رونا ہر غیرملکی دورہ پر ہمارے ڈھول پیٹتا رہیگا. 
انجئنیر: شاہد صدیق خانزادہ
About the Author: انجئنیر: شاہد صدیق خانزادہ Read More Articles by انجئنیر: شاہد صدیق خانزادہ: 509 Articles with 378349 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.