جیلوں میں قید انصاف کی آہٹ

یہ کالم جیلوں کے بارے میں ہے جہاں گنجائش سے زائد قیدی موجود ییں۔

ایک منٹ ۔۔قیصر ٹھیٹھیہ

جیلوں میں قید انصاف کی آہٹ

کالم: ایک منٹ
تحریر: قیصر ٹھیٹھیہ

کچھ دیواریں اینٹوں اور گارے سے اٹھائی جاتی ہیں، کچھ قانون کی طاقت سے اور کچھ ہماری اجتماعی بے حسی سے۔ جیل کی دیواریں بھی عجیب ہوتی ہیں؛ ان کے ایک طرف دنیا اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ رواں دواں رہتی ہے اور دوسری طرف وقت جیسے کسی نامعلوم حکم کے انتظار میں ٹھہر جاتا ہے۔ کہیں کسی ماں کی آنکھ اپنے بیٹے کی راہ تکتی ہے، کہیں بچوں کو باپ کی واپسی کا انتظار ہے اور کہیں ایک انسان اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تاریخ پر تاریخ گنتے گنتے زندگی کے قیمتی برس گزار دیتا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ جیل میں کتنے لوگ بند ہیں، سوال یہ ہے کہ ان میں کتنے ایسے ہیں جن کے مقدمات کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے، مگر جن کی زندگی کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی سلاخوں کے حوالے ہو چکا ہے۔

روزنامہ ڈان کے 12 اکتوبر 2026ء کے اداریے ’’Paralysed Prisons‘‘ نے پاکستان کے نظامِ زنداں کی اسی تلخ حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی مرتب کردہ سالانہ جیل ڈیٹا رپورٹ 2026ء کے مطابق ملک کی جیلیں 68 ہزار 832 افراد کو رکھنے کی گنجائش رکھتی ہیں، لیکن ان میں ایک لاکھ 10 ہزار 513 قیدی موجود ہیں۔ گویا منظور شدہ گنجائش سے 41 ہزار 681 افراد زیادہ جیلوں میں بند ہیں اور قیدیوں کی مجموعی تعداد مقررہ گنجائش کے 160 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اعداد محض سرکاری ریکارڈ کے خانے پُر نہیں کرتے، بلکہ ایک ایسے نظام کی تصویر سامنے لاتے ہیں جس میں جگہ کم، مسائل زیادہ اور اصلاح کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اس صورت حال کا سب سے اہم پہلو زیرِ سماعت مقدمات کے قیدیوں کی تعداد ہے۔ رپورٹ کے مطابق 82 ہزار 988 افراد، یعنی مجموعی قیدیوں کا تقریباً 75 فیصد، ایسے ہیں جن کے مقدمات ابھی فیصلے کے منتظر ہیں۔ ان کی تعداد ملک کی تمام جیلوں کی مجموعی منظور شدہ گنجائش سے بھی زیادہ ہے۔ یہاں انصاف کے بنیادی اصول پر غور کرنا ضروری ہے: کسی شخص کے خلاف الزام عائد ہونا اور اس کا جرم ثابت ہو جانا دو الگ باتیں ہیں۔ قانون کا تقاضا ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ملزم کو مجرم قرار نہ دیا جائے۔ لیکن جب مقدمے کی سماعت طویل ہو جائے، ضمانت کا حصول مشکل ہو اور قانونی کارروائی مسلسل التوا کا شکار رہے تو زیرِ سماعت قید خود ایک ایسی سزا کی صورت اختیار کر سکتی ہے جس کا دورانیہ اور انجام کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔

ڈان کا اداریہ اسی لیے طویل حراست، مقدمات میں تاخیر اور ضمانت کے طریقۂ کار پر نظرثانی کی ضرورت اجاگر کرتا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جب کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی جیلیں تاحال اپنی مقررہ گنجائش کے اندر کام کر رہی ہیں۔ یہ فرق بھی بتاتا ہے کہ مسئلے کو محض قومی سطح کے ایک عمومی بحران کے طور پر دیکھنا کافی نہیں؛ مختلف صوبوں کی صورت حال اور ضروریات کو سامنے رکھ کر اقدامات کرنا ہوں گے۔

جیل کی زندگی کا تصور کرتے ہوئے ہمارے ذہن میں عموماً بلند دیواریں، آہنی دروازے اور پہرے دار آتے ہیں، مگر ان دیواروں کے اندر انسانی زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ صفائی کا ناقص انتظام، غذائی قلت، طبی سہولتوں کی کمی اور گنجان رہائش وہ مسائل ہیں جن کی نشان دہی ڈان نے کی ہے۔ گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے باعث بعض افراد کو سونے کے لیے بھی باری مقرر کرنا پڑتی ہے۔ جب ایک انسان کو آرام کے لیے مناسب جگہ نہ ملے، بیماری کی صورت میں علاج میسر نہ ہو اور ہر روز گنجان ماحول میں وقت گزارنا پڑے تو اس کی جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی کیفیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

جیل کا مقصد محض کسی شخص کو معاشرے سے الگ کر دینا نہیں ہونا چاہیے۔ قید اور سزا کے ساتھ اصلاح، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت بھی نظامِ زنداں کے بنیادی مقاصد میں شامل ہیں۔ کسی قیدی کو اگر ہنر سیکھنے، تعلیم حاصل کرنے اور اپنی زندگی بہتر بنانے کا موقع ملے تو رہائی کے بعد اس کے لیے معاشرے میں واپسی کا راستہ نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر جیل کا ماحول اسے جسمانی، ذہنی اور معاشرتی طور پر مزید کمزور کر دے تو رہائی کے بعد بھی اس کے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ یوں سزا مکمل ہونے کے باوجود زندگی کی مشکلات اس کا تعاقب کرتی رہتی ہیں۔

ذہنی صحت کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ ڈان کے مطابق نفسیاتی اور ذہنی مسائل سے دوچار قیدی طویل حراست، بدسلوکی اور طبی نگہداشت کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے محض قید کافی نہیں، بلکہ ان کی حالت کے مطابق علاج اور نگہداشت بھی ضروری ہے۔ اسی طرح جیلوں میں ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کے سامنے آنے کی اطلاعات اس امر کی متقاضی ہیں کہ طبی سہولتوں کو جیل انتظامیہ کی معمول کی ذمہ داری سے بڑھ کر انسانی ضرورت سمجھا جائے۔ منشیات کی لت اور ذہنی صحت کے مسائل اگر بروقت علاج سے محروم رہیں تو ان کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ ایک ذمہ دار نظام وہی ہے جو قید میں موجود انسان کی بیماری کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے لے جتنی کسی آزاد شہری کی بیماری کو لیا جانا چاہیے۔

رپورٹ کا ایک اور تشویش ناک پہلو خواتین قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ ڈان کے اداریے کے مطابق 2024ء کے بعد سے جیلوں میں خواتین کی تعداد 46 فیصد بڑھ چکی ہے۔ بچوں کے بھی مقدمات کے فیصلوں کے انتظار میں قید ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ خواتین اور بچوں کے معاملات میں خصوصی توجہ اس لیے ضروری ہے کہ قید کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے۔ ایک خاتون کی طویل حراست اس کے خاندان اور زیرِ کفالت بچوں کو متاثر کر سکتی ہے، جب کہ بچوں کے لیے قید اور عدالتی تاخیر کے اثرات ان کی تعلیم، ذہنی نشوونما اور مستقبل پر پڑ سکتے ہیں۔ قانون کی عمل داری کے ساتھ ان انسانی پہلوؤں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بحران بھی کسی ایک دن کی پیداوار نہیں۔ ڈان کے مطابق کئی دہائیوں سے جیلوں کے نظام میں بامعنی تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے، مگر قید پر حد سے زیادہ انحصار نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے اقدامات یقیناً اہم ہیں، لیکن صرف عمارتیں بڑھانے سے زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد کم نہیں ہو گی۔ اس کے لیے ضمانت اور مچلکوں کے طریقۂ کار میں اصلاح، مقدمات کی بروقت سماعت اور غیرضروری تاخیر کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ جہاں قانون اجازت دیتا ہو، وہاں متبادل اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے، تاکہ حراست کو ہر مسئلے کا واحد حل نہ سمجھا جائے۔ اس کا مطلب قانون میں نرمی یا جرم کو نظرانداز کرنا نہیں، بلکہ انصاف کو مؤثر اور بروقت بنانا ہے۔

ریاست کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ جرم کرنے والے کو سزا دے؛ اسے یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ کسی شہری کی آزادی قانون کے منصفانہ تقاضوں کے بغیر غیرضروری طور پر سلب نہ ہو۔ جیلوں میں صحت، تعلیم، اصلاح اور پیشہ ورانہ تربیت کی سہولتوں کو بہتر بنانا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ جب تک مقدمات کے فیصلے میں تاخیر، ضمانت کی مشکلات اور بنیادی انسانی ضروریات کی کمی جیسے مسائل برقرار رہیں گے، جیلوں کی گنجائش سے زیادہ آبادی محض ایک عدد نہیں بلکہ نظام کی کمزوری کی علامت بنی رہے گی۔

آخر میں، جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزرتی ہر رات ہمیں ایک سوال سونپتی ہے: کیا انصاف صرف دروازے بند کرنے کا نام ہے، یا ان دروازوں کے کھلنے کا راستہ بھی قانون نے متعین کیا ہے؟ کسی معاشرے کی اصل عظمت اس کی بلند عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور طاقت ور اداروں سے ہی نہیں، اس سلوک سے بھی پہچانی جاتی ہے جو وہ اپنے سب سے کمزور انسان کے ساتھ کرتا ہے۔ جس شخص پر جرم ثابت ہو، اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے؛ مگر جس کے مقدمے کا فیصلہ ابھی باقی ہو، اسے غیرمعینہ انتظار کی سزا دینا انصاف کے بنیادی تصور پر سوال اٹھاتا ہے۔ جیل کی دیواریں انسان کو دنیا سے جدا کر سکتی ہیں، اس کی بیماری، اس کی عزتِ نفس اور اس کے قانونی حقوق کو مٹا نہیں سکتیں۔ انصاف کی روشنی تبھی مکمل ہو گی جب اس کا چراغ عدالت کے کمرے میں بھی روشن ہو اور جیل کی تاریک کوٹھڑی تک بھی اس کی کرن پہنچے۔ کیونکہ انصاف کی پہچان صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگوں کو قید کیا گیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ قانون نے کتنے لوگوں کو بروقت، منصفانہ اور انسانی وقار کے مطابق انصاف دیا۔
ایک منٹ کے لیے سوچئیے گا کہ جب بدلے گا عدالتی نظام؟ کب ہونگی نئی جیل اصلاحات؟ کب ہوگا ایسا تفتیش کا نظام جو بے گناہ کو پہلے ہی مرحلے میں قید سے بچا سکے؟ کب ہوگی ضمانتی نظام میں تبدیلیاں؟ [email protected]

 

Qaiser Iqbal
About the Author: Qaiser Iqbal Read More Articles by Qaiser Iqbal : 7 Articles with 9161 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.