ٓمیڈیا ایک مقدس گائے

(Qadir Khan, )
ناراض مت ہونا کہ میں میڈیا کو ایک مقدس گائے کا خطاب سے کیوں یاد کر رہا ہوں اور اگر کسی کو برا لگ رہا ہے تو معافی چاہتا ہوں(حالانکہ دل نہیں چاہتا کہ معافی مانگوں لیکن مقدس گائے کو تنقید برداشت کرنے کی عادت نہیں ہے ) ۔ اصل میں اس کی چند وجوہات ہیں جن کی وجہ سے میں ذاتی طور پر مطمئن نہیں ہوں ۔میڈیا کو بلاشبہ ریاست کا چوتھا ستوں کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ ریاست کے اس ستوں پر ہی ملکی پالیسی کی بنیاد رکھی جاتی ہے ۔ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ احتساب، کرپشن،۔بد عنوانی ، اقربا پروری معاشرے کا ایک اہم عنصر ہے ۔۔

لیکن !
اینکرزپرسن یا میڈیا کے بااثر نمائندے ایسی مقدس گائے ہے کہ ان سے ان کے مالی اثاثے کوئی پوچھنے کی ہمت نہیں کرسکتا کیونکہ حمام میں سب ۔ ۔ ۔۔ہیں ۔

کیا میڈیا والے آب زم زم سے نہائے ہوئے ہیں یا گنگا سے اشنان کیا ہے ؟

سیاست دان اگر پارٹی بدل لیں تو زور وشور مچ جاتا ہے کہ سیاسی وفادرای بدل دی ۔ جبکہ سیاسی جماعتیں کوئی مذہب کا درجہ نہیں رکھتی کہ اسلام ہے اگر بدلا تو مرتد ہوجاؤ گے اور واجب قتل قرار دئے جاؤ گے ۔ میں تو سیدھی سی بات یہ سمجھتا ہوں کہ دین اسلام یا آسمانی مذہب کے علاوہ ہر چیز متبدل ہے ۔ سیاست تو ویسے بھی حرف آخر نہیں ہے ۔

لیکن !!

مقدس گائے کے لوگ جب میڈیامالکان سے اپنے نئے مالی معائدوں کے ساتھ نیا چینل جوائن کرلیتے ہیں تو ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ جس ادارےسے جا رہے ہو اس کی وجہ سے توتمھاری پہچان بنی آج کچھ بن گئے تو تگڑے پیکچ کےلالچ میں ادارے کی وفا داری چھوڑ کر ایسے پروفیشنلزم کا نام دے دیا کہ بہتری و ترقی کی جانب گامزن ہیں۔۔

پیسوں کی لالچ میں اور شہرت کی بلندی کو چھونے کےلئے جانے والوں کا نظریہ صرف ادارہ مالکان سے رہ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ چھوٹے صحافیوں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتا بلکہ مالکان جوحکم دیتے ہیں اس کو بجا آور لاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج کا صحافی میڈیا مالکان کی پالیسیوں کی وجہ سے یرغمال خود اپنے ساتھیوں کی وجہ سے ہے۔ تنقید کرنے والے تنقید برداشت کرنے کے عادی نہیں-

کیا کسی نے سنا ہے کہ کسی اینکرپرسن نے ادارے کی پالیسی سے متفق نہ ہونے پر یا ویج ایوارڈ نہ ملنے پر ادارے کوچھوڑ دیا ہو ۔۔

جس طرح سیاست میں کوئی پارٹی بدلتا ہےتو اس پر قدغن اور طعنہ شاہی ۔۔۔ لیکن یہ پیسوں کی لالچ میں اداروں یا نظریات کو چھوڑنے والے کو کیا کہیں ؟
 


تصاویر میں کسی کی بھی تصویر کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے بلکہ یہ وہ نامی گرامی چہرے ہیں جن سے حکومت کانپتی ہے اور یہ اپنے مالکان سے -
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 379 Articles with 150871 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jan, 2012 Views: 520

Comments

آپ کی رائے
Himat-e-Marda, Madad-e-Khuda. Yeh hee inko rahee rass pur lanay ka rastay hay varna yeh too apnay app ko zaminee khuda samaj bathay hain. Media owner inko kuch nahee daita bulkay bavaqoof awam media owner kay paisay batornay kay programs may SMS/calls kur kur kay unko finance kurtay hain. SMS ka rate Rs.1 hay mugar inkay program may Rs.5+tax. aik program may augar 10,000 bavaqoof SMS kurtay hain too is mutlab hay kay 50,000/- 30 minutes may kamae puray din may kitnay bannay. khass bat yeh kay putti per sirf 2or3 msg he chultay hain. yeh qanoon danoo say poocha jaye kay is koo fraud/dhoka dahee/jhoot/dhool jhokna etc kia kahangay. phone call rate Rs.25/-+tax tuk hain zara hesab lagaoo kon khiss therah lut raha hay.
By: adil, karachi on Jan, 31 2012
Reply Reply
0 Like