ملکہ برطانیہ کے پسندیدہ خچر کی ریٹائرمنٹ

(Yousuf Alamgarian, Rawalpindi)
عزت‘ دولت اور شہرت خدا کی دین ہوا کرتی ہے۔ مقدر اچھے ہوں تو بسا اوقات بعض جانور بھی عزت اور شہرت میں انسانوں سے بازی لے جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک خبر دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بنی کہ ملکہ برطانیہ کا پسندیدہ خچر19 سال خدمات سرانجام دینے کے بعد ریٹائرڈ ہوگیا۔ کروجن نامی خچر کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ دورانِ سروس مختلف رجمنٹوں میں رہا۔ بہرکیف اُس کی پوسٹنگز زیادہ تر ”بل مورل“ کے علاقے میںرہیں اور ملکہ جب کبھی اس علاقے کا دورہ کرتیں تو متعلقہ حکام کی کوشش ہوتی کہ مذکورہ خچر ملکہ کے دورے کے دوران ان کے ساتھ ساتھ رہے۔ گویا کروجن خچر ہونے کے باوجود تمام عمر رننگ ہارس(Running Horse) رہا اور اسی بنا پر اپنے کولیگز میں نمایاں رہا۔ یہ بات بھی اپنی جگہ یقینی ہے کہ کروجن کے کولیگ اُس سے جیلس ہوتے ہوں گے کیونکہ کروجن ذات کا خچر ہونے کے باوجود ملکہ برطانیہ کے اتنے قریب رہا گویا اسے ملکہ برطانیہ کے ”سٹاف افسر“ کی حیثیت حاصل تھی۔ ملکہ برطانیہ کا پسندیدہ ہونے کی وجہ سے اُس کے دستے میں شامل دیگر خچر اُس سے ڈرتے ہوں گے اور بعض تو ملکہ برطانیہ کو بھی ہدفِ تنقید بناتے ہوں گے کہ کروجن نے کون سا ”فارن کورس“ کیا ہوا ہے جو اس کو اتنی عزت دی جاتی ہے۔ اور بعض تو سرعام یہ کہتے ہوں گے کہ ملکہ برطانیہ کو تو ”کھوتے کوڑھے“ (گدھے گھوڑے) کی پہچان ہی نہیں ہے کروجن سے تو کہیں زیادہ efficient اور ذمہ دار خچر موجود ہیں۔

بہر کیف جیلسی ایک فطری عمل ہے۔ یہ انسانوں میں پائی جاتی ہے تو جانور بھلا اس سے کیونکر مبرا ہوسکتے ہیں۔ کروجن کا 19 سالہ سروس پر مبنی ریکارڈ انتہائی مایہ ناز رہاہے۔ کروجن یقیناً انتہائی نظم و ضبط کا حامل اور اعلیٰ کردار کا حامل ہوگا اور اس کی سالانہ رپورٹیں بھی اچھی ہوں گی۔ مکمل چھان بین کے بعد بھی کروجن کو وی آئی پی ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہوگا۔ وہ فرائض میں ذرا سی بھی کوتاہی برتتا تو اُس کی کسی آئر لینڈ یا برطانیہ کے بارڈرپر پوسٹنگ کردی گئی ہوتی۔ کروجن کے تابناک کیریئر سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے19 سال انتہائی محتاط رویہ اپنا کر نوکری کی ہوگی وگرنہ بھول چوک میں کوئی بھی ”سرکاری ملازم“ کسی بھی غلطی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ ویسے بھی خچر ایک طرح سے ”بندہ بشر“ ہی ہے اور غلطی کا پتلا ہونے کے ناطے کبھی بھی شوکاز نوٹس ایشو ہوسکتا ہے۔ کروجن نامی خچر اس حوالے سے بہرحال کافی ”کھچرا“ نکلا ہے کہ وہ اپنے محکمے کو سمجھ گیا تھا اور اس نے اپنے محکمے کو کبھی موقع ہی نہیں دیا کہ اُس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ویسے بھی خچروں کے بارے میں سُنا ہے کہ وہ کافی شریف النفس قسم کے جانور ہوا کرتے ہیں۔ ان میں گدھے گھوڑوں والی علتیں نہیں پائی جاتیں۔ خچریں پوری عمر محنت اور مشقت کو شعار بنائے رکھتی ہیں۔ اور گدھوں جیسی حرکات و سکنات اور گھوڑوں جیسی مستیاں نہیں کرتے۔ وہ اپنی اوقات سے بڑھ کر وزن کھینچ کر لے جانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ خچر کرئہ ارض پر پائے جانے والے اُن چند جانوروں میں سے ہے، جو ہوتا بھی ہے اور ہوتی بھی ہے۔ گویا ان کے مذکر مونث کی کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ وہ گدھے اور گھوڑے دونوں سے مختلف ہوتا ہے۔ بلکہ وہ ان دونوں کے درمیان کی کوئی چیز ہے۔ خچر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ حالات کا اثر قبول نہیں کرتا۔ گویا اس پر مہنگائی‘ لوڈ شیڈنگ اور بے روزگاری جیسے مسائل اثرانداز نہیں ہوتے۔ برطانوی خچروں اور بالخصوص کُرجن کو تو خیر ان مسائل کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا۔ بادشاہوں کی قربت میں کسی بھی انسان اور جانور کے بنیادی مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ ہمیں نہیںمعلوم کروجن کو زندگی میں کس قسم کی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ عام لوگ تو بس کروجن کو صرف ایک کامیاب خچر کے طور پر جانتے ہیں جو 19 سال سرکاری خدمت کرنے کے بعد ریٹائر ہوگیا ہے۔ اس کے شب و روز کس جہدِ مسلسل میں گزرے اس بارے میںکروجن ہی جانتا ہے۔ کروجن کی انہی خدمات کے پیشِ نظر برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا ہے ریٹائر منٹ کے بعد اب کروجن کو سرکاری طور پر مکمل آرام فراہم کیا جائے گا۔ کروجن خچر کو سرکاری طور پر آرام فراہم کرنے کے اعلان کے بعد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ یورپی اور مغربی ممالک کے بعض عالمی رہنماﺅں اور خصوصاً ان راہنماﺅں جن کی وجہ سے ہزاروں بے گناہ اور معصوم شہری مارے گئے ہیں کو ریٹائر کرکے انہیں سرکار ی طور پر مکمل آرام فراہم کرنے کی پالیسی متعارف کروائی جائے گی۔ اس سے جہاں دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا وہاں ڈرون حملے اور تخریبی کارروائیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔ ایسے رہنما کروجن جیسی صلاحیتوں کے مالک ہوتے تو کوئی ان پر انگلی نہ اٹھاتا لیکن وہ تو دنیا کے لئے ”ٹروجن ہارس“ (ایک کمپیوٹر وائرس) ثابت ہوئے ہیں۔ لہٰذا انہیں نیوٹرلائز (Neutralise)کرکے ہی بے ضرر بنایا جاسکتا ہے۔ بے چارے کروجن نے بھی تو تمام عمر ”نیوٹرلائز“ ہوکر ہی گزاری ہے۔
عمر اِک جہد مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزایاد نہیں
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 480 Print Article Print
About the Author: Yousaf Alamgirian

Read More Articles by Yousaf Alamgirian: 51 Articles with 50090 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: