بے ہودگی و فحاشی نا منظور

(Qadir Khan, Sawat)
بلاشبہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کا آخری سہارا ، پشتو فلمیں رہ گئیں ہیں۔انڈین فلم انڈسٹری میں بننے والی فلموں کی لاگت کروڑوں روپےہ ہو تی ہے اور انڈین اداکاروں کے معاوضوں سے کئی پاکستانی فلمیں تیار ہوسکتی ہیں۔پشتو فلم انڈسٹری کے مصروف اداکار شاہد خان کی پرستار شہرت یافتہ تنظیم کے بابر زئی پختون یار چیئرمین آل پاکستان شاہد خان فیڈریشن ننگیالئے گروپ،مرکزی عہدےدارکبر علی ، فلمی صحافی زرخیل پشاورے اور نیک محمد ندیم چیئرمین آل پاکستان ہر دل عزیز ہیرو عجب گل فیڈریشن نے، پرنس نور محمد خان ڈپٹی چیف آرگنائز لائف ٹائم کمبائنڈ فیڈریشن کے توسط سے مجھ سے ملاقات کا وقت مانگا ،پہلے میرے انکار کی وجہ میری مصروفیت تھی لیکن احباب کے شدید اصرار کی بنا ءپر با لاآخر ملاقات کرلی، میں پرنس نور محمد خان کی کسی بات کو ٹال نہیں سکتا ، حالاں کہ اداکار شاہد خان کی جانب سے لاہور میں ان کے ساتھ بھی نامناسب سلوک کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اپنی نرم خوئی اور ملنسار طبعیت کے سبب بڑا دل رکھتے ہیں ، پرنس نور محمد خان کی بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ ان سے کوئی ناراض نہیں ہوتا اور یہ کسی کو ناراض بھی نہیں کرتے ۔میرے پاس آنےوالے زر خیل پشاورے ، اکبر علی کو دیکھ کر میں حیراں رہ گیا کہ اداکار شاہد خان کے روئےے سے یہ ہمیشہ شاکی رہتے تھے ابھی کچھ دن قبل ہی لاہور کے ایورنیو اسٹوڈیو میں کراچی سے صرف ان سے ملنے کےلئے آنے والے اکبر علی اور کامران کے ساتھ شاہد خان نے مہمان نوازی کے بجائے شدید نظر انداز کرتے ہوئے ذہنی اذیت و تکلیف پہنچائی تھی لیکن اس کے باوجود بھی جب انھیں شاہد خان کی وکالت کرتے دیکھا تو میری حیرت کی انتہا نہیں تھی کہ پرستار اپنے اسٹاروں سے کس قدر والہانہ چاہت کا اظہار کرتے ہیں ، لیکن ان کے فلم اسٹار ان کے دلی جذبات سے بے خبر شہرت کی بلندیوں سے اترنے کا نام نہیں لیتے۔ حالاں کہ میرے علاقے میں شاہد خان کے ایک نام نہاد بڑے پرستار راجا صاحب بھی رہتے ہیں لیکن انھوں نے ابھی تک مجھ سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا۔میں نے اپنی سیاسی اور صحافی زندگی میں لاتعداد ایسے کارکنان تو ضرور دیکھے ہیں جو اپنے قائد کےلئے جان تک دینے کو تیار ہوتے ہیں ۔لیکن ایسا منظر میرے سامنے پہلی مرتبہ تھا جس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ۔انھوں نے مجھے اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ شاہد خان نے پاکستانی فلم انڈسٹری کو سہارا دیا ہوا ہے ، شاہد خان فلمز پروڈکیشن اگر فلمیں بنانا بند کردے تو نگارخانوں کی آخری رونقیں بھی ختم ہوجائے گی ۔ شاہد خان نے فون پر مجھ سے تفصیلی گفتگو کی اور اپنی جانب سے یقین دلانے کی کوشش کی ، ان کی فلموں میں عریانیت یا پختون ثقافت کے خلاف مواد نہیں ہوتا ، طویل بحث مباحثے میں شاہد خان مجھے قائل نہیں کرسکے کہ ان کی فلموں میں بے ہودگی و عریانیت نہیں ہے ، لیکن یہ ضرور قائل کر گئے کہ ان کی مکمل کوشش ہوگی کہ آئندہ فلموں میں پختون ثقافت کے خلاف ایسا کچھ نہ ہو جس سے لاکھوں پختونوں کی دل آزاری ہو۔شاہد خان نے مجھے بتایا کہ جس وقت انھوں نے فلموں میں قدم رکھا تو پشتو فلموں میں فحاشی اپنے عروج پر تھی ،اور انھوں نے اس کلچر کو بدلنے کی بھرپور کوشش کی اور کامیابی بھی ملی۔ شاہد خان کے مطابق شنڑنگ د بنگڑو ، زڑہ لیونے دے، ککے خان ، بنارسی ، قلند رباچا ،زڑگیہ خورہ دا غونہ ،افغان شا زلمے ،جیسی فلموں نے معیاری تفریح مہیا کی۔لیکن فلم میں لاکھوں روپیہ سرمایہ لگتا ہے اور فلمساز نئے تجربے نہیں کرسکتے اس لئے ممکن ہے کہ کچھ ایسی فلمیں نمائش پذیر ہوگئیں ہوں جیسے نقاد اچھا تصور نہیں کرتے ہوں۔شاہد خان کا استدال اپنی جگہ درست ہے کہ پشتو فلموں کو بھی اگر بند کردیا گیا تو پاکستان کے سنیماﺅں میں صرف انڈین اور انگلش فلمیں لگیں گی اور انڈین فلموں میں جس قدرعریانیت ہے اس کا توڑ تو حکومت کے پاس بھی نہیں ۔شاہد خان اور ان کی تنظیم پر میں نے واضح کیا کہ میں شاہد خان کی خلاف نہیں ہوں اور نہ ارباز خان کا مخالف ہوں ، بلکہ کسی بھی فنکار کا مخالف نہیں ہوں ،لیکن پشتو فلموں میں جس طرح چرس ، شراب ،منشیات ، عریانیت ، فحاشی اور غنڈا کلچر کی ترغیب دی جاتی ہے اور ایسے پختون ثقافت کی نظر سے دیکھا یاجاتا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔شائقین فلم اچھی اور معیاری فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں ، جب انڈیا کی فلموں کو دیکھنے کےلئے ایک ٹکٹ پانچ سو روپے میں خرید سکتے ہیں تو یقینی طور پر پاکستان میں بھی معیاری فلموں کی کوششوں کو فلم بینوں نے سپر ہٹ کامیاب بناتے ہیں ، جس کی کافی مثالیں ہیں ۔اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کو سب سے زیادہ نقصان بھارتی فلموں نے پہنچایا ہے تقسیم کاروں کی جانب سے مہنگے داموں فلم کی خریداری اور فروخت سے پاکستانی فلمسازوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ بھارتی فلموں کو نمائش میں عریانیت دیکھانے کی اجازت نے پاکستانی فلموں میں بھی عریانیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اردو اور پنجابی فلموں کے اداکار تو پرائیوٹ ڈراموں میں کسی نہ کسی طرح ایڈجسٹ اور فلموں سے زیادہ مصروف اور مالی طور پر مستحکم ہوگئے لیکن پشتو فلموں کے اداکاروں کو خیبر پختونخوا میں عسکرےت پسندوں کی وجہ سے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا ، جس کی سب سے بڑی مثال چھوٹے بڑے گلوکار و فنکارتھے جنھوں نے عسکرےت پسندوں کے ڈرکی وجہ سے داڑھیاں رکھ کر اپنی جانیں بچائیںلیکن جو ہاتھ لگے تو انھیں سوات کے گرین چوک پر پھانسی دے دی گئی۔پشتو فلموں میں عریانیت ختم کرنے کےلئے فلم بینوں کو ذوق بھی بدلنے کی ضرورت ہے ۔شاہد خان سے گفتگو کے بعد اندازہ ہوا کہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ پشتو فلمیں ، پشتو ثقافت کی آئینہ دار ہوں لیکن حکومت کی جانب سے سر پرستی نہ ہونے کی وجہ سے انھیں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔بہرحال ہر شخص اپنے فعل کو درست اور ایسے صحیح تسلیم کرنے کےلئے جواز تلاش کرتا ہے ۔میں فلم انڈسٹری کی زبوں حالی اوربحالی کی بحث میں جائے بغیر توقع رکھتا ہوں کہ شاہد خان نئی فلمیں بناتے وقت ، چرسی ، پخاوری بدمعاش جیسی فلمیں نہیں بنائیں گے ، فلموں میں معیاری تفریح اور عریانیت کے سہارے اپنی فلموں کو کامیاب کرانے سے گریز کریں گے ۔مجھے یقین ہے کہ شاہد خان اپنے وعدے کا پاس رکھیں گے ۔لیکن اس مرحلے پر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ میں پشتو فلموں میں پختون ثقافت کو ملیامیٹ کرنے کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دونگااور اپنی روایت و ثقافت کو بچانے کےلئے ہر حد تک جانے کو تیار رہوں گا۔میرا قلم سچ لکھے گا اور بے رحمانہ تجزیہ کرکے کوشش کرونگا کہ اپنے حصے کا کام کروں ۔ شاہد خان آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں پشتو انڈسٹری کو نقصان پہنچانا چاہتا ہوں ، بلکہ میری دلی آرزو ہے کہ پختون ثقافت اردو ، پنجابی سمیت ہر زبان میں ڈب کرکے دنیا کے کونے کونے میں پہنچائی جائے تاکہ پختون کے ماتھے سے دہشت گرد اور انتہا پسند کا لیبل مٹ سکے اور پختون ایک بار پھر سرخرو ہوسکے۔میں آل پاکستان سپر اسٹار شاہد خان اینڈ ارشد خان فیڈریشن (چیئرمین فقیر سیلاب)،آل پاکستان سپریم اسٹار ارباز فیڈریشن (مردان) (چیئرمین واجد علی اظہار)، ، لائف ٹائم کمبائنڈ فیڈریشن (چیئرمین طاہر نواب ، )،آل پاکستان جنگجو ہیرو شاہد خان فرینڈز سوسائٹی(چیئرمین سلیمان خان)، آل پاکستان اسٹوڈنٹ ارباز خان فیڈریشن (چیئرمین عارف شاہ)،آل پاکستان عجب گل ایسوسی ایشن (چیئرمین مشتاق گل)،آل پاکستان لیجنڈ اسٹار آصف خان اینڈ عوامی ہیرو ارباز خان فیڈریشن (چیئرمین رحمت علی شباب)،عجب گل منوال گروپ (چیئرمین اسد علی)،آل پاکستان بدرمنیر فیڈریشن (شرین زادہ بدر)،آل پاکستان ٹرینڈ سینٹر ہدایتکار لیاقت علی خان فیڈریشن (چیئرمین واحد ساگر)،دلبر منیر فیڈریشن (چیئرمین بہادر علی بدر)،اسٹائلش ہیرو عجب گل فرینڈز سوسائٹی (چیئرمین محمد شبیر)اور دیگر علاقائی و ملکی و بیرون ملک فین کلب اور تمام عہدےداران کی محبت کا بھی ممنون ہوں اور اُن فلم بینوں اور تنظیموں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنھوں نے اس بار نئی لگنے والی فلم پخیوری بدمعاش میں عریاں مناظر پر پہلی بارہوٹنگ اور نا منظورکے نعرے بلند کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔مجھے یقین ہے کہ بہت جلد نگار خانوں کی رونقیں بحال اور معیاری فلمیں بھی بنے گی۔ماضی کی یادگار فلموں کی طرح فیملی کےساتھ سستی تفریح بھی مہیا ہوگی ۔ بس آپ پرستاروں کا ساتھ درکار ہے۔کیا آپ تیار ہیں ؟؟۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 575 Print Article Print
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 571 Articles with 205111 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: