پخوری بدمعاش سے مست ملنگ تک

(Qadir Khan, Sawat)
بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو 07ستمبر2003ءمیں پشتو فلموں کے نوجوان اداکارشاہد خان نے انٹرویو دیتے ہوئے عریانیت کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فلموں میں عریاں نہیں بلکہ جنسی جذبات برانگیختہ کرنے والے رقص ہوتے ہیں ، رقصاﺅں نے باقاعدہ کپڑے پہنے ہوتے ہیں ،اس کو آپ عریانیت نہیں کہہ سکتے۔"آج جب 2013میں اسی ہیرو سے فلموں میں عریانیت کے حوالے سے میں نے سوال پوچھا تو بھی اُن کا وہی جواب تھا کہ آپ نے میری فلمیں نہیں دیکھیں ، یعنی دس سال پہلے جو اُن کا موقف تھا آج بھی انھوں نے اُسی استدال کا اپنا یا ہوا ہے۔ یہ پختون ثقافت کا بڑا المیہ ہے کہ اس بیمار صنعت کی واضح سمت کو اختیار کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی ، پشتو فلموں میں عریانیت ، بے پناہ تشدد اور پشتو ثقافت اور روایات کو توڑ موڑ کر غلط رنگ میں پیش کرنے کے الزامات تو اب ایک عام سی بات بن گئی ہے بلکہ پشتو فلم میں کام کرنے والی پنجابی خواتین کو اداکاری کے بجائے اُس کے وزن کے حساب سے منتخب کیا جاتا ہے ، چاہے ہیروئین ہو ، ایکسٹرا ہو ،ناچنے والی ہو یا گھریلو کردار ادا کرنے والی ، اس کا وزن چار سو پاونڈسے کم نہیں ہوتا اور بے ڈھنگا لباس سونے پر سہاگہ کا کردار ادا کرتا ہے۔جبکہ فلمی ہیروئین جینز تو ایسی پہنتی ہیں کہ یورپ والے بھی شرما جاتے ہیں اور ان سے جینز پہنے کا فن پوچھتے ہیں۔کمال فن یہ ہے کہ جب اُن کے ڈائیلاگ ڈیلیوری کو دیکھا جائے تو سلطان راہی کی بڑکیں بھی طوطی کی آواز بن جاتی ہے۔لمبے لمبے جوئیں بھرے بالوں والی وگ ، بغیر بٹن کے کپڑے ، بغیر شمیز کی باریک ٹائٹ قمیض، ننگی برہنہ ٹانگیں ، آنکھیں اندھوں کی طرح آسمان کو چھوتی ہوئی، چلتے ایسے جیسے پولیس اسٹیشن سے چھترول کے بعد چلنے میں تکلیف ہو رہی ہو ، ہاتھ ہلائیں اس طرح جیسے فلم بینوں کی آنکھیں نکال لیں گے ، جو حیرانی سے انھیں ایسے تک رہے ہوتے ہیں کہ اس قسم کی مخلوق دنیا کے کس حصے میں پائی جاتی ہوگی ، قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسران کے کندھے پر بیٹھ کر اُن سے چرس بھروانا ، شراب کی نئی نئی اقسام کی خالی و بھری بوتلیں ، فلم بینوں کی ٹپکٹی رال اور سنیما میں اٹھنے والے چرس کے مرغولے ، پورا ہال چرس کے بو سے معطر ، کچھ دل جلے شراب تک پی کر ایسے آتے ہیں جیسے فلمی ہیرو کی طرح ساری دنیا کو اپنی ایک مٹھی میں دبوچ لیں گے ۔ فحش گانوں کی بھرمار کا یہ عالم ہے کہ اگر ماں مر گئی تو بھی ڈانس ، اگر کوئی تبلیغ کر رہا تو بھی ڈانس ، کبھی خوشی تو کبھی غم ، ایسا لگتا ہے کہ جیسے فلم نہیں بلکہ گیت مالا دیکھی جا رہی ہو ۔ بلکہ گیت مالا میں تو پھر بھی شاعری کے کچھ بول ہونگے ، اس میں اچھل اچھل کر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ریسلرز کو مات کرنے کا فن موجود ہوتا ہے کہ کبھی یقین نہیںآتا کہ ستر اور اس کی دہائی کو پشتو فلموںکا سنہرا دور کہا جاتا ہوگا۔ فلمسٹارشاہد خان کے والدلالہ سردار خود بڑے جہاندیدہ اور نامور فلمی شخصیت ہیں ، جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ پشتو فلموں کی زبوں حالی کی وجوہات کیا ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ" جلد منافع کی لالچ اور فلم بنانے کے شوق کی وجہ سے ایرے غیرے نے بھی جس کے پاس چند لاکھ روپے تھے اس میدان میں چھلانگ لگادی"۔مجلس عمل نے اپنی حکومت کے دوران سرحد صوبے میںنے اُس وقت سنیما گھروں کے باہر فلمی اشتہارات آویزاں کرنے سے منع کردیا تھا جس کی وجہ سے سنیما مالکان کافی متاثر ہوئے لیکن جب سابقا حکومت کےبا اثر رہنماﺅں نے کھل کر اجازت دی جس کے بعد فلموں میں بے لگام گھوڑوں کو روکنے میں کوئی رکاﺅٹ حائل نہیں رہی ، کراچیکے ایک مقامی سنیما میں ہر پشتو فلم کی نمائش میں ہر فلم بین شراب اور چرس پی کر فلم دیکھتا ہے اور اس سنیما کو مکمل کرپٹ سرکاری سر پرستی حاصل ہے، ہر شو میں لاکھوں روپے کی شراب منسلک شراب خانے و منشیات کے اڈے سے خریدی جاتی ہے جس کے بعد جب فلم نشے کی حالت میں باہر نکلتے ہیں تو ان کی ادھم جوکڑی سے ٹریفک جام ہوجاتا ہے کیونکہ انھیں نشے میں راستہ نہیں دیکھائی دیتا۔ سابقہ کے پی کے حکومت کے کئی با اثر وزرا ءکے اپنے سنیما گھر اور ان کی دلچسپیاں ہونے کے سبب صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی کہ پشاور کے معروف علاقے نمک منڈی میں ایک فلم سے متاثر ہوکر ایک ہوٹل کا نام****چرسی تکہ ہوٹل" رکھ دیا گیا۔ اس کے علاوہ پشاور کے ایک مقامی سنیما گھرمیںکچھ پرستاروں نے بڑے پینا فلیکس بینر پرگروپ فوٹو لگایا ہوا ہے جس میں ایک شخص نے شلوار نافے تک اٹھائی ہوئی ہے تو دوسرے نے ہاتھ میں شراب پکڑی ہوئی ہے تو تیسرے نے چرس بھرنے کا اسٹائل بنا یا ہوا ہے ۔جب پرستاروں کی یہ حالت ہوجائے تو بہتری کی کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔سردار لالہ کا کہنا تھا کہ" تعلیم یافتہ طبقے کو گھروں میں سستی تفریح ملنے لگی تو انھوں نے سنیما گھر آنا ترک کردیا ، اس وجہ سے فلموں کا معیار ایساگرا کہ آج تک نہیں سنبھل سکا۔"پشتو فلموں کو دیکھنے سے قبل ان کے نام پڑھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ فلمی مواد کیا ہوگا ۔ جبکہ ماضی میں جہاں کہانیوں پر توجہ دی جاتی تھی وہاں فلموں کے نام بھی سوچ سمجھ کر منتخب کئے جاتے تھے جس کی مثال فلم ساز عبدالرحیم کی فلم "قمندان"تھی ، جو فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی کمانڈو کے ہیں۔اب المیہ یہی ہے کہ بھاری بھرکم ہیروئین پنجاب سے برآمد اس لئے کی جاتی ہیں کیونکہ ان میں وزن کے حساب سے اچھل کود کرنے کی سکت زیادہ ہوتی ہے ، معروف فلم اسٹار آصف خان کا بھی ماننا رہا ہے کہ پشتو فلموں میں ہیروئین کا کوئی کردار نہیں ہوتا اس لئے ایسے صرف شو پیش بنا کر پیش کیا جاتا ہے ، آصف خان بتاتے ہیں کہ پشتو فلم کا مرکزی کردار اور تمام کہانی ہیرو سے شروع ہوکر ہیرو پر ہی ختم ہوجاتی ہے۔اسلئے کوئی پشتو فلم کسی ہیروئین کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ پنجابی ہیروئین اس لئے زیادہ مناسب ہیں کیونکہ وہ پروفیشنل اور ڈانس بھی اچھا کر لیتی ہیں ، فلموں کا کام سخت اور مختلف ہوتا ہے اس میں پورے پورے اوریجنل ڈانسز ہوتے ہیں جو سی ڈی والی لڑکیوں کےلئے کرنا ممکن نہیں ہے۔آصف خان فلمی کام کو فائن آرٹس کا درجہ دےتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بیمار ذہینیت نئے ٹیلنٹ کے ابھار میں ایک بنیادی رکاﺅٹ ہے اور زیادہ تر لوگ ان رکاﺅٹوں کو نہیں پھلانگ پاتے"۔عجب گل پختون ثقافت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں ان کا واضح کہنا تھا کہ میں چند روپوں کے خاطر اپنی قوم کے سامنے شرمندہ نہیں ہوسکتا ، میں صبح شام ان کے سامنے ہوتا ہوں ، یہ لوگ میرے حجرے میں آتے ہیں،روایات اور پختون ثقافت ہماری روح میں پیوست ہے ۔ اس لئے چند روپوں کے خاطر میں ہمیشہ کےلئے اپنی نظریں نہیں جھکا سکتا۔" میں نے شاہد خان کی ایک پرستار تنظیم کے مرکزی عہدےدار اکرم گلو لالہ جو اٹک میں رہتے ہیں ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو پشتو آتی ہے ، تو انھوں نے جواب دیا کہ نہیں ، تو میں نے پوچھا کہ پھر آپ کو پشتو فلمیںکیا سمجھ میں آتی ہونگی ؟ تو اس نے جواب دیا کہ دراصل میں شا ہد خان کے اخلاق و ،ہمان نوازی کی وجہ سے متاثر ہوا ہوں ۔انھوں نے مجھے دعوت دی ہے کہ ان کے ساتھ پشتو فلم دیکھوں۔ تو میں نے ان سے کہا کہ یہ میری قوت برداشت کا بڑا امتحان ہوگا ، لیکن اس کے باوجود 19اپریل جمعہ کے دن کراچی کے ایک افشاں سنیما میں نمائش کےلئے پیش کی جانے والی پشتو فلم "مست ملنگ" دیکھنے کی حامی بھر لی گئی ۔ میں اس پشتو نہ جاننے والے پرستار سے متاثر ہوکر اعلانیہ فلم دیکھنے کےلئے رضامند ہوا ہوں تاکہ ان کا ساتھ میں بھی سمجھ سکوں کہ ٹریفک کیوں جام ہوجاتا ہے ؟۔ ہر فلم سپر ہٹ کیوں کہلائی جاتی ہے ؟ ہر فلم کی کہانی بے سروپا کے باوجود تعریفیں کیوں ہوتی ہے ؟پرستار تنظیمیں ہزاروں روپوں کے اشتہارات دے کر اپنے اسٹارز کو خوش کیوں کرتے ہیں۔ ؟ اگر آپ کراچی میں ہیں تو آئےے میرے ساتھ افشاں سنیما میں دیکھیں، اگر نہیں ہیں تو اپنے شہر و علاقے میں دیکھیں اور میری اپیل ہے کہ اگر فحش عریاں رقص ،اور پختون ثقافت کے خلاف منظر دیکھا یا جائے تو آپ میری طرح اٹھ کر اس فلم کا بائیکاٹ کردیں اگر نہیں ہے تو پھر کھل کر تعریف یا تنقید کریں ۔مجھے تو یہ پختون دشمنوں کی سازش نظر آتی لیکن آپ کو کیا نظر آتا اس سے شائد اس طرح کسی کی سمجھ میں کچھ آجائے ۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1530 Print Article Print
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 571 Articles with 205037 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: