مزاج آشنا کُتے

(Yousaf Alamgirian, Rawalpindi)

کُتا شاید ایسی چیز ہے کہ ہر کوئی اس سے نالاں دکھائی دیتا ہے۔ کُتا ’’پھر ٹُر‘‘ کر کھانے کا عادی ہے۔ بہت کم کُتوں کو کوئی ایسا گھرانہ میسر آتا ہے کہ وہ وہاں انسانوں سے بھی برتر زندگی بسر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان گھرانوں میں کتوں کی رکھوالی کے لئے انسان بھرتی کئے جاتے ہیں۔ ان کی رکھوالی پر مامور ملازمین اکثر کتوں کا کھانا چوری کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب کُتے کا مینیو ملازم کے مینیو سے بہتر ہو گا تو پھر ان قسم کے واقعات کا ہونا فطری سا عمل ہوتا ہے۔ ملازمین خود تو کپڑوں والا صابن استعمال کرتے ہیں جبکہ کُتوں کے لئے امپورٹڈ شیمپو اور جَیل استعمال کئے جاتے ہیں۔ کُتے ایسے ایسے سپائیکس نکال کر پھر رہے ہوتے ہیں کہ انسان بھی انہیں للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ملازمین باہر چلچلاتی دھوپ میں رہ رہے ہوتے ہیں اور کتوں کے لئے ائیرکنڈیشنڈ کمرے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ملازمین بہانے بہانے سے ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں کتوں کا حال احوال پوچھنے آتے جاتے رہتے ہیں۔ بسااوقات تو کتے خود ملازم کی سرزنش کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایک ہی بار پانی کے کونڈے کیوں نہیں بھر دیتے‘ کیا بار بار دروازے کھول کر کولنگ برباد کرتے پھرتے ہو۔

بعض کتے تو پیدا ہوتے ہی وختے میں پڑ جاتے ہیں جب ان کی ماں انہیں کسی گھر کے پچھواڑے میں جنم دیتی ہے تو اہل محلہ عام سی نسل کے کتوں کی بد قسمت ماں کو بچوں سمیت آبادی سے کوسوں دور چھوڑ آتے ہیں کہ اس طرح وہ مفت کی ٹیں ٹیں سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں۔ یوں کچھ سردی سے ٹھٹھر کر مر جاتے ہیں تو کچھ زمانے کی ٹھوکروں کا نشانہ بن کر نشان عبرت بن جاتے ہیں۔ حالانکہ کتا پیدا ہونے‘ کتے کی زندگی بسر کرنے‘ اور پھر کتے کی موت مرنے میں نہ تو کُتے کا کوئی اختیار ہوتا ہے اور نہ ہی منشا شامل ہوتی ہے۔

کتوں کے بارے میں یہی مشہور ہے کہ وہ بہت کیئر فری ہوتے ہیں اخلاقی اور قومی روایات ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ کتے کوئی بھی ’’کتاکام‘‘ انتہائی متانت اور وقار سے کر جاتے ہیں جبکہ انسان کو کوئی کتا کام کرنے پڑ جائے تو وہ شش و پنج میں پڑ جاتا ہے۔ بسااوقات کر بھی گزرتا ہے‘ لیکن پھر یہ کہہ کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کرتا ہے کہ یار ’بڑا کتا کم سی‘۔ (بڑا کُتا کام تھا)

لوگ کُتوں کو دیکھتے ہی اینٹ اٹھا لیتے ہیں گویا اینٹ اور کتے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لوگ کسی دشمنی کی مثالیں بھی یہ کہہ کر دیتے ہیں کہ ’’ان کا تو آپس میں اِٹ کُتے دا ویر(دشمنی) اے ۔‘‘ بہر کیف دونوں مخالفین خود کو اینٹ اور دوسرے کو کتا قرار دیتے ہیں۔ گویا کوئی بھی خوشی سے کتا نہیں بنتا۔ یہ کسی کا عمل ہی ہے جو ان کے حوالے سے ایسے ایسے جملے سامنے آتے ہیں کہ خدا کی پناہ! مثلاً یہ کہ فلاں شخص کُتوں سے بڑھ کر چاپلوس ہے یا پھر یہ کہ تم نے اس کی دُم پر پاؤں رکھا ہو گا تبھی اس نے تمہارا یہ حال کیا ہے۔ کُتے کی دم ایک جبکہ ٹانگیں چار ہوتی ہیں۔ دُم سے وہ حسب ضرورت جب چاہے اور جو کام چاہے لے لیتا ہے۔ آدمی پریشان ہو تو اسے ٹھنڈے پسینے آتے ہیں جبکہ کُتا پریشان ہو یا اسے کسی خوف کا سامنا ہو تو وہ دُم ٹانگوں کے درمیان پھنسا لیتا ہے۔ کُتے کی پوزیشن ذرا مضبوط ہو تو وہی دم تن جاتی ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کُتا ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔ کُتا اپنی دُم کو جھاڑو کے طور پر بھی استعمال کرتا ہے۔ اس لئے کہ گندگی پسند آدمی کو یہ کہہ کر زچ کیا جاتا ہے کہ تم سے کتا اچھا ہے جو بیٹھنے سے پہلے دُم سے جگہ صاف کر لیتا ہے۔

بہرکیف جہاں صفائی پسند کُتے ہیں وہاں شریر النسل کُتے بھی کم نہیں۔ بسااوقات کُتوں کا کاٹنے کا موڈ نہیں ہوتا لیکن بیٹھے بیٹھے اتنی خوفناک آواز نکالتے ہیں کہ لوگوں کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں۔کسی آدمی نے گلے پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ کیا ہوا ہے تو اس نے کہا یہ بزرگوں کے مشورے کا رد عمل ہے۔ کیونکہ مجھے کسی بزرگ نے کہا تھا کہ کُتا بھونکے تو نیچے بیٹھ جاؤ تو پھر وہ نہیں کاٹتا۔ گلی سے گزرتے ہوئے کتا بھونکا تو میں نیچے بیٹھ گیا تو کتے نے مجھے گردن سے دبوچ لیا۔

یہ معاشرہ کتوں سے بہرکیف عمومی طور پر نالاں ہی دکھائی دیتا ہے ویسے بھی جس معاشرے میں انسانوں کے جینے کے مواقع کم ہو جائیں گے۔ وہاں کتوں کے لئے کیا مثالی پن پیدا ہو سکتا ہے۔ جو معاشرے انسانوں کے لئے مثالی ہیں وہ کتوں کے لئے بھی مثالی۔ گویا جیسے انسان ویسے کتے۔ انسان اچھے ہوں تو کتے بھی انسان دوست ہونے میں دیر نہیں لگاتے۔ وگرنہ آج کل تو حالت یہ ہے کہ کتے بھی پریشان ہیں کہ کہاں جائیں۔ کتوں کے لئے تو کسی ملک نے امیگریشن کا پروگرام بھی متعارف نہیں کروا رکھا۔ کاش ایسا ہوتا کہ کسی کُتے کی امیگریشن ہوتی تو وہ ساتھ اپنے مالک کو بھی لے جا سکتا۔ بہرطور انسانوں کی بے اختیاری دیکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ کبھی کتا بھی اتنا بااختیار ہو پائے گا۔ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں اس میں انسان پریشان ہے تو کتا اس سے بھی زیادہ پریشان ہے۔ اسی لئے کسی کُتے نے بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی بھرمار دیکھی تو بقول شاعر یہ کہنے پر مجبور ہو گیا۔
دوڑتے کتے نے اپنے ساتھی کُتے سے کہا
بھاگ ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گا

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 492 Print Article Print
About the Author: Yousaf Alamgirian

Read More Articles by Yousaf Alamgirian: 51 Articles with 50047 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: