کرکٹ میں غلبے کے بعد فیفا کی بھی انڈیا پر مہربانیاں

(Abdul Rehman, Doha Qatar)

آئی سی سی نے بگ تھری منصوبے کی منظوری سنگاپور میں ہونے والے اجلاس میں دی ، جس کے بعد پانچ ارکان پر مشتمل ایک ایگزیکٹو کونسل تشکیل دے دی گئی ہے جہاں ہندوستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ اس کے مستقل ارکان ہوں گے اور رواں سال این سری نواسن اس بورڈ کی صدارت کریں گے۔ انڈیا کرکٹ سے حاصل ہونے والی 80 فیصد آمدنی کا حقدار ہو گا۔یہ کمیٹی کرکٹ کے تمام تر فیصلے کرنے کی مجاز ہو گی ۔مزید یہ کہ آمدنی کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں مالی، کھیل اور تاریخی اعتبار سے تقسیم کی جائے گی لیکن بقیہ سات ملکوں میں رقم کی تقسیم ایک نئے ٹیسٹ کرکٹ فنڈ کے تحت ہو گی۔ ٹیمیں بذات خود ایک دوسرے سے سیریز کھیلنے کا فیصلہ کریں گی اور اس کا تمام اختیار بھی ان تین بگ تھری کے پاس ہو گا۔ 2017 ء میں ورلڈ چیمپیئن شپ کا منصوبہ ختم کر دیا گیاہے اور اس کی جگہ 2017 اور 2021 میں ایک روزہ میچز کی چیمپیئنز ٹرافی منعقد کی جائے گی ۔
 


ابھی اس فیصلے کی سیاہی خشک نہ ہوئی تھی کہ انڈیا میں فٹبال کو مقبول بنانے کے لئے فٹبال کے سب سے بڑے ادارے فیفا نے اب سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ سب سے پہلے اس نے انڈیا کو 2017میں ہونے والے انڈر17عالمی کپ کی میزبانی دی۔اس کے علاوہ اے آئی ایف ایف ملک میں فٹبال کے معیار کو اوپر اٹھانے کے لئے آئی پی ایل کی طرز پر کھیلی جانے والی فٹبال لیگ کے منصوبہ پر غور وخوض کر رہا ہے، جس میں ریلائنس جیسے انڈیا کے بڑے کارپوریٹ ادارے دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈین کھلاڑیوں کو یورپی لیگ میں کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔

کوکا کولا جیسی کمپنیاں انڈیا میں فٹبال کی ترقی کے لئے اپنے خزانوں کے منہ کھولتی نظر آ رہی ہیں۔ اس کے پیچھے کوئی مثبت سوچ نہیں بلکہ کارپوریٹ گھرانوں کا کمائی کرنے کا حساب کتاب نظر آ رہا ہے۔ کیونکہ آج انڈیا کا سب سے بڑا کھیل بازار ہے۔ یورپ میں کھیلی جانے والے فٹبال ٹورنامنٹس بھارتیوں کو فٹبال کے قریب کرنے میں تو ناکام ہوئیں تو فیفا نے اب دوسرے منصوبے پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ فٹبال کو انڈیا میں کرکٹ کی طرح مقبول بنانے کے لئے وہ انڈر 17عالمی کپ جیسے ٹورنامنٹ کا سہارا لے رہا ہے اور اسی راہ پر چل کر وہ انڈیا کو فیفا ورلڈ کپ کے مین ڈرا میں بھی پہنچاناچاہتا ہے۔

دراصل فیفا کا مقصد انڈیا میں فٹبال کو فروغ دینے کا ہے ہی نہیں بلکہ یہ ایک طویل مدتی سرمایہ کاری منصوبہ ہے۔ فیفا نے 2011میں اپنا جنوبی ایشیا کا علاقائی دفتر سری لنکا میں کھول رکھا تھا، لیکن اب اسے دہلی منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فیفا انڈیا میں جاری منصوبوں پر براہ راست طور پر نظر رکھنا چاہتا ہے۔ فیفا انڈیا میں یوتھ اورئنٹیڈ فٹبال ڈیولپمنٹ پروگرام چلا رہا ہے۔ ’دی ون ان انڈیا وِد انڈیا‘ نام سے چلائے جا رہے پروگرام کے تحت فیفا نے انڈیا کے ساتھ مختلف علاقوں میں تکنیکی مراکز اور آٹھ مصنوعی ٹرف کی تعمیر کے لئے 80لاکھ امریکی ڈالر خرچ کئے ہیں۔اس کے علاوہ فیفا نے سال 2012میں ’پروجیکٹ گول‘ کے تحت دہلی، ممبئی کولکتہ اور بنگلور میں چار علاقائی اکیڈمی کی تعمیر کے لئے اضافی فنڈ بھی مہیا کئے ہیں۔ ان بنیادی پروگراموں کے علاوہ کوچز کو تربیت دینے کے لئے بھی ایک پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے۔
 


علاقائی اکیڈمیوں میں جنوری 1999کے بعدپیدا ہونے والے کھلاڑیوں کو جگہ دی گئی ہے، جس سے وہ مستقبل میں انڈیا کے فٹبال کو بلندیوں پر لے جا سکیں۔ ایک مرکزی اکیڈمی کے علاوہ پانچ اضافی اکیڈمیوں کے کھولے جانے کا منصوبہ تھا۔ان اقدامات کے بعد انڈیا کی انڈر16ٹیم 2007اور 2011میں اے ایف سی ٹورنامنٹ میں کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ اسی لئے انڈیا کو 2017میں ہونے والے انڈر 17 عالمی کپ کا میزبان بنادیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں انڈیا 2015اور 2016 میں سینئر سطح پر ہونے والی کلب چمپئن شپ کی میزبانی کے لئے بھی یہ اعزاز انڈیا کو دینے جا رہا ہے۔

کچھ سالوں سے دنیا بھر کے بیشتر کھیلوں کا انعقاد برکس ممالک (برازیل، روس، انڈیا ، چین اور جنوبی افریقہ ) میں ہو رہا ہے۔ جیسا کہ 2008 کے اولمپک چین کے بیجنگ میں، 2010میں دولت مشترکہ کھیل انڈیا کے نئی دہلی میں، 2010کے ایشیائی کھیل چین کے گوانگجو میں، 2010میں فیفا عالمی کپ جنوبی افریقہ میں، 2014کے ونٹر اولمپک آج کل سوچی رو س میں، 2014کا فیفا ورلڈ کپ برازیل میں، 2018کا فیفا عالمی کپ روس میں، 2016کا اولمپک ریو ڈی جنیوریو برازیل میں منعقد ہو رہے ہیں۔

دنیا میں کھیلوں کا پہیہ انہیں پانچ ممالک کے ارد گرد ہو کر گزر رہا ہے۔اسی لئے فیفا انڈین فٹبال کے فروغ کے نام پر کھیل بازار پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔سچ تو یہ ہے کہ آئی پی ایل نے کھیل کی دنیا کی تصویر ہی بدل دی ہے اور انڈیا کو دنیا کی اسپورٹس مارکیٹ بنا دیا ہے، جس کے بعد فیفا کسی بھی طرح یہاں فٹبال کو فروغ دے کر دنیا کے سب سے بڑی اور ابھرتی اسپورٹس مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ انڈیا آج ایک اسپورٹنگ نیشن کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کرکٹ کے علاوہ یہاں دیگر کھیل بھی دھیرے دھیرے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، لیکن دنیا کے سب سے مقبول ترین کھیل یعنی فٹبال کی پوزیشن یہاں جوں کی توں برقرار ہے۔ روایتی طور پر انڈیا میں جن مقامات پر فٹبال کھیلا جاتا ہے، ان جگہوں کو چھوڑ دیں تو فٹبال گلیوں ،محلوں میں کھیلے جانے والے کھیل میں کبھی تبدیل نہیں ہو سکا کیونکہ یہاں اس کا سیدھا مقابلہ کرکٹ سے رہا ہے۔اس کے باوجود فیفا کے یہ اقدامات صرف اورصرف اس منڈی سے مالی فائدے اٹھانے کے لئے ہیں ورنہ آئی پی ایل کی طرح فٹ بال میں میں بھی کرپشن کی کئی کہانیاں جنم لے سکتی ہیں۔کر کٹ تو تباہ ہو ہی رہی تھی اب فٹبال کی بھی خیر نظر نہیں آتی۔

Reviews & Comments

zabardast article likha hai...
Mr. Shahzaib sahib yahan dehshatgardi bhi sirf INDIA hi karwa rha hai or hamare kisi bhi politicians mai itni himmat nai hai k wo INDIA ka naam le sake..
jab INDIA mai kuch garbarh hoti hai to unka media with all politicians direct pakistan per ilzam laga dete hain or yahan k hukumran usko accept bhi kar lete hain.
By: zeeshan, Karachi on Feb, 19 2014
Reply Reply
0 Like
Kuch na Kuch to Karna paray ga ab.
By: Gujrat Online, London on Feb, 18 2014
Reply Reply
2 Like
ہماری جان دہشتگردی سے چھوٹے تو ہمارا ملک ترقی کرے، یہاں پر دہشتگردوں کو بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ ایسے پاکستان پر جنگ مسلط کر کے کس کا ساتھ دے رہے ہں۔۔
By: محمد شاہ زیب صدیقی, Islamabad. on Feb, 18 2014
Reply Reply
4 Like
Language:    
The world governing body for football are assisting in formulating a road-map for India...Dr.Shaji Prabhakaran, FIFA’s development officer for south and central Asia, stated that the world governing body for football has devised a strategic plan for India in consultation with the All India Football Federation (AIFF) which is expected to be complete by April.