موٹاپا بیماریوں کی ماں کہلاتا ہے اور اس وقت دنیا کا ہر
تیسرا بالغ شخص جبکہ ہر چوتھا بچہ موٹاپے کا شکار ہے جس کی وجہ سے صحت عامہ
کے مسائل سنگین نوعیت اختیار کرتے جارہے ہیں-
حال ہی میں واشنگٹن یونیورسٹی کے ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایوالوئیشن ادارے کے
ریسرچرز کی ایک ٹیم نے انکشاف کیا ہے دنیا کے دو ارب سے زائد افراد مجموعی
طور پر یا موٹاپے کا شکار ہیں یا پھر ان کا وزن معمول سے زیادہ ہے۔
|
|
یہ انکشاف ’لانسیٹ‘ نامی طبی جریدے میں سامنے آیا ہے اور اس رپورٹ میں ایک
اور حیرت انگیز انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 1980 کے بعد سے کوئی بھی ملک
موٹاپے پر قابو پانے میں کامیابی نہیں حاصل کرسکا-
عموماً موٹے افراد کا تعلق کھاتے پیتے اور خوش حال گھرانوں سے سمجھا جاتا
ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اور دنیا بھر کے موٹے افراد میں سے 62 فیصد
افر کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔
اگر بات کریں پاکستان کی تو موٹاپے کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان نویں
نمبر پر ہے- اور سرفہرست امریکہ ہے- اسی طرح بالترتیب چین دوسرے نمبر پر٬
بھارت تیسرے نمبر پر۔ روس چوتھے، برازیل پانچویں، میکسیکو چھٹے، مصر ساتویں،
جرمنی آٹھویں، اور انڈونیشیا دسویں نمبر پر ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق موٹاپا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو سستے، چربی دار، میٹھے،
نمکین اور زیادہ کیلری والے جنک فوڈ اور آرام طلب طرز زندگی سے بڑھتا ہے۔
|
|
محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ وزن والے لوگوں کو دل کی بیماریوں، کینسر،
ذیابیطس، گٹھیا اور گردے کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ لاحق رہتا ہے۔ |