ٹریفک حادثات۔ قصور وار کون؟

تیز رفتار ڈمپروں اور واٹر ٹینکروں سے لوگوں کے کچلنے یا روندے جانے کی خبریں ہم روزانہ اخبارات میں پڑھتے ہیں۔ آئے دن کسی ماں کا جواں سال بیٹا، بہن کا بھائی، کسی گھر کا واحد کفیل یا کوئی معصوم بچہ ان حادثات کی نذر ہو جاتا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر آخر یہ خونی کھیل کب تک جاری رہے گا۔ ڈمپر اور ٹینکر جیسی بڑی گاڑیاں تیز رفتاری کی وجہ سے فٹ پاتھ پر چڑھ کر یا کسی گھر کی دیواریں توڑ کر لوگوں کی ہلاکت کا باعث بن رہی ہیں، لیکن کیا کبھی ہمارے ارباب اختیار نے یہ سوچنے یا ان وجوہات کو جاننے کی زحمت گوارہ کی کہ ایسا روز روز کیوں ہوتا ہے،اس قسم کے حادثات کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

ہمارے یہاں جو ٹریفک حادثات ہوتے ہیں وہ ایکسیڈنٹ کی تعریف میں نہیں آتے۔ یہ اگر قتل عمد نہیں تو قتل خطاء کے زمرے میں ضرور آتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ تر غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے ہوتے ہیں، مثلاً گاڑی کے بریک کام نہیں کر رہے تھے اور پھر بھی ڈرائیور گاڑی سڑک پر لے آیا، ٹائی راڈ کمزور تھے یا ٹوٹنے والے تھے۔ گاڑی کو 30 کلو میٹر رفتار کے بجائے 60 کلو میٹر کی رفتار سے چلایا جا رہا تھایا ڈرائیور نے دوسری گاڑی سے ریس لگائی ہوئی تھی،ڈرائیور گزشتہ دو تین راتوں کا جاگا ہوا تھا یا اس نے کوئی دوائی استعمال کی ہوئی تھی یا وہ نشے کا عادی تھا، کسی ذہنی یا جسمانی بیماری کی وجہ سے صحیح ڈرائیونگ کرنے سے قاصر تھا، یا گاڑی کلینر چلا رہا تھا۔

اگر ان وجوہات کی بناء پر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو وہ ایکسیڈنٹ نہیں بلکہ غفلت ہے۔ بریک فیل ہونے کا عذر قابل قبول نہیں ہو سکتا کیونکہ شہر میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ٹریفک سگنل موجود ہیں، ڈرائیور کو قدم قدم پر بریک لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بریک خراب یا کمزور تھے تو ڈرائیور گاڑی کیوں چلا رہا تھا۔ اس کو گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کر دینی چاہئے تھی۔ ڈرائیور کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گاڑی یہ سوچ کر چلائے کہ سڑک پر چلنے والے تمام لوگ پاگل، اندھے اور بہرے ہیں، صرف وہی عقلمند، آنکھوں والا اور سننے والا ہے۔ان حادثات کی ذمہ داری گاڑی کے مالکان پر بھی عائد ہوتی ہے۔مالک کو گاڑی ہمیشہ درست حالت میں رکھنی چاہئے۔ صرف پیسے دے دلا کر گاڑی پاس نہیں کرانی چاہئے۔

آج کل دیکھا گیا ہے کہ گاڑی کی چھت اور فرش تک میں بڑے بڑے سوراخ ہیں، سیٹوں سے کیلیں اور اسکروں نکلے ہوئے ہوتے ہیں، باڈی کی ٹین تک اکھڑی ہوئی ہوتی ہے، دروازے پر ہاتھ لگنے سے لوگوں کے ہاتھ زخمی ہو جاتے ہیں، بلکہ پوری گاڑی آثار قدیمہ کا نقشہ پیش کر رہی ہوتی ہے، لیکن گاڑی کے فٹنس کے کاغذات موجود ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے موٹر وہیکل ایگزمینر ان کو دیکھنے سے قاصر ہیں شاید وہ کسی اور عینک سے دیکھتے ہیں۔ ورنہ وہیکل ایگزمینر کو گاڑی کی فٹنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ مالک کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈرائیور رکھتے وقت نہ صرف اس کے کاغذات لائسنس وغیرہ کی اچھی طرح چھان بین کر لے بلکہ پولیس اور نادرا سے لائسنس اور شناختی کارڈ کی تصدیق بھی ضروری ہے۔ اورشخصی ضمانت بھی لینا چاہئے کیونکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔

 آخر میں سب سے زیادہ اور اہم کردار ٹریفک پولیس کا ہے، سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی دھجیاں بکھیرتی ہوئی گاڑیاں، بسیں اور منی بسیں ٹریفک پولیس کے سامنے سے گزر رہی ہوتی ہیں، لوگوں کو نہ صرف بسوں اور منی بسوں کے اندر بھیڑ، بکریوں کی طرح بھرا جاتا ہے بلکہ درجنوں مسافروں کو چھتوں پر بھی بٹھایا جاتا ہے اور ٹریفک پولیس یہ سب دیکھ رہی ہوتی ہے۔ کنڈیکٹر کو تو چھوڑیئے ڈرائیور تک بغیر لائسنس کے گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے روٹ کے تھانے اور اسپتال تک معلوم نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہ ایکسیڈنٹ ہونے کی صورت میں زخمی ہونے والوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے،ان لوگوں میں اکثریت کا تعلق دیہات سے ہوتا ہے، وہ شہر سے واقف تک نہیں ہوتے، بلکہ یہ ایک دوسرے کے رشتے دار ہونے کی وجہ سے کام پر لگا لئے جاتے ہیں۔ 1950ء میں کنڈیکٹر اور ڈرائیور کے لئے لائسنس اور بیج ضروری ہوتا تھا جسے نا معلوم کیوں ختم کر دیا گیا ہے۔ حادثات کی ذمہ داری کسی حد تک ٹرانسپورٹر پر بھی عائد ہوتی ہے ان لوگوں نے اپنے قانون بنا رکھے ہیں۔ ٹوکن وغیرہ حاصل کرنے کے لئے گاڑیوں کو بلاوجہ دوڑایا جاتا ہے، لوگوں کو دھکے دے کر نیچے اتارا جاتا ہے جس سے نہ صرف لوگ گر کر زخمی ہو جاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔

 ٹرانسپورٹرہمیشہ ڈیزل کی مہنگائی کو بہانہ بناتے ہیں، لیکن کبھی انہوں نے یہ دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ بسوں میں مسافروں کے ساتھ کنڈیکٹر، ڈرائیور کا رویہ کیسا ہے۔ یہ وہ تمام لوگ ہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح جان لیوا ٹریفک حادثات سے بنتا ہے۔ اگر یہ سب لوگ اپنے فرائض ایمانداری اور ذمہ داری سے ادا کرنے لگیں تو حادثات پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ جب تک ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہیں کرایا جائے گا، قوانین کی خلاف ورزی پر سخت ترین سزا کا خوف نہیں ہوگا، غفلت اور لا پروائی کو ایکسیڈنٹ کے کھاتے میں ڈالا جاتا رہے گا لوگ ایکسیڈنٹ میں مرتے رہیں گے، لیکن یہ یاد رکھیں غفلت اور لا پروائی سے ہونے والے حادثات کو آپ دنیا کی عدالتوں میں تو شاید ایکسیڈنٹ ثابت کر کے بری ہو جائیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں یہ قتل ہو گا، جس کی سزا مل کر رہے گی۔ (میر حسین آزاد۔ کراچی)

YOU MAY ALSO LIKE: