بلدیاتی انتخابات(لوکل گورنمنٹ سسٹم)
(Zulqarnain Hundal, Gujranwala)
پاکستان میں شروع سے ہی جمہوری
عمل سست اور نامکمل رہا ہے۔ جمہوری عمل سے غریب طبقوں تک کبھی ثمرات نہیں
پہنچے۔ جمہوری عمل اور شہریوں کی آزادی کے حصول کے لئے جدوجہد خاصی مشکل ہے۔
جمہوری عمل کے حصول کے لئے صحافیوں، دانشوروں، شاعروں، ادیبوں اور سیاسی
کارکنوں نے بہت زیادہ تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ پاکستان کی بقا جمہوریت پر ہی
منحصر ہے۔ 65سالہ پاکستانی تاریخ میں جمہوریت میں کئی اتار چڑھاؤ آتے رہے۔
ماضی میں اگر جمہوری عمل نے درست سمت میں چلنا شروع کیا تو اس کے خلاف
سازشیں کی گئیں اور جمہوری عمل کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ اور
ان منفی کوششوں میں ہمارے وطن کے بڑے بڑے خاندان اور جاگیردار سرفہرست
ہیں۔انصاف اور مساوات سے جمہوریت کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں جس کا بدقسمتی
سے ہمارے ملک میں بہت زیادہ فقدان ہے۔اب میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کی طرف آتا
ہوں جس کا آغاز 1956 میں ہوا اور اس سسٹم سے دیہاتوں کو فائدہ بھی پہنچا
مگر کچھ لوگ اس سسٹم کے حامی نہ تھے۔زوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آتے
ہی اس سسٹم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے بعد بھی اس سسٹم کو چلانے کی
بہت کوشش کی گئی مگر بدقسمتی سے یہ سسٹم کامیاب نہ ہو سکا پھر 2001
اور2005میں اس سسٹم کو باقا عدہ چلنے کا موقع ملا اور اسے عوامی سطع پر
سراہا بھی گیا مگر اس کے بعد اس نظام کو لپیٹ میں لے لیا گیا اور اس سسٹم
کے خاتمے کی کوششیں کی گئی۔اور اب پھر چند لوگوں کی محنت اور کوشش کی وجہ
سے عدالتوں نے صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم دیا ۔ہماری
صوبائی حکومتوں کی کوشش تھی کہ بلدیاتی انتخابات نہ کروائے جائیں اور چھوٹے
سے چھوٹے فنڈز بھی انہی کے اختیارات میں رہیں کوئی بھی اختیار نچلی سطح تک
نہ پہنچیں مگر اب کے بار لوگوں میں بیداری آگئی ہے اور اب لوگ پہلے سے
ذیادہ پڑھے لکھے اور حاضر دماغ ہیں عوام اب حکومت کی نسبت ذیادہ Activeہو
گئی ہے۔انہی کچھ Active لوگوں کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات عمل میں آئے پہلے
تو یہ سوچا جا رہا تھا کہ شاید یہ انتخابات ملتوی ہو جائیں چونکہ پنجاب اور
سندھ کے پہلے مرحلے کی پولنگ ہو چکی ہے اور غیر حتمی نتائج بھی سامنے آ چکے
ہیں اس لئے اب باقی دو مرحلوں کی بھی پولنگ نومبر اور دسمبرمیں ہوگی لوکل
سسٹم کا مطلب ہے نچلی سطح پر عوام کے منتخب نمائندے جو کہ عوام کی نچلی سطح
پر خدمت کر سکیں مگر ہمارے ہاں بلدیاتی انتخابات پر بھی سیاسی پارٹیوں کی
اجارہ داری ہے۔اور جس کی جدھر حکومت اس کی ادھر جیت دیکھنے میں آیا کہ
پنجاب کے پہلے 12اضلاع میں مسلم لیک ن نے نمایا برتری حاصل کی اور دوسری
تعداد آزاد امید واروں کی ہے سندھ میں PPP اسی طرح خیبر پختون خواہ میں PTI
اور بلوچستان میں بھی حکومتی اتحاد ہی کامیاب ہوا شاید لوگ اس ڈر سے ووٹ
حکومتی پارٹی کو کاسٹ کرتے ہیں کہ حکومت دوسرے امید واروں کو فنڈنگ نہیں
کرئے گی ۔اور صرف اپنی ہی پارٹی کے امید واروں کو فنڈنگ کرئے گی اور دوسرا
نمبر آزاد امید واروں کا اسی لئے ہے کہ آزاد امید وار کسی عہدے یا روپے کے
عوض حکومتی جماعت میں شامل ہوجائیں گے ہونا یہ چاہئے کہ سیاسی پارٹیوں کی
اجارہ داری لوکل گورنمنٹ میں ختم کی جائے اور Neutral عوامی نمائندے سامنے
آنے چاہیں اور لوکل گورنمنٹ کے سارے اختیارات انہیں صحیح طریقے سے سونپے
جائیں تا کہ نچلی سطح پر بھی کوئی کام عوام کی فلاح کے لئے ہو سکے مگر
ہمارا نظام الٹ ہے بلدیاتی انتخابات تو کروا کے لوکل سسٹم بنادیے گئے اب
دیکھنا یہ ہوگا کہ لوکل گورنمنٹ کے پا س کیا اختیارات ہیں ۔کیا صوبائی
حکومتیں لوکل گورنمنٹ کو انکے اختیارات پر کام کرنے دیں گی ؟اگر لوکل
گورنمنٹ سسٹم کو مفلوج کیا گیا تو پھر وہی Active لوگ باہر نکلیں گے اور
لوگوں کے اختیارات کی خاطر لڑیں گے صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ لوکل
گورنمنٹ کو فعال بنائے نہیں تو لوگ انکو فعال بنانے کی خاطر بھی باہر نکلیں
گے اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائیں گے ۔میر ی حکومتوں سے گزارش ہے کہ
انہوں نے اپنے اپنے صوبوں میں اپنے نمائندے تو منتخب کروالئے ہیں مگر برئے
مہربانی انہیں اب انکے اختیارات بھی سونپیں اور انکے عہدے صرف اعزازی نہ
رہیں انکو فعال بنایا جائے اور لوکل سسٹم میں اپنے مفاد کو ختم کر کے عوام
کی خاطر کام کیا جائے تاکہ دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں کو بھی ترقی یافتہ
علاقوں کے برابر آنے کا موقع مل سکے بلدیاتی انتخابات سے ہمیں بہت سارے نئے
چہرے ملتے ہیں ہمارے بہت سارے موجودہ لیڈر بھی بلدیاتی انتخابات کی پیداوار
ہیں ۔
مل جل کر ارض پاک کو رشک چمن کریں
کچھ کام آپ کیجئے کچھ کام ہم کریں۔ |
|