ایسا نہ کریں

(Zahoor Danish, Karachi)
ہم سب ہی کو سفر کرنا ہوتاہے ۔کبھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں تو کبھی ایک شہر سے دوسرے شہر ۔بعض مرتبہ ایک ملک سے دوسرے ملک بھی سفر کرناپڑتاہے ۔جیسا کہ ہر عاشق کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے سفر مدینہ نصیب ہو۔اب ایسے میں ہوتاکیا ہے ۔ جب ہمیں سفر کرنا ہوتاہے تو ہم سستی و کاہلی کی وجہ سے عین وقت پر جاکر ریلوے اسٹیشن ،بس اسٹینڈ یا ائیر پورٹ ٹکٹ کے لیے پہنچتے ہیں تو سامنے سے جواب ملتاہے کہ آپ کی مطلوبہ تاریخ کے لیے ٹکٹ میسرنہیں ۔دو دن انتظار کریں ۔

یا پھر طویل قطار میں انتظار کریں ۔حالانکہ ہم اگر مناسب وقت پر چلے جاتے تو ہمیں ہماری مطلوبہ تاریخ کا ٹکٹ مل سکتاتھا۔لیکن ہماری کاہلی اور سستی اور دوسروں پر قیاس کرنے کی بدولت ہمیں جہاں پہنچنا ہوتاہے اس پروگرام ،تقریب ،محفل ،میٹنگ وغیر ہ سے لیٹ ہوجاتے ہیں ۔ایسی صورت میں نہ صرف تاخیر پر افسوس بلکے دوسروں کے سامنے ندامت کا سامنا بھی کرنا پڑتاہے ۔تاخیر سے جانے یا کام کرنے کی عادت ہے پلیز ایسا نہ کریں ۔

اسی طرح اﷲ خیر کرے ہم مناسب وقت پر ریلوے اسٹیشن ،بس اڈے ،ائیر پورٹ سے ٹکٹ کروانے میں کامیاب ہوگئے ۔تو ہماری اک تعدا د کی یہ عادت بنی گئی ہے ۔سفر پر جاتے وقت گھر سے نکلنے میں وقت کا لحاظ نہیں رکھتے اور ابھی نکلے ابھی نکلے ۔کرتے کرتے ۔جب ائیر پورٹ پہنچتے ہیں تو جہاز پرواز لے چکا ہوتاہے یا پھر چیکنگ کا مرحلہ چل رہاہوتاہے ۔اور ہم بھاگم بھاگ جارہے ہوتے ہیں ۔جلدی میں بعض مرتبہ پاسپورٹ تک پیچھے چھوڑ جاتے ہیں ۔بعض مرتبہ جہاز ہی پرواز کرچکاہوتاہے اور ہم خریدے ہوئے ٹکٹ کو ضائع کردیتے ہیں ۔

اسی طرح ریلوے اسٹیشن کا بھی معاملہ ہے کہ گاڑی چلنے میں ایک گھنٹہ باقی ہے ۔اور یہ سوچ کر گھر میں مطمئن بیٹھے ہوتے ہیں کہ پہنچ جائیں گے ۔جب گھر سے نکلتے ہیں تو ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں اور جب ریلوے اسٹیشن پہنچتے ہیں تو اپنی آنکھوں کے سامنے ٹرین کو جاتے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور کف افسوس مل رہے ہوتے ہیں کہ ٹکٹ ضائع ہوگیا۔بعض مرتبہ تو چلتی ٹرین میں سوار ہوتے ہوئے ۔گرِ کا زخمی یا پھر جان سے بھی ہاتھ دو بیٹھتے ہیں

وقت کی پابندی اور بروقت کام یہ دونوں نکات اگر ہم اپنی زندگی میں اپنالیں تو ہم اس طرح کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں ۔اگر وقت پر کام کریں گئے تو یہ پریشانی نہیں ہوگی ۔۔۔ایسا نہ کریں۔

نوٹ:آپ کیرئیر پلاننگ و دیگر فیوچر پلاننگ ،ایجوکیشن کے حوالے سے مشاورت کے لیے اس نمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔ 0346-2914283۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اﷲ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 259 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 230 Articles with 219007 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

Language: