کان

(DR ZAHOOR AHMED DANISH, Karachi)
اونچابولو یا کرو سرگوشی
شور و غوغل ہو یا خاموشی
اس کی صلاحیت آپ دیکھو
کس نے کہا؟ کیا کہاسب کی اس کو خبر

آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟تھوڑا اونچابولیں ۔۔اچھا !!!!!!!!!یہ کہہ رہے تھے ۔۔۔۔اسی طرح ایک شخص کے سامنے ڈھول بجاتے رہو۔اس کی بلاسے پلٹ کر دیکھتابھی نہیں کے میرے قریب ڈھول پیٹا جارہاہے ۔شورشرابہ ہے ۔اور ایک طرف ایک شخص کی منطق ہی کچھ اور کہ ذرا سی سربات کرو۔جناب سب بات سماعت فرمالیتے ہیں ۔
یہ جتنی بھی میں نے مثالیں پیش کیں ۔ان سب میں ایک بات مشترکہ ہے ۔
چلیں آپ بتائیں وہ کیا؟
تھوڑاغور تو کریں ؟
چلیں زیادہ دماغ پر زور نہ دیں اور بھی بہت سے آپ کو اچھے اچھے کام سرانجام دینے ہیں۔یہ کام میں ہی کرلیتاہوں ۔
جناب!ان میں سننے کی صلاحیت کامن تھی ۔کہنے کا مقصد یہ کہ اﷲ عزوجل نے بندے کو سماعت کرنے کے لیے کانوں کی نعمت سے سرفراز کیاہے ۔

محترم قارئین !!!!
کان اﷲ عزوجل کی بہت بڑی نعمت ہے ۔آج ہم آپ کو کان کے بارے میں دلچسپ معلومات بتائیں گے ۔آپ تک دلچسپ اور مفید معلومات پیش کرناہم اپنی ذمہ دار ی سمجھتے ہیں ۔لیکن کچھ تعاون آپ کوبھی تو کرنا ہوگا۔وہ کیا؟وہ یہ کہ دل لگاکہ پڑھناآپ کا کام ہے ۔سمجھے !!!میری مراد یہ ہے کہ جب بھی کسی کی کوئی تحریر پڑھیں توجہ سے پڑھیں جب بھی کوئی بات سنیں توجہ سے سنیں ۔

(کان (earکو عموماً علم طب و حکمت میں عربی سے اذن (جمع: اذان)بھی کہا جاتا ہے یہ جانداروں کے جسم میں پایا جانے والا ایک حسی عضو ہے جو کہ سننے کا کام کرتا ہے یعنی یہ آواز کے لیئے ایک وصولہ (receiver کے طور پر کام کرتا ہے اور آواز کے ارتعاش کو دماغ تک پہنچانے کا زریعہ بن کر سماعت کا احساس اجاگر کرتا ہے۔ آواز کے لیئے حسی عضو کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ، کان توازن اور وضع (posture) برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ علم تشریح میں کان کو سماعتی نظام کے اعضاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ یعنی سادہ الفاظ میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ کان ایک حسی عضو ہے جو آواز کھوجتا ہے اور یہ نہ صرف آواز کو سنتا ہے بلکہ جسم کو متوازن اور حرکت صحیح حالت میں رکھنے میں بھی بڑا کام سرانجام دیتا ہے۔ بہت سے جانوروں میں دو کان ہوتے ہیں. ایک کان سر کے ایک طرف اور دُوسرا سر کے دوسری طرف. اِس سے آواز کے مآخذ کا پتہ لگانا آسان ہوجاتا ہے کہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔
محترم قارئین :سننے کی صلاحیت، انسان کی پانچ پنیادی حِسوں میں سے ایک ہے۔ قوت سماعت یا سننے کی قوت وہ حس ہے، جس کی مدد آواز کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ سننے کی قوت سے محرومی کو بہرہ پن کہا جاتا ہے اور ایسے افراد کو بہرہ کہا جاتا ہے۔ انسانوں اور دیگر فقارئیے جانداروں میں قوتِ سماعت کے لئے باقاعدہ سمعی نظام بنا ہوتاہے۔ جس کی مدد سے یہ نظام ارتعاش کو محسوس کرتا ہے، پھر اعصاب کے ذریعے وہ ارتعاشات دماغ تک پہنچائے جاتے ہیں، جہاں ہر آواز یا ارتعاش کی اپنی ایک شناخت ہوتی ہے۔

حواس خمسہ کے باعث انسان دنیا سے روابط رکھتا ہے اور جو کہ کسی بھی کمپیوٹر کی ڈیوائس کی طرح انسان کیلئے بطور ان پٹ اور آوٹ پٹ کام کرتے ہیں ۔ دنیا سے روابط کے یہ اعضاء (ڈیوائسز( انسان کیلئے اﷲ تعالیٰ کا عظیم احسان ہیں۔ ان حواس خمسہ اور دیگر اعضاء کی سلطنت کا بادشاہ انسانی ذہن ہے جو حکمرانی کرنے میں زمانوں کی تبدیلی کا محتاج نہیں ۔ تربیت اور علم ذہن کی خوارک ہے اور اسی کے باعث پھلتا پھولتا اور امور سلطنت چلاتا ہے ۔ انسانی زندگی میں تحقیقات کا عمل جاری و ساری ہے جسے باعث نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔سنا تھا دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں مگر محاورہ اس وقت بنایا گیا جب سائینس و ٹیکنالوجی کا دور نہیں تھا اور آج کی تحقیقات واضع طور بتلا رہی ہیں کہ یہ محاورہ بالکل درست تھا کیونکہ ایک نئی سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی قوت سماعت کا تمام تر انحصار کانوں پر نہیں ہوتا بلکہ سننے کی حس میں انسانی جلد بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دراصل انسانی جسم کے مختلف اعضاء مل کر آوازوں کو محسوس کرتے ہیں۔( لہذا جلد بھی دیواروں جیسا ہی عمل سر انجام دی رہی ہے(۔

انسان ہوا میں ہلکی سی پھونک مارتا ہے، اور یہ پھونک ہوا کو اس طرح متاثر کرتی ہے کہ سامع اس لفظ کو سن سکتا ہے۔ انسانی دماغ کسی لفظ کو شناخت کرنے کے لئے کئی جسمانی اعضاء سے کام لیتا ہے انسانی دماغ کسی لفظ کو شناخت کرنے کے لئے کئی جسمانی اعضاء سے کام لیتا ہے۔

محترم قارئین !!قوت سماعت اﷲ عزوجل کی بہت بڑی نعمت ہے ۔اس کاشکر جتنا ادا کیاجائے کم ہے ۔کیوں کہ اسی صلاحیت کے بدولت ہم اﷲ عزوجل کا پاکیزہ کلام سن پاتے ہیں ۔نعت کی رس گھولتی آوازیں سن سکتے ہیں ۔والدین کی محبت سے لبریز شفقت بھری گفتگو سے مستفاذ ہوسکتے ہیں ۔پیر و مرشد کے عطاکردہ فرماین سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔

اﷲ عزوجل نے طرح طرح کی نعمتیں عطافرمائی ہیں ۔ہمیں ہر وقت اس کاشکر گزار رہنا چاہیے ۔یہ بات بھی ذہن نشین کرلیں کہ کان ایک نعمت ہے اور نعمت کا درست استعمال ہونا چاہیے ۔یہاں ایک پتے کی بات عرض کرتاچلوں کہ جو بچہ پیدائشی بہرہ ہوگا ۔لازما وہ گونگا بھی ہوگا۔۔۔ایک توجہ طلب بات ہے ۔لیجیے یہ سوال میں نے آپ کے لیے چھوڑ دیاوہ کیوں ؟ہے نا بات پتے کی ۔جب آپ کو پتا چل جائے تو ہمیں بھی بتادیجیے گا۔۔۔۔

نوٹ: قارئین !آپ کو یاد ہوگا میں نے اپنے گذشتہ تحریروں میں بھی ایک عظیم درسگاہ کے قیام کا ذکر کیا تھا۔بفضل تعالیٰ اس کے لیے شب و روز کوششیں جاری ہے ۔فاطمۃ الزہراء اسلامک اکیڈمی دینی و عصری تعلیم کا عمدہ تعلیم مرکز آپ کے تعاون کا منتظر ہے ۔جہان اپنے مطلب کی باتیں کان کھول کر سنتے ہیں وہاں میری اس اپیل پر بھی ضرور کان دھرئیے گا۔۔۔اس حوالے سے آپ ہم سے اس نمبر 0346-2914283پر یا اس ای میل [email protected]پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔اﷲ عزوجل آپ کے تعاون کو آپ کے لیے توشہ ٔ آخرت بنادے ۔۔
فاطمۃ الزہراء اسلامک اکیڈمی
(مندرہ گاؤں رکھ موڑ )
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 312 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 230 Articles with 218555 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

Language: