سلام انھیں جو ایک نہتے کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ٹینکوں کا مقابلہ کیا

(Zahid Mehmood, Islamabad)
ترکی کے عوام کو سلام کہ جو اپنے فیصلوں پر اعتماد اور اپنی مرضی کی حکومت کے حق سے دستبردار نہ ہوئے سلام ترکی کے عوام کو کہ جنہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اخلاقی قوت بندوق کی قوت سے زیادہ طاقت رکھتی ہے سلام انکو کہ جنہیں اپنی خودمختاری اور فیصلوں کی آزادی اپنی زندگی اور مال و زر سے زیادہ عزیز ہے
سلام اسے جسکا والد کوسٹل گارڈ کا ایک معمولی ملازم تھااور وہ13 سال کی عمر میں ہی اپنا جیب خرچ زیادہ کرنے کے لئے شہر کی گلیوں میں پھیری لگایا کرتا تھا بچپن میں ہی وہ خوددار ی کے ساتھ جینا سیکھ چکا تھا اور یہ بھی سیکھ چکا تھا کہ اگر آپ کچھ کرنا چاہیں تو باوجود تمام رکاوٹوں کے آپ وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو آپ کرنے کی ٹھان لیں ۔ اپنی تعلیم کے دوران وہ فٹبال کا شوقین تھا وہ اپنی زندگی میں کچھ ہٹ کے کرنا چاہتا تھا اس نے زمانہ طالب علمی میں ہی سیاست میں قدم رکھ دیا اور ایک سیاسی جماعت کے ساتھ منسلک ہوگیا پھر وقت گزرتا گیا اور وہ اپنے شہر کامیئر منتخب ہوگیا یہاں سے اسکی قیادت کرنے کی قابلیت اور اپنے آپ کو دوسروں سے ہٹ کر ثابت کرنے کا امتحان شروع ہوگیا اس نے آتے ساتھ ہی اپنے شہر کی حالت بدلنے کی ٹھان لی اور شہر کی حالت بدلنے کے لئے انقلابی اقدامات شروع کئے کرپشن پر قابو پایا سادہ طرز زندگی اپنایا۔ ماحولیاتی آلودگی اور شہر کی صفائی اسکے دھن پر سوار تھی جو کہ اس نے بہت ہی قلیل وقت میں پورا کر دکھایا اپنے مقررہ وقت میں اس نے اپنے شہر کا نقشہ بدل دیا اور عوام میں مقبول ہوتا گیا اس دوران اس نے ایک مشہور نظم پڑھی جس کی وجہ سے اس پر یہ الزام لگا کہ اس نے ترکی کی سیکولرحیثیت کو نقصان پہنچایا ہے لہٰذا اسے جیل بھیج دیا گیا اور اس پر سیاست کرنے پر مخصوص مدت کے لئے پابندی لگا دی گئی لیکن وہ مایوس نہ ہوا بلکہ اپنی جدوجہد جاری رکھی اپنی پارٹی کی بنیاد رکھی اور اسکی جماعت نے انتخابات میں حصہ لیا اسکے جماعت جیت گئی لیکن اس پر لگنے والی پابندی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی اس لئے اس نے اپنے ایک بااعتماد ساتھی کو وزیر اعظم نامزد کر دیا انتخابات میں بے ضابطگیوں کا الزام لگا تحقیقات ہوئیں اور بہت تھوڑے پیمانے پر ہونے والی بے ضابطگیوں کی بدولت نئے انتخابات کا اعلان کر دیا گیا اور اسکی جماعت نے پہلے سے زیادہ کامیابی سمیٹی اس نے وزارت عظمٰی سنبھالی اور اپنی قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے اپنے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ اپنی قوم کی تعلیم و تربیت کے لئے مختص کر دیا ۔ وہ یہ جانتا تھا کہ مثبت رجحانات رکھنے والی ایک صحت مند قوم ہی ایک باشعور اور غیر ت مند قوم بنتی ہے اور اپنے حقوق کا تحفظ کرتی ہے لہٰذا اس نے صحت کے میدان میں بھر پور سرمایہ کاری کی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ دیا انفراسٹکچر کے میدان میں بھی بھرپور سرمایہ کاری کی اور دیکھتے دیکھتے ہی دیکھتے اس کاملک ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا اسکی کامیابی میں جہاں درج بالا اقدامات کا ہاتھ ہے وہیں کچھ ایسے اقدامات بھی ہیں جنکا ذکر کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں جیسے کہ کرپشن اور بدعنوانی کی روک تھام سے لے کر اقربا پروری جیسی لعنت سے چھٹکارا ، سرکاری اداروں میں بے جا مداخلت سے گریز اور ان میں خالی آسامیوں کے لئے میرٹ اور صرف اور صرف میرٹ کا بنیاد بنانا ، باوجود مذہبی رجحانات کے اپنے خیالات کو عوام پر نہ ٹھونسنا ، فوجی اثر رسوخ کے باوجود بھی فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرنا وغیرہ شامل ہیں میں بات کر رہاہوں ترکی کے سابقہ وزیر اعظم اور موجودہ صدر طیب اردگان کی جی طیب اردگان ہی کی بدولت آج ترکی نے وہ سب حاصل کیا جسکا کوئی بھی ریاست خواب دیکھ سکتی ہے ۔

یہاں کچھ سوال میرے اور آپکے ذہن میں پیدا ہونگے کہ ترکی میں اس سے پہلے کی بغاوتیں کیوں کامیاب ہوتی رہیں اور اس دفعہ فوجی بغاوت کو ناکامی کا منہ کیوں دیکھنا پڑا ؟

کیسے ایک مالی لحاظ سے ایک عام آدمی اس ملک کا سربراہ بن گیا ؟ پاکستان اور تیسری دنیا کے ممالک ابھی تک اس طرح کی ترقی سے کیوں محروم ہیں ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری جمہوریت اتنی مضبوط نہیں ہوسکی ؟

ان تمام سوالوں کے جواب کسی بھی غور وفکر کرنے والے شخص کو مل سکتے ہیں اور ان کے سمجھنے کے لئے ایک عام سی فہم و فراست ہی کافی ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ ترکی میں بلا امتیاز رنگ ونسل ، مذہب، جنس ہر شخص پر قانون کا نفاذ ایک جیسا تھا ریاست کو کسی بھی شخس کی مذہبی آزادی کو سلب کرنے کا اختیا ر نہیں تھا ۔ دوسرا بنیادی نکتہ ترکی میں رائج انتخابی نظام ایسا ہے کہ جو کسی بھی حقیقی لیڈر کے پاؤں کی زنجیر نہیں بنتا میں بات کر رہا ہوں متناسب نمائندگی کے نظام کے جس میں جو جتنے فیصد ووٹ لے گا اتنی ہی سیٹوں کا حقدار کہلائے گا جبکہ اسکے برعکس ہمارے ہاں تمام کی تمام سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں آنے کے لئے حلقہ میں اثر ورسوخ رکھنے والے افراد کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ صرف اور صرف اپنے مفادات رکھتے ہیں جنکے مفادات اور عوام کے مفادات میں بالواسطہ ٹکراؤ ہوتا ہے لہٰذا ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں نظریات پر ووٹ لینے کی بجائے شخصیات کے نام پر ووٹ لیتی ہیں ۔ تیسری بنیادی بات انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کا اعتماد ہونا ہے جسکا ہمارے ہاں سخت فقدان نظر آتا ہے ہمارے ہاں کوئی انتخابات ایسے نہیں ہیں جو متنازعہ نہ ہوں سیاسی جماعتیں انتخابی نظام کی شفافیت کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر سکیں بلکہ یہاں تو حالات یہ ہیں کہ جو طبقہ ملک کو چلا رہا ہے اسے حق رائے دہی سے ہی محروم رکھا گیا ہے میں بات کر رہا ہوں سمندر پار پاکستانیوں کی جو کہ تقریبا چالیس لاکھ کے قریب بنتے ہیں اور اب تک اس طبقے کو ووٹ کاحق دینے کے لئے کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکی ۔ترکی کی ترقی کی ایک اور وجہ وسائل کے استعمال کا رخ انسانوں کی ترقی کی جانب موڑا گیا ہے جبکہ ہمارے ہاں اسکے برعکس ہے خاص طور پر تعلیم کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے تعلیم کا شعبہ کس حد تک زبوں حالی کا شکار ہے اسکا اندازہ ایک تازہ سروے سے کیا جاسکتا ہے جسکے مطابق ارض پاک میں 2کروڑ 40 لاکھ بچے سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کر پارہے جو کہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے حکومت کے زیرانتظام چلنے والے ہسپتالوں کی حالت زار کیا ہے اسکے لئے اس رپورٹ کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے جسکے مطابق پاکستان کے سب سے بہترین ہسپتال پمز کا دنیا کے 4000 بہترین ہسپتالوں میں شامل نہ ہونا ہے . ۔ ملک کے وزیر اعظم سے لے کر عبدالستار ایدھی تک کوئی بھی سرکاری ہسپتالوں سے علاج نہیں کرواتا ۔ ارض پاک میں موجود سیاسی جماعتیں صرف اور صرف انتخاب جیتنا چاہتی ہیں جبکہ کسی کے پاس بھی ابھی تک کوئی جامع پروگرام نظر نہیں آیا کہ جس کی بدولت ہمیں تسلی ہو کہ کیسے آئندہ آنے والے 15 سالوں میں یہ جماعتیں 8 کروڑ کے قریب نوجوانوں کے روزگار کا اہتمام کریں گی۔

یہاں یہ بات میں دعوے سے کہ سکتا ہوں کہ اگر ہمارے ملک کی سیاسی جماعتیں اس ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنا چاہیں تو اس ملک کے پاس وہ وسائل ہیں جو شاید ہی دنیا میں کسی اور ملک کے پاس ہوں اور ان وسائل سے استفادہ کرکے ہماری قوم بھی چند ہی سالوں میں اپنے مسائل پر قابو پانے کے بعد دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوسکتی ہے ۔ ترکی کی مثال ہماری تمام سیاسی جماعتوں کے لئے کھلی کتاب کی مانند ہے جس میں عوام اپنی جمہوریت کے حق میں ٹینکوں کے آگے لیٹ سکتے ہیں وگرنہ مٹھائیاں کھلانے والے اور ـ ’’ خدا کے لئے اب آجاؤ ‘‘ کے بینر لگانے والے آتے رہیں گے اور سیاسی جماعتیں اور انکے لیڈران کے لئے کبھی بھی عوام گولیوں اور ٹینکوں کے آگے کھڑے نہیں ہونگے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zahid Mehmood

Read More Articles by Zahid Mehmood: 53 Articles with 26625 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2016 Views: 423

Comments

آپ کی رائے