خطہ پیر پنجال تحریک کشمیر سے جڑا نہیں لیکن جدا بھی نہیں....

(Altaf HUssain janjua, Jammu,Jammu and kashmir ,India)
حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست کا شاید ہی ایسا کوئی خطہ ہو، جومسئلہ کشمیر کی وجہ سے کسی نہ کسی لحاظ سے متاثر نہ ہواہو۔ وادی کشمیر، چناب اور پیر پنچال خطے کی آبادیاں اس مسئلہ کے حوالہ سے کافی حد تک یکساں خیالات کی حامل نظر آرہی ہیں۔ یہ طے کرنے میں بھی مشکل ہے کہ ان میں سے کس خطے نے اس مسئلہ کی وجہ سے زیادہ دکھ جھیلے ہیں اور کس خطے کی قربانیاں زیادہ ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہر خطے کے لوگ گزشتہ68سال ککےد وران ناسازگار حالات کے تھپیڑوں کا شکار ہیں۔
”راجوری پونچھ کے لوگ نظریاتی طور پر آزادی پسند رہے ہیں۔ انہوں نے بے پناہ قربانیاں بھی دی ہیں لیکن بدقسمتی سے اب مسلمان آپس میں ہی دست وگریباں ہیں۔ گجر پہاڑی اور مسلکوں کی بنیاد پر یہ خطہ تقسیم درتقسیم ہوچکا ہے“

یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ 1947میں تقسیم ریاست کا سب سے زیادہ خمیازہ راجوری اور پونچھ اضلاع کی آبادیوں کو جھیلنا پڑا ہے۔ تقسیم کے نتیجے میں اس اس خطے کی آبادی یکسر دو حصوں میں بٹ گئی۔ آناًفاناً خونی رشتوں کے بیچ کنٹرول لائن کھچ گئی۔ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ گزشتہ68سال سے سرحدوں پر ہند و پاک افواج کے تصادموں اور گولہ باری کے نتیجے میں بار بار یہاں کے لوگوں کو جانی ومالی نقصانات سے دو چار ہونا پڑا ہے۔

تقسیم ریاست کے نتیجے میں اس خطہ کے بھی حصے بخرے ہوئے۔ اس طرف راجوری بدھل اور پونچھ پر اور حدمتارکہ کے اس طرف یعنی (پاکستانی زیر انتظام کشمیر)کوٹلی، راولاکوٹ اور باغ پر مشتمل ہے۔ 223کلومیٹر لمبی حدمتاکہ کی سرحدیں ضلع راجوری کے سندربنی، نوشہرہ، راجوری اور منجاکوٹ بلاک جبکہ پونچھ ضلع میں بالاکوٹ، مینڈھر، پونچھ اور منڈی بلاک تک ہیں۔ پونچھ اعلیحدہ سے سدوھرن، حویلی، مینڈھر اور باغ نامی چار تحصیلوں پر مشتمل ایک خود مختیار ریاست ہوا کرتی تھی، اس کی اپنی اعلیحدہ سے کرنسی بھی تھی۔پونچھ کا ذکر راج ترنگنی میں تفصیل سے ملتا ہے۔ 1596سے1772تک پونچھ پر مغلیہ سلطنت رہی جس دوران سراج الدین ، راجہ شہباز خان، راجہ عبدلرزاق، راجہ رستم خان اور راجہ خان بہادر خان نامی حکمران ہوئے۔ 1819میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس پر قبضہ جمایا اور 1850کو خالصہ دربارلاہور کی تحویل میں آتے تک رنجیت سنگھ یہ اس پر قابض رہے۔ 1850میں خالصہ دربارمیں وزیر اعظم راجہ دھیان سنگھ کے فرزند راجہ موتی سنگھ نے پونچھ کو اعلیحدہ سے شاہی ریاست بنایا۔ 1935/36تک خالصہ دربارکے تحت پونچھ اعلیحدہ ریاست رہی بعد میں اس کو مہارجہ ہری سنگھ جموں نے اپنی جاگیر میں شامل کیا۔ 1850سے1947تک کا دورہ پونچھ کی تاریخ کا سنہری دو ر ماناجاتا ہے۔ 1947میں پونچھ دوحصوں میں تقسیم ہوگیا۔ اس وقت پونچھ ریاست 3اضلاع میں تقسیم ہے جس میں 2اضلاع باغ اور راولاکوٹ پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور ایک جموں وکشمیر کے اس طرف پونچھ ہے۔ 1947سے لیکر سال 2015تک جموں وکشمیر ریاست میں سب سے زیادہ تباہی ونقصان ہوا ہے تو اس میں راجوری پونچھ اضلاع پر مشتمل خطہ پیر پنجال سرفہرست ہے۔ جموں وکشمیر کے تقسیم ہونے سے سب سے زیادہ یعنی 97فیصد کنبہ جات پونچھ راجوری میں آپس میں بٹ گئے ہیں، یہاں پر سینکڑوں کنبے ایسے ہیں جن کی آدھی زمین پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہے اور آدھی اس طرف ہے۔ آج بھی بہت ساری بہنیں، مائیں اپنے بیٹے اور بھائیوں کی جدائی میں حدمتارکہ پر جاکر اس طرف دیکھتی ہیں، شاہد کہیں ان کا لخت جگر پیارا نظر آجائے۔ 47سے آج تک ان سرحدی اضلاع راجوری پونچھ کے لوگوں نے بھاری قیمت چکائی ہے۔

جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے تو اس کے لئے جاری تحریک میں خطہ پیر پنجال کے لوگ بھی پیش پیش رہے ہیں، یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ یہاں پر لوگ پارلیمانی، اسمبلی اور پنچایتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ کھل کر مسئلہ کشمیر کے حق میں آواز بلند کرنا اور حریت نواز جماعتوں کا ساتھ نہ دینے کئی وجوہات رہی ہیں،لیکن یہاں کے لوگوں کے احساسات وجذبات بھی کشمیریوں جیسے ہی ہیں، ہر دل مسئلہ کشمیر اور حق خود ارادیت کے لئے دھڑکتا ہے لیکن آواز دھیمی ہے۔ یہاں جن لوگوں نے کھل کر حریت نواز جماعتوں کی حمایت کی تو انہیں اس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی۔ راجوری پونچھ میں ایسے لوگوں کی کثیر تعداد ہے جنہوں نے کئی برس جیلوں کی کال کوٹھریوں میں گذارے اوربہت سارے ایسے بھی ہیں جوکہ ایام اسیری کے دوران ہی اس دنیا سے چل بسے۔ اعلیحدہ محل وقوع ہونے کی وجہ سے یہاں ہندوستان نواز سیکورٹی فورسز اور ایجنسیوں نے لوگوں کو مسلک، ذات پات ، رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم کرنے میں کشمیر کے مقابلہ بہت زیادہ کامیابی حاصل کی جس سے ایک بہت بڑا طبقہ ہندوستان کا حامی تھا لیکن یہ غلط فہمی اس وقت دور ہوگئی جب دو ماہ تک طویل2008امرناتھ لینڈ ایجی ٹیشن ہوئی۔ یہ ایجی ٹیشن خطہ پیر پنجال کے عوام کے لئے ایک انتہائی اہمیت کی حامل (Turning point)بھی مانی جاتی ہے کیونکہ اس کے بعد سے یہاں کی کثیر آباد کے نظریہ میں انقلابی تبدیلی رونما ہوئی جن کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی سیکولر ازم اور جمہوریت ایک ڈھکوسلہ ہے، اس ایجی ٹیشن کے بعد لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کا مذہبی تشخص اسی صورت میں قائم ودائم رہ سکتا ہے اگر وہ اپنا مستقبل کشمیر کے ساتھ جوڑیں گے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اکثریت اسی کی حامی ہے کہ اگر انہیں کبھی جموں اور کشمیر کا انتخاب کرنا پڑا تو وہ وادی کو ہی ترجیحی دیں گے۔ خطہ پیر پنجال کی تاریخ میں د وواقعات انتہائی اہمیت کے حامل مانے جاتے ہیں جس نے لوگوں کے دل ودماغ اور سوچھ پر گہرے اثرات مرتب کئے، جس کے سبب تحریک آزادی کو دھچکا پہنچنے کے ساتھ ساتھ بھائی بھائی کا دشمن بن گیا ۔ ان میں 90کی دہائی میں گوجر بکروال طبقہ کو ایس ٹی درجہ دیاجانا اور 2008کی ایجی ٹیشن شامل ہے۔ 2008ایجی ٹیشن میں سندر بنی، نوشہرہ، اکھنور کے مقام پر خطہ پیر پنجال کے مسلم برادری کو بھاری ظلم وستم کا شکار بنایاگیاتھا۔ ان کی اقتصادی ناکہ بندی کر کے قافیہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہاں کی عوام کو کشمیری حریت نواز /مین سٹریم قیادت سے گلہ بھی ہے کہ راجوری پونچھ کی عوام کو اہم فیصلہ سازی یا مشاورت کا کبھی حصہ نہیں بنایاگیا جس سے وہ احساس محرومی کا شکار رہے۔ راجوری پونچھ میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جن کا تحریک آزادی میں اہم رول رہا ان میں چوہدری غلام عباس، محمد شریف طارق ایڈوکیٹ جوکہ 1965میں مجبوراًپاکستان چلے گئے۔ محمد حنیف کلس، پونچھ کا بانڈے اور میر خاندان،10سال سے زائد کا عرصہ جیل میں گذار نے والے مرزا فقیر محمد راجوری جوکہ مسلم کانفرنس کے ضلع راجوری جنرل سیکریٹری رہے، آزاد وانقلابی کانفرنس کے مرزا محمد حسین ،مولوی میر دین راجوری، محمد امیر شمسی، میر نذیر، شہباز راجوروی، فدا راجوروی، پیپلز موومنٹ کے سرپرست اعلیٰ مرحوم غلام احمد میر، شاہد سلیم میر، چوہدری سلطان فتح پور، مرزا عمر دراز، قاضی منصور علی، سردار شکر دین کملاک جوکہ امپھلا جیل میں ہی موت ہوگئی تھی کافی عرصہ تک جدوجہد سے وابستہ ہے۔ چوہدری محمد کٹھانہ، ملک نعمت اللہ درہالوی، ملک محکم دین درہالوی، رانا فضل حسین، عرف بابا گوجری،چوہدری مشیر چوہان، سردار یا ر محمد دلی چنڈک، چوہدری فضل دین مینڈھر، مولوی لال حسین بھٹی کلر کٹل سرنکوٹ، سرنکوٹ کاقاضی خاندان ،حسن دین حسن ہاڑی مڑہوٹ، کا اہم رول رہا، پروفیسر علی صدر دین ترابی، سردار محمود اقبال خان ہائی کور ٹ کے جسٹس رہے، مولوی غلام ، سردار محمد ابراہیم خان، سردار عبدلیقوم خان پہلے شیخص نے جنہوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف گولی چلائی تھی،مولوی اسماعیل زیدی بدھل ، ایوب شبنم، فاروق خان دلی، محمد اسلم فضلہ آبا د سرنکوٹ، بشیر حسن سڑھوتی مینڈھر، غلام عباس، ماسٹر حکم دین، مرحوم محمد اسلم عزت سے لیاجاناتاہے۔ کانگریس کے سنیئرلیڈ ر اور سابق وزیر لال محمد صابر بھی اس تحریک کا حصہ رہے ۔ محاذ رائے شماری میں ان کا اہم رول رہا۔

خطہ پیر پنجال کے لوگ مسئلہ کشمیر کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟....ان کا سیاسی الحاق کیا ہے اور 2008کی ایجی ٹیشن کے بعد ان کے نظریہ میں کوئی تبدیلی آیا؟وغیرہ سوالات کا جواب جاننے کے لئے مختلف مکتب ہائے فکر سے تعلق رکھنے والی چند معروف اور ذی قدر شخصیات سے مفصل گفتگو کی گئی۔
الھدا ایجوکیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین محمدامیر شمسی نے کہاکہ کشمیرایک مسئلہ ہے جس سے قطعی انکار نہیں کیاجاسکتا، اس مسئلہ کی وجہ سے 1947سے لیکر آج تک راجوری پونچھ کی عوام کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے، ان کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ 1947ہو یا پھر1965راجوری پونچھ سب سے زیادہ متاثر ہوئے، زمین تقسیم ہوئی ،خاندان بٹ گئے۔ کشمیر میں تو گذشتہ20-25سے زیادہ نقصان ہوا جبکہ راجوری پونچھ کے لوگ سلگتی لکڑی کی طرح 47سے ظلم وستم ، نا انصافیوں کاشکار ہیں۔ عسکری سے لیکر سیاسی سطح تک یہاں کے لوگوں نے بھی آزادی کے لئے تحریرک کا ساتھ نہیں چھوڑلیکن بڑے پیمانے پر تحریک نہ چلی جس کی کئی وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ کشمیری قیادت نے راجوری پونچھ کے لوگوں میں اہم مشاورت وفیصلہ سازی میں نذر انداز کیا جس سے یہ احساس محرومی کا شکار رہے۔ اس کا ڈوگری لابی نے فائیدہ اٹھانے کی کوشش کر کے، راجپوت ودیگرہ بنیادوں پر لوگوں کو تقسیم کرکے اپنی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ دوم راجوری پونچھ کا محل وقوع کچھ ایسا ہے یہاں لوگوں پر فوج کا دباؤ زیادہ رہا، جس کی وجہ سے عام لوگوں کو آزادانہ سوچ کا مظاہرہ نہیں کر نے دیاگیا۔ اس خطہ میں لوگ سیکورٹی ایجنسیوں اور فوج کا بہت جلد نشانہ بن گئے اور ان کی کوئی سپورٹ بھی نہ ہوئی۔ یہ مجبوریاں رہیں لیکن احساسات وجذبات وہی ہیں جوکشمیر کے لوگوں کے ہیں۔ میں نے اپنی کتاب ’راجوری میں اسلام اور مسلمانوں کی آمد‘میں بھی ان تمام واقعات کا تفصیلی ذکر ہے ۔ جہاں تک 2008کی ایجی ٹیشن کا سوال ہے تو اس سے راجوری پونچھ کی عوام کو بھاری دھچکا لگا ہے، راجوری پونچھ میں متعدد طریقہ سے عوام میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی رہی کہ ہندوستان سیکولر نظریہ کا حامل ہے اور یہاں جمہوریت ہے لیکن اس حقیقت سے اس وقت پردہ اٹھ گیا جب 2008ایجی ٹیشن میں آر ایس آیس اور دیگر ہندو انتہائی پسند تنظیموں نے اس خطہ کے لوگوں کے تئیں اپنے ارادے ظاہر کئے۔ یہ عیاں ہوگیا کہ ہندوستان کی جمہوریت ڈھکوسلہ ہے اب اعتماد کھوچکا ہے۔پچھلے 8-10ماہ میں راجوری بھی ایسی ہی صورتحال ہے، پونچھ میں تو مسلم اکثریت میں ہیں لیکن راجوری میں 19-20کا آنکڑا ہے ،جن علاقوں میں ہندواکثریت میں ہیں، وہاں مسلم احساس عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ نوشہرہ اور سندربنی میں جن مسلمانوں کی اراضی ہے وہ پریشان حال ہیں۔ کالاکوٹ میں ایسے جنونیوں نے صرف کشمیر نمبر پلیٹ کی گاڑی دیکھتے ہی، اس پر مویشی سمگلنگ کا الزام لگاکر نذر آتش کر دیا۔

حریت کانفرنس(ع)کی رکن تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی کے سنیئر رہنماکمل جیت سنگھ نے بتایاکہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ راجوری پونچھ اضلاع کے لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ہے، وہ تحریک سے بھی وابستہ ہیں لیکن دل کھول کرسامنے نہیں آتے۔ مسئلہ کشمیر کے حق میں جب کشمیر میں ہتھیار اٹھائے گئے توراجوری پونچھ سے بھی سینکڑوں لوگ اس میں شامل ہوئے۔ سینکڑوں کی تعداد میں آج بھی لاپتہ ہیں، افسوس کا مقام ہے کہ حکومت ہند اور جموں وکشمیر سرکار نے ان کو کوئی ریلیف فراہم نہ کی ہے۔ مائن بلاسٹ سے متاثرہ سینکڑوں کنبے آج بھی دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن میں ہزاروں فائلیں پڑی ہیں جن کی کوئی سنوائی نہیں ہے۔مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے جب بھی کوئی تحریک اٹھی ۔پونچھ راجوری کی عوام نے اس کا بھر پورساتھ دیا۔ 1937میں جب جموں وکشمیر میں انتخابات کرائے گئے تو اس وقت شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے بجائے راجوری پونچھ کی عوام نے مسلم کانفرنس کے سربراہ میر وعظ مولوی یوسف شاہ کے حق میں زیادہ ووٹ ڈالے۔ پونچھ میں خونی لکیر کھینچی گئی جس سے ہرکوئی متاثر ہے۔ یہاں پر تحریک کا ظاہری طور اتنا بول بالا اس لئے نہیں کہ یہاں ملازم طبقہ زیاد ہے دوم کشمیر اور راجوری پونچھ میں آپسی اختلافات کا بھی فائیدہ اٹھاکر یہاں تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ۔ جہاں تک مسئلہ کشمیر کا سوال ہے تو اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ گیا، کئی قراردادیں پاس ہوئیں۔ روس نے چار بار کشمیر کے حوالہ سے VETOکا استعمال کیا۔ ہندوستان ظلم وجبر سے کام لے کر عالمی سطح پر جھوٹی شان پیش کر رہا ہے جبکہ یہاں پر ظلم وستم کیاجارہاہے، ناانصافیاں ہورہی ہیں۔ جموں وکشمیر کی یہ حالت ہے کہ یہاں جدوجہد کرنے کے بجائے انصاف ملنے کے بعد Demotion ہوتری ہے۔ یہاں 22سال جیل میں رہنے کے بجائے شیخ محمد عبداللہ کو وزیر اعظم کے بجائے وزیراع اعلیٰ کی کرسی پر اکتفا کرنا پڑا۔ درجہ بڑھنے کے بجائے گھٹ گیا۔

مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ تھنہ منڈی کے چیئرمین خرشید بسمل کہتے ہیں کہ کشمیر مسئلہ کی حمایت کے دو پہلوؤں ہیں، دلی اور ظاہری ۔ دلی طور تو راجوری پونچھ کی عوام کشمیر مسئلہ کے حوالہ سے کیا رائے رکھتی ہے، اس بارے الگ الگ نظریات اور خیالات ہیں لیکن بظاہر جو دکھائی دے رہا ہے لوگ انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، ایک طبقہ دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہاہے ۔ یہاں زیادہ پہاڑی اور گوجری طبقہ کے لوگ ہی ہیں جودونوں پر برتری پانے کی کوشش کر رہے ہیں، مستقل ووٹ ڈالنے بھی جاتے ہیں۔ یہاں 70فیصد سے زائد بھی ووٹنگ ہوئی۔ مسئلہ کشمیر ایک سچائی ہے۔ نہرو، شیخ اورعلی محمد جناح میں سے کسی کی طرف سے کوئی غلطی ہوئی ، کوئی کمی رہ گئی کہ آج تک یہ مسئلہ پیدا ہوا۔ راجوری پونچھ کی عوام اس مسئلہ کے سبب سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ اس مسئلہ کو جتنا جلدی چاہئے حل کردیاجائے تو بہتر ہے۔ سہ فریقہ، دو طرفہ، خفیہ یا ظاہری کوئی بھی طریقہ استعمال کرو ¿ پر اس کا حل نکلنا چاہئے۔
پاک بھارت کی دوسی کردے
میری کشمیر کو بچا لے یا رب

اگر اس مسئلہ کا حل نہیں نکالاگیا تو یہ فنا ہوجائے گا، خوبصورتی تباہ ہوتی رہے گی ، صبح وشام ماتم چھاتارہے گا۔ 2008کی ایجی ٹیشن کے راجوری پونچھ کی نظریں کشمیر کی طرف زیاد ہیںکیونکہ جموں کے ساتھ یہاں کی عوام اپنا مستقبل محفوظ تصور نہیں کر رہی۔ روایتی، مذہبی اور ثقافتی طور پر یہاں کی عوام وادی کشمیر سے جڑی ہے، یہی وجہ ہے کہ کشمیر سے چلنے والی سیاست چاہئے وہ نیشنل کانفرنس ہو یا پھر پی ڈی پی، اس نے یہاں کامیابی حاصل کی ہے۔ جموں نشین سیاسی قیادت کو یہاں بدزن تصور کیاجاتاہے۔
نامور شاعر، ادیب، کالم نگار میر عبدلسلام جنہوں نے 22برس تک ”آئینہ قلم“نامی اخبار نکال کر تحریک حریت جموں وکشمیرکی ترجمانی کی ، نے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ راجوری پونچھ کے لوگ نظریاتی طور پر آزادی پسندرہے ہیں، بڑی قربانیاں پیش بھی دی ہیں، کسی نہ کسی حوالہ سے تحریک کو زندہ رکھاہے لیکن آج صورتحال ایسی پیدا کی گئی ہے کہ مسلمان آپس میں ہی دست وگریباں ہیں۔ سنی، دیوبندی، اہلحدیث، جماعت اسلامی، دعوت اسلامی وغیرہ مسلکوں کی بنیاد پر راجوری پونچھ کے لوگوں کو تقسیم کردیاگیاہے جس سے لوگوں کی مسئلہ کشمیر سی توجہ مبذول ہوگئی ہے اور وہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں لیکن ذی شعور طبقہ، تعلیم یافتہ افراد، دانشوروں، شعرا، ادبا حضرات کے ہاں مسئلہ کشمیر انتہائی اہمیت رکھاتا ہے۔ مودی سرکار کے آنے سے صوبہ جموں میں مسلمانوں کے تئیں مختلف رویہ اختیار کیاجارہاہے۔ اس سے لگتا ہے کہ جموں وکشمیر کو پھر تقسیم کیاجائے گا اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے توچناب اور پیر پنجال کے لوگ کشمیر کی ہی طرف جائیں۔ ہم نے تحریک اتحاد المسلین کی بنیادڈالی ہے تاکہ مسلمانوں کو متحد کیاجائے ۔ حال ہی میں جماعت اسلامی کی ایک کانفرنس ہوئی تھی اس میں بھی میں نے یہ بات رکھی، جہاں جہاں موقع ملتا ہے کہ اس بات کو رکھتا ہوں، ہماری کوشش ہے کہ خطہ پیر پنجال اور چناب کشمیر کے ساتھ ہی اپنا مستقبل رکھیں۔ مسلمانوں کادینی تشخص بھی کشمیر کے ساتھ ہی محفوظ ہے۔ 1947اور1965میں صوبہ جموں کے اندر جتنی بتاہی وبرابی یا تحریکیں اٹھیں ان میں راجوری پونچھ کی عوام کا بھی رول رہا ہے، یہاں بھی کشمیر جیسا ولولہ ہی اٹھتا رہا ہے۔ کشمیری قیادت کو بھی اس بات کو سمجھنا چاہئے ۔ میں نے ’آئینہ قلم‘نامی اخبار کے ذریعہ تحریک آزادی کے لئے کافی کام کیا۔20-22برس تک یہ اخبار چلا بعد میں اس کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ۔ 1990میں فوج نے میری رہائش گاہ پر چھاپہ مارکر اخبارا کا سارا مواد، سازوسامان ضبط کر لیا۔ کشمیر زمینی مسئلہ نہیں بلکہ یہاں کی عوام کا پیدائشی حق ہے جوکہ ہمیں نہیں دیاگیا،کشمیر تو صدیوں سے آزاد مملکت رہاہے۔ ہندوستان اور پاکستان نے اس کو اپنا مسئلہ بنادیا۔

سنیئر پہاڑی لیڈر مشتاق بخاری کہتے ہیں مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے ان کے دو نظریہ ہیں کہ بحیثیت پہاڑی کلچرل فورم سرپرست، ان کے نزدیک خطہ میں بے روزگاری کا خاتمہ کرنا، پہاڑی زبان بولنے والوں کو ایس ٹی کا درجہ دلانا اہم معنی رکھتا ہے کیونکہ یہاں بے روزگاری سے لوگ سخت پریشان حال ہیں۔ بحیثیت نیشنل کانفرنس، میرا موقف وہی ہے جوپارٹی ہے، ہم ہندوستانی ہیں، ہندوستان کے ساتھ ہی رہنا ہے لیکن مکمل اٹانومی چاہئے۔ پونچھ راجوری کے لوگ دو گھراٹوں میں پس رہے ہیں۔ یہاں برف اور گولیاں ہی لوگوں کا مقدر ہیں جو انہیں باآسانی ملتی ہیں۔تقسیم سے رشتے ٹوٹے، زمین تقسیم ہوئی۔ دوست بچھڑے ہیں۔

راجوری کے مشہور شاعر، ادب اور تجزیہ نگارنثار راہی راجوری پونچھ کی عوام کے نزدیک بھی مسئلہ کشمیر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں کی عوام نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ یہ مسئلہ اب سیاسی ہی نہیں رہا بلکہ اقتصادی معاملات بھی اس سے جڑ گئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ حریت کی تمام تنظیموں کو ساتھ لیکر کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہئے۔ دونوں ممالک اس کو لیکر بضد ہیں، کوئی بھی ایک انچ بھی آگے پیچھے ہونا نہیں چاہتا۔ پونچھ راجوری میں براہ راست اس کا اثر پڑتا ہے، ادھر بھی گولی سے انسان ہی مرتا ہے تو ادھر بھی۔ حدمتارکہ کے آر پار آواجاہی کو مزید آسان بنایاجائے تاکہ لوگ بلاکسی تکلف مل سکیں، کیونکہ یہاں کے لوگوں کے لئے یہی سب سے بڑا تحفہ ہوگا۔ راجوری پونچھ ایک لڑائی کا میدان بن کر رہ گیا ہے، جہاں جب بھی دونوں ممالک کے درمیان اگر تلخیاں بڑھتی ہیں تو پہلی گولی ادھر ہی چلتی ہے۔ 2008کے بعد راجوری پونچھ کی عوام کا ہندوستان کی جمہوریت اور سیکورلازم پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے، انہیں بھروسہ نہیں رہا۔ اب ان کی ترجیحات ، نزدیکاںکشمیر کے ساتھ ہی زیادہ ہیں ۔2008ایجی ٹیشن سے خطہ پیر پنجال کی عوام کے ذہنوں میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔

حریت کانفرنس (ع)کے سنیئرلیڈر اور پیپلز موومنٹ کے شاہد سلیم میرنے کہاکہ 1947سے لیکر آج تک راجوری پونچھ کے لوگ آزادی پسند رہے ہیں۔ جموں وکشمیر کی تقسیم میں 97فیصد آبادی راجوری پونچھ میں منقسم ہوئی ہے۔ آزادی کے حق میں ہمیشہ یہاں کے لوگوں کی آواز بلند ہوئی ہے لیکن یہاں کی عوام کو کشمیری عوام کے تئیں 1947کے اس واقع سے نفرت بھی ہے کہ جب قبائلی حملہ آور آئے تو وادی کشمیر میں ان کو تعاون نہ ملا بلکہ اس وقت کشمیریوں نے ہندوستان کے ساتھ ان مجاہدین کا سودا کیا۔راجوری پونچھ میں سیکورٹی ایجنسیوں نے پھوٹ پرستی ڈال کر لوگوں کو تقسیم کیا۔ نسلی ومسلکی تقسیم کر کے یہاں آزادی کے بجائے دیگر معاملات کی طرف توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی گئی ۔گوجر بکروال طبقہ کو ایس ٹی کا درجہ دیکر انہیں تمام ترمراعاتیں دی گئیں اور ہندوستانی قیادت یہ باور کرارہی ہے کہ گوجر بکروال ہندوستان نواز ہیں اور باقی نہیں۔ 2008کے بعد یہاں کے لوگوں کی مکمل سوچ تبدیل ہوگئی ہے۔ جموں کے حوالہ سے خوف وہراس پایاجاتاہے۔ بم بم بولے کے دوران سندربنی ، نوشہرہ میں مسلمانوں کی جس طرح پٹائی کی گئی ، ان کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، اس سے یہاں کے لوگ وادی کی جانب زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ نظریہ میں تبدیلہ ہوئی کہ وہ آر ایس ایس کے ساتھ کبھی محفوظ نہیں جو کہ اپنا کھیل رہا ہے۔ آبادی کا ایک حلقہ جوجموں کا حمایتی تھا بھی2008کی ایجی ٹیشن کے بعد جموں کے ساتھ اپنے مستقبل کو کسی بھی صورت میں جوڑنے کو تیار نہیں۔

باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ، سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس اور نامور گوجر رہنمامسعود چوہدری نے کہاکہ مسئلہ کشمیر تو ہے۔ اس سے سب سے زیادہ نقصان تو راجوری پونچھ کی عوام کو ہوا ہے۔ پونچھ کے بیچوں بیچ لیکر کھینچی گئی۔ مجموعی طور آدھا پونچھ راجوری پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو چلاگیا۔ پونچھ جوریاست تھی، باغ، راولاکوٹ اور پونچھ نامی تین اضلاع میں تقسیم ہوگئی، بلکہ یوں کہے کہ کلیجہ کے دو حصے ہوگئے۔ ہمیشہ جب مسئلہ کشمیر کی بات کی جاتی ہے تو اس کو صرف سرینگر تک محدود کیاجاتاہے، اس وقت راجوری پونچھ کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ یہ غلط فہمی ہے کہ کشمیر مسئلہ کا حل جموں یا سرینگر تک محدود ہے، اس میں راجوری پونچھ کا بھی رول ہے، یہاں کی عوام امن چاہتی ہے کیونکہ زرا بھر تلخی سے بھی نقصان زیادہ پیرپنجال کے لوگوں کو جھیلنا پڑتا ہے۔ گولہ باری یہاں سب سے زیادہ اور دراندازی بھی ہیں، کتنے گھر اجڑے، کتنے رشتے ٹوٹ ، خاندان تقسیم ہوئے ہیں۔ یہاں کی عوام امن چاہتی ہے۔ حالیہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان اس ضمن میں پیش رفت ہوئی ہے اس کو آگے بڑھایاجانا چاہئے، امن وعمل سے ہی اس خطہ کی ترقی ہوسکتی ہے، جوتعلیم وترقی کے میدان میں پسماندہ ہے۔ میں نے پورے ملک کا دورہ کیا ہے ، وسیع ترتجربہ ہے۔ جموں کے ہندو اتنے فرقہ پرست نہیں جتنی صورتحال ہندوستان کے دیگر ریاستوں یا علاقوں میں ہے لیکن 2008کی ایجی ٹیشن کے وقت کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے غلط کردار نبھایا جس سے راجوری پونچھ کے لوگوں کے ذہنوں میں بھی طرح طرح کے حدشات وتحفظات پیدا ہوئے جوکہ ظاہر ہے ہوں گے ، اب لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر وہ جموں کے ساتھ جائیں گے تو پریشانی ہوسکتی ہے۔

سنیئر سٹیزن کونسل ضلع پونچھ کے صدر ، ماہرتعلیم اور دانشور کے کے کپور کادعویٰ ہے کہ پونچھ کی عوام مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے 1947کو ہندستان کے ساتھ کئے گئے الحاق کو حتمی مانتی ہے۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کپور نے کہاکہ پونچھ کی آبادی پانچ لاکھ کے قریب ہے جس میں87فیصد اہل اسلام اور 13فیصد ہندو، سکھ ودیگر مذاہب کے لوگ ہیں ،1947میں جب قبائلی حملہ ہوا تھا میںچھٹی جماعت کا طالبعلم تھا۔ پونچھ کی بیشترعوام یہ سمجھتی ہے کہ 1947میں مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ جوالحاق کیا تھا وہ حتمی ہے، اور ہمیں اس کے خلاف آواز نہیں اٹھانی چاہئے۔ ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم نفرت اور تعصب کی بنیاد پر ہوئی تھی جوٹھیک نہیں، پونچھ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ پونچھ کے ساتھ جموں والوں نے بھی اور کشمیر والوں نے بھی نا انصافی کی ہے۔ ترقیاتی پروجیکٹوں، فلاحی سکیموں، فنڈز مختص کرنے کی بات آتی ہے تو پونچھ کو نظر انداز کیا گیا ہے، ہمارے ساتھ ہر حال میں نا انصافی ہوئی ہے۔ کشمیر کو ہم نے کبھی الگ نہیں سمجھا لیکن کشمیر کی سیاست موقع کی نزاکت کو دیکھ کر فائیدہ اٹھاتی ہے اور پھروقت آنے پر اپنا رویہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ فرقہ پرستی کی بات نہ ہوبلکہ ہمیں ترقی چاہئے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست کا شاید ہی ایسا کوئی خطہ ہو، جومسئلہ کشمیر کی وجہ سے کسی نہ کسی لحاظ سے متاثر نہ ہواہو۔ وادی کشمیر، چناب اور پیر پنچال خطے کی آبادیاں اس مسئلہ کے حوالہ سے کافی حد تک یکساں خیالات کی حامل نظر آرہی ہیں۔ یہ طے کرنے میں بھی مشکل ہے کہ ان میں سے کس خطے نے اس مسئلہ کی وجہ سے زیادہ دکھ جھیلے ہیں اور کس خطے کی قربانیاں زیادہ ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہر خطے کے لوگ گزشتہ68سال ککےد وران ناسازگار حالات کے تھپیڑوں کا شکار ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Altaf HUssain janjua

Read More Articles by Altaf HUssain janjua: 33 Articles with 13812 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2016 Views: 947

Comments

آپ کی رائے