موبائل فون پر انٹرنیٹ کا استعمال اخلاقی اقدار کی پامالی،سماجی برائیوں کاسبب

(Altaf Hussain Janjua, Jammu, J&K (India))
اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل فون نے مواصلاتی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی بپا کی ہے جس سے پوری دنیا ایک گاؤں میں سمٹ آئی۔ ہم کسی دور دراز علاقہ میں واقع اپنے گاؤں میں بیٹھ کر دنیا کے کسی بھی کونے میں موجودہ اپنے عزیز واقارب، رشتہ داروں اور دوستوں سے چند سیکنڈ کے اندر فون پر رابطہ قائم کر کے ان کا حال چال اور وہاں کے حالات واقعات کی جانکاری حاصل کر سکتےہیں موبائل فون سے گھڑی، calulator، کلینڈر، ڈائری ودیگر کئی چیزوں کی اہمیت کو ختم کر دیا ہے اور انہیں اپنے پاس رکھنے کی ضرورت نہ رہی۔ موبائل فون پر انٹرنیٹ کے استعمال نے مواصلاتی نظام میں اور بھی بہتری لائی ہے۔ ٹو جی، تھری جی کے بعد اب فور جی کا استعمال کیاجارہاہے۔ فون پر لائیو ویڈیو چاٹنگ سے جموں وکشمیر کے ایک گاؤں میں بیٹھا شخص سات سمندر پار اپنے رشتہ داروں سے بات کررہاہوتا لیکن یوں محسوس ہوتا کہ بالکل وہ ایکدوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ ہم موبائل فون پر انیٹر نیٹ کے استعمال سے گھر بیٹھے ہر قسم کی جانکاری چند سیکنڈ میں حاصل کر سکتے ہیں۔ موبائل فون کے ذریعہ ای بینکنگ، فضائیہ اور ریلوے کی بنکنگ کے علاوہ آن لائن فارم بھی باآسانی بھر سکتے ہیں۔ موبائل فون کے اتنے زیادہ فائیدے ہیں کہ ان کی تفصیل بیان کرنے کیلئے ایک کتاب بھی لکھی جائے تو کم ہے ،مگریہاں اس کے فوائیدکی تفصیل بیان کرنا مطلوب نہیں۔یہ قدرت کا دستور ہے کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں،جیسے اچھا، برا، نفع، نقصان، دن رات، فائیدہ نقصان۔ اسی طرح موبائل فون اور انٹرنیٹ نے جہاں ہمارے لئے بہت ہی آسانیاں پید ا کی ہیں، وہیں ہمارے لئے بہت ساری مشکلات بھی ساتھ لایاہے۔ اس موبائل فون نے گھر کے گھر اجاڑ دیئے ہیں۔سماج میں طرح طرح کی برائیوں کو جنم دیا ہے۔ اخلاقی اقدار میں بہت زیادہ گراوٹ اسی وجہ سے آئی ہے۔ آج کی نوجوان نسل طرح طرح کی برائیوں سے جوجھ رہی ہے اس میں موبائل فون اور انیٹر نیٹ نے بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ آج ہمارے فیس بک ، ٹوئٹر اور ویٹس ایپ پر ہزاروں دوست ہیں لیکن حقیقی کوئی بھی نہیں۔ ہم فون پر انیٹر نیٹ کے ذریعہ سماجی رابطہ ویب سائٹس کا استعمال کر کے اپنے دل کی بات شیئر کرتے ہیں اور ان کے سٹیٹس کو بھی پڑھتے ہیں لیکن ہمارے پاس کسی کے گھر جانے، کسی سے بات کرنے کا موقع نہیں، دنیا بھر کی خبر ہم رکھتے ہیں لیکن اپنے گھر کے اندر دوسرے کمرہ میں موجود شخص کے بارے میں معلوم نہیں، پڑوس میں کیا ہورہا ہے ، کوئی خوشی ہے یا غمی اس سے ہم ناواقف ہیں۔ صبح جاگ کر بیت الخلاءمیں جانے سے لیکر شام دیر گئے 1بجے تک ہم موبائل فون پر مصروف رہتے ہیں۔ کھاناکھاتے وقت ، راستہ میں چلتے وقت، گاڑی میں بیٹھتے وقت، کسی میٹنگ میں، سکول ، کالجوں میں ، کلاسز میں، شادی بیاہ کی تقریبات میں حتی کہ صبح سے لیکر روزمرہ کی ہر سرگرمیوں میں ہماری زیادہ توجہ موبائل فون پر رہتی ہے، یاتو ہم گیم کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں یا پھر سٹیٹس پڑھنے اور اپ لوڈ کرنے میں۔ طرح طرح کے جدید ترین موبائل فون کا ہم استعمال فائیدہ کیلئے کم بلکہ نقصان کیلئے زیادہ کررہے ہیں ، جس کے آگے چل کر بہت ہی بھیانک نتائج برآمد ہونگے اور آج ہوبھی رہے ہیں۔ مغربی ممالک کی سرکردہ کمپنیاں آئے دن نئے سے نئی موبائل فون کی اقسام کو بازار میں اتار کر خوب منافع کمارہی ہیں اور ہم یہاں سال میں تین سے چار موبائل فون تبدیل کر کے اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔ مغربی ممالک مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنے کیلئے طرح طرح کی فحاشی ، ویڈیوز اور تصاویر وںسے متعلق ان گنت ویب سائٹس تیار کر رکھی ہیں، ہیں جن کو Surf کر کے ہم اپنی دنیا وآخرت دونوں کو برباد کر رہے ہیں۔جس طرح موبائل فون پر انٹرنیٹ کے استعمال کے فائیدہ کی لمبی چوڑی فہرست ہے اسی طرح اس کے نقصان بھی ان گنت ہیں جن پر کئی سو صفحات تحریر کئے جاسکتے ہیں ۔ یہاں میں اپنے اس کالم کو محض دو اہم نقصانات پر ہی مرکوز رکھتا ہوں جومیری نظر میں آج سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔ آج بچے جس چیز کی سب سے زیادہ مانگ والدین سے کرتے ہیں، ان میں مہنگے مہنگے موبائل فون سرفہرست ہیں اور اپنی اولاد کی اس مانگ کو والدین خوشی خوشی یہ سوچے بغیر پورا کر دیتے ہیں موبائل فون جیسی جس حساس چیز کو اپنی بیٹی یا بیٹے کے ہاتھ میں تھما رہے ہو، وہ نہ صرف اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں بلکہ اپنی اولاد کو برائیوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں، کالجوں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں، میڈیکل کالجوںمیں زیر تعلیم لڑکے لڑکیاں مہنگے سے مہنگے فونوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پروفیشنل کالجوں، سرکاری ونجی دفاتر، کاروباری اداروں میں کام کر رہے نوجوان اور ملازمین بھی اس کا استعمال کر رہے ہیں۔ تعلیمی وپیشہ وارنہ کالجوں میں موبائل فون کا جو سب سے غلط فائیدہ کیاجارہاہے وہ ’ بلیک میلنگ ‘کا ہے۔ لڑکے، لڑکیوں کو اپنے جھال میں پھنسانے کیلئے معصوم اور سادہ لڑکی کا خفیہ طور فوٹو یا ویڈیو اٹھاکر بعد میں اس کا غلط استعمال کر تے ہیں۔ جموں وکشمیر ریاست اور ملک کے مختلف علاقوں میں اس نوعیت کے متعدد سنسنی خیز واقات سامنے آچکے ہیں جن میں سکولوں، کالجوں ، یونیورسٹیوں کے اندر لڑکوں نے بیت الخلاءمیں ضروری حاجت کیلئے گئی لڑکیوں کی خفیہ طریقہ سے ویڈیو یا فوٹو اٹھائے اور بعد میں اس کا غلط استعمال کیا۔ اس طرح ایسے لڑکیوں کی پوری عمر کو داغدار بنادیاجاتاہے، لڑکی اپنے عزت ونفس کو دنیا سے بچانے کیلئے اس کاذکر کسی سے نہیں کرتی جس وجہ سے وہ ہر دن اور ہرلمحہ استحصال کا شکار ہوتی ہے۔ اگر چہ حکومت کی طرف سے یہ دعوے کئے جارہے ہیں کہ تعلیمی اداروں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں جس بڑے پیمانے پر فون کا استعمال ہورہا ہے وہ خطرناک ہے۔ سیروتفریح کے دوران بھی اس طرح کے فوٹون اٹھائے جاتے ہیں۔ فون کال ریکارڈ کر کے اس کو ویٹس ایپ پر شیئر کر کے بدنام کیاجاتاہے۔ صرف اداروں کے اندر ہی نہیں بلکہ گاؤں اور شہروں میں آج لڑکیوں کو اپنی عزت ونفس کو محفوظ کرپانا بہت مشکل ہورہی ہے، سماج جس تباہی کی طرف جارہاہے اس پر اگر قابو نہ پایاگیا تو ہم بہت بڑے عذاب وعتکارکا شکار ہوں گے۔ اس صورتحال پر قابو پانا اتنا آسان بھی نہیں رہا ہے۔ والدین کوچاہئے وہ غریب ہوں یا امیر، اپنے بچوں کو موبائل فون نہ دیں۔ کم سے کم گریجویشن پہنچنے یا بالغ ہونے تک بچوں کو بالکل سادہ موبائل ہی دیئے جائیں ، ساتھ ہی ان پر کڑی نظر رکھی جائے کہ وہ کہیں چورے چھپے کسی جدید فون کا استعمال تو نہیں کر رہے ۔ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ تعلیمی وتربیتی اداروں کے اندر دوران اوقات کوئی بھی موبائل فون کا استعمال نہ ہو۔ موبائل فون کا استعمال کرنے والوں کو قرار واقعی سزاد ی جائے۔ سرکاری دفاتر ونجی کاروباری اداروں کے اندر بھی اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ موبائل فون کے ذریعہ خواتین ملازموںاور لڑکیوں کی تصویریں یا وویڈیو نہ اٹھاکر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جائے۔ آج ہم سب کو اپنی ماں، بیٹی، بہن، اہلیہ کی عزت ونفس کو محفوظ رکھنے کیلئے قدم قدم پر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ کسی ہوٹل ، ریستوران میں قیام کرنے سے پہلے اس بات کو اچھی طرح سے جانچ لیں کہ کہیں بیت الخلاءیا کمرہ میں خفیہ طور سی سی ٹی وی کیمرے یا ریکارڈ تو نہیں رکھے گئے۔ اس طرح کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں جس میں ہوٹلوں کی ٹائلٹ، بیت الخلاءوغیرہ میں خفیہ طور رکھے گئے سی سی ٹی وی کیمروں سے لی گئی ویڈیو کو بعد میں جاری کر کے لڑکیوںں کو بدنام کیاگیا۔ قصبہ جات، شہروں میں عام عامہ کیلئے بنائے گئے بیت الخلاؤں میں ضروری حاجت سے قبل اس چیز کی اچھی طرح سے جانچ کر لینا ضروری ہے۔ لڑکیوں کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ جہاں بھی جائیں، ہوشیار رہیں کہ کہیں خفیہ طور کوئی ان کی فوٹو یا ویڈیو تو نہیں اٹھارہا۔ آج سماجی رابطہ ویب سائٹس فیس بک، ٹویٹر، ویٹس ایپ ودیگر سائٹس اچھے پیغامات ، تجاویز پیش کرنے، اپنے اچھے خیالات کا اظہار کرنے ، متعلقہ علاقوں کے مسائل ومشکلات کو آگاہ کرنے کے لئے ضروری ہے ۔ ہمیں ان نوجوانوں اور لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے جوکہ ان رابطہ ویب سائٹس کے ذریعہ امن و آشتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ہمیں ان نوجوانوں کی راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جوکہ مذہب اسلام کی اشاعت اور قرآن وحدیث کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ قابل اعتراض تصاویر، ویڈیوز ، پیغامات اپ لوڈ اور شیئر کرنے سے اجتناب برتنا چاہئے۔ایسی کوئی تصویر کوئی خبر نہیں چڑھانے چاہئے جس سے کسی فرقہ یا ذات کے جذبات مجروں ہوں یا علاقہ میں امن ومان کی صورتحال پیدا ہو۔ اللہ تبار وتعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری ماؤں ، بہنوں کی پردہ غیب سے حفاظت فرمائے ، ہمیں بالخصوص اہل اسلام کو موبائل فون کا صحیح استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم درس قرآن وحدیث کی تبلیغ اور اس کی سکھائی کیلئے موبائل فون و انٹرنیٹ کا استعمال کریں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Altaf Hussain Janjua

Read More Articles by Altaf Hussain Janjua: 11 Articles with 3618 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2016 Views: 332

Comments

آپ کی رائے