قندیل بلوچ قتل،قاتل کون ،خود قندیل،میڈیا۔۔۔یا؟

(Waqar Ahmad, )
غیرت کے نام پر قتل آخرکیوں پروان چڑھ رہے ہیں۔۔۔کون ہے اس معاشرہ کے بگاڑکا سبب۔۔۔الزام کس کو دیں

اگر ہمارامیڈیا انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو سامنے لانے والا ہوتا تو کراچی کی سعدیہ کو اب تک پاکستان کابچہ بچہ جان چکا ہوتا کہ کس طرح وہ انسانیت کی خدمت میں دن رات مصرو ف ہے۔وہ اپنے خرچ پر غریبوں میں صرف تین روپے میں کھانا تقسیم کرتی ہے۔ آج تک اسے کیوں سامنے نہیں لایا گیا ،اس پر ہمارے نام نہاد صحافیوں نے ٹاک شوز کیوں نہیں کئے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں ایسا کرنے سے ہم صحافیوں کی پہچان خطرے میں پڑجائے گی۔لوگ ان لوگ کی جے جے کار کرنا شروع کردیں گے۔پھر ہمیں کون پوچھے گا۔ہمارانام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔

ہمارے ملک میں ایسی بھی ہزاروں لاکھوں خواتین ہیں جو دن رات حلال اورباعزت روزگار کماکر اپنے گھروالوں ،اپنے معاشرہ اور ملک وقوم کی لاج رکھتی نظرآتی ہیں۔اورایسی بھی جن کے کارنامے سن کر دل خون کے آنسو روتاہے۔

افسوس سے کہنا پڑجاتاہے کہ ہمارا معاشرہ ایک تباہی کی جانب روزبروزبڑھ رہاہے۔جس رفتارسے ہمارا معاشرہ اپنی پہچان کھو رہاہے،کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ ہم اپنی پہچان ایک دن کھو دیں گے۔جیسے گزشتہ روز معروف ماڈل قندیل بلوچ کا اپنے سگے بھائی کے ہاتھوں قتل یقینا ہمارے معاشرہ کے ماتھے پرایک بدنما داغ چھوڑگیاہے۔قندیل بلوچ جس کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے بتایا جاتاہے نے بہت کم عرصہ میں سوشل میڈیاپر شہرت حاصل کرلی۔سستی شہرت حاصل کرنا آج کے اس جدید دورمیں بہت آسان ہے ،کیونکہ اب تو ہمارا نام نہاد الیکٹرانک میڈیا ایسی ہی کہانیوں کے پیچھے پاگل ہوا پھرتاہے جس میں معاشرے کے بگاڑکے مکمل اسبا ب موجود ہوں۔اس کے علاوہ فیس بک ،ٹویٹر اوردیگر نے تو اوربھی آسان کر دیا۔بس آپ اپنی کوئی بھی تصویر ،ویڈیو وغیرہ اپ لوڈ کردیں اورپھر تماشہ دیکھیں آپ ایک نایاب تصویر جو روز مرہ سے ذراہٹ کے ہو اوراسی آپ کی اپ لوڈ کردہ ویڈو بھی ۔۔پھرچند ہی روز میں ایسی تمام تصاویر اورویڈیوز ہمار انام نہاد الیکٹرانک میڈیا اٹھالے گا ۔اورآپ شہرت کی بلندیوں کو مفت میں چھو لیں گے۔البتہ جوکھم آپ کو صرف اتنا کرنا پڑے گا کہ آپ چند روپے خرچ کریں گے فیس بک اوردیگر سائٹس کے لئے۔۔یہاں ہم فیس بک اوردیگر سائٹس کو ہرگز دوش نہیں دیں گے کیونکہ ان سائٹس کے مالکان نے جس خاص مقصد کے لئے انہیں لانچ کیا تھا وہ ہمارے اس پاک وطن میں ہرگز پورانہیں ہورہا۔ان سائٹس کا مقصد تو غیر ہی بہتر طورجانتے ہیں۔۔ہم تو صرف ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی غرض سے مذکورہ سائٹس استعمال کررہے ہیں۔۔خیر موضوع کی جانب بڑھتے ہیں۔۔قندیل بلوچ شاید شارٹ کٹ کا راستہ اپنا کر شہرت کی بلندیوں کو چھو لینا چاہتی تھی ،اوراسی وجہ سے بے چاری نے پہلے پاکستان تحریک انصا ف کے چیئرمین اورمعروف سابق کرکٹر عمران خان کے ساتھ نام جوڑنے کی بھرپورکوشش کی ۔۔لیکن جب موصوفہ اپنے اس حربے میں مکمل طورپر ناکام دکھائی دیں تو پھر بے چارے مفتی قوی کو آڑے ہاتھوں لیا۔مفتی قو ی کے ساتھ جوکچھ کیا ۔۔وہ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں۔اورہم سب سے بہتر اب اﷲ تعالیٰ ،قندیل بلوچ جو اب اس دنیاسے اپنا ناطہ توڑچلی ہے اورمفتی قوی ۔۔ اورآخر میں بات رہ جاتی ہے قندیل کے قتل کی۔جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔کیونکہ ان سب حالات کی مکمل ذمہ داری قندیل پر بنتی ہے ،ان کے گھروالوں اورخاص طورسے قندیل بلوچ کو قتل کرنے والے بھائی کو چاہیے تھا کہ وہ خود الیکٹرانک میڈیا پر آکرقندیل کو دوٹوک الفاظ میں سمجھا دیتا ۔اگر تو قندیل اپنے گھروالوں کی بدنامی کامزید باعث بننے سے رک جاتی تو ٹھیک ورنہ اس سے مکمل رشتہ ختم کرلیا جاتا۔مگر بھائی نے طیش میں آکر بے چاری قندیل کو اس دنیا سے ہی رخصت کردیا۔یہاں آپ لوگ سوچ رہے ہونگے کہ میں قندیل کے لئے بے چاری کا لفظ کیوں استعمال کررہاہوں۔تو جناب وہ اس لئے کیونکہ ہمارامذہب اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ آپ کسی بھی انسان کو قتل کرواورجیسے اﷲ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں بھی فرماتے ہیں کہ ’’کسی ایک انسان کاقتل پوری انسانیت کا قتل ہے‘‘۔یہاں ان لوگوں کو میری مذکورہ بات سے ہوسکتاہے اتفاق نہ ہو جو غیرت کے نام پر قتل کو جائز قراردیتے ہیں۔لیکن جناب اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ اگر قندیل بری تھی یا برائی پھیلانے کا سبب بن رہی تھی یا پھر معاشرہ کو برائی کی جانب بڑھانے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑ نہیں رہی تھی تو اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ سزااورجزااﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ہم اگر کچھ کر بھی سکتے ہیں تو صرف سمجھا سکتے ہیں۔جیسے دوجہانوں کے سردارحضرت محمدؐ کے چچا حضرت ابوطالب جب بستر مرگ پر تھے تو حضورپرنورؐان کے پاس گئے اورانہیں کلمہ طیبہ پڑھنے کی تلقین کی۔جب مایوس ہوکر گھر سے نکلے تواسی وقت اﷲ تعالیٰ نے وحی بھیجی اورفرمایا ’’کہ اے میرے نبی ؐ آپؐ کا کام دعوت دینا ہے ہدایت دینا آپ ؐ کے رب کے اختیارمیں ہے‘‘۔اب اسی آیت کو اپنے سامنے رکھیں تویقینا بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ قندیل کا قتل مذمت کے قابل ہے اوراسے ناحق قتل کیا گیا۔کیونکہ قندیل اپنے کئے کا خود اﷲ کو جواب دے گی ۔اورجیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا کہ گھروالوں چاہیے تھا اورخاص طورسے اس کے قاتل بھائی کو کہ قندیل کو میڈیا پر آکر براہ راست سمجھاتا یا پھر قطعہ تعلق کا اظہارکرتا ۔لیکن ایسا نہیں کیاگیا اوربے چاری قندیل کو موت کے گھاٹ اتا ردیاگیا۔قندیل اورایسی ہی کئی لڑکیاں روز اگر نہ ہوں تو ہفتے میں ضرور غیرت کے نام پر قتل کردی جاتی ہیں۔یہاں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔کئی سوالات ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے اس معاشرہ کو آج تک کیا دیا اورہم کیا دینا چاہتے ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ ان تمام پہلوؤں کو شامل کرنا ضروری ہے جو ان تمام حالات کے ذمہ دارہیں۔جیسے ہمارا نام نہاد الیکٹرانک میڈیا جس نے قندیل بلوچ کو اس کی بے باک حرکتوں کو مکمل سپورٹ کیا ،حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ الیکٹرانک میڈیا اورہمارے نام نہاد صحافی جو حقیقت سے کوسوں دورہیں قندیل کو اس معاشرہ کی بھلائی اورسدھارکے لئے اُکساتے ۔اس کی حرکتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے اوریہ سمجھاتے کہ ہمارے اسلامی معاشرہ کی عورتیں معاشرہ کے سنوارمیں مصروف نظرآتی ہیں ناکہ بگاڑکا سبب بنتی ہیں۔ہماری عورتیں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کارہائے نمایاں سرانجام دے کر ملک وقوم کا سر فخر سے اونچا کررہی ہیں۔اپنی قابلیت اورذہانت کو ملک وقوم کی ترقی اورسربلندی کے لئے استعمال کررہی ہیں۔ایسا قندیل بلوچ کو بھی کرنا چاہیے تھا ،اسے بھی دکھی انسانیت کی خدمت کرکے شہرت حاصل کرنی چاہیے تھی،اسے بھی سعدیہ بننا چاہیے تھا جو کراچی کے عوام میں صرف تین روپے میں کھانا تقسیم کررہی ہیں۔ اسے بلقیس ایدھی بننا چاہیے تھا،جو کئی سالوں سے اپنے شوہر کے ساتھ خدمت انسانیت میں مصروف نظرآتی ہیں۔اسے ان جیسی خواتین کی زندگی گزارنی چاہیے تھی جو ملک وقوم کے فخر کا باعث بنتی ہیں۔اپنے ،اپنے اردگر دکے معاشرہ کے فخر کا باعث بنتی ہیں۔اپنے گھروالوں اوررشتہ داروں کے فخر کا باعث بنتی ہیں۔لیکن قندیل نے ایسا نہیں کیا یہ اس کی انتہائی قسم کی بے وقوفی تھی۔۔یا پھر سادہ الفاظ میں ہمارا میڈیا ایسی خدمات کوپسندنہیں کرتا۔ہمارا میڈیا ایسی خدمات کا پرچارنہیں کرتا۔کیونکہ اگر ہمارامیڈیا انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو سامنے لانے والا ہوتا تو کراچی کی سعدیہ کو اب تک پاکستان کابچہ بچہ جان چکا ہوتا کہ کس طرح وہ انسانیت کی خدمت میں دن رات مصرو ف ہے۔وہ اپنے خرچ پر غریبوں میں صرف تین روپے میں کھانا تقسیم کرتی ہے۔ آج تک اسے کیوں سامنے نہیں لایا گیا ،اس پر ہمارے نام نہاد صحافیوں نے ٹاک شوز کیوں نہیں کئے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں ایسا کرنے سے ہم صحافیوں کی پہچان خطرے میں پڑجائے گی۔لوگ ان لوگ کی جے جے کار کرنا شروع کردیں گے۔پھر ہمیں کون پوچھے گا۔ہمارانام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ایسے میں ہمارامیڈیا اورہمارے نام نہاد صحافی قندیل کو کیا نصیحت کرتے جب وہ خودمعاشرہ کے بگاڑکا سبب بن رہے ہیں۔ہمارامیڈیا جہاں اپنے چینلزپر ایسے ایسے پروگرامز کی بھرمارکرتانظرآتاہے کہ جسے دیکھ کر اسلامی روایات شرم کے مارے پانی پانی ہوتی نظرآتی ہیں۔اگر ہمارامیڈیا سمجھا اورہمارے نام نہاد صحافی سمجھتے ہیں کہ ماڈلنگ کرنا اوراپنے جسم کو یوں بے باک کرکے دکھاناجائز ہے تواس کی شروعات اپنے گھروالوں سے کیوں نہیں کرتے۔اسی طرح وہ تجزیہ کار خواتین جو میڈیا پر آکر اپنے آپ کو تجزیہ کارکا نام دیتی ہیں کیوں اپنی بیٹیوں کو سامنے نہیں لاتیں۔کیوں ان سے ماڈلنگ نہیں کرواتیں۔یقینا ایسا کرنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتیں تو پھر قندیل بلوچ کو کیوں نہیں سمجھایا گیا۔وہ ناسمجھ تھی۔اوراسی طرح ہمارے معاشرے کی ہر وہ عورت ناسمجھ ہے جو انڈین یا کوئی بھی ڈرامہ پروگرام دیکھ کرآپے سے باہرہو جاتی ہے اورپھر کچھ ایسا کر بیٹھتی ہے جس کی توقع رکھنا کسی بھی باعزت شخص کے لئے انتہائی ناگوارہوتاہے۔مرد بے چارہ،بھائی بن کر ،باپ بن کر ،بیٹا بن کراورشوہر بن کر عورت کی ہرطرح سے حفاظت اور کی خواہشات کا مکمل خیا ل رکھنے کی کوشش کرتاہے۔لیکن اگر عورت گھرکی چاردیواری میں رہ کر بھی مرد کومرد نہ سمجھے اور اپنی خواہشات کا دائرہ وسیع کرجائے تویقینا معاشرہ تنزلی کی جانب گامزن نظرآتاہے۔اوریہی ہماراالمیہ بھی ہے کہ آج کی عورت عارضی خوشی کو دائمی خوشی سمجھ لیتی ہے ،وہ سمجھتی ہے کہ دنیا میں جینے کے لئے ہر حد پار کرجاؤ۔کچھ بھی کرلو مگر خواہشات پوری ہونی چاہیے۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اسلام عورت کوایک مقام دیتاہے۔اورجیسا ہم اوپر ذکرکرچکے کہ ہمارے ملک میں ایسی بھی ہزاروں لاکھوں خواتین ہیں جو دن رات حلال اورباعزت روزگار کماکر اپنے گھروالوں ،اپنے معاشرہ اور ملک وقوم کی لاج رکھتی نظرآتی ہیں۔اورایسی بھی جن کے کارنامے سن کر دل خون کے آنسو روتاہے۔یہا ں والدین کی غفلت بھی سامنے آتی ہے کیونکہ والدین کی صحیح تربیت ہی بچوں کے روشن مستقبل کا ضامن ٹھہرتی ہے۔لیکن کیا کیاجائے اورآخر کن امورکی انجام دہی سے ہی ہم پرسکون ہوسکتے ہیں۔ایسے سوالات کا جنم لینا زندگی اجیرن بنادیتاہے۔لیکن مشکلات کے حل ڈھونڈنے سے ہی معاشرہ اور معاشرہ میں بسنے والے لوگوں کی زندگی پرسکون ہوسکتی ہے۔اس لئے ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم یعنی والدین اپنے بچوں کی صحیح تربیت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں،اسی طرح میڈیا جوکہ معاشرہ کے بگاڑاورسنوارمیں اپنا مثبت کرداراداکرسکتاہے کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے تمام پروگرامز اورڈراموں کامکمل بائیکاٹ کریں جن سے ہمارامعاشرہ بے سکونی کے راستے پر چل نکلتاہے۔اورجس کے دیکھنے سے ہماری خواتین باپ ،بھائی،شوہر اوربیٹے کی عزت کر نااوران کے رشتے کی توہین کرنا شروع کردیتی ہیں۔اورپھر آخر میں ان تمام بہنوں ،بیٹیوں سے بھی گزارش ہے کہ خدارا اپنے آپ کو پہچانیں ۔اپنے مقام کو پہچانیں ۔اپنی ہستی کوپہچانیں۔اپنے وجود کو پہچانیں۔اپنے کردارکو پہچانیں۔کہ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

آپ ہی کی بدولت معاشرہ سنورسکتاہے۔آپ ہی ایک خوشحال اورپرسکون معاشرہ بننے کی کارن بن سکتی ہیں۔آپ ہی ایک قوم بنا سکتی ہیں۔اگر آپ خود کو پہچانیں گی۔خود کو اپناجائز مقام دیں گی۔خود کو اپنے دائرے میں رکھیں گی۔خود معاشرہ کے بنانے کا سبب بنائیں گی۔لیکن اگر آپ ہی ایسا نہیں کریں گی تو ہمارا نام نہ ہوگا۔۔ہمارے معاشرہ میں ایسی ہی قندیل پیداہوتی رہیں گی۔ایسے ہی غیرت کے نام پر قتل مقاتلے ہوتے رہیں گے۔ایسے ہی بہنوں کی عزتیں تارتارہونگی۔ایسے ہی عورت عورت نہیں رہے گی۔اس لئے اے عورت خود کو پہچان ۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waqar Ahmad

Read More Articles by Waqar Ahmad: 65 Articles with 25724 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Jul, 2016 Views: 571

Comments

آپ کی رائے