پاکستان اور دینی مدارس ساتھ ساتھ

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)
ویسے تو دینی مدارس وجامعات کا جال دنیا کے چپے چپے پر بچھ چکا ہے، دنیا کے ہر شہر میں اگر نہیں تو کم سے کم ہر ملک میں کوئی نہ کوئی دینی مدرسہ، مکتب، مرکز، جامعہ ضرور موجود ہے۔ لیکن اس حوالے سے جو کرم واحسان اﷲ رب العزت نے برصغیر پاک وہند پر فرمایا ہے اس کی نظیر دنیا میں ملنا محال نہیں تو دشوار ضرور ہے اور پھر برصغیر کے حوالے سے پاکستان۔ الحمدﷲ۔ ہند پر بھی بازی لے گیا ہے۔

ان مدارس نے اندرونی وبیرونی، حکومتی اور غیر حکومتی سازشوں سے دوچار ہو کر مادی ومعنوی مشکلات ومسائل کا بارہا سامنا بھی کیا مگر ان کی ترقی، پھیلاؤ، تسلسل اور استقامت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ چناں چہ آج اس موضوع کو…… تاریخ، دستور، نظام تعلیم، کار نامے اور نتائج جیسے ابواب وفصول میں مبوب ومفصل بیان کرنے کے لیے دفتر کے دفتر چاہئیں، جس کا احاطہ کرنا ہر کس وناکس کا کام نہیں ہے۔

میں اس موضوع کو پاکستان کے حوالے سے لے کر اس پر نہایت ہی مختصر مگر حتی الوسع جامع بحث کرنے کی کوشش کروں گا۔ ان شاء اﷲ تعالی۔

چناں چہ اس سلسلے میں سب سے پہلے ان مدارس کا تذکرہ ہو گا جو قیام پاکستان کے وقت زیورتأسیس سے آراستہ ہوچکے تھے۔ پھر ان کے تسلسل وارتقائی دوراور پاکستان کے مشہور دینی مدارس کا مختصر تعارف پھر دینی مدارس کی تنظیموں کے فی صدی اعداد وشمار پیش کرنے کی جسارت کروں گا۔

دارالعلوم دیوبند
چوں کہ پاکستاں کے تمام دیوبندی مدارس فکری اور مسلکی حوالے سے دارالعلوم دیوبند سے منسلک ہیں اور نظامِ ادارت ونظامِ تعلیم اور بعض دیگر شعبوں میں اس سے مشابہ اور مماثل ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے جو ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ میں حرف (د) کے تحت یوں مذکور ہے۔

’’دارالعلوم کی بنیاد 15 محرم1273ھ/1867ء کو دیوبند کی ایک قدیم مسجد چھتّا میں مشہور عالم دین مولانا محمد قاسم نانوتوی (1248ھ /1832ء ……1297ھ/1880ء )نے چند اہل فضل وتقویٰ بزرگوں کے تعاون اور مشورے سے رکھی تھی۔ جن میں مولانا فضل الرحمن عثمانی ( علامہ شبیر احمد عثمانی کے والد) مولانا ذوالفقار علی دیوبندی (والدِ شیخ الہند) اور حاجی عابد حسین کے نام قابل ذکر ہیں ۔ اس درس گاہ کے پہلے مدرس ملا محمود دیوبندی، پہلے طالب علم مولانا محمود حسن، پہلے صدر المدرسین مولانا محمد یعقوب نانوتوی اور پہلے سرپرست مولانا محمد قاسم نانوتوی مقرر ہوئے۔ دارالعلوم کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد مولانا احمد علی محدث سہارنپوری نے 1293ھ/1876ء میں رکھا یہ درس گاہ درجہ ذیل مقاصد کے پیش نظر قائم کی گئی تھی۔۱- آزادی ضمیر اور اعلائے کلمۃ الحق۔ ۲-مسلمانوں کو ایک جمہوری عوامی تنظیم میں پرونے کی جدوجہد کرنا۔۳- حضرت شاہ ولی اﷲ دھلویؒ کے مسلک کی حفاظت واشاعت۔ ۴- مسلم معاشرے سے خود غرضی اور استبداد کا خاتمہ۔ ۵- علوم دینی کا احیا‘ علوم عقلیہ کی صحیح ترتیب’ دین میں مہارت کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم کے تقاضے پورے کرنے والے علما تیار کرنا۔ درس گاہ کی مالی ضروریات کے سلسلے میں مولانا نانوتوی نے آٹھ اصول (اصول ھشتگانہ) مقرر کیے جن کا مقصد یہ تھا کہ حکومت وقت اور امراو اغنیا کے تسلط سے درسگاہ آزاد رہے۔ دارالعلوم دیوبند کے نظم ونسق کے لیے ایک مجلس شوریٰ ہے ۔ ایک مجلس انتظامیہ ہے۔ ایک مہتمم (رئیس الجامعہ) ہے،(اب کچھ سالوں سے نائب مہتمم کا منصب بھی شوری ٰ نے منظور کیا ہے)۔ شیخ الحدیث یا صدر المدرسین کا منصب ممتازاہل علم وتقوی کو ملتا ہے۔ یہاں علوم: صرف ونحو، ادب ، علم المعانی، منطق، فلسفہ، فقہ، اصول فقہ، حدیث، تفسیر، علم الفرائض، علم العقائد، علم الکلام ، علم الطب، علم المناظرہ، علم ہیئت اور علم قراء ت وتجوید کے علاوہ فارسی زبان وادب اور ریاضی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے آٹھ سال کا نصاب ہے۔ اس درسگاہ میں دورۂ حدیث کی بڑی شان ہے۔ اس میں دور دراز کے طالب مبادیات کی تکمیل کے بعد شریک ہوتے ہیں ۔ تیرہویں صدی ہجری/ انیسویں صدی عیسوی کے دوران دہلی، لکھنؤ اور خیرآباد میں تین مختلف النوع دینی ادارے موجود تھے۔ دہلی کے ادارے تفسیر اور حدیث کی تعلیم پر زور دیتے تھے لکھنؤ فقہ پر اور خیرآباد علم الکلام اور فلسفے کے لیے مخصوص تھا۔ دیوبند ان تینوں کے امتزاج کی نمائندگی کر رہا ہے۔ دیوبند میں بلاد اسلامیہ کے مختلف حصوں سے طلبہ آتے رہتے ہیں ۔ درس گاہ حدیث میں پندرہ سو طلبہ کے قیام کا بندوبست ہے۔ دارالعلوم کی عمارت (تین مساجد کئی دارالاقاموں)، ایک کتب خانے اور حدیث ، تفسیر اور فقہ وغیرہ کے متعدد درسی کمروں پر مشتمل ہے۔ دیوبند کے کتب خانے کا شمار ہندوستان میں مخطوطات کے بڑے بڑے کتب خانوں میں ہوتا ہے۔ اس میں ستر ہزار کتابیں موجود ہیں۔

مولانا محمد قاسم نانوتوی تین واسطوں سے حضرت شاہ ولی اﷲ دھلویؒ کے شاگرد تھے دیوبندی فقہی مذاہب میں سے امام ابوحنیفہؒ کے مقلد ہیں۔ قرآن وسنت پر سختی سے عمل پیرا ہونے کے علاوہ ان کا تصوف سے بھی گہرا تعلق ہے۔ اکثر علمائے دیوبند روحانی مسلک کے لحاظ سے حاجی امداد اﷲ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہیں جو نقشبندی ، چشتی ، قادری اور سہروردی چاروں سلسلوں سے منسلک تھے۔ عقائد وعلم الکلام میں امام ابوالحسن اشعریؒ کے مقلد ہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت وعظمت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ کثرت درود کو عین ثواب سمجھتے ہیں۔ دین میں غلو اور انتہا پسندی کے بجائے وہ اعتدال کے قائل اور عامۃ المسلمین کی تکفیر سے اجتناب واحتیاط لازم سمجھتے ہیں۔

دیوبندی علمائے کرام نے تحریک آزادی میں نمایاں حصہ لیا۔ آزادی ہند کے لیے ریشمی رومال کی تحریک شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے منظم کی تھی۔ تحریک خلافت میں بھی دیوبندیوں نے بڑا حصہ لیا۔ تحریک پاکستان کی جدوجہد میں دیوبندی دو حصوں میں منقسم تھے ایک حصے نے آزادی متحدہ ہندوستان کے لیے جدوجہد کی اور دوسرے حصے نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مولانا شرف علی تھانوی، علامہ شبیراحمد عثمانی اور مولانامفتی محمد شفیع وغیرہ نے مسلم لیگ کے موقف کی حمایت کی۔ قیام پاکستان کے بعد دیوبندی علما کا علمی وروحانی مرکز بھارت میں رہ گیا اس لیے پاکستان کے مختلف مقامات پر علمی مراکز قائم کیے گئے۔ جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ مدنیہ لاہور، مدرسہ عربیہ خیر المدارس ملتان، دارالعلوم ٹنڈو الہ یار خان، مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پشاور، جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی، دارالعلوم کراچی، جامعہ فاروقیہ کراچی وغیرہ جیسی مشہور درس گاہیں دیوبندی مکتب فکر کی علمی یادگاروں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

مدرسہ نور محمدیہ شہداد کوٹ
مدرسہ نور محمدیہ کا موجودہ نام مدرسہ حلیمیہ ہے، یہ سندھ کے قدیم دینی مدارس میں سے ایک ہے۔ صوبہ سندھ میں علماء دین کے دو سلسلے ہیں، جن سے آج کے سندھ کا شاید ہی کوئی عالم لا تعلق ہو۔ ان میں سے ایک سلسلہ خلیفہ محمدیعقوب ھمایونی سے اور دوسرا مولانا نور محمد شہداد کوٹی سے شروع ہوتا ہے۔ یہ دونوں بزرگ مولانا عبدالحلیم کنڈوی کے شاگردانِ رشید تھے۔

ان دونوں بزرگوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق دین کی خدمات انجام دی ہیں ۔ لیکن مولانا نور محمد صاحب نے مدرسہ نور محمدیہ کی جو داغ بیل ڈالی اس سے ان کی خدمات میں انقطاع نہیں آیا بلکہ باقیات صالحات کا تسلسل جاری وساری رہا۔ حضرت مولانا نور محمد (1206ھ ۔1296ھ) ایک عرصہ تک خان آف قلات کے یہاں عہدۂ قضا پر بھی فائز رہے۔ آپ نے مدرسہ نورمحمدیہ کی بنیاد عہدہ قضا سے سبک دوش ہونے کے بعد رکھی۔ خود تو آپ کو طلبہ کی بہت بڑی جماعت تیار کرنے کا موقع نہیں ملا۔ مگر آپ کے دونوں صاحبزادوں مولانا گل محمد اور مولانا غلام صدیق نے مدرسہ نور محمدیہ کو چارچاند لگانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی، اور مولانا غلام صدیق صاحب کے صاحبزادے مولانا عبدالحلیم بھی اس باغ کو سر سبز رکھنے میں ہمہ تن مصروف رہے۔ آج بھی یہ ادارہ انہیں بزرگوں کی قربانیوں کی بدولت قائم ودائم ہے۔

مدرسہ درخانی کوئٹہ
یہ مدرسہ1857ء کی جنگ کے کچھ ہی عرصہ بعد بنیادی طور پر انگریزی استعمار کے دور کے نصرانی مشنری ادارہ بائبل سوسائٹی کی سازشوں کے سدباب کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ درخان میں جوڈھاڈر کے قریب ہے اس مدرسہ کا قیام عمل میں آیا ،یہ مدرسہ ڈھاڈرسبی شاہراہ عام پر برلب سڑک واقع ہے اور اس کا نام اسی بستی کے نام پر مدرسہ درخانی منتخب کیا گیا ہے۔ اس مدرسہ کے مؤسس اور صدر مدرس مولانا فاضل رئیسانی درخانی تھے،یہ مدرسہ آج بھی قائم ہے اور تشنگانِ علوم دینیہ کو سیراب رہا ہے۔

مدرسہ مظہر العلوم ، کھڈہ ۔کراچی
یہ مدرسہ کراچی کے ایک ممتاز عالم دین مولانا عبداﷲ بن الشیخ عبدالکریم نے1884ء میں قائم کیا تھا۔ یہ کراچی میں ایک قدیم علاقہ کھڈہ (جو پہلے کلاچی کہلاتا تھا اور یہی پھر کراچی کے نام سے مشہور ہوا) میں موجود شاہ ولی اﷲ روڈ پر واقع ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی 40 شاخیں آزادی سے پہلے مشہور تھیں ان میں ایک یہ مدرسہ بھی ہے۔ مولانا عبداﷲ کے بعد ان کے صاحبزادے مولانا محمد صادق نے اس کا اہتمام سنبھالا۔ مولانا کا شمار تحریک آزادی کے سرگرم کارکنوں اور پاکستان کے نامور سیاسی علما میں ہوتا ہے آپ کے انتقال کے بعد آپ کے صاحبزادے مولانا محمد اسماعیل صاحب آپ کے جانشین مقرر ہوئے۔

مذکورہ مدرسے میں تعلیم وتدریس کے ساتھ ساتھ ’’افتاء‘‘ و’’قضاء‘‘ کے شعبے بھی فعال رہے ہیں ۔ اسی طرح ایک شعبہ ’’تبلیغ‘‘ بھی اپنی خدمات سر انجام دیتا رہا جو دراصل اس زمانے میں قائم کیا گیا تھا، جب ہندؤوں کے جانب سے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے شدھی اور سنگھٹن کی تحریکیں شروع کی گئی تھیں۔ اس مدرسہ کا نظم ونسق شروع ہی سے ایک کمیٹی چلاتی ہے۔ جس کا دستوری نام ’’ ایسوسی ایشن مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی‘‘ ہے۔

اس ادارے کا امتیازی وصف اس کا کتب خانہ ہے۔ جس میں مختلف علوم وفنون پر تقریباً چھ ہزار سے زائد قیمتی نایاب عربی، فارسی، اردو، سندھی اور گجراتی کتابیں موجود ہیں۔ قلمی نسخوں کی خاصی تعداد موجود ہے۔ اس کا دارالمطالعہ مولانا محمد صادق صاحب کے نام سے منسوب ہے۔

مدرسہ دارالرشاد، پیر جھنڈا
اس مدرسہ کی تأسیس وبنیاد رجب1319ھ مطابق1901ء میں تعلیم وتدریس کے علاوہ فلسفہ ولی اﷲی کی اشاعت کے لیے معرض وجود میں آئی۔ مدرسہ کے بانی مولانا عبیداﷲ سندھی رحمۃ اﷲ علیہ مسلمانوں کی اصلاح اور اسلام کی تبلیغ وترویج سے اچھی طرح واقف تھے۔

اس مدرسے کی ایک خصوصیت
اس میں ’’ السواد الأعظم‘‘ کے نام سے ایک مجلس افتا قائم تھی۔ جس میں مدرسہ مظہر العلوم کراچی کے اساتذہ بھی شامل تھے۔ ہوتا یوں تھا کہ دارالرشاد میں جو استفتاء ات آتے تھے ان کا جواب لکھ کر مستفتی کو بھیجنے سے پہلے مظہر العلوم بھیج دیا جاتا تھا۔ وہاں سے اگر اس کی تصدیق وتصویب ہو جاتی ، تو گویا ’’السواد الأعظم‘‘ کی تائید ہو جاتی تو مستفتی کو بھیج دیاجاتا ورنہ نہیں، اس مدرسہ کی ایک شاخ بعد میں 1912ء میں نواب شاہ میں بھی کھلی وہ بھی حضرت سندھی رحمۃ اﷲ علیہ ہی نے قائم فرمائی تھی۔

حضرت سندھی رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے ایک مکتوب میں مدرسہ دارالرشاد کی تأسیس پر کچھ اس طرح کی روشنی ڈالی: ’’ آپ ( حضرت شیخ الہند) نے ہمیں سندھ میں کام کرنے کا طریقہ(رسائل وجرائد) سمجھایا، ہم نے حسب ارشاد کام شروع کیا اور کسی سے اس کا ذکر تک نہ کیا کہ ہم یہ کام حضرت شیخ الہند کا بتایا ہوا کررہے ہیں۔ بظاہر ہم یہ کام اپنے نام سے کر رہے تھے لیکن میرے مشفق بزرگ حضرت تاج محمد امروٹی صاحب کو میرا اس طرح کام کرنا پسند نہ آیا چناں چہ ہم مجبور ہو گئے کہ امروٹ کی بجائے گوٹھ پیر جھنڈا، حیدرآباد میں دارالرشاد کے نام سے ایک مدرسہ بنائیں ہمیں اس مدرسہ کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا پورا اختیار تھا، اور پیر صاحب گوٹھ پیر جھنڈا کا ہمارے ساتھ فیصلہ ہو چکا تھا کہ وہ ہمارے کام میں بالکل دخل نہ دیں گے۔‘‘(مجلہ سالنامہ علم وآگہی)

مدرسہ دارالہدی ٹھیڑی
یہ مدرسہ1911ء میں قاضی عبداﷲ صاحب نے ٹھیڑی خیرپور میں قائم کیا تھا۔ یہ مدرسہ آج بھی تشنگان علم وعمل کا ماویٰ ومرجع ہے مدرسے کے صدر مدرس اول مولانا محمد لغاری صاحب رحمۃ اﷲ علیہ تھے ان کے بعد حضرت مولانا حماد اﷲ ہالیجوی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ اور آپ کے بعد مولانا حبیب اﷲ (ابن مولانا قاضی عبداﷲ) صدر مدرس اور پھر والد صاحب کے انتقال کے بعد مہتمم مقرر ہوئے۔ آپ کی رحلت کے بعد آپ کے صاحبزادے مولانافضل اﷲ شہید اور مولانا عبداﷲ بالترتیب اہتمام کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس مدرسہ کی شہرت نہ صرف سندھ، بلوچستان، پنجاب تک محدود تھی بلکہ ایران، افغانستان، اور ہندوستان کے علاوہ دیگر قریبی ممالک کے طلبہ کی یہاں جوق درجوق آمد ہوتی تھی۔ مدرسہ دارالہدی کی خدمات کا اعتراف پاکستان وہندوستان کے بہت سے اکابر ومشاہیر نے کیا ہے۔ اس نے سندھ کی تعلیمی، تہذیبی اور اصلاحی تار یخ میں اپنی ایک مستقل جگہ پیدا کر لی ہے۔

مدرسہ دارالفیوض الہاشمیہ، سجاول
سجاول کے ایک مخیر سید عبدالرحیم نے 1920ء میں اپنی زمین کا ایک حصہ وقف کرکے اس میں مدرسہ قائم کیا ۔ مدرسے کے اہتمام ونظام کی ذمے داری شروع سے اب تک مختلف اوقات میں مولانا محمد سلیمان، سید مہر علی اورمولانا عبداﷲ کے ہاتھوں میں رہی۔

اس مدرسہ کے بانی وہی بزرگ ہیں جن کی اہلیہ نے اپنی زمین وقف کرکے حیدر آباد میں مولانا غلام مصطفی قاسمی صاحب کی سرپرستی میں شاہ ولی اﷲ اکیڈمی کے وجود کا سامان کیا تھا۔

گزشتہ ستر اسی سال کی مدت میں دارالفیوض الہاشمیہ سے سیکڑوں کی تعداد میں طلبہ علمائے دین بن کرنکلے اور زندگی کے مختلف گوشوں میں مصروفِ خدمت ہوئے، دارالفیوض جیسانام ویسا کام یعنی ایک سرچشمہ فیض ہے اس نے سندھ میں اور خاص کر ضلع ٹھٹھہ ومضافات میں علوم اسلامی کی اشاعت وتعلیم میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی چودہ شاخیں سجاول اور گردوانواح میں قائم ہیں۔ آج کل اس کے قابل ذکر استاذ ، صدر مدرس، شیخ الحدیث اور مہتمم حضرت مولانا عبدالغفور قاسمی صاحب ہیں جو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے رکن رکین اور حضرت صدر وفاق کے معتمد علما میں سے ہیں۔

سندھ کی تہذیبی وتعلیمی تاریخ میں سجاول کے اس سید خاندان کی خدمات کا شاندار الفاظ میں اعتراف کیا جاتا ہے، جس کے مردوں نے ہی نہیں خواتین نے بھی علم پروری کی داستانیں رقم کی ہیں۔
(ماہنامہ ’’الفاروق‘‘ کراچی، صفر ۱۴۲۶ھ)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 490858 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
29 Jul, 2016 Views: 1066

Comments

آپ کی رائے